توفیق

41

فائزہ مشتاق

اُس نے مسالہ بھون کر سبزی انڈیلی اور آنچ دھیمی کردی، گوندھنے کے لیے آٹا الگ ہی کیا تھا کہ فریزر میں نظرکرم کی منتظر مچھلی کا خیال آیا۔ بھاگم بھاگ وہاں کا رُخ کیا مگر بے سود… مچھلی اپنا رنگ دکھا چکی تھی۔ گوشت کی بساند فریزر میں رچ بس گئی تھی۔
’’اُف میرے خدایا…!‘‘ ماتھے پر ہاتھ ٹکاتے اس نے مچھلی طشتری میں پھیلائی اور آٹا چھڑک دیا۔ لگے ہاتھوں آٹے کے ساتھ زور آزمائی کرنے لگی۔ اتنے میں مشین بھی بآوازِ بلند پکار رہی تھی۔
’’کیا مصیبت ہے‘‘۔ وہ تقریباً الجھتے ہوئے واشنگ ایریا کی جانب ہولی۔ دھلے کپڑے بالٹی میں منتقل کیے اور مزید ڈال دیے۔ چکر دے کر ابھی پلٹی ہی تھی کہ خود بھی چکرا کر رہ گئی۔ چیخ تقریباً نکلنے کو بے تاب تھی، چار انچ کی ڈیوائس پانی میں غوطہ زن دیکھ کر اس کے ہاتھوں کے گویا طوطے اُڑ گئے۔ اس کے پیچھے یقینا اس کی چھوٹی کا ہی ہاتھ تھا۔ محض ڈھائی سال کی عمر میں وہ ’’ماہرِ واردات‘‘ ہوچکی تھی۔ یہ بھی دیگر بہن بھائیوں کی صحبت کا ہی کمال تھا۔ جائے وقوع سے فرار کے بعد یقینی طور پر اب وہ کسی اور کارروائی میں مگن تھی، مگر نائلہ کا دھیان تو کہیں اور تھا، اس کے لیے تو تشویش کی بات کچھ اور تھی۔ شوہر کے مزاج سے وہ بہ خوبی واقف تھی۔ اسی خوف سے وہ دَم سادھے کھڑی تھی۔ سوچیں ہراس کے صحرا میں بھٹکنے لگیں اور متوقع ردعمل آنکھوں کے سامنے ناچنے لگا۔
’’توفیق ہی کب ہے ذمے داری کی‘‘۔ سماعت میں سرگوشی ہوئی۔ اس نے خیالات کو جھٹکا، اور ذہنی طور پر ہر صورتِ حال کے لیے تیار ہوگئی۔ کچھ ہی دیر میں وہ پھر سے کاموں میں مصروف تھی۔ ویسے بھی ہر غلط، بے جا اور جائز و ناجائز کی ذمے دار وہ ٹھیرائی جاتی۔ لے دے کر ہر معاملے میں اسے ہی جواب دہ ہونا پڑتا، کٹہرے میں اسے ہی آنا پڑتا۔ اہم معاملات ہوں یا معمولی، اُسے کسی بھی فیصلے کا اختیار ہی کب تھا!
ابھی کچھ روز قبل ہی تو اسے اپنے فیصلے کو بھگتنا پڑا تھا، جب اس نے استری کے لیے معاون و مددگار رکھی تھی۔ جیسے جیسے کپڑوں کی سلوٹیں غائب ہوتی گئیں، ہاشم کے ماتھے پر ابھرنے لگیں۔کچھ روز عافیت کے گزرے۔
’’عورتیں تو شوہروں کی خدمت گزار ہوتی ہیں، پر تمہیں تو توفیق نہ ہوئی‘‘۔ بالآخر ہاشم نے پھر سے اپنی برتری جتائی۔ اس کے آگے وہ کب کچھ کہنے کی مجاز تھی! اس لیے ہوا وہی جو وہ چاہتا تھا۔
نائلہ کی زندگی کی لُغت تو محض ’’توفیق‘‘ تک محدود کردی گئی تھی، اور شاید اس ’’توفیق‘‘ سے اب اس کے مراسم بھی ہوچکے تھے_
…٭…
