سفرِ آخرت جو ہم سب کا مقدر ہے

98

خواتین سائیڈ پر ہٹ جائیں صائمہ کے والد اور بچوں کو اب ان سے ملنے دیں…‘‘ آواز سالم بھائی کی تھی۔ ’’ہاں بھئی بچو آجائو اپنی امی سے ملو…‘‘ یہ کہتے ہوئے اپنے جلو میں چار بیٹیوں اور پانچ اور تین سال کے دونوں بیٹوں کو صائمہ کے پاس لے کر کچھ بہت اہم بتانے کا انداز لیے کھڑے ہوئے۔
’’بچو! امی اب جنت روانہ ہو رہی ہیں آپ سے بہت دور جارہی ہیں‘ اب کچھ عرصہ آپ ان سے نہیں مل سکیں گے… ہاں اس عارضی جدائی کے بعد اگر آپ نے وہ سارے کام کیے جو امی کرتی تھیں‘ تو ایک دن ہم سب ان کے ساتھ جنت میں اکٹھا ہوںگے۔‘‘
لمحے جیسے تھم گئے، بچوں نے باپ کی طرف دیکھا… پھر پوچھا بتائیے امی کیا کیا کرتی تھیں انگلیوں پر گن کر بتایا سب سے پہلے نماز وقت پر ادا کرتی تھیں، رشتے داروں کا خیال رکھتیں اور… اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہ کرتی تھیں۔ اگر آپ نے یہ سب کام کیے تو ہم ان سے بہت اچھی جگہ دوبارہ ملیں گے… اور رونا نہیں ہے۔ تیسرے نمبر کی لینا کو زور سے لپٹاتے پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولے۔ (سب کچھ بھول کر ہم سب سنتے رہے یا اللہ یہ کیسی گفتگو ہے، آگے لمبی مسافت ہے اور بچوں کی ذمہ داری سر پر‘ لگ رہا بس وقفہ ہوا ہے وقفے سے پہلے کے سین ختم اور بعد کے اب شروع ہونے کو ہیں۔)
پھر گویا ہوئے جسے دیکھنا ہے ابھی دیکھ لے اس کے بعد چہرہ نہیں کھلے گا‘ سب بچوں سے پیار کروایا‘ خدا حافظ کہا ،لاڈ اٹھانے والی بہنوں نے چہرے کا کفن برابر کیا مسرت نے سالم بھائی سے گواہی کی بات کی جیسا کے احادیث بتاتی ہیں۔حضرت اُمِ سلمہؓ فرماتی ہی کہ نبیؐ نے فرمایا ’’جو عورت اس حال میں وفات پائے کہ اس کا شوہر اس سے راضی اورخوش ہو وہ جنت میں داخل ہو گی۔‘‘
شوہر نے گواہی دی کہ صائمہ فرماں بردار، اطاعت شعار،‘ دین دار‘ لغویات سے دور رہنے والی اللہ کی نیک بندی تھی۔ ( ماشااللہ یہ ہے وہ سرمایہ جو ایک مومن اللہ کی پیاری بندی اس دنیا میں سمیٹتی ہے اور رب العزت کے سامنے پیش کرتی ہے پھر جنت کے جس دروازے سے چاہے اس میں داخل ہوسکتی ہے۔)
پیاری صائمہ! آج بوڑھے ضعیف باپ‘لاڈلی بہنوں اور محبت کرنے والے شوہر کے درمیان لیٹی ہو سب سن رہی ہو فرشتوں کے گواہیاں جمع کرنے کا وقت ہے زبان ملتی تو ضرور بتاتیں کہ یقینا بیماری کے درمیان تمام تکالیف اب تکالیف نہ رہیں بلکہ راحت میں بدل چکی ہیں ان شااللہ العزیز… کفن برابر ہوا‘ باہر رحمت کی پھوار برس رہی تھی‘ بچوں نے خدا حافظ کہا‘ دوبارہ ملاقات اور پھر کبھی نہ بچھڑنے کے وعدے ہوئے،محرم مردوں نے مل کر صائمہ کو لٹایا اور عارضی گھر سے ہمیشہ کے گھر کی طرف یہ قافلہ چلا۔ ہاں اس دنیا سے ہمیشہ کی رخصتی جو ہم سب کا مقدر ہے، بچوں کو خالاوں نے سمیٹا اوردعا کے لیے مسرت نے ہاتھ بلند کیے اور ایک بار پھر اللہ کو اس کی رحمتوں کا واسطہ دے کر گواہیاں جمع کرنی شروع کردیں۔ گھر میں افراد جمع ہیں لیکن گھر والی نہ رہی اور پیچھے رہ جانے والے بھی کس مزاج کے ہیں‘ کس حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں کہ وضو کر کے صائمہ کی قبر کی منزلوں، منکر نکیر کے سوالات کے جوابات میں آسانی کی دعا مانگنے کے لیے اندرونی کمروں کی جانب چل دیے۔
صحیح روایت سے ثابت ہے کہ میت کو دفن کرنے والے دفنانے کے بعد واپسی شروع کرتے ہیں تو میت چلنے والوں کی جوتیوں کی آواز کو سنتی ہے کہ منکر نکیر فرشتے حاضر ہوجاتے ہیں۔ مشکوٰۃ کی ایک حدیث میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات صحابہ کرامؓ کو حکم دیتے تھے کہ دفنانے کے بعد تم لوگ یہاں کھڑے رہ کر اپنے بھائی کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو کیوں کہ اس وقت اس سے سوال ہورہا ہے۔(بخاری)
معاشرے میں عام رواج ہے کہ اس مشکل وقت میں ہم اپنے پیاروں کو اس وقت بھول کر تعزیت کے لیے گھر آئے مہمانوں سے بات چیت شروع کردیتے جبکہ ان لمحات میں میت کے لیے اللہ سے گریہ زاری اور قبر کی منزلوں کی آسانی کے لیے دعا کی ضرورت ہوتی…آئیے اپنے پیاروں کے لیے اس اہم سنت کو ہم خود رواج دیں۔

حصہ