پہاڑوں کے بیٹے

92

(سترہویں قسط)
زبیر فیروز کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ شاید اب ان کا کھیل ختم ہوگیا ہے۔ اس نے اشارے سے پوچھا ’’کیا بات ہے؟‘‘
فیروز نے اشارتاً کہا کہ دوپہر کے کھانے کے وقفے میں بتائے گا، پھر وہی معمول کے احکامات دیے اور زبیر اپنے ساتھ سپاہیوں کو لے کر کابل کے قریب چھائونی کی طرف چلا گیا۔ اس کے لیے اسے کل ہی احکامات ملے تھے۔ زبیر نے اپنا اعتبار کیوں کہ ایسا قائم کرلیا تھا کہ افغان کے ساتھ ساتھ روسی حکام بھی اس کی معلومات پر بھروسا کرنے لگے تھے اور اس سے متاثر بھی تھے۔
زبیر نے کئی معرکوں میں روسیوں کو کامیابی بھی دلائی تھی۔ یہ مجاہدین کے ساتھ اس کی خفیہ بات چیت کا نتیجہ تھی۔ کمانڈر ادریس اور دیگر مجاہدین کی شوریٰ نے اس کی بطور خاص منصوبہ بندی کی تھی۔
روسی چھائونی کے اندر داخل ہونے اور اس کے تمام مقامات کا جائزہ لے کر نقشہ فراہم کرنے کا کام بھی زبیر کو سونپا گیا تھا۔ آج فیروز کا چہرہ دیکھ کر رہ رہ کر اس کو خیال آرہا تھا کہ کوئی گڑبڑ ہے۔ لیکن دوپہر کے کھانے سے پہلے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکتا تھا، لہٰذا زبیر خاموشی سے دوپہر کا منتظر تھا۔
روسی چھائونی میں آج اس کو صرف اپنی حاضری لگانی تھی، اصل ہدایات کل دی جانی تھیں، لہٰذا وہاں سے جلد ہی اس کی واپسی ہوگئی۔ واپس آکر وہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر معاملے پر غور اور آئندہ کی منصوبہ بندی کے بارے میں سوچنے لگا۔ یہ بات تو اس نے دل میں طے کی ہوئی تھی کہ جب تک مجاہدین کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، ٹھیک ہے، پھر اس سینٹر کے علاوہ اس چھائونی کو بھی ضرور تباہ کرنا ہے۔
افغانستان میں اپنی پوری فوجی مشنری کے ساتھ داخل ہونے کے بعد سے روس کے نقصانات میں دن رات اضافہ ہورہا تھا، اور وہ اوّل دن کی طرح اب بھی افغانستان پر اپنا مکمل تسلط حاصل کرنے سے اتنا ہی دور تھا۔
لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرنے اور معذور بنادینے، اور لاکھوں کے گھروں کو مٹی کا ڈھیر بنادینے کے باوجود روس افغانستان کے غیور عوام کو اپنا غلام بنا لینے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔
یہ بہادر اور جرأت مند افغان دیہاتی تھے جو افغانستان کے پچیس ہزار دیہات میں آباد تھے، جو ترقی اور جدید ٹیکنالوجی سے دور تھے لیکن اتنا علم ضرور رکھتے تھے کہ غلامی دنیا کی سب سے بڑی لعنت ہے، اور وہ اپنے ملک کو غلام نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔
غلامی سے نفرت کا جذبہ ان میں دنیا کی کسی بھی قوم سے زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ پچھلے پانچ ہزار سال سے افغان کسی بھی بڑی طاقت کے غلام نہیں رہے۔ کابل میں بیٹھ کر ملک پر قبضے کا خواب تو دیکھا جاسکتا ہے لیکن عملی طور پر اس میں حقیقت کا رنگ بھرنا ہمیشہ ناممکن ہی رہا ہے۔
روسیوں کو ناکوں چنے چبوانا، یہاں تک کہ اپنی انگلیاں چبا
