لوٹن سے لڈ۔ فلسطین کی ڈائری بہترین زیارت

80

ایک روز واٹس ایپ پر دیکھا ایک صاحب مسجد اقصیٰ میں مختلف مقامات کی ویڈیو بنا رہے اور ان پر تبصرہ کر رہے ہیں دنیا کی اس دوسری مسجد کے بارے میں جاننے کا اشتیاق ہوا ساتھ ہی ان صاحب کا نام دیکھا یہ عالمی مبلغ ختم نبوت سہیل باوا تھے۔ اب دو چیزوں کا اشتیاق تھا یہ نام کچھ سنا ہوا تھا ایک دن فون بھی کر لیا اور بات ہوئی تو پتا چلا کہ یہ تو عظیم شخصیت ختم نبوت کے سپاہی عبدالرحمن باوا کے فرزند ہیں اور پی ای سی ایچ ایس میں ہمارے پڑوسی تھے ۔ ان کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر ہم حسرت کرتے تھے اوران کی خوش قسمتی پر ہم بھی خوش تھے کہ برطانیہ میں ہونے کا فائدہ کتنا ہے جہاں چاہتے ہیں چلے جاتے ہیں۔گزشتہ برس کے اواخر اور2020 کے اوائل میں عالم اسلام کے مبلغین سے ملاقاتوں کا احوال بیان کیا ۔ اس عالم میں ایک روز دل میں خیال آیا کہ سہیل باوا سے گزارش کی جائے کہ اپنی تمام ویڈیوز اور سفر ناموں کو تحریر میں لا کر کتاب کی صورت میں شائع کیا جائے تاکہ ہم ایک جگہ ساری چیزیں دیکھ لیں اور یقین جانیے یہ کیا کرامت تھی۔ یقینا ان صاحبان فیض کی کرامت ہو گی جو ساری عمرختم نبوت کے تحفظ میں گزار دیتے ہیں ۔ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ، اسکرین پر سہیل باوا ۔ لکھا ہوا تھا اور انہوں نے یہ اطلاع دی کہ میںنے اپنے سفر ناموں پر مشتمل کتاب ترتیب دی ہے آپ کو بھجوا رہا ہوں ، خالد محمود صاحب کتابیں پہنچائیں گے اور اگلے دن کتب بھی آ گئیں ۔ کیا خوبصورت طباعت ، بہترین کاغذ، عمدہ سر ورق، اس نے مسحور کر دیا،’’فلسطین کی ڈائری‘‘ نام بھی اچھوتا ہے ۔ پھر یوں ہوا کہ وائرل بخار نے گھیر لیا دس بارہ دن کا وقت لے گیا اور دفتر آتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اس کتاب کو کھولا۔ حق انتساب کا خوبصورت پیرایہ اور انتساب ، پھر امام عطاء اللہ خان کا مقدمہ ، خالد محمود کی تمہید ، ڈاکٹر محمد ہارون خان اور مفتی عبدالوہاب کی تقاریظ ،اور مفتی محمد رضوان کی تحریر اقصیٰ کا مسافر نظروں سے گزری پھر حرف آغاز اور ایسا لگا کہ اب رکنا نہیں ہے۔ انداز تحریر بھی تقریر کی طرح کا ہے جب سہیل باوا ویڈیو بنا کر کسی جگہ لے چلتے ہیں تو دیکھنے اور سننے والا خود کو اسی مقام پر محسوس کرنے لگتا ہے ۔ اپنی کتاب کے ذریعے سہیل باوا نے مسجد اقصیٰ کی عظمت اس پریہودیوں کے مظالم ، فلسطینیوں کے عزم و ہمت کے
بارے میں جس خوبصورتی اور ترتیب سے معلومات تحریر کیں اس سے ایسا ہی لگا کہ اب وہ انگلی پکڑ کر ہمیں قبلۂ اول لے کر چل رہے ہیں ۔ سہیل باوا کو اس مسجد میں ایک دو نہیں کئی نمازوں کا شرف حاصل ہوا ہو گا ۔ ان پر رشک تو کیا جا سکتا ہے ۔ جس مسجد کی شان ہمارے آقا نبی آخر الزماں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ؐ نے یوں بیان کی ہو کہ ’’ میری مسجد میں پڑھی جانے والی نماز اس مسجد( مسجد اقصیٰ) کی چار نمازوں سے افضل ہے ۔ اور وہ نماز کی جگہ تو بہت ہی خوب ہے ۔ عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کو گھوڑے کی ایک لگام کے برابر بھی کوئی ایسی جگہ مل جائے کہ جس سے وہ مسجد اقصیٰ کی زیارت کر سکیں تو ان کے نزدیک یہ زیارت پوری دنیا سے بہتر ہو گی ۔ ‘‘
