اکرم کنجاہی کی تحقیق و تنقیدی کتاب ’’لفظ زبان و ادب‘‘ شائع ہوگئی

85

محمد اکرم بٹ المعروف اکرم کنجاہی ایک شاعر‘ صحافی‘ نقادِ سخن اور محقق کی حیثیت سے معتبر ہیں اپنے رسالے ’’غنیمت‘‘ کے اعزازی مدیر اعلیٰ بھی ہیںچونکہ وہ گورنمنٹ آف پاکستان کے ملازم ہیں اس لیے حکومتی احکامات کی پابندی کرتے ہیں۔ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مشاعروں اور مذاکروں کا اہتمام کرنے کے علاوہ بھی وہ تخلیقی کام بھی کر رہے ہیں اب تک ان کے شعری مجموعے‘ ہجر کی چتا‘ بگولے رقص کرتے ہیں‘ محبت زمانہ ساز نہیں اور دامنِ صد چاک ہیں۔ تحقیق و تنقید کے زمرے میں اب تک جو کتابیں انہوں نے تحریر کی ہیں ان میں راغب مراد آبادی‘ نسائی ادب اور ثانیت‘ لفظ‘ زبان و ادب‘ غزل آشنائی‘ محاسن فکر و فن شامل ہیں اس کے علاوہ فن تقریر میں اصول تقریر اور فن خطاب کے ناموں سے دو کتابیں کالج اور یونیورسٹی کے طلباء کے لیے بہت کارآمد ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک ملاقات میں انہوں نے مجھے دو کتابیں عنایت کیں جن میں ایک کتاب ’’لفظ‘ زبان اور ادب‘‘ہے جو 320 صفحات پر مشتمل ہے یہ کتاب مئی 2020ء میں شائع ہوئی ہے اس میں جو فہرست مضامین ہے وہ چار حصوں پر مشتمل ہے۔ فکریات‘ خصوصی مطالعات‘ شعریات اور نثر۔ یہ چاروں اس کتاب کے جز ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بہت سی اصنافِ سخن کی طرح مغربی ادب کے زیر اثر ہمارے ہاں جو خوش گوار اضافے ہوئے ان میں تنقید نگاری کا فن بھی شامل ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی سے پہلے ہمارے ہاں کوئی اہم تنقید نگار نظر نہیں آتا۔ اکرم کنجاہی نے اپنی اس کتاب میں تنقیدی رویوں پر کھل کر بات کی ہے۔ اردو ادب میں نسائیت کی اصطلاح بہت پہلے سے ہو رہی ہے اس کتاب میں اکرم کنجاہی نے اس موضوع پر بہت کچھ لکھا ہے اس کے علاوہ انہوں نے جمالیاتِ فکر و فن‘ لفظ‘ زبان و نعت‘ تخیل‘ جذبہ و احساس اور شعری معیارات‘ نثری نظم کے صنفی مباحث‘ افسانہ اور جدید رجحات‘ اصطلاحات سازی اور خوش فکری‘ ادب اور ادیب کے لیے لمحۂ فکر‘ بے ادبی کا فروغ کے عنوانات پر بھی گفتگو کی ہے۔ اس کتاب میں کلیاتِ ساغر صدیقی اور منیر صابری کے فکری زاویے بھی زیر بحث آئی ہیں۔ شعریات کی Heading میں اختر شیرانی‘ غلام محمد قاصر‘ شکیب جلالی اور رئیس فروغ کی شاعرانہ گفتگو بھی شامل کتاب ہے۔ نثریات کے حوالے سے انہوں نے آغا گل کا دوستین وڈھ‘ افسانوی تجرید اور زیب اذکار حسین‘ وجدانی محسوسات کا افسانوی روپ‘ جاذب قریشی کراچی کا آشوب اور اردو افسانہ‘ ڈاکٹر محسن مگھیانہ کی شگفتہ بیانیاں‘ یوٹرن کریسی محمد اسلام‘ اشفاق ایاز کی افسانوی مزاح نگاری‘ اصغر خان کی ڈائری اور ساجدہ سلطانہ کی فکاہیات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ راقم الحروف کے نزدیک یہ ایک اہم کتاب ہے‘ یہ اردو زبان و ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک اچھا تحفہ ہے اردو ادب میں یہ ایک گراں قدر اضافہ ہے کتاب میں شگفتہ انداز میں بحث کی گئی ہے۔ اس کتاب کی قیمت 500 روپے ہے یہ کراچی کے اردو بازار میں متعدد دکانوں پر دستیاب ہے‘ اس کے ناشر رنگِ ادب پبلی کیشنز ہیں۔ اکرم کنجاہی نے بینکنگ کے موضوعات پر بھی ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام Internal Auditor Bank ہے۔ وہ سنگاپور‘ ملائیشیا‘ تھائی لینڈ‘ جنوبی کوریا‘ جاپان‘ امریکا‘ آذربائیان‘ ازبکستان‘ ترکمنستان‘ قزاقستان‘ بنگلہ دیش‘ بحرین اور سعودی عرب کے دورے کر چکے ہیں۔ ان ممالک میں وہ سرکاری طور پر گئے تھے۔ میں سمجھتا ہوں ان کی تحریریں ہماری لیے مشعل راہ ہیں۔

اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام یوم ِمادرملت فاطمہ جناح منایا گیا

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو ہیں‘ وہ جب سے کراچی میں تعینات ہوئے ہیں انہوں نے اپنے دفتر میں ادبی تقریبات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ کورونا وائرس کے سبب ہر جگہ ادبی پروگرام نہیں ہو رہے ہیں تاہم قادر بخش سومرو نے لاک ڈائون میں مکمل SOP’s کے ساتھ جون 2020 سے مشاعرے اور مذاکرے کرا رہے ہیں لیکن اس میں لوگوں کی شرکت زیادہ نہیں ہو پارہی۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے مادرِ ملت فاطمہ جناح کے لیے تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا اس موقع پر انہوں نے کہ پاکستان کا قیام مسلمانانِ ہندکی قربانیوں کا نتیجہ ہے‘ اس تحریک کی قیادت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کی‘ اس جدوجہد میں ان کی ایک بہن مادرِ ملت فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ حصول پاکستان کے دوران مادرِ ملت نے جس سیاسی نصیرت و قیادت کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ فاطمہ جناح 9 جولائی 1967ء کو دارِ فانی سے کوچ کر گئیں‘ ہماری اوراکادمی ادبیات کراچی کی خواہش تھی کہ ہم اس حوالے سے کوئی بڑا پروگرام ترتیب دیتے کیوں کہ اپنے محسنوں کو یاد کرنا ایک اچھی روایت ہے۔ فاطمہ جناح کے اقوال و افکار کی پیروی کرنا ہمارا فرض ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح کے نزدیک پاکستانی خواتین کی بڑی اہمیت ہے وہ کہا کرتی تھیں خواتین پاکستان کو ایک آئیڈیل ریاست بنانے کے لیے اہم کردار ادا کرنا ہے جب تک پاکستانی خواتین اپنے مردوں کے شانہ بشانہ کام نہیں کریں گی ہمارا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ مادرِ ملت فاطمہ جناح نے عوام الناس کی خدمت کے لیے ’’ویمن ریلیف کمیٹی قائم کی اور پاکستان ویمن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی جس کے کریڈٹ پر بے شمار کام ہیں۔ اس مذاکرے کی صدارت راقم الحروف نثار احمد نے کی جب کہ نسیم شاہ (اردو نفاذِ تحریک) مہمان خصوصی تھے۔ شرکا میں الطاف احمد‘ رفیق مغل ایڈووکیٹ اور جمیل ایڈووکیٹ تھے۔ راقم الحروف نثار احمد نے کہا کہ مادر ملت فاطمہ جناح کا شمار پاکستان کے عظیم خدمت گاروں میں ہوتا ہے‘ وہ تربیت یافتہ ڈینٹل ڈاکٹر تھیں‘ تحریک پاکستان کے باعث وہ پاکستان کے لیے وقف ہو گئی تھیں انہوں نے صدر پاکستان ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکش لڑا‘ ان کا انتخابی نشان لالٹین تھا اُس وقت ہمارے ملک میں بی ڈی نظام رائج تھا‘ اس صدارتی الیکشن میں ہر بی ڈی ممبر نے ووٹ دینا تھا اس وقت پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا ایک مشرقی پاکستان اور دوسرا مغربی پاکستان۔ فاطمہ جناح وہ صدارتی الیکشن ہار گئیں اس کی کیا وجوہات تھیں اس پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ نسیم شاہ نے کہا کہ مادرِ ملت فاطمہ جناح ایک جرأت مند خاتون تھیں‘ انہوں نے انتہائی ذمہ دری کے ساتھ تحریک پاکستان میں حصہ لیا‘ وہ اپنے بھائی محمد علی جناح کے نقش قدم پر گامزن تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ پاکستان میں امن وامان قائم رہے‘ پاکستان ترقی کرے‘ ان کی تمام مصروفیت کا محور پاکستان تھا‘ وہ سیاست کے افکار و اسرار سے آشنا تھیں۔ اپنے بھائی کے انتقال کے بعد وہ غیر سیاسی زندگی گزار رہی تھیں لیکن پاکستان کے چند رہنمائوں نے انہیں صدارتی الیکشن میں نامزد کیا۔ 9 جولائی ان کی تاریخ وفات ہے‘ ان کا مزار قائداعظم کے مزار کے احاطے میں ہے۔

