اقبال اقبالیات اور ہم

80

حالانکہ ادبی تنقید کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز یہی انفرادیت ہے۔ اس کے علاوہ ان خیالات کو ان کے مخصوص زمانی اور مکانی پس منظر سے الگ کرکے دیکھنا اور بنی بنائی صداقتوں کے طور پر پیش کرنا بھی ان خیالات کو ان کی زندگی سے محروم کردینے کے مترادف ہے۔ اب اس سے بھی آگے بڑھ کر میں یہ بات کہوں گا کہ یہ خیالات اگر ہمارے لیے کچھ اہمیت رکھتے ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے ذریعے اقبال نے بڑی شاعری پیدا کرکے دکھائی ہے، یعنی ان خیالات کی اہمیت اقبال کی شاعرانہ شخصیت سے الگ کرکے نہیں متعین کی جاسکتی۔ یہ یا اسی قسم کے دوسرے خیالات پست درجے کی شاعری پیدا کرسکتے ہیں یا اس سے بھی گر کر غیرشاعری کا آلۂ کار بن سکتے ہیں، اس لیے اقبال کے خیالات کی اہمیت ان کی شاعرانہ قدر و قیمت میں ہے اور آخری تجرزیے میں انھیں کسی طرح بھی اقبال کی شاعری سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان معنوں میں اقبالی تنقید بیشتر تنقید کے منصب سے گری ہوئی چیز ہے کیوںکہ اس کے دونوں نقائص ایک ہی بنیادی نااہلی سے پیدا ہوئے ہیں، یعنی اقبال کو شاعر کی حیثیت سے دیکھنے کی عدم صلاحیت۔ اقبال حکیم الامت تھے، اقبال مفسرِ قرآن تھے، اقبال اشتراکیت کے حامی تھے، اقبال نیشنلزم کے پرستار تھے۔ اقبال اپنی زندگی کے مختلف حصوں میں یہ سب کچھ تھے اور اس سے زیادہ کچھ اور بھی ہوسکتے تھے لیکن اگر اقبال شاعر نہیں تھے تو کچھ بھی نہیں تھے۔ یہ پہلا سبق ہے جو اقبالیات کو سیکھنا ہے اور اس کی عدم موجودگی وہ چیز ہے جو ادبی نقطئہ نظر سے ساری اقبالیات کو رد کردینے کا تقاضا کرتی ہے۔ ہم اقبال کے فلسفے اور اقبال کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش بہت کرچکے۔ اب ہمیں اقبال کی شاعرانہ وارداتکو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ہم اقبال کو اب تک باہر سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اقبال نے خودی اور بے خودی کے بارے میں کیا لکھا ہے؟ اقبال عشق اور عقل کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ جمہوریت و اشتراکیت کے بارے میںاقبال کا نظریہ ہے؟ لیکن اقبال کے خیالات کا خود اقبال کے وجود سے کیا تعلق ہے؟ اس کے بارے میں ہم نے کبھی ایک لمحے بھی یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ آخر وہ کیا انسان تھا جسے نہ وصل نے شاد کیا، نہ ہجر نے ناشاد۔ جو نہ کسی ساعدِ سیمیں کو ہاتھوں میں لے کر چھوڑنے پر پچھتایا، نہ کسی کو لبِ بام پر زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے دیکھ کر ہوس ناک ہوا۔ جس نے نہ کبھی شبِ وصلِ غیر کاٹنے کی داد طلب کی، نہ داغِ وارفتہ کی طرح کسی کوچے سے کھینچ کر لایا گیا۔ وہ بے تاب ہوا تو قوم کے غم میں، نغمہ سرائی پر آمادہ ہوا تو سورج کو مشرق سے اُبھرتا پا کر، رویا تو جنگِ طرابلس کے شہیدوں پر اور ہنسا تو فرنگ کو رہ گزرِ سیلِ بے پناہ میں دیکھ کر۔ یہ آدمی ایسا کیوں تھا اور ہم ایسے کیوں نہیں ہیں؟ اور وہ اگر ایسا تھا تو یہ کوئی اچھی بات ہے یا بری؟ اور ہم اگ ایسے نہیںہیں تو یہ فخر کا مقام ہے یا شرمندگی کا؟ ہم اقبال کو بھی اندر سے نہیں دیکھتے اور خود کو بھی۔ اور نہ اقبال کے اقبال ہونے کے معنی پر غور کرتے ہیں۔ ہم اقبال کی اشعری کو کتبوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیںاور اقبال کی شخصیت کو مجسموں میں۔ مجسمے بھی وہ جنھیں غیرملکی سیاحوں کے لیے قومی شاہراہوں پر نصب کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں ہم اقبال کو دکھاوے کی چیز سمجھتے ہیں۔ ہم اسے اس کی ظاہری سطح پر دیکھتے ہیں اور اپنے وجود کی سب سے اُتھلی سطح سے اس کا رابطہ قائم کرتے ہیں۔ اور شاید ہمارے دل میں یہ چور بھی موجود ہے کہ اقبال نے اپنے اصلی مسائل (جن کا قیاس ہم اپنے مسائل پر کرتے ہیں) کو چھوڑ کر شاعری کی ہے۔اقبال کے مسائل وہ کیوں ہیں جو وہ ہیں؟ اسے ہم اقبال اور ان کے دور کو سمجھے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ اقبال کے دور کو سمجھنے کی کوشش اقبالیات کے نسبتاً بہتر حصوں میں کہیں کہیں مل جاتی ہے لیکن اس دور نے اقبال کو جس طرح متاثر کیا، مثال کے طور پر فانی کو متاثر کیوں نہیں کیا۔ اس کا جواب شاید آسان نہ ہو۔ دور ہمیشہ افراد میں ظاہر ہوتا ہے اور فرد کا شعور دور کے ظہور کی لازمی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقبال کا دور، اقبال کے شعور میں ظاہر ہوا ہے، اس لیے اصل چیز اقبال کا شعور ہے۔ اقبال کاشعور، اقبال کا تخیل، اقبالت کے مخصوص تجربات وہ چیزیں ہیں جو اقبال کو اقبال بناتی ہیں۔ اس لیے اقبال کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان سب چیزوں کا تجزیہ کرنا چاہے۔اقبالیات کی سب سے بڑی کم زوری تجزیے کی عدم صلاحیت ہے۔ ہمیں یہاں تجزیے کے بجائے بیانات ملتے ہیں اور بیانات بھی ایسے جو صرف سطح کو ظاہر کرتے ہیں، گہرائی کو نہیں اور جنھیں ایک بار دیکھ کر دوبارہ دیکھنا تضیعِ اوقات کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہم اقبال کے خیالات کو الگ دیکھتے ہیں، اقبال کی زندگی کو الگ اور اس زندگی سے بھی اس کے انسانی پہلوئوں کو خارج کردیتے ہیں۔ جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقبال کے خیالات کو اقبال کی زندگی کی روشنی میں دیکھا جائے اور اقبال کی زندگی کو اقبال کے خیالات کی روشنی میں۔ ان دونوں کو ملا کر ہی ہم اقبال کو— پورے اقبال کو— اس طرح سمجھ سکتے ہیں جس طرح سمجھنا اقبال کے تخلیقی مطالعے کے لیے ضروری ہے۔کسی بھی شاعر کی حقیقی قدر و قیمت کا تعین اس کی زبان اور اس کی تہذیبی روایات کے اندر رہ کر ہی ممکن ہوتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہم اسے اس پوری روایت کے ارتقا کی روشنی میں دیکھتے ہیں جو اس کی زبان میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے شاعری کا مطالعہ ہمیشہ تقابلی مطالعہ ہوتا ہے۔ کسی شاعر کو اس کی زبان اور تہذیب کی پوری روایت سے الگ کرکے دیکھنے سے ہمیشہ بری تنقید پیدا ہوتی ہے۔ ایک ایسی تنقید جو ذوقِ سلیم کی تربیت کے بجائے اسے گم راہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسی تنقید اس لیے بے معنی ہوتی ہے کہ خود اپنے موضوع کے تقاضے کو پورا نہیں کرسکتی، یعنی شاعر کی انفرادیت کے تعین سے قاصر رہتی ہے جو شاعری کا اوّلین مسئلہ ہے، کیوںکہ انفرادیت ہمیشہ دوسروں کے تقابل ہی میں ظاہر ہوتی ہے۔ اقبالیات میں اقبال کا مطالعہ بیشتر اس طرح کیا جاتا ہے جیسے وہ اپنی زبان اور تہذیب کی روایت سے الگ تھلگ ایک جزیرے کی حیثیت رکھتے ہوں— میری نظر سے اب تک کوئی تحریر ایسی نہیں گزری جس میں اقبال کو اردو یا فارسی کے بڑے شعرا کے ساتھ رکھ کر دیکھنے کی کوشش کی گئی ہو۔ہمیں اقبال کی شاعری میں ان کے انسان کو تلاش کرنا ہے۔ ہم اُنھیں فلسفی کی حیثیت سے مسلمان اور مسلم لیگی کی حیثیت سے بہت دیکھ چکے۔ اب ہمیں گوشت پوست کے اُس وجود کو ڈھونڈنا ہے جو ہماری ہی طرح خوف اور اندیشوں میں مبتلا ہوتا تھا، ہماری ہی طرح اُمید اور آرزو سے تڑپتا تھا اور سب سے زیادہ ہماری ہی طرح تنہا اور ٹوٹا ہوا تھا۔ ہم جب اس انسان کو اس کے زندہ اور دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ، اس کی آرزوئوں اور اُمنگوں کے ساتھ، اس کے اندیشوں اور بے تابیوں کے ساتھ، اس کی تنہائی اور مایوسیوں کے ساتھ پہچان لیں گے تو پھر ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ اس انسان کا ہمارے انفرادی، قومی اور انسای وجود سے کیا تعلق ہے اور وہ ہمارے وجود کی کس کس سطح پر ہمارا ساتھ دیتا ہے۔ہمیں اقبال کو اقبال کے اندر بھی تلاش کرنا ہے اور اپنے اندر بھی، اور پھر اقبال کے فلسفہ و فکر، تصورات و نظریات، معتقدات و مسلمات کا تعلق اس انسان سے قائم کرنا ہے۔ یہ کام جیساکہ ظاہر ہے، آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے ہمیں اقبال کی شاعری اور زندگی کو ایک نئی نظر سے دیکھنا پڑے گا وار اس کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کی مدد سے اقبالی انسان کے استخوان میں زندگی کے خونِ گرم کو محسوس کرنا ہوگا۔ اقبال کو اپنے وجود میں زندہ کرنے کے لیے ہمیں اقبال کی طرف اسی راستے سے آنا پڑے گا۔

حصہ