اب بتائیں کہ سہیل باوا پر کسے رشک نہیں آئے گا لیکن ساتھ ہی دعا بھی نکلتی ہے کہ نہ صرف خوبصورت کتاب لکھی بلکہ بے بہا معلومات ایک جگہ جمع کر دیں، مسجد کی فضیلت ، القدس کے فضائل ۔جب سہیل باوا نے لندن لوٹن سے لُد فلسطین تک کا سفر شروع کیا توہم ان کے ساتھ ہی تھے( خیالی طورپر) لیکن پھر سہیل باوا جہاں جہاں گئے ہم نے خود کو وہاں پایا ۔ اور اب دل و دماغ پر یہ بات ثبت ہو گئی ہے کہ اب تو ہمیں بھی جانا ہے ، کیسے… یہ تو ہمیں نہیںمعلوم ۔ لیکن جیسے کتاب پہنچی جیسے سہیل صاحب سے رابطہ ہوا ویسے ہی کچھ نہ کچھ ہو گا…( ان شاء اللہ ) سہیل باوا نے نبی اکرمؐ کے براق کے سفر کے مقام کا بھی ذکر کیا اور اس کی فضیلت بھی بیان کی ساتھ ہی فن تعمیر کا بھی ذکر کیا ۔ ہمیں تو ان کی بھیجی ہوئی ویڈیوز دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جہاں وہ کھڑے ہیں ہم بھی وہیں ہیں ۔ سہیل باوا کی کاوشیں جاری ہیں اللہ ان میں اضافہ کرے اور مقبول بنائے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب سہیل باوا نے بیت المقدس کے بارے میں کوئی گوشہ خالی نہیں چھوڑا اور قاری کو بہت سی اہم معلومات فراہم کی ہیں کہ اس کے نام کیا کیا تھے تعمیر میں کب کب اضافہ ہوا اور موجودہ صورت کیا ہے۔ وہ قاری کو اپنے ساتھ ہر جگہ لے گئے ہیں۔ تاہم اس سفرنامے سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں جانے اور عبادت کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ شائد اس احتیاط کی وجہ یہ ہو کہ آئندہ بھی زیارت کا راستہ کھلا رہے۔ بہرحال یہ سفرنامہ منفرد ہے کہیں کہیں زبان وبیان کی غلطیاں رہ گئی ہیں جو امید ہے کہ اگلی اشاعت میں دور کرلی جائیں گی۔ مثلاً اقصیٰ کا مسافر کے عنوان سے حضرت مفتی محمد رضوان عزیز نے معرکہ آراء کی جگہ معرکتہ الارا لکھا ہے جس کا مطلب بدل جاتا ہے۔ اسی میں ایک جملہ ہے جب کسی قوم کا مجموعی مزاج ظلم کا بن جائے تو ان سے… یہاں اس سے ہونا چاہیے کیوں کہ قوم واحد کا صیغہ ہے۔ حرف آغاز میں پہلی ہی سطر میں لاپرواہی لکھا گیا۔ یہ مصنف کی لاپروائی ہے۔ گزرتے میں ذ نہیں ز آتا ہے گذرنے غلط ہے۔ مسجد کے کچھ فضائل جو قرآن و سنت میں ہمیں بتائے گئے ہیں۔ بہتر تھا کہ سنت کی جگہ احادیث لکھا جاتا۔ اسی طرح پروا کو پرواہ لکھا گیا۔ اس لفظ کے آخر میں ہ نہیں ہے۔ صفحہ 78 پر ہے اپنے مال کے ضیاع ہونے کا شکوہ۔ اس میں سے یا تو ہونے کا نکال دیں یا ضیاع کی جگہ ضائع لکھا جائے۔ نشان دیکھا دیتا (صفحہ 71) یہاں دکھا ہونا چاہیے۔ یہ معمولی سا سہو ہے جس سے کتاب کی اہمیت متاثر نہیں ہوتی اور بلاشبہ یہ قارئین کے لیے ایک قیمتی علمی ذخیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سہیل باوا کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ کتاب ختم نبوت اکیڈمی لندن نے شائع کی ہے اور مکتبہ امداد العلوم ناظم آباد سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
nn

حصہ