میں باہر جاؤں کس کے لئے۔۔۔۔؟۔

84

آج وہ اپنے دوست کے پاس چلا آیا۔ ریاض کا ریڈی میڈ ملبوسات کا چھوٹا سا کارخانہ تھا جس میں بچوں اور خواتین کے لیے اچھی کوالٹی کے سوٹ تیار ہوتے تھے۔ ڈریسنگ روم میں خواتین کپڑوںکو پہن کر، اپنے ساتھ لگا کر جانچتی تھیں۔
جب وہ مین گیٹ سے اندر چلا تو سائیڈ میں ایک علیحدہ ٹیبل اور چیئر پر ایک محترمہ سیاہ عبایا اور وائٹ اسکارف میں ملبوس بیٹھی تھیں، چہرہ بھی چھپا ہوا تھا، صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ وہ تعجب سے دیکھتا ہوا ریاض کے کمرے میں چلا آیا۔
’’آئو بھئی، کہاں تھے اتنے دن! فون تک نہیں کیا تم نے؟‘‘ ریاض نے ایک ساتھ دو سوال کردیے۔ ’’تم کو پتا ہے ناں ماحول کتنا عجیب سا ہورہا ہے، کسی سے ملنے کے لیے سو سو بار سوچنا پڑتا ہے، مگر آج میں بغیر سوچے سمجھے چلا آیا‘‘۔ عدیل نے بتایا۔
’’اچھا کیا، بہت اچھا کیا، ایسے تو بندہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ پتا نہیں اِس دفعہ قربانی بھی کیسے ہوگی؟‘‘
چائے پی کر، دوست سے ہلکی پھلکی باتیں کرکے واقعی اس کی طبیعت فریش ہوگئی، آس پاس کی اداسی نے اچھا خاصا اداس کردیا تھا۔
’’اور ہاں ابھی میں نے دیکھا ایک محترمہ پردہ دار بیٹھی تھیں، یہ کیا کرتی ہیں یہاں؟‘‘
ان کا کام بہت اہم ہے، خریداری سے پہلے جب خواتین اور بچے ڈریسنگ روم میں جاتے ہیں اور واپسی میں کبھی کچھ بھول جاتے ہیں… کبھی کبھی مس ریحانہ ان کے ساتھ جاتی ہیں اور باہر کھڑی رہتی ہیں، پھر دروازہ بند کرکے اندر جاتی ہیں اور انہیں کہتی ہیں: ’’لیڈیز اپنی چیزیں دیکھ لیں، کچھ رہ نہ جائے اور آپ کو پریشانی ہو‘‘۔ بس یہ بات ہے۔ ویسے سننے میں آتا ہے کہ ڈریسنگ روم کی بھی خطرناک کہانیاں بن رہی ہیں، اس لیے ہم نے خواتین کے لیے خاتون رکھ لی ہے۔‘‘
’’بالکل درست۔ مسلمان ہمیشہ سیلاب آنے سے بہت پہلے پُل بنا لیتا ہے، بند کی دیکھ بھال کرلیتا ہے۔‘‘
’’اور ہاں، جب سے یہ آئی ہے ہمارے کسٹمر میں اضافہ ہورہا ہے۔‘‘
’’اچھا اب میں چلتا ہوں‘‘۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’بیسٹ آف لک‘‘۔
باہر نکلا، بائیک اسٹارٹ کرتے ہوئے ایک خوش گوار سی کیفیت طاری تھی۔ یقینا یہ وہ خوشی تھی جو کسی کو نیک عمل اختیار کیے ہوئے دیکھ کر، سن کر ہوتی ہے۔
گھر پہنچا تو امی جان عصر کی نماز پڑھ رہی تھیں۔ وہ وہیں بیٹھ گیا۔ امی کا کمرہ کتنا سادہ، صاف ستھرا اور پُرسکون تھا۔ امی نے سلام پھیر کر پہلا سوال یہی کیا ’’بیٹے چائے پیو گے؟‘‘