ڈالنے پر مجبور کرنا اگرچہ آسان نہیں تھا۔ اس میں مجاہدین کو بے پناہ نقصانات بھی ہوئے۔ وہ ایک طرف بھوک اور افلاس کا شکار تھے اور دوسری طرف روسی فوج قندھار اور ہرات کے کھیتوں اور کھلیانوں میں آگ لگا رہی تھی تاکہ اگر افغانی بارود کی آگ سے بچ جائیں تو پیٹ کی آگ کے ہاتھوں مجبور ہوجائیں۔ قندھار اور ہرات کے میدان اناج کی باسکٹ کہلاتے تھے۔ روسی افواج وہاں کھیتوں کو بے دریغ آگ لگاتی رہتی تھیں۔
اس کے علاوہ روسی افغانوں کی غیرت اور حمیت کے بارے میں جان چکے تھے۔ وہ یہ دیکھتے تھے کہ ہر افغان اپنی بہو بیٹی کی آبرو کو اپنی جان سے زیادہ قیمتی سمجھتا ہے لہٰذا آسانی کے ساتھ موت کو گلے لگا لیتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے افغانیوں کی اس نازک رگ کو دبانا شروع کیا۔ وہ افغان دیہات میں داخل ہوجاتے اور عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کرتے۔ اس سلسلے میں اگرچہ انہیں عورتوں کی طرف سے بھی شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن دوسری طرف آس پاس کے دیہات کے لوگ اپنی عزت بچانے کے لیے ہجرت پر مجبور ہوگئے، لہٰذا افغان باشندوں کا ایک بڑا ریلا روز ہی پاکستان میں داخل ہوتا۔
افغانستان کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوگا جہاں جنگ سے متاثر ہونے والا کوئی نہ کوئی زخمی یا معذور موجود نہ ہو۔ اسی طرح پاکستان کی خیمہ بستیوں میں بھی ہر خیمہ افغانوں کی قربانی کی داستان رکھتا تھا۔
یہ گھرانے کا سربراہ ہے جو اپنی ٹانگ گنوا بیٹھا ہے۔ یہ وہ بچہ ہے جس کی آنکھیں بارود کی نذر ہوچکی ہیں۔ یہ وہ زخمی بیوی ہے جس کا شوہر اس کی عزت بچاتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھا۔
یہ وہ معصوم بچے ہیں جن کے ماں اور باپ دونوں نے شہادت پائی، اور اب ان کے سر پر ہاتھ رکھنے کے لیے کوئی عزیز ہے نہ رشتے دار۔
مجاہدین کی اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کے مقابلے میں کامیابیاں اتنی حیرت انگیز تھیں کہ بہت سے لوگ ان کو دیکھ کر اسلام کی حقانیت کے قائل ہوگئے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اللہ رب العزت کی طرف سے جہاد کی تائید و حمایت میں عجیب و غریب واقعات کثرت کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے ہوئے دیکھے اور سنے گئے۔
روسی طیاروں کے نیچے پرندوںکے جھنڈ جو مجاہدین کا دفاع کرتے، شہادت کے عجیب و غریب واقعات جن میں شہدا مسکراتے ہوئے دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے نظر آتے۔ صرف دعا سے ٹینکوں کا تباہ ہوجانا، طیاروں کا خودبخود گر پڑنا، اجنبیوں کا معرکوں میں شرکت کرنا اور یکایک غائب ہوجانا… یہ سارے واقعات توکل علی اللہ اور نیت کے مکمل اخلاص اور پاکیزگی کے باعث ہی وقوع پذیر ہوئے۔
