پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ

110

اچھی تعلیم و تربیت میں خلل واقع نہ ہو ورنہ قوم کا بہتر مستقبل دائو پر لگ سکتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں تعلیم کی اہمیت اور اچھی تربیت سے کئی برسوں سے صرف نظر برتا جارہا ہے۔ اداروں کی غیر ضروری مداخلت اور عوامی استحصال نے قوم میں یکسوئی پیدا کرنے کے بجائے اسے اور زیادہ افراتفری کی طرف مبذول کیا ہے۔ منظم سازش کی بنا پر قوم کو غیر ضروری سیاسی جماعتوں میں بانٹ کر عوامی امنگوں اور خواہشات کا خون کیا گیا ہے۔
ایک مقبول عوامی نیشنل قیادت ہی عوام کو اس استحصالی دلدل سے نکال سکتی ہے۔ تعلیمی نظام میں اسلامی اصلاحات کے لیے پاکستانی قوم کے ہر ہر فرد کو دوبارہ سے ایک منظم جدوجہد کرنی ہوگی اور قوم کو ایک انقلابی روز مرہ زندگی کے معمولات انسانی ذہن کی نشوونما پر بڑے گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انسانی زندگی میں اچھے خیالات اور بہتر صحبت ہر فرد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ انسان کی بچپن سے بہتر تربیت اور اچھے تعلیمی ماحول کے نتیجے میں معاشرے میں بہتر افراد پیدا ہوتے ہیں جو آگے چل کر قوم کے بہتر مستقبل کی ضمانت بنتے ہیں۔ کسی قوم میں بھی تعلیمی نظام اور بہتر تربیت کے نظام میں تعطل اور خرابی اس قوم کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ معاشرے کے ذی شعور اور با اثر افراد کو اس بات پر ہمیشہ نظر رکھنی پڑتی ہے کہ کہیں معاشرے میں ایک سطح پر یکجا ہونا ہوگا تاکہ دیگر اداروں کی غیر ضروری مداخلت کو بروقت روکا جاسکے اور قوم کو اس کے اصلی مقاصد کی طرف دوبارہ سے توجہ دلا کر منزل مقصود حاصل کی جاسکے۔ سیاسی جماعتوں میں منافرت پھیلانے والوں کی نشاندہی اور بروقت کارروائی کے نتیجے سے قوم کی توجہ دو سیاسی پارٹی نظام کی طرف مبذول کرائی جاسکتی ہے جس کے نتیجے میں مضبوط سیاسی نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ مضبوط سیاسی نظام کی شکل میں قوم کو بہتر تعلیمی نظام و تربیت سے روشناس کیا جاسکتا ہے اور اداروں کی غیر ضروری مداخلت کو بھی روکا جاسکتا ہے۔ آج کے دور میں بھی دنیا میں جتنی بھی ترقی یافتہ قومیں موجود ہیں ان میں قدر مشترک بہتر تعلیمی نظام و تربیت ہے اور معاشرے کے ہر فرد کے لیے مفت تعلیم میسر ہے۔ بنیادی تعلیمی نظام کو اس طرح سے تشکیل دیا گیا ہے کہ معاشرے سے بہتر ٹیلنٹ ازخود دریافت ہو سکے اور انہیں آئندہ مستقبل میں بہتر ریسرچ کے مواقع میسر آسکیں۔ اسی مکمل تعلیمی نظام کے ذریعے سے ہی ترقی یافتہ ممالک میں بہتر روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں اور معاشرے میں ترقی کی منازل طے کی جاتی ہیں۔
پاکستان اور پاکستانی عوام نے بھی اگر ترقی کی منزلیں طے کرنی ہیں اور مشکلات کے گرداب سے باہر آنا ہے تو سب سے پہلے اپنا تعلیمی نظام و تربیت کو بہتر کرنا ہوگا اور دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں اپنا نام لکھوا کر ترقی کی منزلیں طے کرنی ہوں گی‘ ان شاء اللہ۔

حصہ