’’جی آپ پلا دیں تو ضرور پیوں گا۔ ساری دنیا میں آپ سے اچھی چائے کوئی نہیں بنا سکتا۔‘‘
’’بس کچھ دنوں کی بات ہے۔‘‘
’’جی کیا کہا؟‘‘
’’کچھ نہیں…‘‘
اس نے ظاہر کیا جیسے بات سنی نہیں حالانکہ سن چکا تھا۔ وہی ساسوں والی بات کی ناں۔ وہ مسکرانے لگا۔
’’اچھا تم دادی جان کے پاس بیٹھو، میں وہیںچائے لے کر آتی ہوں۔‘‘
چائے پیتے ہوئے یاد آیا ’’اوہ ہاں بابا نہیں آئے ابھی تک؟‘‘
’’دیر سے آئیں گے، کہہ کر گئے تھے۔‘‘
’’امی جی ذرا خیال رکھا کیجیے، میرے بابا ابھی بھی بڑے اسمارٹ اور گڈ لکنگ ہیں۔‘‘
’’اوہو بڑی باتیں بنانی آگئی ہیں تم کو!‘‘
’’جی، آخر یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں، اور اب تو آخری سال ہے‘‘۔ یہ کہہ کر وہ چائے کے برتن اٹھاکر کچن کی طرف چل دیا۔ مغرب کے بعد نعیم صاحب کی واپسی ہوئی۔ اماں کو سلام کیا۔ جواب دیتے ہوئے انہوں نے غور سے دیکھا۔ ’’کیا بات ہے بیٹے، طبیعت خراب ہے؟‘‘
’’ہاں سر میں شدید درد ہے، اب لیٹنا چاہ رہا ہوں۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے، جائو۔‘‘
’’ماریہ مجھے چائے کے ساتھ ایک ٹیبلٹ دے دو۔‘‘
’’جی اچھا، لاتی ہوں۔‘‘
عشا کے بعد نعیم صاحب باہر آئے، لائونج میں اماں کے تخت پوش پر بیٹھ گئے۔ بیگم اور بیٹے کو بلالیا۔
’’مجھے آپ لوگوں کا تعاون درکار ہے، کیوں کہ اس کے بغیر اچھے نتائج نہیں نکل سکتے۔ بات یہ ہے کہ کمپنی والوں نے سارے ملازمین کا ٹیسٹ کرایا Covid-19، یعنی کورونا وائرس کا، اور میرا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں اس کا علاج احتیاط ہے۔ اب کم از کم بیس دن الگ کمرے میں رہنا ہوگا، یہی نہیں، میرے برتن الگ بلکہ مجھ سے متعلق ہر چیز الگ۔‘‘
’’تم بالکل نہ گھبرائو میرے بچے! میں آنچل پھیلا کر اللہ سے اپنے بیٹے کی صحت مانگوں گی، تمہیں کچھ نہیں ہوگا ان شاء اللہ۔‘‘
’’میں ذرا ہنڈیا دیکھ آئوں‘‘۔ ماریہ اٹھ گئیں، آنکھوں میں آئے موٹے موٹے آنسو چھپانے مشکل ہورہے تھے۔
’’اوہو میں نل بالٹی میں کھلا چھوڑ آیا تھا، ذرا بند کر آئوں‘‘۔ یہ کہہ کر وہ بھی دوڑ گیا۔
وجہ یہ تھی کہ باتھ روم میں جاکر پانی کے ساتھ آنسوئوں کو بھی بہانا تھا۔
’’عدیل بیٹا بات سنو۔‘‘
’’جی امی کہیے…‘‘ اتنے میں دادی جان بھی ہمہ تن گوش ہوچکی تھیں۔
’’میں نے ہمیشہ کی طرح تمہارے اور تمہارے ابو کے دو، دو سوٹ سلوا لیے تھے، کل جمعہ ہے پہن لینا۔‘‘
’’امی! ایک شاعر نے بڑے اچھے شعر کہے ہیں، پہلے وہ سن لیں۔‘‘
’’اچھا سنائو۔‘‘
’’نئے کپڑے بدل کر جائوں کہاں
اور بال بنائوں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا
میں باہر جائوں کس کے لیے‘‘
امی کو ہنسی آگئی، یہی اس کا مقصد تھا۔ کل سے امی کو سنجیدہ سنجیدہ دیکھ کر اسے ہول اٹھ رہے تھے۔
’’اور ہاں، سارہ کی طرف نہ جانا، وہ تمہارے ساتھ آنے کے لیے تیار ہوجائے گی، اس کے بچے چھوٹے ہیں، نانا کے کمرے میں جانے کی ضد کریں گے۔‘‘
’’نہیں جائوں گا، اور جا ہی نہیں سکتا، ان کے ایریا میں تو اسمارٹ لاک ڈائون لگا ہے۔‘‘
’’اوہو اب کیا کرے گی وہ؟‘‘
’’ارے اتنا پریشان نہ ہوں۔ بہت ضروری کام ہو تو نکلنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ ویسے آپ انہیں فون کرکے سمجھا دیں، ہم انہیں یعنی ان کی فیملی کو دعوت دے کر بلائیں گے بابا جان کی صحت یابی پر۔‘‘
’’ان شاء اللہ میرے بیٹے! ان شاء اللہ‘‘۔ دادی جان نے تڑپ کر کہا۔ ’’یااللہ میرے لعل کو جلدی اور مکمل صحت عطا فرما، آمین‘‘۔
’’بابا اگر لعل ہیں، تو میں کیا ہوں دادی جان؟‘‘
’’تم میرے لعل ہو، میرے پیارے منے‘‘۔
پندرہ دن پندرہ صدی کی طرح گزرے۔ اندیشے، خوف، وہم سے لڑتے لڑتے… مگر مہربان رب نے دعائوں کو، وہم کو، خوف کو خوشی کی خبر میں بدل دیا۔ اب کے ٹیسٹ لیبارٹری سے گھر آکر ایک بندے نے کیا اور دوسرے دن ہی منفی کی رپورٹ آگئی۔ چار دن بعد عید تھی، اس عید پر لوگ اپنے گھروں پر ہی ہیں قربانی کی وجہ سے۔
ماریہ نے جھٹ بیٹی کے گھر کو بلا لیا دوسرے ہی دن، خاص طور پر داماد کو تاکید کی آنے کی۔
مغرب کی نماز تک سب اکٹھے ہوچکے تھے، بچے بھی دوڑتے پھر رہے تھے۔ لائونج میں نماز ادا کی گئی، دادی جان نے دعا کرائی: ’’اے اللہ اگر یہ ہماری سزا ہے تو ہمیں اپنی رحمت سے معاف فرما، اور اگر آزمائش ہے تو اس کو ہلکا کردے، ہماری برداشت کو تُو خوب جانتا ہے۔ پاکستان اور اس کے ہر شہر کو آفتوں، وبائوں، پریشانیوں سے محفوظ کردے اور امتِ مسلمہ کو بنیان مرصوص بنادے، تیری رحمت ہمارے گناہوں سے کہیں زیادہ بڑی ہے اور تُو نے تو رحمت کو اپنے اوپر لازم کرلیا ہے، آمین‘‘۔
کھانا شروع ہوا، دستر خوان پر کتنے دن بعد سب ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ سارہ نے خوب صورت سوٹ پہنا تھا، ماریہ نے گلابی جارجٹ کا استر لگا سوٹ، ہم رنگ چنری ڈیزائن کا دوپٹہ، اماں نے اپنا پسندیدہ سوٹ چکن لون پہنا ہوا تھا۔ ’’مجھے تو آج ہی عید لگ رہی ہے‘‘۔ نعیم صاحب بولے۔
’’جی ابا جی! مگر پرسوں تمام مسلمانوں کی عید ہے ان شاء اللہ، اس دن بھی آج سے بڑھ کر تیار ہوں گے۔‘‘
دادی جان نے اپنے پرس سے پانچ ہزار کا نوٹ نکالا اور عدیل کو دے کر کہا ’’یہ کسی مستحق کو دے دینا۔‘‘