رفیق مغل کا مجموعہ حمد و نعت ’’ادراکِ فروزاں‘‘ میں شاعری کے چراغ روشن ہیں‘ پروفیسر آفاق خیالی

محمد رفیق مغل ایڈووکیٹ سے میری شناسائی نہ ہونے کے برابر ہے‘ گزشتہ ہفتے انہوں نے مجھے اپنی دو کتابیں عنایت کیں کہ میں اپنے کالم میں ان پر کچھ لکھوں۔ میں نے ان کی ایک کتاب ’’ادراکِ فروزاں‘‘ پڑھی جس میں 37 حمد باری تعالیٰ‘ 45 نعتیں اور 4 عدد مناقب شامل ہیں‘ 232 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 1,500 روپے ہے۔ اس کتاب کو جہانِ حمد پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔ رفیق مغل کی حمدیہ و نعتیہ شاعری پر جن اشخاص نے اپنے تاثرات بیان کیے ہیں ان میں محسن اعظم ملیح آبادی‘ پروفیسر خیال آفاقی‘ تنویر پھول اور طاہر سلطانی شامل ہیں۔ محسن اعظم ملیح آبادی کہتے ہیں کہ وہ رفیق مغل کو 2010 سے حمدیہ اور نعتیہ مشاعروں میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کی نعتوں میں عشقِ رسولؐ نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری متحرک ہے جامد نہیں۔ ان کی نعتوں کا بنیادی عنصر عشق رسولؐ ہے لہٰذا ان کے کلام کواسی تناظر میں دیکھا جائے۔ انہیں فکری و اسلوبی‘ عروضی اور فنی منطقے میں جانا مناسب نہیں ہے۔ ان کی نعتوں سے ایک پیغام ہر قاری کو ملے گا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہیں‘ ان کی شاعری میں پورے اہتمام کے ساتھ یہ بات نمایاں ہے اس کتاب کے گوشہ حمد میں بہت سادہ لفظوںسے ثنائے باری تعالیٰ کے چراغ روشن ہیں ان کا نعتیہ کلام جذبۂ عشقِ محبت سے بھرپور ہے ان کے اشعار ہمارے ذہن و دل کو نورِ معرفت سے جگمگاتے ہیں۔ رفیق مغل کو اپنے گناہوں کا احساس ہے وہ شفاعتِ رسول کے طلب گار ہیں کہ قیامت میں ہمارے رسول اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔ تنویر پھول نے رفیق مغل ایڈووکیٹ کے بارے میں کہا کہ وہ ایک نیک سیرت انسان ہیں‘ وہ بنیادی طور پر حمد و نعت اورغزل کے شاعر ہیں ان کے کئی شعری مجموعے خالقِ دو جہاں، جانِ دو عالم، نور منور‘ ادراکِ فروزاں‘ آبگینے‘ افق‘ ہمہ رنگ اور نئے چراغ جلا شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی شاعری میں سادگی اور خوش رنگی ہے۔ طاہر سلطانی نے کہا کہ رفیق مغل ایڈووکیٹ حمد و نعت کی ترقی و توسیع کے لیے ہمارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں یہ ہمارے طرحی مشاعروں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ چشم نم رکھنے والے شاعر کئی مرتبہ رسالت مآب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے پر حاضری دے آئے ہیں۔ ان کے اشعار میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے مضامین نظر آتے ہیں ان کے دل میں یہ خواہش ہے کہ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت ہو اس حوالے سے بھی یہ بہت سرگرم عمل ہیں ان کی ترقی کا سفر جاری ہے امید ہے کہ یہ بہت جلد اپنی منزل پا لیں گے۔ راقم الحروف نثار احمد کے نزدیک رفیق مغل ایک اچھے انسان ہیں‘ ان کی شاعری میں بہت سے طرحی حمد اور نعت شامل ہیں‘ یہ مجلسی آدمی ہیں زندگی کے نشیب و فراز سے گزرے ہیں ان کے یہاں ان کے تجربات نظر آتے ہیں انہوں نے نعت میں عبد اور معبود کا خیال رکھا ہے۔ نعت میں غلو کی گنجائش نہیں ہے رسالت مآبؐ کی زندگی ہمارے لیے مشعِل راہ ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی کے مسائل موجود ہیں۔ ہر شاعر اپنے کلام میں ان سے استفادہ کر رہا ہے رفیق مغل ایڈووکیٹ نے بھی اسی طرح پر عمل کرتے ہوئے نعتیہ ادب میں حصہ لیا ہے۔

