حج کورونا کے بعد

28

کبھی کسی نے نہ سوچا تھا کہ حج بھی مقامی ہوگا۔۔ جیسے کووڈ19 سے پہلے یہ نہ سوچا تھا کہ نماز تراویح کے لیے مسجد کے دروازے بند ہوں گے۔
جیسے یہ نہ سوچا تھا کہ ساری عمر کندھے سے کندھا ملانے والے چھ چھ فٹ کے فاصلے پر صف بندی پر مجبور ہوں گے۔ مسلمان مصافحہ یا معانقہ نہ کرسکیں گے۔ نماز جنازہ میں چار چھ لوگ شریک ہوں گے۔
اسی طرح یہ بھی نہ سوچا تھا کہ ہمارے خاندان، ہماری بستیاں جہاں شوال سے ہی حج کی تیاری شروع ہوجاتی تھی۔۔
کیسی گہماگہمی۔۔۔ کیسی تیاریاں۔۔۔ ایک فرد حج پر جاتا تو پورا خاندان تیاریوں میں لگ جاتا۔۔ حاجی کیمپوں کی رونقیں۔۔۔ بس شوال سے جڑا حج کا موسم تھا۔۔ اِس بار یہ موسم کتنا خاموش ہے۔ شاید ہم نے حج کے پیغام کو نہ سمجھا، قربانی کا مفہوم ہی نہ جانا۔۔ اسی لیے اقبال کو شکوہ کرنا پڑا کہ
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام
ہمارے بچپن سے حج کی کیا کیا یادیں جڑی ہیں۔۔
وہ ہمارے پرانے محلّے میں رہتی تھیں۔
ہمارے بچپن میں سب ہی متوسط یا غریب ہوتے تھے۔
شاید معیارِ زندگی بے حد ،نمودونمائش سے پاک۔
حلال آمدنی، واحد کفیل، بڑے کنبے۔۔
وہ ایک ملگجا سا رومال لائی تھیں اس دن۔
کچھ تڑے مڑے سے نوٹ نکال کر امی مرحومہ کو دیئے کہ آپ کے فلاں رشتے دار حج پر جارہے ہیں کبوتروں کو دانہ ڈلوا دیجیے گا۔
ہم وہاں کے کبوتروں سے بھی کتنی محبت کرتے ہیں۔
کسی نے کہا: رشک آتا ہے ان کبوتروں پر، ہم سے تو وہ خوش نصیب ہیں جو ہر وقت روضہ رسولﷺ کے گرد منڈلارہے ہیں، ان مبارک فضاؤں میں رہتے ہیں۔
میں نے کہا: ہم سا خوش نصیب تو کوئی نہیں، جس کو نبی پاکﷺ اپنا مشن سونپ کر گئے۔ ہماری خوش بختی کا کیا کہنا کہ آپﷺ حوضِ کوثر پر امتیوں کا استقبال کریں گے۔ آپﷺ کے ہاتھوں سے ہمیں جام کوثر پینا نصیب ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
روزِ حشر آپ ﷺ کتنا بے چین ہوں گے ہم امتیوں سے ملنے کے لیے۔
ہم بھی اربوں کھربوں کی بھیڑ میں آپ ﷺ ہی کو تلاش کررہے ہوں گے۔یہ الگ بات ہے کہ دل ڈر رہا ہوگا کہ میرا اعمال نامہ آپ ﷺ کے سامنے کھولا گیا تو کیا لاج رہ جائے گی۔۔۔
ہاں ،ذکر تھا پرانے محلہ کا۔۔۔
بچپن کی یادیں بھی کیا خزانہ ہوتی ہیں۔
وہ خاتون جن کے شوہر حج پر جارہے تھے، رجسٹر لے کر ایک ایک گھر میں جاتیں اور لوگ دعا کے لیے نام لکھواتے۔
میری بیٹی کے رشتے، میرے میاں کی بیماری،میرے بیٹے کی ملازمت، فلاں عزیز کی شفا کی دعا کرا دیجیے گا۔
اصل میں اُس وقت محلہ خاندان جیسا ہوتا تھا۔
محلے بھر کی عورتیں روپیہ، روپیہ جوڑ کر بی سی ڈالتی تھیں تو اس لیے کہ حج پر جانا ہے، عمرے کے لیے جوڑے ہیں یہ پیسے۔
گھر میں دال دلیہ، دو جوڑوں میں سال بِتا دیا مگر حج کی بی سی سالہا سال چلتی رہتی۔
وہ سو، پچاس روپے ماہانہ کی بیسیاں کتنی مبارک تھیں۔
ایک زندہ دل کی علامت، جس کی دھڑکن میں عشقِ رسولﷺ بسا ہے۔
ہماری ماسی کتنی خوش تھی جب اس کے پاس عمرے کے پیسے اکٹھے ہوگئے۔ بھانجا جدہ سے آیا، اُس کے ساتھ اسے عمرے کی سعادت نصیب ہوگئی۔۔
وہ ناخواندہ عورت جو اظہار کے لیے الفاظ نہ پاتی تھی، عمرے سے آکر غمگین رہنے لگی۔۔ کہتی: باجی اب دل نہیں لگتا کہیں۔۔۔ اپنا دل میں وہیں چھوڑ آئی ہوں۔
ہم نے نہیں دیکھا کہ والدین پیسہ،پیسہ جوڑتے ہوں عزیزوں کے پاس امریکا یا یورپ جانے کے لیے۔
مگر وہ گھر تو بیت اللہ ہے۔
وہاں تو ضیوف الرحمان پوری تکریم کے ساتھ بلائے جاتے ہیں۔
ان کے ناز اٹھائے جاتے ہیں۔
ان کو جلووں سے سیراب کیا جاتا ہے۔۔
مسلم دنیا کا کون سا ایسا خاندان ہوتا ہوگا جہاں سے کوئی حج پر نہ جاتا ہو!
