راجو نے بھی گائے خرید لی

100

۔’’او بھائی، بھائی صاحب! کتنے کا لیا یہ جانور؟ سنو، کتنے کا ہے بتاتے جاؤ۔ اچھا اس کالے والے کے ریٹ تو بتادو۔‘‘
مویشی منڈی سے آتی گاڑیوں کو روک روک کر راجو کا اس طرح سے پوچھنا مجھے نہ صرف انتہائی معیوب لگا بلکہ اُس کا ہر آنے والی گاڑی کے پیچھے خاصی دور تک دوڑ لگانا بھی میرے لیے حیران کن تھا۔ اس کے چہرے پر بڑھتی ہوئی بے چینی اور اضطراب نمایاں تھا۔ وہ مستقل یہی کچھ کیے جا رہا تھا اور میں قریبی ہوٹل میں بیٹھا اُس کی ان حرکتوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ صاف ستھرے کپڑے پہننے والا راجو آج پیروں میں ٹوٹی چپل، گندے کپڑے پہنے، ہاتھ میں چھڑی لیے کسی بیوپاری کے کارندے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ میں وہاں کسی کے انتظار میں تھا اس لیے ہوٹل میں بیٹھا خاصی دیر اس کی جانب سے کیے جانے والے تماشے دیکھتا رہا۔ دوست کے ہوٹل پہنچنے کے بعد میرے پاس دو راستے تھے، پہلا یہ کہ ہوٹل میں بیٹھ کر ہی اپنے دوست کے ساتھ گپ شپ لگاتا رہوں، جبکہ دوسرا یہ کہ راجو کے پاس جاکر اُس کی ان حرکات و سکنات کے بارے میں معلومات حاصل کروں۔ میں کچھ دیر اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا اور پھر راجو کی جانب جانے کا ارادہ کرلیا، اور اس کے پاس پہنچتے ہی کہا ’’راجو یہ کیا ہورہا ہے؟ میں خاصی دیر سے سامنے ہوٹل میں بیٹھا دیکھ رہا ہوں کہ تم مویشی منڈی سے آنے والی ہر گاڑی کو روکتے ہو اور ان سے جانوروں کے ریٹ معلوم کرتے ہو۔ اور یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے! جانور بیچنے لگے ہو یا منڈی سے منسلک کوئی دوسرا کام کرلیا ہے؟ آخر ماجرا کیا ہے!‘‘
’’نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے، میں تو منڈی میں جانور خریدنے کے لیے آیا تھا۔‘‘
’’لیکن تم نے تو اپنا حلیہ خود جانوروں کی طرح بنا رکھا ہے۔ گندے کپڑے، چہرے پر جمی مٹی صاف بتا رہی ہے کہ تم جانوروں کے ساتھ جانور بنے ہوئے ہو۔ اور اگر تم واقعی قربانی کا جانور خریدنے آئے ہو تو اس سے سڑک پر جاتی گاڑیوں کے پیچھے دوڑنے کا کیا تعلق؟‘‘
’’اس پر میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ ایک طرف اگر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت بدحالی کا شکار ہے تو دوسری جانب مویشی منڈیوں میں خریداری کا رجحان ماضی کی نسبت خاصا کم ہونے کے باوجود بیوپاری من مانی قیمتیں طلب کررہے ہیں۔ پچھلے کئی روز سے میرا معمول ہے کہ ہر صبح مویشی منڈی آتا ہوں، یہاں پہنچ کر پہلے ساری منڈی کا چکر لگاتا ہوں اور جب سودا نہیں بنتا تو اسی طرح آنے جانے والوں سے خریدے گئے جانوروں کی قیمتیں معلوم کرتا ہوں تاکہ مویشی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا اندازہ ہوسکے۔ اس سارے عمل کے پیچھے میرا مقصد اپنی جیب کے مطابق جانور خریدنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’یعنی تم نے اب تک قربانی کا جانور نہیں خریدا؟‘‘
’’بتایا تو ہے کہ بیوپاری منہ مانگی قیمت مانگتے ہیں، اسی لیے ہر روز ناامید اور خالی ہاتھ اپنے گھر واپس لوٹ جاتا ہوں، لگتا ہے اِس سال قربانی کرنا میرے نصیب میں نہیں۔‘‘
’’ایسی باتیں نہیں کرتے، اور اس طرح دلبرداشتہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں، سب ٹھیک ہوجائے گا۔ تم اِس مرتبہ بھی ضرور قربانی کرو گے، لیکن سوال تو یہ ہے کہ منڈی اتنی تیز کیوں ہے؟‘‘
