سوشل میڈیا پر آیا صوفیہ کی گونج

131

کورونا کے ابتدائی ایام میں ہونے والے شدید لاک ڈائون کے اثرات خاصے گہرے رہے۔ اب کچھ وقت گزرنے اور خوف کا ماحول کم ہونے کے بعدانتظامی نرمی اور ساتھ ہی لاک ڈائون کی مختلف اسمارٹ و غیر اسمارٹ اقسام کے بعد یہ سفراختتام ہی کی جانب ہے۔ تعلیمی ادارے ، شادی ہالز و دیگر ریسٹورنٹ آج بھی لاک ڈاون سے متاثر ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ عید الاضحی کے بعد کوئی رعایت مل جائے۔ ویسے دلی مبارک باد ہے اُن والدین پر جو اس لاک ڈائون حالات میں اپنے بچوں بچیوں کے نکاح ولیمے کی تقاریب سادگی اور کفایت شعاری سے کرنے میں کامیاب رہے۔ ٹوئٹر پر اس ہفتے متعدد موضوعات زیر بحث رہے۔ کراچی میں برسات، کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ عوامی رد عمل کے ساتھ رہے۔ کچھ دن قبل پپ جی گیم پر پابندی کو ایشو بنا کر وقار ذکا خوب شور کرتے رہے اب کی بار عدلیہ کی جانب سے یو ٹیوب پر پابندی کی بات کی گئی تو سب کو جھٹکا لگا۔ خیر سپریم کورٹ کا مؤقف بھی اپنی جگہ تھا کہ جسے دیکھو چاچا، ماما بن کر سوشل میڈیا پر فوج، عدلیہ اور حکومت کے خلاف لوگوں کو اُکسا رہا ہے۔ اب اس پر بحث شروع ہو گئی کہ یو ٹیوب کی پہلے کے مقابلے میں اب کیا اہمیت ہے؟ اس کے ساتھ ہی ایک اور تازہ ترین شوشا تو اے آر وائی کی مقبول مزاحیہ سیریل بلبلے میں شامل ایک ڈائیلاگ کا رہا جس میں پشتون بھائیوں کی شناخت دہشت گردی، بم دھماکے، نسوار سے جوڑ کر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پر پشتون سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اے آر وائی کی بائیکاٹ مہم لانچ کر کے ٹرینڈ بنایا گیا۔ غالب امکان ہے کہ اس پر معافی جلد ہی آجائے گی جیسا کہ عموماً ہوتا ہے۔ ہم نے اسی ہفتہ دیکھا کہ اسلام آباد کے صحافی مطیع اللہ جان کے دن دیہاڑے اغواء￿ پر شدید سوشل میڈیارد عمل ابھرا ، کئی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کی صورت آئے اور اُسی رات اُن کی واپسی ہو گئی۔ اب اُن کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا یا ہارڈ ویئر ایسا کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیوں کہ واپسی کے بعد اُن کا مجموعی لب و لہجہ خاموشی اختیار کرنے پر ہی مشتمل ہے۔ مطیع اللہ جان نے 10جون کو ججز کے خلاف اپنی وال پر ٹوئیٹ کی تھی جس کا اعلیٰ عدلیہ نے نوٹس لیا تھا‘ اغوا کے اگلے ہی روز اُن کی عدالت میں پیشی تھی۔ بہرحال وہ واپس آگئے اور اس میں سماجی میڈیا مہم کا مناسب کردار نظر آیا۔
اسی ہفتہ راولپنڈی میں گھر کے اندر بیٹے کا اپنی ماں پر تشدد کی وڈیو بھی معاشرے میں ہلچل مچا گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ وڈیو میں تشدد بیٹا کر رہا تھا اور اُس کی بہن مزے سے وڈیو بنا رہی تھی‘ بعد میں بہن کی جانب سے ایک مؤقف سامنے آیا۔ معاملہ یہ ہے کہ گھر کے اندرونی جھگڑے و معاملات اب سماجی میڈیا کی اس طرح زینت بننے لگے ہیں‘ بہو کا الگ مؤقف سامنے آیا‘ ماں کا الگ۔ اب کیا سچ ہے کیا جھوٹ کون بتائے؟ رمضان کی آخری رات ملک ریاض کی بیٹی یا رشتے دار کے لیبل کے ساتھ ایسی ہی ایک وڈیو لیک ہوئی جس کا انجام بھی سب نے دیکھا۔
پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی معاملات میں گرما گرمی سوشل میڈیا پر بھی جاری رہی۔ بلاول بھٹو نے اجرک کے ڈیزائن والا ماسک پہننا شروع کر دیا جس کی دیکھا دیکھی پیپلز پارٹی میں یہ کلچر پروان چڑھا تو پی ٹی آئی نے اسے ’’سندھ کارڈ‘‘ قرار دیا۔ اس پر بھی ایک دن Ajrak is our Pride کا ٹرینڈ بنایا گیا۔
لاک ڈائون کے دوران دنیا بھر میں سوشل میڈیا کی بدولت ہر قسم کے آن لائن کاروبار عروج پر رہے۔ ایسا نہیں کہ اب شروع ہوئے بلکہ کپڑے، فیشن مصنوعات، فرنیچر و دیگر کی فروخت فیس بک کے بے شمار گروپس میں لائیو سیشن سے جاری تھی۔ لاک ڈاون کی وجہ سے اُنہیں مزید قوت و گاہگوں کی نئی قطار مل گئی۔ آن لائن گروسری سے لے کر ریڈی میڈ کپڑے، کھانا پینا‘ ادویہ، فرنیچر… کیا کچھ نہیں بک رہا تھا۔ فیس بک پر تو مرد‘ خواتین لائیو سیشن کر کے کپڑے، میک اَپ سامان کی ہوم ڈلیوری کے ساتھ فروخت کرتے نظر آئے۔ یہی نہیں بلکہ اب تو عید الاضحی کے موقع پر آن لائن قربانی، آن لائن جانور کی خریداری کا کلچر بھی خوب پروان چڑھا۔ مویشی منڈی سے بننے والے بڑے بیوپاریوں نے امسال بھی وی لاگرز کی بھر پور خدمات لیں۔ پچھلے دو تین سال میں یہ کلچر تیزی سے فروغ پایا ہے جس طرح ایک زمانے میں لوگ ٹی وی اور فلمی اداکار کو سلیبرٹی جانتے تھے پھر ان کی صف میں اینکرز نے بھی کچھ جگہ بنائی مگر اب ٹک ٹاک اسٹار، یو ٹیوبراور وی لاگرز آسان‘ سستے اور مؤثر ذریعۂ مارکیٹنگ بن چکے ہیں۔ بہرحال کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں بے شمار لوگوں کو معاشی بحران، نوکری و کاروباری مسائل سے گزرنا پڑا‘ وہاں کچھ افراد نے موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنے لیے کاروبار کی نئی راہیں کھولیں۔
یہ منظر نامہ صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں ایسا ہی رہا۔ برطانیہ‘ جہاں 649000 کے قریب افراد بے روزگار ہوئے‘ وہاں کی فرنیچر بنانے والی معروف کمپنی DFS کا کہنا ہے کہ لاک ڈائون کے دوران اُن کی فروخت میں 77 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب دنیا کی معروف آن لائن شاپنگ ڈلیوری کمپنی امیزون نے اس دوران پندرہ ہزار افراد کو نوکریوں پر رکھا۔ مجموعی طور پر ڈلیوری کمپنیوں میں بڑھتے کاروبار کی وجہ سے نئی ملازمتوں کی گنجائش نکلی۔ یہی حال سپر مارکیٹس کا بھی رہا جہاں گاہگوں کا رشد مسلسل بڑھتا رہا۔ کراچی میں کورونا ایس او پیز پر سختی کے بعد معروف اسٹور کے باہر شدید دھوپ میں لگی قطاریں مجھے ہمیشہ حیرت زدہ کرتی رہیں۔ ویسے اس دوران محلے کی کریانہ اسٹور پر بھی رش برقرار تھا۔ ویزا والوں کی جانب سے جنوبی افریقہ میں آن لائن خریداری کے حوالے سے کرائے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ 64 فیصد خریداروں نے کورونا کی وجہ سے پہلی مرتبہ گھریلو اشیا کی خریداری آن لائن کی۔ اسی طرح پاکستان میں آن لائن خریداری کی سب سے بڑی دُکان ’’دراز‘‘ نے بھی اس دوران کئی گنا فروخت میں اضافہ کا اظہار کیا۔