یوں یہ حج چند لاکھ نہیں، کروڑوں لوگوں کی آرزوؤں کا مرکز ہوتا ہے۔
ہم بچپن سے میدانِ عرفات کے ہجوم میں اپنے رشتے داروں اور پڑوسیوں کو تلاش کرتے۔
لاکھوں لوگ کروڑوں پیارے پیچھے چھوڑ کر جاتے جن کے لیے اعزاز ہوتا کہ ہمارا فلاں بھی میدانِ عرفات میں موجود ہے۔
اس جملے سے سماعتیں کتنی مانوس ہیں کہ روضہ رسولﷺ پر میرا بھی سلام کہنا۔ خود جانے کی سعادت نہیں بھی ملی تو یہ ڈھارس بہت ہے کہ میرا سلام پہنچ گیا اُس ہستی کو جو میرے لیے جیتی تھی، میرے لیے روتی تھی، شب بھر امتی امتی کہتی تھی۔۔
ایک فرد حج کرکے آتا تھا، درجنوں گھروں میں آب زم زم اور عجوہ کی سوغات پہنچ جاتی تھی۔ یہی تو اس سرزمین کا سب سے نایاب تحفہ ہوتا ہے۔
مجھے یاد ہے کوئی حج سے کھجوریں لاتا، تو اباجی ان کی گٹھلیوں کو فرش پر پھینکنے نہ دیتے کہ کچرے میں چلی جائیں گی۔ بڑی تکریم کے ساتھ ان گٹھلیوں کو رکھا جاتا۔
حاجیوں کے آنے کے بعد وہ محفلیں جو حاجیوں کے اعزاز میں ہوتیں۔۔۔ ہم کتنی محفلوں میں صرف حجاج کے مشاہدات اور آنکھوں دیکھا حال سننے جاتے۔
کیسی روحانیت اور سرشاری کی فضا ہوتی تھی۔ خاندان کا کوئی ایک فرد حج کرکے آتا تو پورے خاندان پر روحانی اثرات نظر آتے۔
یکم ذی الحج سے دل کی دنیا بدل جاتی جیسے ہم نے اپنا دل جانے والے پیاروں کے ساتھ بھیج دیا ہے۔
یہ زندگی کا پہلا رمضان تھا جب مرد نمازی بھی گھروں سے نہیں نکلے۔
یہ زندگی کا پہلا حج ہے جب کوئی فون نہیں آیا، کسی نے تسلی نہیں دی کہ میں پہنچاؤں گی یا پہنچاؤں گا آپ کا سلام روضہ رسولﷺ پر۔
کسی نے نہیں کہا کہ۔۔۔ مبارک سفر سے پہلے سوچا اپنے پیاروں سے کہا سنا معاف کرا لوں۔ ہمارے حج کی قبولیت کی دعا کیجیے گا۔۔
اللہ کریم میدانِ عرفات کے اٹھے ہاتھوں کی لاج رکھ لے۔۔
لبوں سے نکلی ہر دعا قبول ہو ۔
لاکھوں عاشق جو سامانِ سفر تیار کرنے کو بے تاب تھے، جن کے نام قرعہ اندازیوں میں آگئے تھے، وہ ذی الحج آتے ہی یوں اداس ہیں جیسے ماں بچوں کو چھوڑ کر چلی گئی ہو۔
ان شاءاللہ اچھے دن پھر آئیں گے۔
حج کا موسم اپنی ساری بہاروں کے ساتھ لوٹے گا۔
اللہ کریم جانتے ہیں کمزور ہیں بندے۔
مسجد سے دوری، حرم سے دوری برداشت نہ کرسکیں گے۔
ایک وہی تو در تھا جو غم کے ماروں کو سینے میں چھپا لیتا تھا۔ دربدر کی ٹھوکریں کھائے اس دامن میں منہ چھپا کر رو لیتے تھے۔ جینے کا سہارا تھا۔
مدتوں اسی آس میں جی لیتے تھے کہ کبھی تو اس در سے بلاوا آئے گا۔
مولا سانسوں سے یہ آس کا بندھن بندھا رکھیے گا۔
