بڑی عید اور مصالحہ دار سوژل میڈیا

56

یہ ہفتہ میرے حساب سے افسوس ناک و شرمندگی والی خبروں سے گھرا نظر آیا۔آیا صوفیہ میں تاریخی نماز جمعہ کی ادائیگی کی شب جیو نیوز پر شاہ زیب خانزادہ کے یک طرفہ اور متعصب پروگرام پر اُسے سوشل میڈیا پر بھرپور مغلظات سُننے کو ملیں۔پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے واضح پیغام دیاہے جسے ارتغرل کی بدولت کہیں یا ایردوان کے مجموعی اقدامات قرار دیں ، کم از کم اب پاکستان میں ترکی کا کوئی بےبنیاد منفی پہلو آسانی سے ہضم نہیں کیا جا سکتا ۔دُکھ اس بات کا ہوا کہ خانزادہ نے زبردستی آیاصوفیہ کے لیے عیسائیوں کی ترجمانی کی اور کہا کہ عیسائی دُنیا کو بڑا دکھ، غم و غصہ ہے ، مگر اپنی بات کی دلیل میں وہ دو تین ٹوکن جملوں کے سوا کوئی بات نہیں پیش کر سکے ۔اگر واقعی عیسائی دُنیا کو آیا صوفیہ سے کئی لگاؤ ہوتا تو وہ عدالت میں جاری کیس کے فریق بنتے ، یونیسکو وغیرہ اس پر کوئی شدید رد عمل دیتے نہ کہ ٹوکن جملے ۔ ویسے بھی آیا صوفیہ چرچ تو تھا ہی نہیں ایک عجائب گھر تھا جسے چرچ کی حالت میں وقت کے فاتح سلطان کو فروخت کیا جا چکا تھا تو اُن کے دُکھ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ویسے بھی عیسائی حضرات اپنے اپنے ملک میں قائم چرچ اپنی مرضی سے مسلمانوں کو فروخت کر دیتے ہیں جہاں مسلمان مساجد بناتے ہیں ۔ آپ کو بھی کوئی چرچ خریدنا ہو تو گوگل کر لیں اُنکو صرف پیسے سے مطلب ہے ۔پھر آپ وہاں مدرسہ بنائیں یا ہسپتال یا مسجد اُنکو کوئی ایشو نہیں ہوتا۔

مگر بقول شاہ زیب خانزادہ آیاصوفیہ پر اُنکوبڑا غم تھا؟ترکی کا تین دہائیوں قبل کا ماضی جاننے والے گواہ ہیں کہ ایردوان نے اپنی پالیسیوں سے ترک عوام کو اسلام سے جوڑا ہے ، مساجد کو آباد کرنے کے لیے کئی ترغیبات دیں ، ایسی ہی ایک ترغیب کو شاہ زیب نے اپنے پروگرام میں غلط رنگ دے کر پیش کیا کہ ایردوان نے بلدیاتی الیکشن مہم کے دوران ایک خطاب میں آیا صوفیہ کے قریب واقع مسجد کو بھرنے کا کہا ، جس کا واضح مطلب نماز کی طرف متوجہ کرنا تھا ، نہ کہ یہ مطلب کہ وہ آیا صوفیہ کو مسجد بنانے کے حق میں نہیں۔شاہ زیب بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُسی خبر میں آیا صوفیہ سے متعلق اہم جملے کو کھاگیا اور یہ نہیں بتایا کہ صدر ایردوان نے آیا صوفیہ کو مسجد بنانے کے عوامی مطالبہ کے جواب میں یہ کہا تھا کہ ” ہمیں معلوم ہے کہ کس طرح کا قدم اُٹھانا ہے اور ہم اس کی سیاسی زبان بھی جانتے ہیں۔”اسی طرح شاہ زیب جس طرح ترکی کی معاشی بد حالی کے اعداد و شمار پیش کرکے ایک خوفناک منظر نامہ پیش کرت رہے وہ بھی کسی سے ہضم نہیں ہوا کیونکہ اگر ترکی اتنا ہی بدحالی کا شکار ہے تو لاک ڈاون ایام میں تو اُس کو تباہ ہوجاناتھا مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ ترکش ایئر لائن دُنیا کی کامیاب بڑی ایئرلائن میں تاحال شامل ہے ، ترکی نے کورونا کے سلسلے میں کئی ممالک کو امدا د بھیجی جو معاشی طور پر تباہ حال ملک نہیں کرپاتا بلکہ دوسروں سے مانگتا ۔