امریکا کی برسوں پہلے کی خواہش تھی کہ وہ ویت نام میں اپنی شکست کا انتقام لینا چاہتا تھا، لہٰذا وہ چاہتا تھا کہ افغانستان میں جنگ جاری رہے، روس اقتصادی اور فوجی لحاظ سے دبائو کا شکار رہے۔ اس سلسلے میں امریکا کی کوشش تھی کہ جہاد کو قابو میں کرکے میدان پر قابض ہوجائے، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ اسلامی بنیاد پرست میدانِ جنگ کی زمام کار اس کے حوالے کردیں۔ اس کے لیے وہ بے شمار وفود مہاجر کیمپوں اور سرحدوں کا جائزہ لینے کے لیے بھیجتا رہتا تھا۔
اس مقصد کے تحت امریکا نے ایک دفعہ سابق صدر نکسن کی زیر قیادت ایک وفد افغانستان کی سرحد پر بھیجا، جہاں نکسن نے دیکھا کہ افغانستان جانے والے پہاڑی راستوں پر مجاہدین کے قافلے چیونٹیوں کی قطار کی طرح بڑھتے چلے جا رہے ہیں حالانکہ سر پر روسی طیارے موجود ہیں جو موقع بہ موقع بم باری کررہے ہیں، میزائلوں اور گولیوں کی یلغار ہے، ٹینکوں سے لیس زمینی فوج ان کی منتظر ہے اور ٹینکوں کی گھن گرج سے زمین ہل رہی ہے۔ لیکن مجاہدین ان سب چیزوں سے بے نیاز بڑھتے چلے جارہے ہیں۔
اس منظر نے اس کے اعصاب کو ہلا ڈالا۔ اس کا دل انجانے اندیشوں سے کانپ گیا۔ اس نے اپنا دورہ ادھورا چھوڑا اور واپس جاکر اپنی قوم کو ڈرانے لگا۔
پریس کانفرنس میں صحافیوں نے اس سے سوالات پوچھے کہ فلاں اور فلاں مسئلے پر آپ کا کیا خیال ہے؟ وہ جواب دیتا کہ جناب وہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ آخر صحافیوں نے دریافت کیا کہ پھر آخر کیا مسئلہ ہے جو آپ کو خوف زدہ کر رہا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ بنیادی مسئلہ ’’اسلام‘‘ ہے۔
امریکی حکومت نے افغان لیڈروں کو اس کے بعد نیویارک بلایا اور ان کو اقوام متحدہ میں خطاب کا موقع بھی دیا، لیکن ساتھ ہی ان کو ریگن سے ملانا چاہا، لیکن افغان جہاندیدہ لیڈروں نے جن میں گلبدین حکمت یار کے علاوہ شیخ سیاف بھی تھے، امریکی صدر سے ملنے سے انکار کردیا۔ یہ انکار امریکا کے لیے تازیانہ تھا جس کا زخم وہ کبھی بھول نہ پایا۔ اس کی یہ چال کہ وہ افغان جہاد کا سرپرست کہلائے، ناکام ہوگئی۔
سیاسی طور پر یہ ناکامی امریکا کے لیے بڑی شرم ناک تھی، لہٰذا اب اس نے مجاہدین کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور تفرقہ پھیلانے کا کام انتہائی باریکی کے ساتھ شروع کردیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ روس کو بھی یہ بات سمجھ میں آنے لگی تھی کہ مسلم امت کا جاگ اٹھنا اس کے لیے بہتر نہیں ہے۔ نومبر 1985ء میں ریگن اور گوربا چوف کی ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں گوربا چوف نے اپنے بیگ سے ایک پرانا نقشہ نکال کر دکھایا جو اسلامی ممالک کے پھیلتے ہوئے جغرافیے کو ظاہر کرتا تھا، جب اسلام اطرافِ عالم میں پھیل رہا تھا۔ اس نے ریگن سے اس سلسلے میں طویل بات چیت کی کہ کس طرح مسلمانوں نے دو مرتبہ یورپ کی فصیلوں کو روند ڈالا تھا اور یورپ کے قلب تک پہنچ گئے۔ اس نے ریگن سے کہا:
’’مسلمانوں نے جاگنا شروع کردیا ہے، اگر وہ ایک بار میدان میں نکل آئے تو کوئی قوت ان کے سامنے ٹھیر نہیں سکے گی، اور آج روس اور امریکا کی جنگ سے فائدہ اٹھانے والا صرف اسلامی بلاک ہے، لہٰذا ہم کو اپنے مسائل اور اختلافات مل بیٹھ کر حل کرلینے چاہئیں، اور ہمیں اپنے مشترکہ دشمن کو پہچاننا چاہیے۔‘‘