نائلہ اور ہاشم علی کے ازدواجی سفر کو سولہ برس بیت چکے تھے۔ ہاشم ڈگری یافتہ مگر تعلیم سے نابلد… خود پسندی اس کی شخصیت کا غالب عنصر تھا۔ چمکتا عہدہ اور اچھی آمدنی نے خودپسندی مزید پروان چڑھائی تھی اور وقت کے ساتھ عادت پختہ ہوتی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نائلہ کو اپنے مقابل نہ ٹھیراتا۔ چھ پھولوں نے بھی اس کی تلخی کم نہ کی۔ تبدیلی تو زندگی کا لازمی جُز ٹھیری۔ اگر کچھ بدلا نہ تھا تو وہ ہاشم کا رویہ تھا۔ وہ آج بھی اُسی زاویے پر براجمان تھا جہاں دو دہائی قبل… ایسا نہ تھا کہ اس نے کبھی ذمے داریوں سے فرار لی ہو۔ اس کا گھرانہ متوسط مگر خوش حال جانا جاتا۔ ہر شے بے حساب موجود ہوتی۔ مگر اس گل دستے میں روکھے پن اور بے توجہی کے کانٹے اُگ چکے تھے۔ نائلہ بھی شب و روز ایک کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتی۔ ’’اکیلی جان اور سو کام‘‘ کے مصداق پورا دن گھن چکر بنی رہتی۔ ذہنی آسودگی تو زندگی سے کب کی رخصت تھی مگر بگڑتے، ہاتھ سے نکلتے بچے جیسے اُسے دیمک کی طرح چاٹ رہے تھے۔ ہاشم اولاد کے خلاف سننے کا قائل نہ تھا۔ وہ ہمت مجتمع کرکے اگر کبھی تذکرہ کر بھی لیتی تو توقعات کے عین مطابق ہی جواب ملتا ’’تمہیں توفیق ہی نہ ہوئی کہ اتنے سے بچے سنبھال سکو‘‘۔ اس طرح نائلہ کی زبان حلق سے کھینچ لی جاتی۔ نائلہ نے بھی خود کو دھارے کے مطابق ڈھال لیا اور جان لیا تھا کہ شاید وہ واقعی ’’توفیق‘‘ سے محروم تھی اور رہے گی۔
…٭…
ہاشم علی اپنے مخصوص انداز میں بول رہا تھا۔ وہ تو کچھ کہہ کر گویا خود پاؤں پر کلہاڑی مارتی۔ آج بھی ناشتے کی میز پر منظر کچھ نیا نہ تھا۔
’’باز نہیں آنے والی تم شو بازی سے۔‘‘
’’میں تو صرف سنتِ ابراہیمی…‘‘ نائلہ جھجھکتے ہوئے بولی۔
’’سنتِ ابراہیمی…؟‘‘ ہاشم نے بات اُچکی اور استہزائیہ مسکرا دیا۔ ’’اسی لیے تو کہتے ہیں بیگم صاحبہ! آدھا علم خطرناک ہوتا ہے‘‘۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ نائلہ کی اس دراندازی پر وہ اسے ایسے ہی چھوڑ دیتا۔
نائلہ نے خاموشی میں پناہ ڈھونڈنا چاہی۔ ہاشم علی نے انڈے کا سلائس علیحدہ کیا، نگاہیں اب بھی نائلہ کا تعاقب کررہی تھی۔ نائلہ کے لیے ناشتا کرنا محال ہونے لگا۔ آج بھی وہ ہاشم کی ان نظروں سے خوف زدہ ہوجاتی۔ وہ جانتی تھی کہ ہاشم کے سامنے زبان کھولنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔
’’قربانی تو ہوتی ہی ویلفیئر ہے، 365 کیا، میں تو 370 دن فلاحی کاموں میں مصروف رہتا ہوں…پھر کیسی قربانی…؟‘‘ وہ قدرے چڑتے ہوئے بولا۔ بلاتوقف پھر گویا ہوا ’’حساب برابر‘‘۔ نائلہ کی گردن مزید میز کو جا لگی۔
’’تمہیں تو ساری زندگی ویلفیئر کرنے کی توفیق نہ ہوئی اور مجھے پڑھانے چلیں۔‘‘ ہاشم نے حساب چُکتا کیا اور ہمیشہ کی طرح نائلہ کے الفاظ مقید کردیے۔
’’یہ تو بھول جاؤ کہ تمہاری شو بازی کی خاطر قربانی کروں گا‘‘۔ ہاشم بات کو بدلنا بہ خوبی جانتا تھا۔ ’’تم…‘‘ ٹکراتے ہوئے الفاظ اسے اب کہیں دور سے آتے محسوس ہورہے تھے۔
عیدالاضحی کی آمد پر یہ بحث ہر برس کا معمول تھی اور نائلہ ہاشم کو قربانی کے لیے قائل نہ کرپاتی۔ غیر منطقی شور میں اکثر ’’مدلل آوازیں‘‘ دب ہی جاتی ہیں، یہاں بھی یہی ہوتا اور نائلہ کی ہر کوشش بے سود، لاحاصل ٹھیرتی۔
…٭…
