سنت ابراہیمی کی پیروی کیوں کر ضروری

111

حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک بت پرست نمرود کے وفادار آزرکےگھرپیدا ہوئے تھےآپؑ بچپن ہی سے بتوں سے نفرت کرتے تھے باپ نے بہت چاہا کہ وہ دینِ نمرود کو قبول کر لیں مگر آپؑ نے ان کی پیش کش کو ٹھکرا دیا آپؑ مسلسل بت پرستی کےخلاف تبلیغ کرتے رہے ایک روز ان بتوں کو توڑڈالا تو نمرود نے آپؑ کو آگ کے الاؤ میں ڈلوادیا مگر اللہ رب العزت نے آگ کو گلزار کردیا یہ ماجرا دیکھ کر نمرود اور اسکے حواری حیران و پریشان تھے آپؑ کو جلا وطن کردیا گیا آپؑ نے اپنے بھتیجے لوط علیہ السلام اور اپنی زوجہ کے ساتھ وہاں سے بے سروسامانی کی حالت میں ہجرت کی۔
بےخطر کود پڑاآتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو اپنے ساتھ لے کر دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیتے رہے شہر شہر گاؤں گاؤں بندگانِ خدا کو خدا کی بندگی کی دعوت دیتے رہے 86 سال کی عمر تک آپ کے کوئی اولاد نہیں تھی ہرشخص کی تمنا ہوتی ہے کہ اللہ تعالی اسے نیک اور صالح اولاد عطا کرے آپؑ نے اللہ تعالی سے دعا کی اے اللہ مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما دے اللہ تعالی نے اپنے محبوب بندے کی دعا قبول کی اور آپؑ کو صالح اور فرمانبردار بیٹا عطا کیا بڑھاپے کا بیٹا اللہ تعالی سے دعا ہی کا نتیجہ تھا۔ عرب کی بیابان وادیوں، بے آب و گیا صحرائوں کو عبور کرتے ہوئے ، دو افراد اور نومولود بچّے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر پہاڑوں کے درمیان ایک ٹیلے کے قریب پہنچے ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس درخت کے مختصر سے سایے میں اپنی فرماں بردار، نیک، اہلیہ حضرت حاجرہؑ کو معصوم لختِ جگر سمیت بٹھا دیا اور خاموشی سے واپس جانے لگے۔ اہلیہ حیران و پریشان ہوکر بولیں اے ابراہیمؑ! اس ویرانے میں ہمیں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں؟ حضرت ابراہیم علیہ السّلام خاموش رہے۔ حضرت حاجرہؑ جانتی تھیں کہ پیغمبروں کا ہر عمل، اللہ کے حکم کے تابع ہوتا ہے، اس لیے فرمایا’’ اے اللہ کے نبیؐ! کیا یہ حکمِ الٰہی ہے؟‘‘ حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا ’’ہاں‘‘۔ یہ سُن کر حضرت حاجرہؑ کو اطمینان ہوگیا اور پُرعزم لہجے میں کہا’’ تو پھر مجھے یقینِ کامل ہے کہ اللہ ہمیں ضائع نہیں فرمائے گا۔‘‘ اور پھر ارض و سما نے دیکھا کہ اللہ نے اپنی برگزیدہ بندی اور اُس کے معصوم گوشۂ جگر کے لیے نہ صرف زَم زَم کے چشمے کو جاری فرمایا، بلکہ اُس سنسان ویرانے میں دنیا کا سب سے عظیم اور مقدّس شہر، ’’مکّہ‘‘ آباد کر کے اُن کی اس قربانی کو رہتی دنیا تک کے لیے قربِ الٰہی کا ذریعہ بنادیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے بے حد لگاؤ تھا اسی وجہ سے ان کا لقب خلیل اللہ یعنی اللہ کا دوست ہے، آپؑ کو اپنے بیٹے سے بھی بے حد محبت تھی ہر وقت اسےاپنے پاس رکھتے۔ننّھا اسماعیلؑ زَم زَم کے مقدّس پانی اور صبر و شُکر کی پیکر، عظیم ماں کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھتا رہا اور اپنے بوڑھے باپ کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے لگا۔ ایک رات آپؑ کو خواب نظر آیا کہ آپؑ اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں صبح بیدار ہوئے تو حیران و پریشان تھے،پورا دن شش وپنج میں گزرا اور رات آگئی آپؑ کو پھر وہی خواب نظر آیا اور تیسرے روزبھی آپؑ کو وہی خواب نظر آیا تو آپؑ کو یقین ہوگیا کہ اللہ تعالی کو مجھ سے میری پسندیدہ چیز اسماعیل علیہ السلام کی قربانی مطلوب ہے کیونکہ پیغمبر کا خواب سچا ہوتا ہے آپؑ نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔اس واقعے کا ذکر قرآنِ پاک میں یوں آیاہے