دونوں ملکوں کے سربراہ اس معاملے میں متفق ہوگئے۔ اگرچہ روس کی یہ دیرینہ خواہش تھی کہ شمالی افغانستان کو روس میں مدغم کردیا جائے، اسی لیے دریائے آمو کے ساتھ ساتھ افغان حکومت نے روس کے تعاون سے ترقیاتی اسکیمیں شروع کی ہوئی تھیں۔
لیکن فروری 1986ء تک روسی رہنما گوربا چوف اس معاملے کو سمجھ چکے تھے کہ یہ کام کوئی آسان نہیں، لہٰذا انہوں نے افغان مسئلے کو ایک رِستہ ہوا زخم قرار دے دیا تھا۔ اُس زمانے میں پاکستان کے وزیراعظم محمد خان جونیجو تھے، روسی حکمران نے اُن کے ساتھ مل کر افغان مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، لیکن یہ حل ابھی کس قدر دور تھا، اس کا اندازہ کسی کو نہ تھا۔
…٭…
دوپہر کے کھانے کے بعد زبیر اپنے کمرے میں بیٹھا غور و فکر میں مصروف تھا۔ معلوم نہیں فیروز بھائی اس قدر پریشان کیوں تھے؟ جب بھی دل ہی دل میں باتیں کرتا، فیروز کو بھائی کہتا۔ دل کی حسرت تھی کہ خون کا ایک ہی تو رشتہ تھا اس کا، لیکن اب اس کے یہ حالات تھے کہ وہ اس کو بھائی کہہ کر مخاطب بھی نہیں کرسکتا تھا۔ فیروز نے سختی سے اسے منع کیا تھا کہ یہاں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ اتنے میں دروازہ بجا۔ زبیر جلدی سے اٹھا۔ ’’فیروز بھائی ہوں گے‘‘ اس نے دل میں دہرایا۔ دروازے پر فیروز ہی تھا۔ زبیر سراپا سوالیہ نشان بناہوا تھا۔ لیکن فیروز نے اندر آکر ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموشی کا اشارہ کیا۔ پھر زور سے بوالا ’’زبیر یار! چلو چائے پینے چلتے ہیں۔‘‘
اور دونوں باہر نکل آئے۔ چائے کے لیے ریسٹورنٹ تک پہنچتے پہنچتے فیروز نے ساری صورتِ حال اس کے سامنے رکھ دی۔ دراصل وہ مجاہدین جن کو وقتاً فوقتاً وہ لوگ بے ہوشی کا ٹیکہ لگاکر مُردہ ظاہر کرتے اور بالآخر دفنانے کے بہانے رہا کردیتے تھے ان میں دو تین دوبارہ پکڑے گئے تھے۔ اب خدشہ یہ تھا کہ کہیں روسی ان کی حقیقت پہچان نہ جائیں، بلکہ فیروز کا خیال تھا کہ شاید اب تک وہ لوگ نہ صرف ان کو پہچان چکے ہوں گے بلکہ بہت کچھ اگلوانے میں بھی کامیاب ہوچکے ہوں۔
’’فیروز بھائی! ایک بات تو طے ہے کہ اگر ہم کو پہچان لیا گیا تو کسی صورت گرفتاری نہیں دینی، اور دوسری بات یہ کہ اس سینٹر کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے خواہ موت کا کتنا ہی خطرہ ہو، شاید یوں شہادت کی آرزو کی تکمیل ہوجائے۔‘‘
فیروز نے زبیر کی بات سے اتفاق کیا، لیکن اس کا دل ابھی تک گھبرا رہا تھا۔ زبیر نے اس کو تسلی دی۔ چائے کا بھاپ اڑاتا کپ ہاتھ میں تھامے زبیر نہ جانے کن خیالوں میں گم ہوگیا۔
’’زبیر یار کس سوچ میں پڑ گئے؟‘‘ فیروز نے اس کو چونکا دیا۔
’’فیروز بھائی!‘‘ زبیر نے فیروز کے چہرے پر نظر ڈالی۔ برادرانہ محبت اس کے لہجے سے ٹپک رہی تھی۔ کپ میز پر دوبارہ رکھ کر زبیر نے اپنا ہاتھ فیروز کے ہاتھ پر رکھ کر دبایا ’’بھائی مجھے یہ لفظ کہہ لینے دیں۔ بہت ارمان ہے مجھے کہ میں آپ کو اس رشتے سے پکاروں۔ پتا نہیں پھر مجھے آپ کو اس رشتے سے پکارنے کا موقع ملے یا نہ ملے۔‘‘