بھارت سے اسی ذیل میں ایک دل چسپ خبر دیتے ہیں۔Vedantu نامی ایک آن لائن ویب پلیٹ فارم ہے جو چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک کے طلبہ کو مکمل تدریسی معاونت فراہم کرتا ہے تدریسی لیکچرز سے لے کر اُن کی امتحانی جانچ تک۔ 500 سے زائد اساتذہ 40000 سے زائد طلبہ کو تقریباً دس لاکھ گھنٹوں کی تدریس کے ذریعہ مستفید کر چکے ہیں۔ یہ طلبہ دُنیا کے 1000 شہروں سے جڑے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ ہوم ٹیوشن کا بھی بڑا نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ گریڈ، بورڈ، مضمون کے لحاظ سے مختلف فیسوں کی ترتیب بنائی گئی ہے۔لاک ڈائون ایام میں اس پورٹل کی جانب عوام کا خاطر خواہ رجوع بڑھا جس نے ان کی آمدنی میں بھی بڑا اضافہ کیا۔ یہ جان لیں کہ بجلی بھارت میں بھی جاتی ہے‘ انٹرنیٹ اسپیڈ کے مسائل وہاں بھی ہیں تاہم ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھارت قدرے آگے محسوس ہوتا ہے۔ شاید آبادی کے تناسب کی وجہ سے ایسا ہو۔ پاکستان میں بھی آن لائن تعلیم کے ساتھ ایسے ہی مسائل ہیں۔ اس وقت پاکستان میں آن لائن تعلیم کے لیے ایک پورٹل سبق‘ حکومت پنجاب کے تحت ای لرن، ورچوئل یونیورسٹی کا ڈی جی اسکلز، learnsmart، کام کر رہی ہیں لیکن ان کا اسکیل بھارت کے ایک ویب پورٹل کے مقابلے میں تاحال کم ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر آن لائن ایجوکیشن کے مسائل پر جامعات کے طلبہ و طالبات منظم انداز میں مستقل آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ تاہم اب جب کہ اسکولوں کی سطح تک یہ طریقہ تدریس پھیلتاجا رہا ہے تو اس کے ذیل میں اب کئی نئے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔
گوگل‘ جو انٹرنیٹ کی دنیا کا اس وقت سب سے بڑا سرچ انجن کہلاتاہے‘اُس نے پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کے رویوں پر مبنی ایک سروے کیا۔ اس کے مطابق پاکستانی لوگ ’’دیکھنے‘ پڑھنے‘ سیکھنے اور خریدنے‘ نئی چیزیں دریافت کرنے‘‘ کے لیے آن لائن طریقوں کے استعمال کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔ ڈیجٹل صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ضروریات اور توقعات کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے جس کا فائدہ بڑے برانڈز اپنے متحرک رویے سے ہی کر سکتے ہیں۔ گوگل نے گزشتہ 12 مہینوں کے دوران 7 پاکستانی انٹرنیٹ کروڑوں صارفین کے ڈیجیٹل رویوں پر مبنی یہ سروے کیا جس میں کورونا کا دوربھی شامل ہے۔ اس کے مطابق پاکستانیوں کی مجموعی سرچ یعنی جو کچھ وہ انٹرنیٹ پر ڈھونڈتے ہیں اُس کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’لاک ڈائون سے پہلے‘ پاکستانی خواتین وحضرات کی بڑی تعداد میں تیزی سے ڈیجیٹل آن لائن پے منٹس کے ذرائع ڈھونڈنے‘ محفوظ سرمایہ کاری جیسے موضوعات میں دل چسپی بڑی تیزی سے بڑھتی نظر آئی اور جیسے جیسے موجودہ صورت حال کی جانب ہم گئے یعنی کورونا کی وبا کے بعد لاک ڈائون کی جانب ویسے ویسے یہ رجحان زور پکڑتا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ بینکنگ اور ای بینکاری کے لیے عام تلاش میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح پاکستانیوں میں آن لائن ڈلیوری سروس کی تلاش میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا کیوں کہ لاک ڈائون کی وجہ سے حرکت ممکن نہیں رہی تھی۔ اسی طرح اس کے ذیل میں فوڈ ڈلیوری میں پہلے کی نسبت کوئی 6.1گنا اضافہ ہوا۔ یہی نہیں بلکہ کانفرنس کالز کے لیے گوگل پر مختلف ایپلی کیشن یا ذرائع کی تلاش میں بھی کوئی 2000 فیصد اضافہ ہواجبکہ کانفرنس کالز وغیرہ کی ایپلی کیشن کی تلاش میں کوئی دو گنا اضافہ ہوا۔
اس ہفتے سماجی میڈیا کے منظر نامے پرجہاں مشہور ترک ڈراما ’’ارتغرل‘‘ کے چرچے جاری رہے وہاں ترکی کے شہر استنبول میں قائم مشہور عجائب گھر ’’آیا صوفیہ‘‘ کی مسجد میں تبدیلی بڑا موضوع رہی۔ اس ہفتے بھی ترک سوشل میڈیا پر HagiaSophia کا ٹوئٹر ٹرینڈ مختلف ہیش ٹیگز کے ساتھ چھایا رہا۔ ترکی کی یہ تاریخی پرشکوہ عمارت ’’آیا صوفیہ‘‘ جو مقامی آرتھوڈوکس کے’’چرچ آف ہولی وزڈم‘‘ کے عنوان سے دنیا کی اہم عمارتوں میں شمار ہوتی‘ 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد عثمانی ترک سلطان نے اس کو خرید کر مسجد بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے یکم جون 1453ء میں آیا صوفیہ میں نمازِ جمعہ ادا کرتے ہوئے اس کلیسا کو مسجد میں تبدیل کردیا اور 1935ء تک یہ مسجد ہی رہی لیکن 24 نومبر 1934 میں کابینہ کے فیصلے کی رو سے اسے مسجد سے میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔ ترکی سے ڈاکٹر فرقان حمید اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’سیکولر اور جدید جمہوریہ ترکی کی تاریخ میں دو فیصلے ایسے بھی ہیں جن پر فیصلہ کرنے والی جماعت آج بھی نادم ہے اور اُس جماعت کے ان فیصلوں ہی کی وجہ سے آج بھی عام ترک اس جماعت کو مذہب دشمن جماعت کے طور پر دیکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ جماعت واحد جماعتی نظام کے بعد کبھی تنہا برسراقتدار نہ آئی۔ ان فیصلوں میں ایک اذانِ محمدی کو عربی زبان سے ترکی زبان میں دینے کا فیصلہ تھا‘ جسے عدنان میندریس نے برسر اقتدار آنے کے بعد 16جون 1950ء کو کالعدم قرار دے دیا اور دوسرا فیصلہ آیا صوفیہ کو مسجد سے میوزیم میں تبدیل کرنے کا تھا‘ جسے تقریباً 80 سال بعد کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ ترک صدر طیب ایردوان نے آیا صوفیہ کی مشترکہ ثقافتی میراث کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسے مسجد کے طور پر 24 جولائی کو جمعہ کی نمازکے ساتھ کھول دیا جائے گا۔‘‘ اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر تیزی سے HagiaSophia ٹرینڈ کی صورت ابھرتا نظر آیا۔ دنیابھر میں مسلمان اس فیصلے پر خوشیاںمنا رہے ہیں البتہ سیکولر حضرات کو مرچیں لگ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر آیا صوفیہ کے باہر کھڑے ہوکر اذان‘ نعروں کی کئی وڈیوز وائرل ہوئیں۔ صدر رجب طیب اردوان کیانٹرویوکا یہ جملہ خاصا شیئر ہوا کہ ’’آیا صوفیا کی حیثیت سے متعلق حتمی فیصلے کا حق کسی اور کو نہیں، صرف ترک ملت کو حاصل ہے‘ یہ ہمارا داخلی مسئلہ ہے۔ باقی ممالک کا کام صرف اس فیصلے کا احترام کرنا ہے۔‘‘ اسی طرح پاکستان میں تو دھڑا دھڑ آیا صوفیہ کی معلوماتی وڈیوز بنا بنا کر لوگ شیئر کرتے رہے کہ بہت بڑی اکثریت اس کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی یہ جملہ بھی بہت وائرل رہا کہ ’’آیا صوفیہ تو ابتداء ہے‘ اصل منزل تو مسجد اقصی ہے۔‘‘ اسی طرح امریکی رد عمل پر لوگ کہتے رہے کہ ’’کیا امریکا نے کبھی یہ مطالبہ کیا ہے کہ ہسپانوی اسلامی کونسل کی دہائیوں سے ضرورت کے مطابق مسلمانوں کو قرطبہ مسجد (جو اب کیتھولک چرچ ہے) میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جاسکے یا صرف مذہبی رواداری اور انسانی ہم آہنگی صرف آیا صوفیہ کے معاملے میں یاد ہے اور یہ رواداری صرف مسلم کے لیے ہے۔‘‘ ساتھ ساتھ ترکی کے مشہور سیریل ارتغرل کے بھی چرچے و اثرات جاری تھے اور اتفاق سے پاکستان میں حکومتِ وقت کی جانب سے اسلام آباد میں سرکاری خرچ سے مندر بنانے کا معاملہ بھی زیر بحث تھا۔ گزشتہ ہفتہ تو اسی تناظر میں مماثلت کرنا تو لازمی تھا اس لیے ’’ترکی کا ارتغرل بمقابلہ پاکستانی کوپیک‘‘ کے عنوان سے کئی گروپس میں شاہنواز فاروقی کے مضمون سے اخذ کردہ یہ بات چلتی رہی کہ ’’عمران خان اور ان کی ’’ہم صفحہ‘‘ اسٹیبلشمنٹ شوق سے اسلام آباد میں بت خانہ بنائے‘ مگر وہ ذرا قوم کو یہ بھی تو بتائے کہ دنیا کی کتنی سیکولر‘ لبرل‘ کمیونسٹ‘ عیسائی یا ہندو ریاستوں نے 1 ارب 80 کروڑ مسلمانوں کو خوش کرنے اور اپنی روشن خیالی کا اشتہار دینے کے لیے اپنے اپنے دارالحکومت میں ریاستی وسائل سے مساجد تعمیر کرائی ہیں؟ اس سلسلے میں ’’روشن خیال امریکا‘‘ اور ’’روشن خیال یورپ‘‘ کا یہ عالم ہے کہ ترکی کی عدالت نے آیا صوفیہ کا اسلامی تشخص بحال کر کے اسے مسجد بنانے کا شاندار‘ باہمت، غیرت مند، جرات مند فیصلہ کیا ہے۔ اس پر امریکا اور یورپ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ آیا صوفیہ کبھی ایک چرچ تھا مگر ترکی کے حکمران سلطان محمد فاتح نے اسے خرید کر مسجد بنادی۔ تاہم کمال اتاترک نے آیا صوفیہ کو میوزیم بنا کر اسے متبرک مقام قرار دے دیا۔ ترک ارتغرل (اردوان) کی حکومت نے آیا صوفیہ کا اسلامی تشخص بحال کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی اور عدالت نے آیا صوفیہ کا مسجد ہونا تسلیم کرلیا۔ آیا صوفیہ مسجد تھی، یہ ترکی میں تھی۔ اس کے سلسلے میں جو فیصلہ آیا ہے وہ ترکی کی عدالت کا ہے۔ امریکا اور یورپ اس سلسلے میں پروپیگنڈے کا اختیار ہی نہیں رکھتے‘ مگر وہ مسجد کو مسجد بنانے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ مستقل زہریلا پروپیگنڈا کررہے ہیں۔ یہ ہے وہ ’’روشن خیال‘‘ دنیا جسے خوش کرنے کے لیے پاکستانی ’’کوپیک‘‘ اپنی ریاست مدینہ میں بت خانے کی سیاست کررہے ہیں۔ پاکستان کے روشن خیال حکمران نہ پڑھتے ہیں، نہ غور کرتے ہیں، ورنہ قرآن نے صاف کہا ہے کہ ’’مسلمان عیسائیوں اور یہودیوں کو اُس وقت تک خوش نہیں کرسکتے جب تک اُن کے جیسے نہ بن جائیں۔‘‘ یعنی اپنا ایمان نہ کھودیں۔

حصہ