وہ لڑکا جب ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا، ’’بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟‘‘ اُس نے کہا، ‘’’ابا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ انشاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔‘‘ (سورۃ الصٰفّٰت، 102)
حضرت اسماعیل علیہ السّلام کا یہ سعادت مندانہ جواب، دنیا بھر کے بیٹوں کے لیے آدابِ فرزندگی کی ایک شان دار مثال ہے۔ اطاعت و فرماں برداری اور تسلیم و رضا کی اس کیفیت کو علّامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا ؎
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی
شیطان نے باپ، بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو سُن لی تھی اور اطاعتِ خداوندی کا یہ رُوح پرور منظر دیکھ کر پریشان ہوگیا اور اُس نے باپ، بیٹے کو اس قربانی سے باز رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ چناں چہ، جمرہ عقبیٰ کے مقام پر راستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا’’ یہ شیطان ہے، اسے کنکریاں ماریں‘‘، حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے’’ اللہ اکبر‘‘ کہہ کر اُسے سات کنکریاں ماریں، جس سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ ابھی آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ وہ جمرہ وسطیٰ کے مقام پر پھر ورغلانے کے لیے آموجود ہوا۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے پھر اُسی طرح کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنسا، لیکن ابھی آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ وہ جمرہ اولیٰ کے مقام پر پھر موجود تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تیسری بار ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر کنکریاں ماریں اور وہ پھر زمین میں دھنس گیا۔ (اللہ کو اپنے نبیؑ کا شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل اس قدر پسند آیا کہ اُسے رہتی دنیا تک کے لیے حاجیوں کے واجبات میں شامل فرمادیا)۔ روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسماعیلؑ کو اوندھے منہ لٹا دیا اور آپؑ نے آنکھوں پر پٹّی باندھ لی اورتیز دھار چُھری پوری قوّت کے ساتھ لختِ جگر کی گردن پر پھیر دی۔ باپ، بیٹے کی اس عظیم قربانی پر قدرتِ خداوندی جوش میں آئی اور اللہ کریم کے حکم سے ،حضرت جبرائیل ؑنے جنّت کے باغات میں پَلے، سفید رنگ کے خُوب صورت مینڈھے کو حضرت اسماعیلؑ کی جگہ لٹا دیا ۔حضرت ابراہیم ؑنے ذبح سے فارغ ہوکر آنکھوں سے پٹّی ہٹائی، تو حیرت زدہ رہ گئے۔ بیٹے کی جگہ ایک مینڈھا ذبح پڑا تھا، جب کہ اسماعیل ؑ قریب کھڑے مُسکرا رہے تھے۔
’’اور ہم نے ندا دی کہ اے ابراہیمؑ! تم نے اپنا خواب سچّا کر دِکھایا۔ بے شک، ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں‘‘، سورۃ الصٰفّٰت، (105- 104 )
حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہؑ کے اس بے مثال جذبۂ ایثار، اطاعت و فرماں برداری، جرأت و استقامت، تسلیم و رضا اور صبر و شُکر کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اسے اطاعت، عبادت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے قیامت تک کے لیے جاری و ساری فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
’’ اور ہم نے بعد میں آنے والوں کے لیے ابراہیمؑ کا ذکر (خیر باقی) چھوڑ دیا‘‘ (سورۃ الصٰفّٰت، 108)
یہ ایک ناقابلِ فراموش عظیم الشان واقعہ ہے جس کی یاد ہم سب سنت ابراہیمی کے طور پر ہر سال مناتے ہیں ہمیں فخر ہے کہ ہم نبی آخر الزماں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اور ملت ابراہیمؑ میں شامل ہیں ان پر لاکھوں درود و سلام اور تا قیامت آپ پر درود و سلام بھیجتے رہیں گے
ٱللَّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد
ٱللَّٰهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