’’میری طرف سے بھی…‘‘ سارہ نے ایک ہزار کا نوٹ عدیل کے ہاتھ پر رکھا۔‘‘
’’یہ بھی رکھو…‘‘ نعیم صاحب نے چار ہزار روپے دیے۔ اور یوں کسی کے لیے دس ہزار کی امداد جمع ہوگئی۔
’’ابا میں اس رفاہی تنظیم میں دوں گا جو پائی پائی ایمان داری سے مستحق تک پہنچاتی ہے۔‘‘
ماریہ چائے بنانے کچن کی طرف چلی۔ ابھی چولہے پر پانی چڑھا رہی تھی کہ نعیم صاحب بھی وہاں پہنچ گئے، دونوں نواسے اُن کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔
’’ماریہ ایک بات سنو، کسی سیانے نے کہی ہے۔‘‘
’’جی کہیے…‘‘
’’عورت کی وفا شوہر کی بیماری میں پتا چلتی ہے اور تم میری بیماری میں اوّل درجے میں پاس ہوچکی ہو، شکریہ۔‘‘
’’اچھا تو اب مجھے آپ کی وفا جانچنے کے لیے بیمار ہونا پڑے گا؟‘‘
’’نہیں نہیں یہ بات نہیں… انہوں نے یہ بات عورت کے لیے کہی ہے، آپ تو ہمیں ہر طرح جانچ سکتی ہیں۔‘‘
’’مجھے بغیر جانچے ہی آپ پر سو فیصد یقین ہے۔‘‘
’’زندہ باد میری بیگم زندہ باد… پیشگی عید مبارک۔‘‘
’’چلیے چائے تیار ہے۔‘‘ ٹرے اٹھاتے ہوئے وہ بولیں۔ لبوں پر بڑی حسین مسکراہٹ تھی۔

گھریلو ٹوٹکے

٭ ہونٹوں کی سیاہی دور کرنے کے لیے ٹماٹر اور کھیرے کا رس ہونٹوں پر لگائیں۔ کچھ دنوں میں خاطر خواہ نتائج حاصل ہوجائیں گے۔
٭ گھر میں چیونٹیاں بہت زیادہ آتی ہوں تو ایک ٹب میں پانی کے ساتھ تھوڑا سا مٹی کا تیل ملا کر اس پانی سے گھر کا پونچھا لگائیں۔ اگر کارپٹ بچھا ہو تو اس کے کناروں پر پونچھا لگا دیں۔ دو سے تین بار یہ عمل کرنے سے چیونٹیاں دوبارہ نہیں آئیں گی۔
٭ کنگھوں کی صفائی کے لیے گرم پانی میں تھوڑا سا واشنگ پائوڈر اور صابن ڈال دیں اور بیس منٹ کے لیے کنگھے اس میں بھگو دیں، پھر برش سے اچھی طرح صاف کرلیں اور گرم پانی سے دھو لیں۔ کنگھے نئے جیسے ہوجائیں گے۔
٭ اگر گوشت پکاتے یا بھونتے وقت جل جائے تو اس میں آدھی پیالی دودھ ڈال دینے سے جلے گوشت کی بو نہیں آتی۔
٭ کھانا پکاتے وقت اکثر خواتین کا ہاتھ جل جاتا ہے۔ اس کے لیے شہد آدھی پیالی، ہلدی اور گھی ایک ایک چمچ لے کر انہیں مکس کرکے فریج میں رکھ دیں۔ جب بھی ضرورت پیش آئے اسے متاثرہ حصے پر لگائیں۔ نہ جلن ہوگی اور نہ ہی چھالے پڑیں گے۔
٭پلکیں لمبی کرنے کے لیے فلالین کے کپڑے کو نیم گرم دودھ میں بھگو کر آنکھوں پر اُس وقت تک رکھیں جب تک گرمائش ختم نہ ہو۔ کچھ عرصے تک یہ عمل کرنے سے پلکیں بڑی ہوجائیں گی۔
٭ چہرے کی رنگت نکھارنے کے لیے صبح پودوں پر پڑی شبنم کے قطرے کسی برتن میں انڈیل لیں۔ چہرے پر لگانے سے چمک پیدا ہوتی ہے۔

حصہ