ٹیکنالوجی میں جو ترقی ترکی نے کی ہے اُس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔اسلحہ و دیگر ٹیکنالوجی کو چھوڑیں ترکی کی صرف ڈرامہ انڈسٹری ہی کی بات کرلی جائے تواُس کا شمار دُنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ڈرامہ ایکسپورٹ کی آمدن اگلے 3 سال میں 1 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔صرف ارتغرل کے ایک یو ٹیوب چینل کی آمدن 1ملین ڈالر رہی ہے ۔مگر شاہ زیب خانزادہ کو نا معلوم کونسے معاشی ماہرین نے کس طرح کی پٹی پڑھائی ۔ اس وقت ترکی میں خواندگی امریکا سے زیادہ ہے ، ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں ترکی جیسی آبادی والا کوئی ملک ترکی سے آگے نہیں ۔اچھا صرف کورونا ہی نہیں بلکہ ترکی جنگ کے ماحول میں بھی گھراہوا ہے ایک جانب شام دوسری جانب یونان ایسی غیر معمولی صورتحال میں جب لاکھوں شامی مسلمان مہاجرین کو اُس نے مثالی اندا ز سے بسایا ہوا ہو یہ کوئی معمولی اقدامات ہیں ۔ان سب کے باوجود ترکی الحمدللہ سراٹھا کے اپنے تمام فیصلے کر رہا ہے ۔بس آخری بات یہ کہ آیا صوفیہ کی بطور مسجد بحالی کے موقع پر دُنیا بھر سے مسلمان جس جوش و جذبے کے ساتھ موجود تھے وہیں ترک صدر کی جماعت کے مخالف یعنی اپوزیشن لیڈر بھی جمعہ پڑھنے وہیں موجود تھے۔
بہر حال اسکے بعد اتوار سے کراچی میں مون سون برسات کا سلسلہ شروع ہوا یہ برسات کا سلسلہ تین دن کراچی کے مختلف حصوں میں جاری رہا۔ہر بارکی طرح اس بار بھی کراچی برساتی پانی مِیںڈوبا، اموات خاصی کم ہوئیں پہلے کے مقابلے میں البتہ نکاسی آب کا مسئلہ ویسا ہی رہا۔ بارہا توجہ کے باوجود حکام اپنی رٹ قائم نہ کرا سکے اور صفائی کی گیند ایک دوسرے کے کورٹ میں پھینکتے رہے۔سوشل میڈیا پر دھڑا دھڑپانی میں ڈوبے علاقوں کی پوسٹیں شیئر ہوتی رہیں ۔ اس بار یہ بھی شدت سے ضرور ہوا کہ ایم کیو ایم، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی یعنی حکمران جماعتوں کوبھی خوب رگڑا لگایا گیا۔بلاول بھٹو کا مشہو ر جملہ”جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے “پر بھی خوب میمز بنائی گئیں۔تینوں دن مختلف ہیش ٹیگز ٹرینڈ بنے ۔ بجلی ویسے ہی مسئلہ بنی ہوئی تھی بارش کا مزید بہانہ مل گیا تھا۔عید قرباں کی وجہ سے مویشی منڈی کی صورتحال بھی خراب ہوئی جس کا فائدہ آن لائن جانور بیچنے والوں نے اس ٹیگ لائن کے ساتھ اُٹھایا کہ منڈی کی کیچڑ و گندگی سے بچیں اور آن لائن خوبصورت جانور بک کرائیں ۔عمار مسعود اپنی پارٹی کا دفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “میڈیا نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ لگتا ہے کہ بارش ہوتی ہے تو صرف سندھ میں ہوتی ہے، کورونا پھیلاتا ہے توصرف سندھ میں پھیلتا ہے، بیڈ گورننس ہے تو صرف سندھ میں ہے،بھوک اور افلاس بڑھ رہا ہے تو صرف سندھ میں بڑھ رہا ہے۔