اندھیر نگری چوپٹ راج

148

۔’’اندھیر نگر چوپٹ راج‘‘ آج کل کے حالات اور کراچی کی زبوں حالی پر اگر کوئی محاورہ صادق آتا ہے تو شاید اس سے بہتر کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا ۔کم از کم مجھے تو اس محاورے میں اپنے کراچی کا پورا منظر نامہ کھل کر سامنے محسوس ہوتا ہے ۔
کورونا کے ہاتھوں پریشا ن شہری جانوں سے بے زار نظر آتے ہیں ، کورونا کے چکر میں کام کاج پہلے جیسے رہا نہیں‘ دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ چکے ہیں ، ایسے میں ایک اور مصیبت قومی اداروں کی لوٹ مار ، بے حسی ، ہٹ دھرمی ، رشوت خوری اور نکما پن ہے۔
دن میں بارہ بارہ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، مگر اس ادارے کی ہٹ دھرمی جاتی نہیں۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بہت سی باتیں گردش کررہی ہیں۔ کوئی اپنا غصہ ’’تانبا چور‘‘ کہہ کر نکالتا ہے تو کوئی ’’قاتل الیکٹرک‘‘ کہہ کر… اس کے علاوہ بھی بہت سے احباب ہیں جو اپنے اپنے مخصوص انداز میں غصہ نکالنے کا مو قع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ( اب ہر چیز جو میڈیا پر چل رہی ہے وہ لکھی تو نہیں جاسکتی۔)
کسی نے کراچی والے سے پوچھ لیا کہ بھائی ’’کورونا جسم میں کس طرح داخل ہوتا ہے ؟ اور کس طرح جسم کو مفلوج کرتا ہے؟‘‘
حکومت اور کے الیکٹرک کے ہاتھوں تنگ آئے ہوئے شہری نے فوراً جواب دیا ’’جس طرح پیپلز پارٹی سندھ میں گھسی تحریک انصاف پاکستان میں گھسی اور سندھ اور پاکستان میں گھس کر پورے پاکستان کو مفلوج کردیا ہے‘ بالکل اسی طرح کورونا پہلے چوری سے بدن میں گھستا ہے اور پھر پورے جسم کو مفلوج کردیتا ہے۔‘‘
حالیہ بارشوں نے کراچی ہی نہیں پورے پاکستان اصل ترقی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ ایک گھنٹے کی بارش نے کراچی میں جو قیا مت مچائی ہے اس سے یہاں والے تو بہ خوبی واقف ہیں۔ سندھ کو ’پیرس‘ کہنے والے اپنی اوطاقوں میں منہ چھپا کر پڑے رہے۔ کراچی کے نام نہاد میئر وسیم اختر‘ جو اختیارات نہ ملنے کا رونا روتے نہیں تھکتے‘ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اس مرتبہ کسی قسم کا رونا گانا بھی نہیں مچایا‘ پچھلی بارشوں میں تو وہ عمران اسماعیل کے ساتھ پیالہ ہوٹل پر چائے پیتے دکھائی بھی دیے تھے مگر اس مرتبہ کراچی والے ان کی تصویر کہانی سے بھی محروم رہے۔
بارش نے جو محض چند گھنٹے بمشکل برسی‘ لیکن اس کے نتیجے میں کے الیکٹرک والوں نے اگلے پچھلے تمام بدلے نکالنے کی کوشش کی جو تاحال جاری ہے۔
اگرچہ کراچی کی واحد آواز امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن مسلسل کے الیکٹرک کی ہٹ دھرمی اور نکمے پن کے خلاف نا صرف آواز بلند کر رہے ہیں بلکہ کراچی میں چار سو سے زائد مقامات پر مظاہرے اور دھرنے بھی دے چکے ہیں‘ مزید یہ کہ عوام کا یہ احتجاج اس وقت بھی جاری ہے۔
کیا کے الیکٹرک کے پاس اس جھوٹے بیانیے کا کوئی جواز ہے کہ کراچی میں بجلی کی طلب بڑھ چکی ہے اور پیداوار کم ہے؟
کے الیکٹرک کے ان ہڈحراموں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ اس نے اب تک پیداوار بڑھانے کے لیے کیا کام کیا؟ شہریوں سے ڈویلپمنٹ چارجز کے نام پر ماہانہ اربوں روپے لوٹنے والوں نے پاور جنریشن پرکتنا پیسہ لگایا؟ ان کے پاس اب تک کوئی نظام کیوں نہ بن پایا جس سے یہ ’’اووربلنگ‘‘ کو کنٹرول کر سکیں؟
ان کا سی ای او ٹی وی چینل پر آکر مزے سے کہہ جاتا ہے کہ ’’ہمارے پاس مطلوبہ حساب سے بجلی کی پیداوار نہیں ہے۔‘‘
ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ آج کل کراچی میں بجلی کی طلب اس کی پیداوار سے کہیں زیادہ کم ہے کیوں کہ لاک ڈائون کی وجہ سے بہت سی کاروباری اور معاشی سرگرمیاں بند ہیں۔ شام سات بجے سے تمام کاروبار بند ہوجاتا ہے ایسے میں بجلی کی طلب اور اس کا استعمال خود کم ہوجاتا ہے۔
چلیں اس کو چھوڑیں یہی بتادیں کہ کے الیکٹرک کی نج کاری کے وقت یہ بات معاہدے میں شامل تھی کہ نہیں کہ یہ پیداوار بڑھانے اور ٹرانمیشن کے نظام میں بتدریج بہتری لانے کے پابند ہوں گے؟
اس بات کو پندرہ سال گزر چکے ہیں مگر اب تک ایک یونٹ بجلی کی اضافی پیداوار نہیں ہوسکی‘ اس کی کیا وجہ ہے؟ ظاہر ہے لوٹ مار کا عوامی منصوبہ۔ اس کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا ۔
اندازہ لگائیں کہ کراچی کو سب سے زیادہ مہنگی بجلی دی جارہی ہے۔ اب تو سی ای او تک نے کہہ دیا کہ ’’موسم بہتر ہو جائے گا تو بجلی کی فراہمی بہتر ہو جائے گی۔‘‘ یعنی سارا معاملہ آسروں پر ہی چل رہا ہے اور اُن کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے حالات بہتر کرنے کا۔
ایک بجلی کا ہی کیا رونا؟ کوئی مجھے کسی ایک ادارے کہ بارے میں یہ بتادے کہ وہ ٹھیک طریقے سے کام کر رہا ہے؟
کے ایم سی، واٹر بورڈ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، سوئی گیس، انکم ٹیکس، پی آئی اے… کون سا ادارہ ہے جہاں سے عوام ان کے افسران کو ننگ دھڑنگ سنا کر باہر نہ نکلتے ہوں۔
کیا اس حقیقت سے کوئی اب بھی انکار کرے گا کہ ان بدبخت حکمرانوں نے کراچی کو لوٹ کھسوٹ کا بازار بنایا ہوا ہے اور اسے دودھ دینے والی گائے سمجھا ہوا ہے۔ کراچی پورے ملک کے لیے67 اور سندھ کے لیے95 فیصد ریونیو جمع کرتا ہے‘ اس کے باوجود کراچی کو کچھ نہیں ملتا‘ جعلی ڈومیسائل کے ذریعے کراچی سے باہر کے لوگوں کو نوکریاں دی جاتی ہیں‘ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان کراچی دشمنی کا مقابلہ چل رہا ہے‘ ایم کیو ایم کے کسی رکن نے کبھی کابینہ میں کراچی کے مسئلے پر بات نہیں کی۔ ایم کیو ایم نے وزارت حاصل کرنے کے لیے تو احتجاج کیے لیکن کراچی کے حقوق کے لیے کبھی احتجاج نہیں کیا۔ مشرف حکومت میں ایم کیو ایم کے پاس بے شمار وزارتیں تھیں لیکن اس نے کراچی کے مسائل حل نہیں کیے۔
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’اندھیر نگری‘ چوپٹ راج‘‘ تو اِس کا مطلب راج سنگھاسن پر بیٹھے وزیر اعظم اور ان کی منظور نظر کابینہ ہے۔
کنٹینر فیم عمران خان اور آئن اسٹائن وزیر اسد عمر پیٹرول پیٹرول کرتے نہیں تھکتے تھے اور ساری کرپشن پچھلی حکومتوں کی دکھاتے تھے۔ کہتے تھے کہ نواز شریف کی حکومت 40 کا پیٹرول 90 میں فروخت کر رہی ہے، اب جب کہ پیٹرول دنیا بھر میں سستے ترین نرخ پر آچکا ہے‘ پھر اس کی قیمت سو روپے فی لیٹر سے زیادہ کیوں ہے؟ اور اس پر کتنا منافع حکومت کی جیب میں جا رہا ہے؟ اس بارے میں یہ بیان دیکھیں۔
وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان دراصل عوام کو ریلیف دے رہے ہیں‘ خطے میں تیل کی قیمت اس وقت پاکستان میں سب سے کم ہے، پیٹرولیم مصنوعات پر 17 فیصد ٹیکس لے رہے ہیں، سپلائی کی مد میں 9 روپے 70 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں، پیٹرول پر 47 روپے 86 پیسے اور ڈیزل پر 51 روپے 41 پیسے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہے ہیں۔ کس ڈھٹائی کے ساتھ یہ لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں؟ عقل حیران رہ جاتی ہے !
