قربانی سے اللہ کو راضی کریں

35

ائمہ اسلام کے لیے ماہ رمضان اور ذوالحج کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ یہ دونوں بابرکت مہینے نہ صرف حرمت و برکت والے ہیں بلکہ عبادات کے لحاظ سے بھی منفرد و معتبر ہیں۔ رمضان المبارک میں بندہ خالص رب کی رضا کے لیے پورے ماہِ مبارک کے روزے رکھتا ہے۔ اس مہینے یعنی ذوالحج کے مہینے میں اللہ کے بندے حج کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ دونوں ماہِ مبارک میں ایک اور بات مشترک ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کی عبادات اور ماہ ذوالحج کے پہلے عشرۂ مبارک کی راتیں عبادت کے لیے عام راتوں سے زیادہ بابرکت و معتبر ہیں۔
ان دونوں ماہِ مبارک کی خاص عبادات کے طفیل بے شمار لوگوں کو جہنم سے خلاصی ہوتی ہے۔ انہی ماہِ مبارکہ میں صدقہ، خیرات، زکوٰۃ اور قربانی کی فضیلت سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ اللہ رب العزت کے نزدیک حقوق العباد و حسنِِ معاشرت کی بڑی اہمیت ہے۔ میرا رب جو ستّر مائوں سے زیادہ مہربان ہے، وہ ان ماہ مبارک میں بندے کی اخلاص سے کی ہوئی نیکی کو پسند فرماتا ہے، کیونکہ ان دونوں ماہ میں مساکین، یتامیٰ، غرباء کو بھی مالی و روحانی مدد اور امداد مل جاتی ہے۔ اخلاصِ نیت سے کی گئی قربانی جس میں غرباء، مساکین اور اہلِ محلہ و رشتے داروں کا خیال رکھا جائے رب العالمین کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس سال افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ عیدالفطر و عیدالاضحی دونوں کورونا کی وبا کے دوران ہوئیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان عیدوں کو اسی طرح ضائع کردیں بغیر اجرو ثواب کے، بلکہ مجھ ناچیز بندی کی رائے کے مطابق یہ آزمائش کا وقت ہے جب ہمارے چاروں طرف عوام الناس مشکل و مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں، انہیں ہماری مدد کی مزید ضرورت ہے جس سے ہم اپنے رب کو بھی راضی کرسکتے ہیں… جی ہاں صرف قربانی کا گوشت دے کر نہیں بلکہ اور طریقوں سے بھی… اور اخلاقی طریقے سے بھی آسانی سے ہر فرد یہ فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ مثلاً اشیائے خورونوش کی فروخت سے وابستہ افراد اپنا منافع کم سے کم رکھ کر عوام کو آسانی و سہولت فراہم کرسکتے ہیں۔ بجائے مال کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتیں بڑھانے کے، رب پر بھروسا کرکے مناسب منافع حاصل کرکے ایمان داری سے مال فروخت کریں تو اللہ دگنی برکت عطا فرمائے گا۔ گھروں میں دس بکروں کی قربانی کے ساتھ دلوں کو موم کرکے عوام الناس کے لیے بھی یہ قربانی دینے (کم منافع حاصل کرکے) سے سکونِ دل کے علاوہ اللہ کی رضا اور آمدنی میں برکت بھی شاملِ حال ہوجائے گی۔ ان سطور کو لکھتے ہوئے مجھے آپؐ کا وہ واقعہ یاد آگیا جب آپؐ حضرت خدیجہؓ (ام المومنین) کا مالِ تجارت لے کر شام کی طرف گئے تھے، آپؐ نے وہ مال مناسب منافع اور ایمان داری کے ساتھ فروخت فرمایا تو دیکھا گیا کہ اس مرتبہ تجارت و کاروبار میں زیادہ منافع ہوا۔ اماں خدیجہؓ کو تمام سفرِ تجارت سے ان کے غلام میسرہ نے آگاہ کیا۔ سبحان اللہ، آپؐ کے اس طرزعمل سے اماں خدیجہؓ بہت متاثر ہوئیں۔
ہم مسلمانوں کے سامنے معمولاتِ زندگی و کاروبارِ زندگی کا تمام لائحہ عمل واضح کردیا گیا ہے جس پر عمل کرکے ہم نہ صرف خود بلکہ دوسرے بھی مستفید ہوسکتے ہیں۔