اس طرح کے جعلی ہتھکنڈے صوبائیت کو ہوا دیتے ہیں،نفرتوں کو بڑھاتے ہیں”۔ صہیب جمال سالہا سال کی برسات و حکمرانوں کے رویے دیکھ کر اپنے احساسات “میں شہر کراچی کا نوحہ لکھنا چاہتا ہوں”کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ “پورے ملک سے سوشل میڈیا پر کراچی ڈوبنے ، جگہ جگہ پانی کھڑے ہونے پر کئی نے مذاق اڑایا کئی نے دکھ کا اظہار کیا ۔ہمارے ایک دوست جو ایبٹ آباد میں رہتے ہیں ایک پکچر لگائی جس میں ڈوبتے کراچی پر مذاق تھا ، ان کو انباکس میں لکھا “بھیا جس دن آپ کے علاقوں میں شدید زلزلہ آیا تھا ہم کراچی والے ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھے تھے اپنے دل اور جیبیں کھول دی تھیں ، آپ ہماری مصیبت پر مذاق اڑا رہے ہو”۔یہ ہمارے ملک میں عمومی مزاج ہے ، کراچی کا کچرا ہو ، کراچی میں بہتے گٹر ہوں یا کراچی میں بارش سے ڈوبے علاقے ہوں ، ہم سے ہمدردی نہیں ہم سے مذاق کیا جاتا ہے ۔کراچی نے آج تک کبھی کسی سے کوئی امداد نہیں لی ، کبھی کسی سے کوئی مدد نہیں لی ، ہماری مساجد میں ملک کے گمنام کسی گاؤں میں گمنام کسی مدرسہ کا نمائندہ کھڑا ہوتا ہے اور اعانت کی درخواست کرتا ہے ، نماز ختم ہونے کے بعد اس کی جھولی میں ڈھائی تین ہزار ہوتے ہیں ۔کینسر ہسپتال ، گردے کا ہسپتال یا کوئی بھی فلاحی ادارہ بنتا کسی اور صوبے میں ہے مگر فنڈنگ کراچی میں بھی ہوتی ہے اور کراچی والے دیتے بھی ہیں ۔اس شہر کی مثال اس بڑے بھائی کی سی ہے جو پوری زندگی قربان کرکے اپنے بھائیوں بہنوں کو پڑھا لکھا کر کسی مقام پر پہنچاتا ہے اور خود کسی تنہائی کا شکار ہوتا ہے یا اس بڑی بہن کی سی ہوتی ہے جو اپنی زندگی اپنے چھوٹے بھائی بہنوں پر لگا کر سفید بالوں کے ساتھ کنواری رہ کر محلے بھر کی آپا ہی رہتی ہے ۔ہمارے شہر کو اپنوں نے بھی زخم دیے ہیں ، مڈل کلاس سے اپر کلاس بن گئے ، نیوکراچی ، لانڈھی سے سفر کرکے ڈیفنس، لندن ، امریکا ، کینیڈا اور ساؤتھ افریقہ پہنچ گئے ، کسی نے اپنی شناخت کے لیے اپنی پارٹی کے آگے لفظ پاکستان لگا لیا تو کسی نے لندن تو کسی نے پاک سر زمین تو کوئی حقیقی بن گیا ۔یہاں کے حکمران کلفٹن کے بڑے بنگلے کی مضبوط اونچی دیواروں کے پیچھے سالگرہ مناتے ہیں ، یہاں کے عوامی نمائندے ہماری نمائندگی کے بجائے اپنے لیڈر کی تعریفوں اس کے ہینڈسم ہونے کے گُن گاتے رہتے ہیں ، کچھ اس میں سے کبھی استعفیٰ کا ڈرامہ کرتے ہیں کبھی اپنے وزیر کے تحت آئے ادارے کے خلاف ڈرامہ پریس کانفرنس کرتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پیجز کا پیٹ بھرا جاسکے ۔یہ بڑا بدقسمت شہر ہے ، اس کے باسی دنیا کے بیوقوف ترین لوگ ہیں ، انہوں نے خود اپنے لیے مصیبتیں منتخب کی ہیں ۔”
