ہمارے ڈرامے اور اس کے منفی اثرات

159

میں عموماً ٹی وی پر ڈرامے نہیں دیکھتی، کبھی کبھار خبریں وغیرہ سن لیتی ہوں، کیوں کہ میں نے دیکھا ہے کہ تمام چینلز پر چلنے والے ڈراموں میں لڑکے لڑکی کا چکر، ایک دوسرے کے خلاف سازش اور فتنہ گری وغیرہ دکھائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں یہی برائیاں پروان بھی چڑھ رہی ہیں۔ خیر اس دن بھی میں ٹی وی لائونج میں بیٹھی ہوئی تھی، بہو نے ٹی وی پر چلنے والے ڈرامے کے کلپ کی طرف توجہ دلائی کہ امی یہ دیکھیں یہ متوسط شریف گھر کی لڑکی دکھا رہے ہیں جو چار پانچ لڑکوں کو ایک ساتھ ’’لائن‘‘ مار رہی ہے اور اپنے جال میں پھنسا رہی ہے۔ بہو کی بات سن کر مجھے بے حد افسوس ہوا کہ یہ ڈرامے کی ہیروئن دکھا رہے ہیں اور اس کے یہ ’’لچھن‘‘ دکھا رہے ہیں۔ آج ہمارے ڈراموں کے یہ ’’کردار‘‘ ہماری نئی نسل کے لیے آئیڈیل تصور کیے جاتے ہیں جن کے نقشِ قدم پر چلنا آج کی نئی نسل کی دیرینہ تمنا ہے۔ میں بہت پیچھے چلی گئی۔ اُن دنوں ٹی وی کا ایک ہی چینل ہوتا تھا، جی ہاں PTV، جس پر حسینہ معین کے ایک ڈرامے ’’شہزوری‘‘ نے جھنڈے گاڑے ہوئے تھے، ہر دوسری لڑکی نے اس کا ’’گیٹ اپ‘‘ اپنایا ہوا تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے بلڈنگ میں ایک گھرانا آکر آباد ہوا۔ ماں باپ اور دو بیٹیاں تھیں۔ بڑی بیٹی کا نکاح امریکا میں رہنے والے اس کے کزن سے ہوا تھا، لہٰذا وہ تو رخصت ہوکر امریکہ جابسی، دوسری نے اپنے آپ کو ’’شہزوری‘‘ کے روپ میں ڈھالا ہوا تھا، اپنی مرضی سے تو یونیورسٹی کے لڑکوں کے ساتھ گھومتی پھرتی لیکن جہاں کہیں کسی لڑکے نے چھیڑا، وہ جوتا اتار کر اُسے دے مارتی۔ ہمارے پڑوس میں ہی رہنے والے ایک لڑکے کی اُس نے سب اہلِ محلہ کے سامنے درگت بنائی تھی۔ خیر وہ زمانہ تو تھا ایک PTV کا … کچھ ڈرامے پھر بھی کنٹرول میں تھے اور کچھ اولاد بھی کنٹرول میں تھی۔ لیکن آج ہمارے اردگرد سینکڑوں چینل ہیں جن پر یہ الم غلم بے حیائی کے رنگ عام ہیں۔ کہیں ساس بہو کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بُنتی نظر آتی ہے، تو کہیں بہو ساس کے دانتوں تلے چنے دبانے کے لیے کوشاں دکھائی دے رہی ہے۔ ایک چھت تلے رہنے والے رشتے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے سازشوں کے تانے بانے بُنتے نظر آرہے ہیں۔
دفتروں میں بھی ایسی سازشوں اور فتنہ انگیزی کے جوہر، پھر ’’نت نئے انداز‘‘ میں جرائم کے مظاہر… میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ڈراموں یا میڈیا سے پہلے یہ جرائم اور یہ انداز معاشرے میں بالکل نہیں تھے، تھے لیکن بہت کم، اور ان کی تشہیر نہ تھی۔ پھر والدین اور گھر والوں کی تعلیم و تربیت ایک ڈھال تھی جو ان سب گندگیوں سے بچا رہی تھی۔ اب تو امتحانات میں نقل کے بھی نت نئے طریقے متعارف کرائے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف عوام الناس لطف اندوز ہورہے ہیں، بلکہ وہی انداز اپنائے جارہے ہیں۔ ان ہی ہتھکنڈوں سے نئی نسل اپنی نوک پلک سنوار رہی ہے۔ مزے کی بات (نہایت افسوس سے لکھ رہی ہوں) کہ ایسے موقعوں پر ’’بڑے‘‘ ان کو داد وتحسین بھی دیتے نظر آرہے ہیں۔ آج میں اپنے چاروں طرف میڈیا اور ڈراموں کے اثرات گھروں سے لے کر تعلیم گاہوں، دفتروں اور بازاروں میں دیکھ رہی ہوں۔ گھروں میں سازشوں کے ذریعے مشترکہ خاندانی نظام کے ڈھانچے کو کھوکھلا کردیا گیا ہے۔ کسی زمانے میں مائیں اور بڑی بہنیں اپنی چھوٹی بہنوں کے گھروں کو آباد رکھنے کے لیے مثبت مشوروں سے نوازتی تھیں، جس سے گھروں میں ’’امن‘‘ رہتا تھا، بہت کچھ دیکھتے ہوئے بھی مائیں چشم پوشی کا مظاہرہ کرتیں تاکہ بچیاں خود اپنا گھر آباد کرسکیں۔ میں یہاں اپنی ایک دوست کی کہانی ضرور شیئر کروں گی جسے سن کر یقینا آپ سب بھی گزرا ہوا وہ وقت یاد کرکے تعجب کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی کے وہ ایام یاد کرکے اپنی ماں اور ماں جیسی بڑی بہن پر فخر محسوس کرتی ہیں۔ ’’شادی کے بعد لڑکیوں کو اکثر مختلف مسائل درپیش ہوتے ہیں لیکن ہماری اماں آنکھیں موندے ہوئے تھیں، پوچھتی ہی نہیں تھیں۔ اِدھر اُدھر سے کان میں بات پڑی بھی تو کبھی نہ پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے، کھایا پیا بھی ہے یا نہیں؟ میں سمجھتی کہ شاید سوتیلی بیٹی ہوں اسی لیے نہیں پوچھتیں۔ لیکن یہ بات نہیں تھی۔ بہت بعد میں جا کر احساس ہوا کہ اماں کے اس (مثبت) رویّے نے گھر آباد کرنے میں مدد دی۔‘‘ مجھے میری دوست نے کہا کہ ویسے آج کل کی لڑکیوں کو ماں بہنوں کے مشوروں کی بھی ضرورت نہیں، وہ ٹی وی ڈراموں کے ذریعے ہی خاصی تربیت حاصل کرلیتی ہیں۔ اگر ڈرامے ہماری زندگیوں پر اتنے ہی اثرانداز ہیں تو ان سے مثبت پہلوئوں کو اجاگر کرنے کے لیے بھی کام لیا جا سکتا ہے جو کہ بہت کم لیا جارہا ہے۔ میں صرف ڈراموں ہی کی بات نہیں کررہی، میڈیا پر چلنے والی تمام قسم کی نشریات اور اشتہارات ہماری زندگیوں پر اثرانداز ہورہے ہیں۔ نہ صرف ڈراموں میں بلکہ اشتہارات میں بھی خواتین کا لباس ’’مختصر‘‘ ہوتا جارہا ہے، جس کا اثر عام طور پر خواتین میں نظر آرہا ہے۔ میں جس علاقے میں رہتی ہوں چند سال بلکہ ایک آدھ سال پہلے تک بازاروں میں اتنی ’’بے باکی‘‘ سے مختصر لباس میں خواتین نظر نہیں آتی تھیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اب مڈل کلاس (متوسط طبقے کی) لڑکیاں اور خواتین بھی دوپٹے سے محروم، پینٹ شرٹ میں نظر آتی ہیں، اور ان کا انداز دوسروں کو گناہ کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔ لوگوں کی اپنی طرف اٹھی ہوئی نگاہوں پر ان کی گردنیں مزید اکڑ جاتی ہیں کہ ہاں اب ہم ’’جدید دور‘‘ کی ماڈرن خواتین میں شمار ہوگئی ہیں۔ دن میں سو مرتبہ مختلف چینلز پر نظر آنے والے اشتہار میں ماڈل کے لباس نے (جو اس کے جسم کو مکمل برہنہ کررہا ہے) سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ یہی حال اور انداز برقرار رہے تو وہ وقت دُور نہیں جب یورپ کی طرح ہمارے اردگرد بھی سڑکوں اور پارکوں میں برہنہ مرد و عورتیں زندگی کے مزے لیتے نظر آئیں گے۔ اس قسم کے پروگرام و ڈرامے معاشرے میں نمود و نمائش، بے حیائی اور فتنے پھیلانے کا ذریعہ ہیں، تو دوسری طرف ان عیاشیوں اور آسائشوں سے محروم افراد کا جرائم کی طرف راغب ہونا بھی لازمی امر بن گیا ہے۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے ہم سب کے لیے۔ اس طرف صرف چند لوگوں کا توجہ دنیا ناکافی ہے، یا چند قلم کاروں کا اپنے قلم کو جنبش دینا، یا علمائے کرام کے واعظ و نصیحت ہی کافی نہیں ہیں، بلکہ معاشرے کے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں اور اربابِ حل و عقد کو عملی طور پر اس طرف نہ صرف توجہ دینا و دلانا ہوگی، بلکہ عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے جو اس گندگی کو روک سکیں۔ آج ایک ترکی ڈرامے کو خوب سراہاجا رہا ہے اور یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ڈراما تصور کیا جارہا ہے، کچھ جوان بچوں نے اس بارے میں کہا کہ ’’اس گندگی‘‘ کو دیکھنے سے تو بہتر ہے کہ ہم ترکی ڈرامے کو دیکھیں۔ بچوں کے اس قسم کے جملوں سے بھی اندازہ لگائیں کہ ابھی بھی ہماری نئی نسل میں کچھ شرم و حیا باقی ہے، وہ بھی پاکستانی فتنہ انگیز ڈراموں سے بچنا چاہ رہے ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو بچانے کے لیے اس قسم کے ڈراموں، اشتہارات اور صبح کی نشریات کی روک تھام کرنی ہوگی، اس سلسلے میں سب کو متفق ہونا پڑے گا۔

حصہ