نبی آخری الزمان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اولاد ابراہیم ؑ و اسمعٰیلؑ میں سے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی رسالت کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا اور دین مکمل ہوگیااوراب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کوکامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیاقیامت تک کے انسانوں کے لیے یہی دین ہے اسی دین پر عمل کرنا ہے اور اسی دین کی طرف دنیا کو دعوت دینی ہے۔
یقینا دین تو ا للہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔(آل عمران :19)
پیارے نبی صلی وسلم کی بعثت کا مقصد بھی دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنا تھا جو جاہل اپنی جہالت کی وجہ سے بیان دیتے ہیں کہ کسی دین کو دوسرے دین پر فوقیت حاصل نہیں ہے تو قرآن حکیم کی یہ آیاتِ مبارکہ انکی تسلی کے لیے کافی ہے
وہ اﷲ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اُسے ہر دوسرے دین پر غالب کر دے، چاہے مشرکوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو۔یہ دین ہمیشہ غالب رہے گا کھلی آنکھوں سے دیکھنے والوں کی نظر میں آج بھی یہی دین غالب ہے لوگ کمزور کے مقابلے میں اتحاد نہیں کرتے بلکہ طاقتور کے مقابلے میں اتحاد کرتے ہیں آج پوری دنیا کے کفار نے اسلام کے خلاف اتحاد کیا ہوا ہے عبداللہ بن ابی کی ذریت بھی ان کافروں کے ساتھ ہے 40 ملکوں کی فوج افغانستان کے مسلمانوں کو مٹانے آئی تھی مسلمان تو میدان میں کھڑے ہیں وہ خاک چاٹ کر بھاگ رہے ہیں انسانیت کی فلاح اسی دین میں ہے یہی ایک راستہ ہے جو سیدھا جنت کی طرف جارہا ہے باقی سارے راستے خدا سے بغاوت اور جہنم کی طرف جا رہے ہیں۔ مناسک حج ادا کرنے کے بعد حاجی سنت ابراہیمی ادا کرتے ہیں اور جو مسلمان حج بیت اللہ سے محروم رہ جاتے ہیں وہ عید الاضحی کے روز بعد نمازِ عید سنت ابراہیمی اپنے اپنے علاقوں میں ادا کرتے ہیں اور یہ سلسلہ 1440سال سے چلا آ رہا ہے۔ قربانی کی اہمیت و فضیلت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نورِ نظر معصوم بیٹے کا وصال ہوا تو دشمنوں کے گھروں میں گھی کے چراغ جل گئے وہ طعنے دینے لگے کہ کاروبار تو پہلے ہی تباہ ہو گیا رشتہ داروں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا اب ایک وارث پیدا ہوا تھا وہ بھی چلا گیا (اللہ کو پیارا ہو گیا) تو اللہ تعالی ٰنےرسول اکرم ﷺ کی تسلی کیلئےسورہ کوثر نازل کی جس میں آپﷺ کو کوثر(خیر کثیر) عطا کرنے اور آپ کے دشمنوں کی جڑ کٹنے کی خوشخبری دی اور اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کے ذکر کاآوازہ بلند کر دیا ہے
بے شک ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا۔(الشرح :4)
قیامت تک مسلمان آپ ﷺپر درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے پس آپ رنجیدہ نہ ہوں بلکہ اپنے رب کے لیے نماز ادا کریں اور قربانی دیں بے شک دشمن کی جڑ کٹ جائے گی یہ بیان نہیں بلکہ قیامت تک کی پیشنگوئی ہے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہو گا اللہ تعالی اس کی جڑ کاٹ کراس کا نام و نشان مٹا دے گا
کہہ دو کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا ا للہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے۔(الانعام)
قربانی کا مقصد صرف جانوروں کا ذبیحہ، اُن کا خون بہانا اور گوشت تقسیم کرنا نہیں، بلکہ یہ رُوح کی پاکیزگی، دِلوں میں ایمان کی تازگی اور تجدیدِ عہد کا نام ہے کہ ہمارا ہر عمل بہ شمول جینا مرنا، حتیٰ کہ پوری زندگی اللہ کی رضا کے لیے ہے اور یہ ہی درحقیقت ایمان کا تقاضا، بندگی کی علامت اور سنّتِ ابراہیمی کی پیروی کا مقصد ہے۔ ارشاد ِباری تعالیٰ ہے
اللہ تک نہ ان (قربانی کے جانوروں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے ( الحج :37)