آپ کے گھر آنے کا خواب ہی تو زندگی کے بوجھل پن کو کم کردیتا تھا۔
پھر لاکھوں لوگوں کو بلائیے گا جو تڑپ رہے ہیں دوری پر۔۔۔
بہت دل گیر ہیں مولا ، بہت دل گیر۔
نہ اپنے گھر کے دروازے بند کیجیے، نہ عرش پر توبہ کے دروازے۔
یوم عرفات امت پر رحم کی نظر کیجیے گا مولا۔۔۔
امت پہ بہت کڑا وقت پڑا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہ پڑا تھا۔
ہمارے گناہوں کی سمت نہ دیکھیے مولا کہ ہم آپ کی رحمتوں کی سمت دیکھتے ہیں۔۔
ہم آپ کی تکبیر کرتے ہیں، آپ کی بڑائی بیان کرتے ہیں مولا۔
یہ ذکر کے دن ہیں، تکبیرات کے دن۔۔۔ ان دنوں کی مسنون تسبیح ہم بھی پڑھ رہے ہیں، جب کہ بتا دیا آیاصوفیا نے کہ تکبیر کیسے بلند کرتے ہیں؟
تکبیر کا وقار کیا ہوتا ہے؟
ہاتھ میں تلوار کے ساتھ اس تکبیر کی تمکنت میں کیسے اضافہ ہوتا ہے؟؟
لوہا قوت میں اضافے کے لیے تجویز کیا تھا قرآن نے۔
ہاں مگر۔۔۔ حکمرانوں کی تکبیریں اور ہوتی ہیں، محکوموں کی تکبیریں اور۔۔
بادشاہوں کی تکبیریں اور ہوتی ہیں، غلاموں کی تکبیریں اور۔۔
یہ تکبیر، یہ وظیفہ، یہ ذکر بجائے خود مطلوب نہیں ہے۔
آسمانِ دنیا کے چپے چپے پر فرشتوں کے جھنڈ کے جھنڈ اس ذاتِ پاک کی تسبیح بیان کرتے نہیں تھکتے۔
یہ شجر، یہ حجر، یہ زمیں، یہ مکاں سب ہمہ تن محو ہیں تسبیح میں۔
صبحِ صادق طائر ہانکے پکارے کس کی تکبیر و ثناء کرتے ہیں؟
مگر۔۔۔ انسانوں کی تکبیریں ان کی قوت میں اضافے کے لیے ہوتی ہیں۔
جب مسلمان میدانِ جہاد میں تکبیر کا نعرئۂ مستانہ لگاتے تھے تو دشت و جبل لرز اٹھتے تھے۔
خون توانائی بن کر چہرے پر چھلک آتا تھا۔۔
تب دنیا مسلمان فاتحین کی دنیا تھی۔۔
تو۔۔۔ ذکر، تسبیحات، تکبیرات قوت پانے کا نام ہیں۔
وہ قوت جو ’’تبدیلی‘‘ہوتی ہے۔
وہ قوت جس سے کشمیر اور فلسطین کے عوام وقت کی سپر پاورز سے ٹکر لے رہے ہیں۔
وہ قوت جس کا استعارہ آیا صوفیا ہے۔
میرا ساڑھے پانچ فٹ کا وجود سرنڈر ہونے کو تیار ہے؟؟
حضرت اسماعیل ذبیح اللہؑ تو صرف 13 برس کے تھے جب سرنڈر کیا باپ کے حکم پر خود کو۔۔
تو تکبیر کا نفاذ سب سے پہلے اپنے وجود پر۔۔۔ اپنے گھر پر۔ جب ہم بدلیں گے تب بدلے گا سماج۔
سماج بدلے گا تو بدلے گا نظام۔
ورنہ ہاتھوں میں تسبیح، زبان پر تکبیر اور سجدے وقت کے آقاؤں کی چوکھٹ پر۔ کبھی نفس خدا، کبھی سماج۔۔۔
آئیے، تکبیر کرتے ہیں۔۔ تکبیر کے دن ہیں تکبیر کی راتیں۔۔
وہ تکبیر جو ہماری قوت بن جائے۔
ہماری حمیت بن کر رگوں میں دوڑے۔
ہمیں رزمِ حق و باطل میں فولاد بنادے۔
nn

حصہ