زبیر نے ایک لمحہ ٹھیر کر دوبارہ سراٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں یادوں کی چمک تھی۔ ’’فیروز بھائی جہاد کے میدان کی یادیں بہت حسین ہیں۔ ایک دفعہ ہم ہرات کے قریب دشمن سے برسرِ پیکار تھے۔ ہم چار افراد تھے، دشمن کی تعداد تقریباً تین ہزار تھی۔ وہ ٹینکوں کے ذریعے مسلسل آگے بڑھ سکتے تھے، لیکن پتا نہیں کس چیز کا خوف تھا جو وہ ہچکچا رہے تھے۔ ہمارے پاس بہت محدود اسلحہ تھا لیکن ہم دیکھتے تھے کہ آپس میں مسلسل فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں حالانکہ ہم میں سے کوئی اپنی کلاشنکوف نہیں چلا رہا ہوتا تھا۔ پھر دشمن پیچھے ہٹنے لگا۔ ہم حیران تھے۔ ایک فاصلے پر پہنچ کر انہوں نے ٹینکوں کے ذریعے گولہ باری شروع کردی۔ میرے تینوں ساتھی شہید ہوگئے۔ میری زندگی ابھی باقی تھی لہٰذا مجھے اللہ میاں نے بچا لیا۔ دشمن گولہ باری سے فارغ ہوکر واپس چلے گئے۔ بعد میں، مَیں نے قریبی گائوں والوں کی مدد سے اپنے ساتھیوں کو دفن کیا۔ ان کو دفنا کر میں کچھ دن گائوں میں ٹھیرا رہا، پتا ہے فیروز بھائی میں نے خود ان کی قبروں سے ایک نور اٹھتا ہوا دیکھا جو آسمان کی طرف جاتا تھا۔ گائوں والوں نے بھی اس کا مشاہدہ کیا، لیکن پھر جب اس کا زیادہ ہی چرچا ہونے لگا تو وہ غائب ہوگیا۔‘‘
زبیر نے بات ختم کرکے فیروز کو دیکھا، وہ غور سے اس کی بات سن رہا تھا۔ زبیر نے پھر بات شروع کیا ’’فیروز بھائی یہ روسی بھی بڑے عجیب ہیں۔ ایک دفعہ ایک معرکہ میں ہم نے ایک روسی کو زندہ پکڑا۔ وہ ہمارے پاس خود ہی موت کے خوف سے گرفتار ہوگیا تھا۔ کہنے لگا کہ ہم تمہاری بندوقوں اور گولیوں سے نہیں ڈرتے لیکن ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے سے بہت خوف کھاتے ہیں۔ پھر پوچھنے لگا کہ یہ کسی توپ کا نام ہے یا گولے کا؟ اور یہ کس قسم کا اسلحہ ہے؟‘‘
زبیر کے ساتھ ساتھ فیروز کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اچانک زبیر کو کوئی بات یاد آگئی۔ ’’بھائی! اسلحہ خانے کے علاوہ باقی عمارتوں میں بھی بارود لگا دیا ہے ناں؟‘‘
فیروز نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’کل سے میری تو چھائونی میں ڈیوٹی ہے، میری کوشش ہے کہ وہاں کا جائزہ لے کر وہاں بھی بارود نصب کردوں۔ پتا نہیں کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ وقت جیسے قریب آگیا ہے۔ دیر ہوگئی ہے، چلو چلیں۔‘‘
فیروز کی آواز پر زبیر بھی کھڑا ہوگیا۔ راستے بھر دونوں مختلف تفصیلات طے کرتے رہے۔ کمرے کے اندر فیروز نے زبیر کو چھوڑا تو جانے سے پہلے دروازہ بند کیا اور زبیر کو سینے سے لگا کر پیار کیا۔ زبیر کو یوں لگا کہ جیسے مدتوں کی پیاس بجھ گئی ہو، نم آنکھوں اور بوجھل دل کے ساتھ دونوں جدا ہوئے۔ پتا نہیںکل کیا خبر لے کر دن طلوع ہوتا ہے؟ دونوں ہی دل ہی دل میں سوچ رہے تھے۔ اگلے کئی دن واقعی بڑے ہنگامہ خیز تھے۔
(جاری ہے)

حصہ