آج صرف اشیائے خورونوش ہی نہیں بلکہ ہر معاملے میں ہماری قوم صرف اور صرف ذاتی مفاد کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس نازک وقت میں طبی اشیاء و دوائیاں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں جن کو بیچنے والے ہمارے ہی بھائی بند ہیں۔ آنکھیں موندے، آس پاس کے حالات سے چشم پوشی برتنے اور اپنے منافع کے لالچ میں نہ صرف ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے، بلکہ مارکیٹ سے بھی غائب کردی گئی ہیں جس کا خمیازہ عوام الناس بھگت رہے ہیں۔ جانوروں کی قربانی کرتے وقت یہ کاروبار کرنے والے اپنی ہوس و لالچ کو بھی قربان کرکے عوام کو سُکھ دینے کی کوشش کریں۔
کسی بھی قوم و ملک کے لیے صحتِ عامہ اور تعلیم کے ادارے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ گزشتہ تین چار ماہ سے حکومت کی طرف سے مختلف احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ اسکولوں کی فیسوں میں نرمی برتی جائے اور بازاروں اور عوامی مراکز میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، لیکن ہمارے عوام اور تعلیمی ادارے کسی حکم کو بجا لانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ گزشتہ عیدالفطر پر عوامی مراکز اور بازاروں میں رش اور بے احتیاطی کی بدولت اس مرض میں اضافہ نظر آیا۔ اب بقرعید آرہی ہے، اس موقع پر اپنے نفس کو قابو کرکے بازاروں اور جانوروں کی منڈیوں میں جانے سے گریز کرنے سے نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک خبر نے دلی مسرت دی کہ پنجاب کے ایک اسکول مالک نے بچوں کی پانچ ماہ کی فیس مکمل طور پر معاف کردی۔ اسکول مالک کی یہ قربانی یقینا بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ رکھے گی۔ آس پاس رہنے والی متوسط طبقے کی فیملیز نے مجھے بتایا کہ نہ صرف اسکول کی فیس بلکہ سالانہ چارجز اور وین کی بھی مکمل فیس ہم لوگ مسلسل ادا کررہے ہیں، جبکہ بہت سی فیملیز معاشی طور پر اس وقت مشکلات کا سامنا کررہی ہیں۔ صاحبِِ حیثیت لوگ ایسے موقع پر اپنا منافع کم سے کم رکھ کر دوسروں کو فائدہ پہنچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں… یہ تو چند مراکز و اداروں کی کارکردگی کی کچھ جھلکیاں آپ کے سامنے پیش کی ہیں، جبکہ گھر سے باہر نکلیں تو ہوش اڑ جاتے ہیں۔ چھوٹے سے لے کر بڑے کاروبار کے مالکان نے یوں لوٹ مچائی ہوئی ہے جیسے ابھی نہیں کمایا تو پچھتانا پڑے گا۔ یہ لوٹ مار کا سنہری موقع ہے، اس کو گنوانا بے وقوفی ہے۔ کیا یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہورہا ہے؟ یا دین کی تعلیمات سے ہم اس قدر غافل ہوچکے ہیں کہ اپنے نفس کے غلام ہوکر صرف اس کی من مانی کے تابعدار بن کر رہ گئے ہیں۔ اس وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ اپنے نفس کی خواہشات کی قربانی دے کر اوروں کا فائدہ بھی سوچیں۔ اصل قربانی یہی ہے کہ اپنے نفس کو قابو میں رکھیں، جبر کریں اور اپنی پیاری چیز راہِ خدا میں دینے سے دریغ نہ کریں۔ آج ہماری سب سے پیاری اور اہم چیز دولت ہے جس کو زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کے چکر میں ہم قربانی کے اصل جذبات سے عاری ہوچکے ہیں۔ اِس مرتبہ نازک حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سب جانوروں کی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنے نفس پر قابو پاکر نفساتی خواہشات کی قربانی دینے کا مصمم ارادہ کریں تو بہت سوں کا بھلا ہوسکتا ہے۔ اس قربانی میں لہوولعب اور شیطانی طاغوتی سرگرمیوں سے نفس کو بچا کر بھی سرخرو ہوسکتے ہیں۔ ہم سب کے لیے یہ ایک اہم اور نایاب موقع ہے جسے ضائع کرنا اپنی ذات پر ظلم کرنے کے مترادف ہوگا۔ ایک اور افسوس ناک بات میں نے نوٹ کی ہے، یقینا آپ بھی تائید کریں گے کہ ہمارے ملک میں کاروبار اور تجارت سے منسلک بہت سے لوگ حج کے فریضے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں، صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں… لیکن حج تو انسان کو گناہوں سے یوں پاک کردیتا ہے جیسے وہ ماں کے پیٹ سے اسی وقت پیدا ہوا ہو۔ حج کی ادائیگی کے بعد بندے کا ہر قسم کے گناہ سے اپنے آپ کو بچانا لازمی امر ہے۔ علمائے کرام کا بیان ہے کہ حج تو وہ فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے بعد بندے میں مثبت تبدیلی پیدا ہو، ورنہ پھر حج، حج نہیں۔ کیا ہم اس چیز کا خیال رکھتے ہیں؟ صرف صوم وصلوٰۃ اور حقوق اللہ کی پاسبانی کرکے ہم آخرت کے عذاب سے بچ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ رب کریم شرک کے سوا حقوق اللہ میں تو معافی دے دے گا لیکن اسے یہ منظور نہیں کہ کسی بھی طرح سے اس کے بندوں کو ایذا و تکلیف پہنچائی جائے۔ لہٰذا حقوق العباد کی معافی مشکل ہے جب تک وہ تکلیف میں مبتلا بندہ خود اسے معاف نہ کردے۔ اوپر بیان کی گئی چند مثالوں سے واضح ہے کہ اللہ کے بندے کس قدر بندوں کی دی ہوئی تکلیف کا شکار ہوسکتے ہیں۔ حجاج کرام کا تو یہ حال ہونا چاہیے کہ کہیں میں کچھ غلط تو نہیں کررہا جس سے میرے حج کے فریضے کو ٹھیس پہنچے! جیسا کہ میری اس سلسلے میں چند حجاج سے بات چیت ہوئی کہ حج کی ادائیگی کے بعد آپ میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ ان معتبر حجاج کرام نے یہ بات شیئر کی کہ ہر قدم اٹھاتے ہوئے ذہن میں ایک خیال ضرور ابھرتا ہے کہ میرا یہ عمل صحیح ہے یا نہیں؟ میرے اس عمل سے کسی کی حق تلفی تو نہیں ہورہی ہے؟ ایک خاتون نے بتایا کہ کسی نیکی کے کام میں سستی ہوتی ہے تو فوراً میرا ضمیر مجھ سے کہتا ہے کہ اللہ کی بندی تجھے حج کی سعادت نصیب ہوچکی ہے، گناہوں سے پاک ہوچکی ہے، پھر کیوں گناہ کی طرح جا رہی ہے! ایک خاتون نے کہا کہ میں نے ٹی وی دیکھنا بند کردیا کیوں کہ یہ مجھے آنکھوں اور کانوں کے زنا کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔ کچھ نوجوان لڑکوں کے اندر یہ تبدیلی آئی کہ انہوں نے صدقات اور زکوٰۃ و خیرات کے لیے اپنے ہاتھوں کو کھلا کردیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اللہ کے بندوں کو فائدہ پہنچ سکے (سبحان اللہ)۔ اللہ کے کچھ ایسے بندے بھی نظر آئے جو حرام و حلال کا خیال نہیں رکھ رہے تھے، حج کے فریضے کی ادائیگی کے بعد انہوں نے اس گناہ پر استغفار کیا اور اپنے آپ کو بچالیا۔ غرض کہ یہ حج ہم میں مثبت تبدیلی پیدا کرسکتا ہے اور ہم اپنی نفسانی خواہشات کی قربانی دے کر چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح ہمارا حج ’’حج مبرور‘‘ کا درجہ حاصل کرسکتا ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہر حج کرنے والے کو حج مبرور کی سعادت نصیب کرے اور آئندہ اس کی زندگی پاکیزگی و احکاماتِ الٰہی کے مطابق گزرے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین
nn

حصہ