اس دوران مشہور متنازعہ آن لائن گیم پب جی پر پابندی اٹھوانے کے لیے وقار ذکاء اپنی ٹیم کے ساتھ بدستور سر گرم رہے ۔ سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد پی ٹی اے نے پابندی برقرار رکھی اور اُس پابندی کے حق میں گیم کے استعمال کنندگان یعنی بچوں و نوجوانوں پر پڑنے والے منفی اثرات کے دلائل دیئے ہیں ۔اس کے بعد وقار ذکاء اس کو انسانیت پر ظلم قرار دیکر براہ راست عمران خان پب جی کھلواو کے ہیش ٹیگ کو لیکر میدان میں اتر گئے جس پر کوئی 10لاکھ سے زائد ٹوئیٹس کروا کر خود ایک نیا ریکارڈ بنایا گیا۔ عامر لیاقت بھی سوشل میڈیا پر وقار کے ہم آواز ہوئے ۔اسی طرح دہری شہریت کے معاملے پر وزیر اعظم کے دو معاونین خصوصی تانیہ ایدروس اور ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی سماجی میڈیا پر اپنے استعفوں کا اعلان کر دیا۔استعفوں کی وجہ کے حساب سے تو تمام دہری شہریت والے معاونین کے استعفے آنے تھے مگر تادم تحریر صرف دو استعفے منظر عام پر آئے تھے ، اس پر ہی پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے اچھا تاثر دینے کے لیے تانیہ ایدروس کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹرینڈ بنایااور سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسے اچھے لوگ اگر قربانی دیکر ملک کو سنوارنے آتے ہیں تو ان کے لیے راستہ کھولنا چاہیے ۔
اس کے بعد ایک بار پھر ہمارے معاشرے کو لگا جنسی ہوس کا داغ ایک کریہہ شکل کے ساتھ سامنے آیا۔ کئی برسوں سے سوشل میڈیا پر تواتر سے معصوم بچے بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز پر بھرپور آواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔اس کے باوجود کیسز میں کمی نہیں نظر آئی اسکی وجہ یہی ہے کہ ہم مسئلہ کی جڑ کو کبھی ختم ہی نہیں کر پاتے بلکہ جڑ تو کیا اس کی ٹہنی و پتے بھی نہیں نکال پاتے۔یہی وجہ ہے شاید کہ اب بلی کے بچے والا (جھوٹا)کیس سامنے آگیاکیونکہ اس اسکینڈل کو جھوٹا ثابت کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں ، مگر افسوس کہ ہمارے ہاں بھیڑ چال ایسی ہے کہ مت پوچھیں۔ ڈجیٹل میڈیا کے اور خصوصاٹک ٹاک کے جس زمانے میں ہم رہ رہے ہیں وہاں اس طرح کی ویڈیو کا بننا اور لیک ہونا کوئی ایشو نہیں۔مگر جس طریقے سے اس ایشو کو زیر بحث لایا گیا اور جن نکات پر لایا گیا وہ مزید شرمناک ہیں۔پہلی بات تو یہ کہ اس بلی کے بچے سے مبینہ جنسی زیادتی والے واقعے کی آڑ میں پوری شدت سے یہ بات سمجھائی جانے لگی کہ جو کہا جاتا ہے کہ خواتین کی ڈریسنگ یا خواتین کے نیم برہنہ لباس یا جسم کی نمائش والے ملبوسات مردوں کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مرد جنسی درندے بن جاتے ہیں تو اب بلی کے کیس میں کیا تھا ؟کیا بلی بھی ایسے جذبات بھڑکانے والے لباس میں ہی تھی ؟ اس کو بنیاد بنا کر خواتین کے پردہ و بے لباسی کو درپردہ رگڑا لگایا جا رہا تھا۔وقار ذکاء نے اس موضوع پر تفصیلی ویڈیو بنا کر جانوروں خصوصی طور پر بلی کے ساتھ حسن سلوک کو اسلام کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے مثالیں نکال کر بیان کیا۔نہ صرف یہ بلکہ اُنہوں نے اس پر ملکی قوانین و سزا کا بھی تفصیلی احاطہ کیا جس کے مطابق باقاعدہ ایف آئی آر درج ہوگی اور پاکستان پینل کوڈ میں اس عمل کی سزا ہے۔لیکن تاحال (کیس کے جھوٹا ہونے کی وجہ سے ) ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ہاں ایک لڑکے ( حیدر) کا ویڈیو بیان ضرور سامنے آیا جس میں اُس نے کہا کہ یہ ویڈیو صرف علامتی ہے حقیقت میں ایسا کچھ نہیں کیا گیااور یہ ویڈیو بھی دو تین سال پرانی ہے۔اس کے ساتھ ہی جو ایک نامعلوم آڈیو لیک ہوئی جو اُس واقعہ کی گواہی کی مانند ہے اُس کو بھی لڑکے نے جعلی قرار دے دیا۔یہ بات ٹھیک ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈالی گئی ابتدائی کہانی میں خاصے بلکہ بہت سارے جھول ہیں ۔ اس کے باوجود فی الفور جو لبرل طبقات کی جانب سے سوشل میڈیا پر بیانیہ آیا وہ اس طرز کا تھا کہ “لاہور کی ایک فیملی نے ایک بلی کے بچے کو گھر رکھنے کے لیے خریدا. ان کا 15سالہ بیٹا اپنے کزنز اور دوستوں کے ساتھ مل کر اس بلی کے بچے کا ایک ہفتے تک ریپ کرتے رہے۔ دن بدن اس بلی کے بچے کی حالت اتنی بگڑ گئی کہ تکلیف سے نہ سو پاتا تھا نہ بیٹھ سکتا تھا نہ چل سکتا تھا۔مرنے والی حالت میں جب کوئی رحم دل اسے سرجن ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ کل رات وہ بلی کا بچہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مومن مردوں کو یہ آخری صدا لگاتے ہوئے مر گیا. تم لوگوں سے جانور کہیں بہتر ہیں تم لوگ جانوروں سے بھی بد تر ہو۔پوسٹ لکھنے کا مقصد صرف یاد دہانی کرانا تھا. پاکستان میں اپنے بچے بچیوں بہن بیٹیوں عورتوں، دودھ پیتی بچیوں، قبر میں پڑی مردہ لاشوں کے ساتھ ساتھ اپنے جانوروں کی بھی حفاظت کریں۔ اپنے تمام جانوروں کو سر سے پاؤں تک برقعہ پہنا کر بہت احتیاط سے ایک محرم کے ساتھ باہر نکالیں، کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جگہ جگہ ہوس سے بھرپور درندے گھوم رہے ہیں۔” کچھ جملے میں نے جان بوجھ کر ہذف کر دیئے ہیں کیونکہ وہ نازیبا ہونے کے ساتھ ساتھ سفید جھوٹ کے سوا کچھ اور نہیں تھے۔لبرل طبقات کا مقصد اسلامی جمہوریہ سے ہے ، برقعہ سے ہے ، محرم سے ہے جو آپ نے یقینا نوٹ کیا ہوگا۔یہ معاشرے میں بڑھتی پھلتی پھولتی جنسی ہوس کا خاتمہ نہیں چاہتے یہ کچھ اور چاہتے ہیں ۔ اس لیے ان واقعات سچے ہوں یا جھوٹے ان کا ڈسکس ہونا ان کا روبہ عمل ہونا سب کچھ یہی تقاضا کرتا ہے کہ معاشرے کو حیا دا ر بنایا جائے یہی ایک اہم کام ہے ۔ حیاء کا کلچر عام کیا جائے اور ہر قسم کی بےحیائی کا خاتمہ ہو۔
nn

حصہ