’’میں نے کئی بیوپاریوں سے بات کی ہے، اس لیے میں بھی خاصی حد تک جان چکا ہوں۔ اِس مرتبہ جانور کی قیمت اُس کے وزن کو دیکھ کر لگائی جارہی ہے، یعنی چار من وزن کا جانور ایک لاکھ پچاس ہزار روپے سے پونے دولاکھ تک فروخت ہورہا ہے۔ بیوپاری کہتے ہیں کہ بازار میں گوشت چوبیس سے پچیس ہزار روپے من، سری پائے پانچ ہزار، جبکہ کھال دوہزار تک فروخت ہوتی ہے، چربی کے ریٹ اس کے علاوہ ہیں، اس رقم میں اگر ہمارا منافع بھی شامل کرلیا جائے تو چار من وزن کا کھڑا جانور ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے زیادہ کا ہوتا ہے، ہم دور دراز علاقوں سے جانور لے کر آتے ہیں، جتنے دن بھی یہاں رہنا پڑتا ہے، رہتے ہیں۔ ہمارا کھانا پینا، منڈی میں جانوروں کے لیے لی جانے والی جگہ، بجلی، پانی پر ہونے والے اخراجات سب جانوروں پر ہی ڈالے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے ہم جتنے دن بھی یہاں رہیں گے یہ اخراجات اپنی جیب سے تو نہیں کرسکتے، اسی لیے جانوروں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، اور قربانی کے جانوروں کی قیمت میں اضافہ ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، بیوپاریوں کے بقول اگر منڈی میں اُن کا مال اُن کی مرضی کے مطابق نہ بک سکا تو انہیں کوئی غم نہیں، اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی نقصان ہے۔ وہ اپنے جانور عید گزرنے کے بعد قسائیوں کو فروخت کردیں گے۔ قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ تو یہ ہے، جبکہ موبائل فون کا بھی اس میں بڑا اہم کردار ہے، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ سونے کا بھاؤ معلوم کرنے والے سناروں کی طرح مختلف مویشی منڈیوں کے بیوپاری بھی ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں، اگر کسی منڈی کا ریٹ بڑھ جائے تو تمام لوگ اپنا مال لے کر اُس منڈی کی جانب روانہ ہوجاتے ہیں، انہیں اپنے مال کی من مانی قیمت چاہیے چاہے وہ جہاں سے بھی ملے۔ یہ تمام رات بذریعہ موبائل فون مختلف منڈیوں میں موجود اپنے ساتھی بیوپاریوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ انہیں گھنٹوں موبائل فون استعمال کرتے دیکھ کر لگتا ہے جیسے کسی اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار عروج پر ہو۔ اس ساری صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف ہم پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑے گا، بلکہ ہمارے لیے اسلامی تہوار منانا بھی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجائے گا۔‘‘
………٭٭٭………
راجو کی باتیں سن کر میں نے فون پر اپنے دوستوں سے رابطے کیے کہ کہیں سے کوئی اچھا جانور مل جائے، کیونکہ راجو کے بقول کراچی کی مویشی منڈی میں تو جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں بلکہ کسی اعلیٰ درجے کے موبائل فون سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ آخرکار میرے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ اگر کسی گاؤں جاکر خود جانور خرید کر لایا جائے تو اچھا اور معقول قیمت کا جانور مل سکتا ہے۔ فون سنتے ہی میں نے راجو کو فوری طور پر کسی گاؤں جانے کا مشورہ دیا۔ راجو نے میرے مشورے پر عمل کرتے ہوئے گاؤں کی راہ لی اور آخرکار خاصی تگ و دو کے بعد اُسے 75ہزار روپے میں ایک گائے مل گئی۔ راجو کا مسئلہ تو حل ہوگیا لیکن میں اُس وقت سے اب تک اسی سوچ میں گم ہوں کہ آج کے دور میں قربانی کے لیے آسانی سے ایک لاکھ روپے کا بھی جانور نہیں ملتا۔ مجھے یاد آنے لگے اپنے بچپن کے وہ دن جب کم تنخواہوں اور وسائل کی کمی کے باوجود لوگ قربانی کیا کرتے تھے۔ نوکری پیشہ ہوں یا کاروبار سے جڑے لوگ… سب ہی بآسانی سنتِ ابراہیمی ادا کیا کرتے تھے۔ اُس وقت قربانی نہ کرنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوا کرتی تھی۔ مجھے یاد ہے ہمارے محلے کے دو چار گھر ایسے تھے جن کے ہاں قربانی نہ ہوتی، یعنی ہماری گلی کے چند گھرانے ہی مالی اعتبار سے کمزور تھے۔ باقی تمام گھروں میں یہ تہوار پورے اسلامی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا تھا۔ جن گھروں میں قربانی نہ ہوتی، قربانی کرنے والے لوگ پہلے اُن گھروں میں گوشت بھیجا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے عید والے دن ہمارے گھر صبح 9 بجے تک کلیجی آجایا کرتی تھی، جب کہ گوشت ایک گھنٹے بعد یعنی دس بجے تک پہنچا دیا جاتا۔ ابو جان گوشت اور کلیجی کا زیادہ تر اُن گھروں میں بھجواتے جن کے ہاں قربانی نہیں ہوتی تھی، اور جنہوں نے قربانی کی ہوتی نہ اُن کے گھر گوشت بھجواتے اور نہ ہی اُن کے گھر سے آیا گوشت رکھتے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ جن لوگوں میں قربانی کرنے کی طاقت نہیں، یعنی جو لوگ مالی اعتبار سے کمزور ہیں قربانی کے گوشت کے اصل حق دار وہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ اس دن ابو جان ہم سے مختلف سوالات بھی کیا کرتے تھے۔ وہ ہم سے پوچھتے ’’کیا اس طرح گوشت تقسیم کرکے ہم اپنے رزق اور اپنے مال میں اُن لوگوں کو شریک کرسکتے ہیں جن کے ہاں مریضوں کے علاج کے لیے پیسے نہیں اور بچوں کا پیٹ پالنے اور اُنہیں پینے کا صاف پانی تک فراہم کرنے کے ذرائع موجود نہیں؟ کیا ہم ہزاروں روپے کی گائے اور بکرے کو اس لیے قربان کررہے ہیں کہ ہمیں اپنے مال میں سے مستحقین کا حق ان تک پہنچانا ہے، یا یہ معاشرتی نمود و نمائش کا حصہ ہے؟‘‘ ابو جان کی جانب سے کیے جانے والے سوالوں کا ہمارے پاس کوئی معقول جواب نہ ہوتا، بلکہ ہمارے ذہن کو توگھر میں پکنے والے چٹ پٹے کھانوں کی خوشبو نے باندھ رکھا ہوتا۔ ہماری جانب سے کوئی جواب نہ ملنے پر ابو جان کہتے ’’بے شک عیدِ قرباں پر مستحقین میں گوشت کی تقسیم ایک اچھا عمل ہے‘‘۔ وہ اس سے مزید آگے بڑھ کہتے ’’اگر قربانی کا حق ادا کرنا ہے تو سال کے ایک دن مستحقین میں گوشت کی تقسیم کے ساتھ ساتھ ہر روز ہمیں اپنی کمائی میں سے اپنی حیثیت کے مطابق کسی مستحق کی کسی ضرورت کو پورا کرنا چاہیے، خاص طور پر ہمارے ملک پاکستان میں جہاں پینے کے صاف پانی اور صحتِ عامہ کی سہولیات عام لوگوں کے لیے موجود نہیں، جہاں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے ساتھ اپنی اولادوں کو بنیادی تعلیم تک فراہم کرنے میں بے حد دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں لڑکیوں کی شادی اور بیمار اور ضعیف والدین کا علاج معالجہ خاندانوں پر بوجھ بنا ہوا ہے، ایسے اور ان جیسے کاموں سے ہی ہم میں اصل قربانی اور ایثار کا جذبہ پیدا ہوسکتا ہے۔‘‘
وہ کہا کرتے تھے کہ ’’عیدالاضحی کا درس بالکل واضح ہے کہ یہ اللہ کی خوشنودی کے لیے اس کے تمام پیغام خصوصاً پیغامِ انسانیت پر عمل پیرا ہوکر غریبوں، ضرورت مندوں اور حاجت مندوں میں خوشیاں بانٹنے کا نام ہے۔ قربانی کا جذبہ انسانوں کے درمیان ان کی مادی اور حسی تفریق کو ختم کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیتِ ازلی یہ تھی کہ تمام اقوام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے۔ یہ بیڑا رسولوں اور نبیوں نے اٹھایا، انہوں نے اپنے پیغام میں انسانیت کو توحید خالص اور حقوق العباد پر زوردیا۔ قربانی توحیدِ خالص کا وہ جذبہ ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سب کچھ قربان کردیا جائے۔
بات چلی تھی راجو کی گائے سے، اور کہاں سے کہاں نکل آئی۔ میں اپنے بچپن کی یادوں میں ایسا گم ہوا کہ اصل موضوع سے ہٹ گیا۔ خیر، بیان کردہ باتیں بھی عیدِ قرباں سے متعلق ہی ہیں۔ فرق آج بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ہے جس نے عوام کو سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے بھی قابل نہیں چھوڑا۔ آخر میں یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو قربانی کی اصل روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حصہ