نمازِ عید کے بعد سے اب تک یہ اس کا چوتھا چائے کا مگ تھا۔ فون کالزکا نہ تھمنے والا تانتا تھا۔ عید کے روز ہاشم علی کا معمول عموماً یہی ہوتا۔ بچے قربانی دیکھنے کی غرض سے باہر نکلے ہوئے تھے۔ صبح، سہ پہر میں بدل چکی تھی، کچھ لمحے بھی اسے ریسیور سے خالی نہ پایا تھا۔ کولیگز سے گفتگو کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا اور ایسے ہی عید کا سورج غروب ہوجاتا۔ شام ڈھل چکی تھی، گوشت صرف چند گھروں سے ہی آیاتھا۔
’’اتنے بڑے بڑے جانور ذبح کرتے ہیں مگر مجال ہے کسی کو گوشت بھیجنے کی زحمت ہو‘‘۔ ہاشم علی نے چینل بدلتے ہوئے خودکلامی کی۔ بنا مخاطب کیے وہ شاید نائلہ کی طرف ہی متوجہ تھا، مگر اس نے جیسے سنی ان سنی کردی۔
’’چلو خیر اپنا فریزر تو پہلے ہی بھرا ہے…‘‘ ترچھی نگاہیں پھر نائلہ کی طرف موڑیں مگر جواب ندارد۔
’’دکھاوا ہے سب دکھاوا‘‘ آخرکار اس نے خودساختہ تسلی دی ’’توفیق ہی کہاں ہے ایسے لوگوں کو…؟‘‘ اتنے میں موبائل بھی بلبلا اٹھا ’’ارے خواجہ صاحب کہاں غائب ہوگئے تھے بھئی؟کوئی اتا پتا ہی نہیں…‘‘ آواز پہچاننے میں اُس نے لمحہ ضائع نہ کیا۔
’’شہرِ یاراں میں دل لگانا کیا!‘‘ دونوں جانب سے اس بات پر زوردار قہقہے بلند ہوگئے۔ ہاشم علی ایسا ہی تھا، گرم جوش اور شائستہ… مگر وہ آج بھی تشنہ تھی۔ خاموشی نے ثانیے کے لیے راج کیا اور پھر خواجہ صاحب گویا ہوئے:
’’ہاشم صاحب! کرم نوازیاں ہیں اُس کی۔ ہم جیسوں کا بھی ہاتھ تھاما اور پلٹ دیا۔‘‘
ہاشم اکثر خواجہ صاحب کی مالی چشم پوشی کرتا رہتا تھا۔ گزشتہ دو برس سے رابطہ نہ تھا۔ ابتدا میں تو ہاشم نے خواجہ صاحب کا پتا لگانے کی سر توڑ کوشش کی، مگر وہ دوسری رہائش اختیار کرچکے تھے، بیٹے کی نوکری ان کے لیے تُرپ کا پتا ثابت ہوئی۔ باتوں ہی باتوں میں ہاشم علی کو ان کی کایا پلٹ کا اندازہ ہوگیا تھا۔ خاصی دیر گفتگو چلتی رہی۔
’’ہاشم صاحب! میں گوشت لے کر حاضر ہونا چاہتا ہوں، اسی بہانے ملاقات بھی ہوجائے گی‘‘۔ انہوں نے رابطے کا مدعا بیان کیا۔
ہاشم کو جیسے جھٹکا لگا۔ وہ سکتے میں آگیا۔ ’’اچھا……’’وہ رُکا ’’آپ اور قربانی…!‘‘ اس نے اٹکتے ہوئے پوچھا۔ ’’میرا مطلب وہ نہیں تھا‘‘۔ ہاشم نے سرعت سے توجیہ دی۔
’’ اُس کا بڑا کرم ہوا‘‘۔ خواجہ صاحب نے اثبات میں جواب دیا۔
’’زندگی میں پہلی دفعہ توفیق ملی‘‘۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اجازت لی۔
گفتگو نہ جانے کب کی منقطع ہوچکی تھی مگر ہاشم نقطے پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ کئی لمحے ساکن رہا۔ کشمکش کی لہر وجود میں سرایت کرگئی، برسوں پر محیط سفر نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ کڑیاں ملیں، وہ خود سے نظریں ملانے کی تاب نہ لا سکا اور آئینے سے اُوٹ لے لی۔ یکدم چہرے کو ہاتھوں میں گرا لیا۔ شاید وہ یہ جان چکا تھا کہ توفیق کا اصل ضرورت مند کوئی اور نہیں، وہ خود ہے۔

حصہ