اس آیت میں اللہ کریم نے بڑے واضح طور پر فرما دیا کہ قربانی کی حقیقی روح تقویٰ اور پرہیزگاری ہے، مسلمان صرف جانوروں ہی کی قربانی نہیں دیتے بلکہ ہر پیاری سے پیاری چیز اللہ کی راہ میں قربان کر دیتے ہیں،انکا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العزت ہی کے لیے ہے تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے حق کے راستے میں قربانی سے کبھی گریز نہیں کیا. جو شخص اپنے بچے قربان کر سکتا ہے اسکے لیے اپنے مال کی قربانی دینا کوئی بڑی بات نہیں لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ منافقین مدینہ نے ہمیشہ اللہ کی راہ میں قربانی سے گریز کیا جہاد سے غفلت اختیار کی انہوں نے مسلمانوں پر خرچ نہیں کیا بلکہ وہ یہ کہتے رہے کہ ان مسلمانوں پر خرچ نہ کرو یہ تنگ آکر خود ہی بھاگ جائیں گے مدینہ منورہ کے منافقین کی ذریّت ابھی بھی باقی ہے بھلائی کے کاموں میں خرچ کرتے ہوئے ان کا دم گھٹتا ہے حرام کاری کے لیے وہ تجوریوں کے منہ کھول دیتے ہیں لاکھوں روپے بدکاری میں لٹادیتے ہیں ۔ جو مسلمان ہر سال قربانی کرتے ہیں وہی مدارس و مساجد کی تعمیر میں بھی حصہ لیتے ہیں۔
(بقیہ صفحہ 8پر)
خدمت خلق کے ادارے بھی ان ہی کی فیاضی سے چل رہے ہیں اور وہی وقت پر اپنے مال کی زکوۃ بھی نکالتے ہیں۔ لفظ قربانی میں اللہ تعالی نے ایسی تاثیر رکھ دی ہے کہ ذوالحج کا مہینہ آتے ہی مسلمان بچوں اور بڑوں کی رگوں میں سنت ابراہیمیؑ سے محبت کا خون تیزی سے دوڑنا شروع ہو جاتا ہے ہر مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق قربانی کرتا ہے جو غریب اس سنت سے محروم رہ جاتے ہیں وہ بھی اس خوشی میں شریک ہو جاتے ہیں،قربانی کا گوشت ان غریبوں کو خاص طور پر بھیجا جاتا ہے جوقربانی نہیں کرپاتے۔
’’ہم نے ہر امّت کے لیے قربانی مقرّر کی ہے تاکہ وہ لوگ اللہ کا نام لیں، چوپائے جانوروں پر، جو اس نے اُنہیں دیے ہیں (الحج:34)
عیدالاضحیٰ کے موقعے پر ہر صاحبِ نصاب، عاقل، بالغ، آزاد اور مقیم مسلمان مَرد اور عورت پر جانور کی قربانی کرنا واجب ہے۔ قربانی کے جانور شرعاً مقرّر ہیں، جن میں اونٹ اونٹنی، گائے، بھینس، بیل، بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ، مینڈھا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ، کسی اور جانور کی قربانی جائز نہیں، خواہ وہ کتنا ہی خُوب صورت، قیمتی اور کھانے میں لذیذ ہو۔حضرت علی المرتضیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ چار قسم کے جانور قربانی کے لیے درست نہیں۔ (1) لنگڑا جانور، جس کا لنگڑا پَن ظاہر ہو( 2) ایسا کانا جانور، جس کا کانا پَن ظاہر ہو (3 )ایسا بیمار جانور، جس کا مرض ظاہر ہو (4) ایسا دُبلا جانور، جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو(ترمذی، ابودائود)۔حضرت علیؓ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ قربانی کے جانور کی آنکھ، کان خُوب اچھی طرح دیکھ لیا کرو اور ایسے جانور کی قربانی نہ کرو، جس کا کان چِرا ہوا، کٹا ہوا یا سوراخ والا ہو یا اس کے سینگ ٹوٹے ہوئے ہوں(ترمذی، ابنِ ماجہ)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ مجھے یوم الاضحی (قربانی کے دن) کو عید کا حکم دیا گیا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس امّت کے لیے عید بنایا ہے (سنن ابودائود)۔ ایک اور روایت کے مطابق رسول اللہﷺ سے صحابہؓ نے عرض کیا’’ یا رسول اللہﷺ یہ قربانی کیا ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’یہ تمہارے والد، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی سنّت ہے۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا ’’ہمارے لیے اس میں کیا ثواب و اجر ہے؟‘‘آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے، ایک نیکی ہے۔‘‘صحابہؓ نے عرض کیا’’ اگر اون والا جانور ہو؟ (یعنی دنبہ ہو، جس کے بال بہت ہوتے ہیں)، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپؐ نے فرمایا’’ اس کے بھی ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے (مشکوٰۃ)۔ام المؤمنین، سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ’’ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’یوم النّحر‘‘ (دسویں ذی الحجّہ) میں ابنِ آدم کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے (قربانی) سے زیادہ محبوب نہیں اور وہ (قربانی کا ) جانور قیامت کے دن اپنے سینگ، بال اور کُھروں کے ساتھ آئے گا۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل ہی اللہ کے نزدیک مقامِ قبولیت کو پہنچ جاتا ہے، لہٰذا، قربانی خوش دِلی سے کیا کرو‘‘ (ترمذی، ابنِ ماجہ)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،’’ جس میں وسعت ہو، اس کے باوجود وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے (ترمذی، ابنِ ماجہ)۔ نبیٔ مکرم ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور آپؐ ہر سال قربانی کیا کرتے تھے (ترمذی)۔
ہر زمانے میں فتنہ پرور لوگوں نے اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں کیں ہیں، موجودہ دور میں بھی لا دین، روشن خیال اور دین سے بیزار لبرلز اسلامی شعائر کی توہین کرتے ہیں اسلامی عبادات کا مذاق اڑاتے ہیں قربانی کو ایک فضول رسم سمجھتے ہیں ۔کبھی ترک ِ نماز کا فتنہ کھڑا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو نماز مسلمان ادا کرتے ہیں ویسی نماز کا قرآن میں ذکر ہی نہیں ہے قرآن میں تو لفظ صلوۃ آیا ہے اسکے معنیٰ کچھ اور ہیں ،رمضان المبارک کے روزوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ محنت کشوں اور مزدوروں پر روزے کی پابندی ختم ہونی چاہیے اس سے معیشت کا پہیہ رک جاتا ہے اور پیداوار میں کمی آجاتی ہے، زکوۃ کو چٹی سمجھتے ہیں اور سود کو وقت کی ضرورت بتاتے ہیں ، سنت ابراہیم یعنی قربانی کے موقع پریہ ھرزہ سرائی کرتے ہیں کہ مسلمان اس رسم پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں اگر یہ پیسہ غریبوں پر خرچ کیا جائے تو غربت کا خاتمہ ہوجائے مگر خدا کا شکر ہے مسلمان کبھی بھی ان گمراہ لوگوں کی باتوں میں نہیں آئے اور نا ہی ان کی باتوں پر توجہ دی کیونکہ یہ غلام فطرت لوگ ہیں انہوں نے کبھی بھی سچے دل سے اسلام کو قبول ہی نہیں کیا، جہاد ان کے نزدیک فساد اور اسلامی نظام آؤٹ آف ڈیٹ ہے، کہتے ہیں سود کے بغیر معیشت اور رشوت و کمیشن کے بغیر دفتر نہیں چل سکتے، کہتے ہیں ناچ گانا اور مخلوط محفلوں کے بغیر شادی نہیں ہو سکتی، مرد و زن کا اختلاط کو اپنا کلچر بتاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہماری تہذیب پانچ ہزار سال پرانی ہے، ہڑپّہ، ٹیکسلا، موئن جو دڑو ان کی تہذیب کے مرکز ہیں، ان کو فخر ہے کہ انکے آباؤ اجداد بت پرست تھے ، مگر ہمیں فخر ہے کہ ہم امت محمدی اور ملت ابراہیمی سے تعلق رکھتے ہیں خانہ کعبہ اور بیت المقدس ہماری تہذیب کے مرکز ہیں ،ہم اپنی شناخت نہیں چھپاتے مگر اسلام قبول کرنے کے بعد سابقہ پہچان پیچھے چلی گئی اوراسلام آگے آگیا اب ہماری شناخت مسلم ہے اپنی اس شناخت پر ہمیں فخر بھی ہے اور ہم اللہ رب العزت کے شکر گزار بھی ہیں
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا
اسی شناخت سے ہمیں پاکستان ملا اگریہ شناخت نہ ہوتی تو پاکستان کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوتا ۔ قوم پرست اسلامی تہذیب کو اپنی تہذیب نہیں مانتے ان کو معلوم نہیں کہ تہذیب کا تعلق عقیدہ سے ہے جس تہذیب میں توحید و رسالت اور آخرت کا تصور نہ ہو وہ ہماری تہذیب کیسے ہو سکتی ہے؟؟.
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنّتِ ابراہیمیؑ کی حقیقی رُوح پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔

حصہ