غزلیں

ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی

اٹھ رہا ہے آشیانوں سے دھواں دیکھے گا کون
ہے مگر تعبیرِ خوابِ رائیگاں دیکھے گا کون
آرزو کا اک جہانِ تازہ بھی منظر میں ہے
میں جسے پہچانتا ہوں وہ جہاں دیکھے گا کون
راستے روشن بہت کرتا رہا ہوں زیر پا
دور تک پھیلے ہیں قدموں کے نشاں‘ دیکھے گا کون
جل رہی ہے دل میں اک آفاق سے رشتے سے لو
جیسے ہم دیکھے ہیں سوئے آسماں‘ دیکھے گا کون
ایک احساسِ شکستِ شب بہت روشن مگر
بے کراں اس بے حسی کی درمیاں دیکھے گا کون
رفتہ رفتہ ہو رہے گا زخم دل کا اندمال
بجھتے بجھتے بجھ ہی جائے گی فغاں‘ دیکھے گا کون
دیکھ دل میں ہو رہا ہے اک نیا منظر طلوع
جو ادھر بکھری پڑی کہکشاں دیکھے گا کون

ڈاکٹر شاداب احسانی

ہم کو خود سے ملے زمانہ ہوا
گھر سے بے گھر ہوئے زمانہ ہوا
کب سے سونی پری ہے راہ گزر
دیکھتے دیکھتے زمانہ ہوا
عشق کرنا تو اک ہنر ٹھہرا
خواب دیکھے ہوئے زمانہ ہوا
کیا کوئی مصرفِ حیات نہیں
سوتے اور جاگتے زمانہ ہوا
رسم ہمسائیگی بھی بھول گئے
کچھ کہے کچھ سنے زمانہ ہوا
مستقل حالتِ سفر میں ہے
آدمی کو چلے زمانہ ہوا
ہجر آثار ہے فضا شادابؔ
خون روئے ہوئے زمانہ ہوا

شہناز نور

کسی سے ہاتھ‘ کسی سے نظر ملاتے ہوئے
میں بجھ رہی ہوں رواداریاں نبھاتے ہوئے
کسی کو میرے دکھوں کی خبر بھی ہو کیسے
کہ میں ہر ایک سے ملتی ہوں مسکراتے ہوئے
عجیب خوف ہے اندر کی خامشی کا مجھے
کہ راستوں سے گزرتی ہوںگنگناتے ہوئے
کہاں تک اور میں سمٹوں کہ عمر بیت گئی
دل و نظر کے تقاضوں سے منہ چھپاتے ہوئے
نہیں ملال کہ میں رائیگاں ہوئی ہوں نورؔ
بدن کی خاک سے دیوار و در بناتے ہوئے

حصہ