کل ہی کی بات ہے کہ عمران خان کے بیرون ممالک بزنس کی دیکھ بھال کرنے والے وفاقی وزیر زلفی بخاری نے ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈھٹائی کے ساتھ فرما یا کہ ’’وہ پاکستان میں کوئی ٹیکس نہیں دیتے اور دھری شہریت رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے‘ وزیر اعظم کو اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہیں اپنی کابینہ میں شامل رکھیں۔‘‘
جب یہ پو چھا گیا کہ ’’آپ کی پاکستان میں کیا انویسٹمنٹ ہے؟‘‘ تو جواب میں فرماتے ہیں کہ ’’میں نے اب تک کوئی انویسٹمنٹ کی ہے نہ ہی کرنے کا ا رادہ ہے۔‘‘
یہ تو عمران خان کی دیگ کا ایک چاول ہے‘ پوری دیگ کے چاول کا یہی معاملہ ہے۔ چینی مافیا‘ گندم اسکینڈل‘ پورن فلموں کا اسکینڈل‘ کورونا وائرس کو پاکستان میں پھیلانے کے مجرم… غرض جس مافیا کے سرغنے کا پوچھیں وہ عمران خان کی پشت پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
’بائی دا وے‘ یونہی یاد آگیا کہ یہ وہی عمران خان ہیں جو کنٹینر پر کھڑے ہوکر خالی کرسیوں سے خطابتے ہوئے منہ سے جھاگ اڑاتے تھے کہ ’’میں کسی کو کھانے نہیں دوں گا۔‘‘
آج معلوم ہواکہ کچھ الفاظ وہ سائلنٹ رکھتے تھے‘ گویا وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ’’میں اپنے علاوہ کسی اور کوکھانے نہیں دوں گا۔‘‘
اب ایک ایک کرکے سارے کھانے پینے اور خان کی کابینہ کے مجرم بے نقاب ہوتے جارہے ہیں۔ تین دن پہلے کی خبر ہے کہ کراچی کے پا نی کے سب سے بڑے منصوبے K-4 کی جگہ کسی بجلی بنانے والی کمپنی کو فروخت کردی گئی ہے۔ مزید تفصیلات اس خبر کی یہ ہیں کہ پانی سے بجلی پیدا کرنے والی ایک کمپنی جو عمران خان کے ذاتی دوست کی ہے‘ اُن کو الاٹ کردی گئی ہے۔ اب وہ پن بجلی اور سولر انرجی پینلز کے ذریعے کراچی اور وفاقی حکومت کو چونا لگائیں گے۔K-4 منصوبے کے قاتل بجا طور پر سندھ حکومت اور عمران خان ہیں جن کی ملی بھگت سے پانی کے اس عظیم منصوبے کو پہلے ناقابل عمل قرار دلوایا گیا اور اس کے بعد اس قیمتی زمین کو اونے پونے ٹھکانے لگانے کے لیے وزیر اعظم نے اپنے قریبی دوست کا انتخاب کیا۔ واضح رہے کہ یہ دوست کراچی سے پہلے پنجاب حکومت اور وفاقی اداروں کے ڈیفالٹر ہوچکے ہیں۔
لگتا نہیں ہے کہ عمران خان شریفوں والی زبان سمجھیں‘ مجھے یقین ہے کہ یہ وہی زبان سمجھتے ہیں جس زبان میں وہ اپنی کپتانی کے دنوں میں کھلاڑیوں سے مخاطب ہوتے تھے۔

حصہ