فکرِ مودودی کے اثرات اور مغربی مفکرین

169

مجتبیٰ فاروق/ مرتب: اعظم طارق کوہستانی
دوسرا اور آخری حصہ
مولانا مودودی نے قرآن و حدیث اور اجتہاد میں ترتیب قائم کر کے ان کی اپنی اپنی اہمیت وا فادیت بیان کی نیزمسلمانوں میں فکر اسلامی کے احیاء کی تحریک پیدا کی۔ آج وہ اسی مئوثرنظریہ کی بدولت اہل فکر و دانش میں توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جن میں رواتی علماء بھی شامل ہیں اور عصری دانشگاہوں کے فارغین بھی ۔ مولانا مودودی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کونہ صرف ایک نظام کی شکل میں متشکل کر دیا ہے بلکہ اس کو ایک نظام میں ڈھالنے کے جدید رجحانات کو پیرائیہ اظہاربھی عطا کیا ہے ۔ ولفرڈ کانٹ ول سمتھ (W.C.Smith) کے الفاط میں مولانا مودودی نے اپنے خیالات بڑے تسلسل سے ایک مربوط ومنظم اور پرکشش نظام حیات کی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ:
ـــ’’ مولانا مودودی نے بتد ریج اور عرق ریزی سے موثر اسلامی نظریات کے منظم اور باقاعدہ نظام کی موثرتشکیل کی ہے جو ان کے مقام و مرتبے اور جدوجہد کا اہم حصہ ہے ۔مولانا مودودی ؒعصر حاضر میں اسلام کے متعلق بڑے منظم اور بااصول انداز میں سوچنے والے مفکر ثابت ہوں گے ‘‘۔
مولانا مودودی کا طرز استدلال شاندار ، مضبوط اور پرکشش تھا ۔ان کے طرز استدلال میں کہیں ابہام اور اُلجھاو نہیں ہے ۔منطقی استدلال،قطعیت اور وضاحت ان کی تحریروں میں غالب ہے ۔ انھوں نے وہی طرز استدا ل اختیار کیا جو ان سے پہلے سرسید احمد خانؒ ، علامہ شبلی نعمانیؒ اورمولانا ابو الکلام آزاد ؒنے اپنی متنوع خوبیوں کے ساتھ اختیار کر رکھا تھالیکن مولانا مودودی نے اپنے طرز استد لال کو اور بھی توانا کیا تھا ، اعظم رضوی نے بجا کہا کہ ’’شبلی کے منطقیانہ رنگ نے مناظرہ ،ہیجان اور جوش و خروش کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ مولانا ابوکلام آزاد کے ہاں یہ فلسفیانہ صورت میں ملتی ہے ، جب کہ سرسید کے ہاں کرختگی ہے ، ان کا منطقی استدلال انتہائی سخت ہوتا ہے ۔مولانا مودودی کے ہاںمنطق ، ادق مسائل کا سلسلہ جواب در جواب نہیں، بلکہ عام فہم اور سادہ ہے ، اس لیے ان کی تحریروں میں ہیجانی اور بحرانی کیفیت نہیں ۔‘‘۵؎ مولانا مودودی نے مذکورہ عبقریات کے طرز استدلال کو نہ صرف مزید نکھارا بلکہ توانا بھی کیا ہے ۔اس دبستان کی گویایہ آخری کڑی تھی ۔مولانا مودودی اپنے مضبوط طرز استدل کی وجہ سے عوام و خواص میں کافی مقبول ہیں ۔اس تعلق سے اسکول آف اورنٹل لنگویجز اور امیریکن اسٹیڈیز ان برٹش کے لکچرر اور جرمن اسکالر پٹر ہاٹنگ جنھوں نے مولانا مودودی کی زندگی اور ان کی فکرپر کم وبیش پندرہ سال تحقیق کی ہے، ان کی یہ بات کافی اہمیت کی حامل ہے کہ :۔
’’ـمولانا مودودی نے بیسویں صدی میں دوررس اثرات مرتب کئے ۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ اسلام اپنی خالص ترین اور انتہائی توانا شکل میں دور جدید کی زندگی پر غیر معمولی حد تک اثر انداز ہوا اورمعاصر زندگی کو متاثر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔‘‘
مولانا مودودی نے علمی و فکری ، سیاسی ، تعلیمی ، معاشی ، معاشرتی ، قانونی اور سماجی دائروں میں نہایت وسیع اثرات مرتب کیے ۔ انھوں نے اسلام کو ہر دور کے لئے رہنمائی کا ذریعہ ثابت کیا اور دکھایا کہ کس طرح اسلام پر عمل پیرا ہوکر دین و دنیا کی فلاح حاصل کی جاسکے ۔انھوں نے مدلل انداز میں بتایا کہ اسلام ایک ایسی قوت و طاقت اور نظریہ ہے جو دنیا کی قیادت و سیادت اور رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ انھوں نے اسلام کو جامع نظام حیات اور اقدار کے طور پر پیش کر کے بتایا کہ عصر حاضرمیں اسلامیات کی صورت گری ممکن ہے اور جس کے لیے انھوں نے مربوط خاکہ بھی پیش کیا ۔یہ مربوط خاکہ ایک طرف نظریہ پر مشتمل ہے ار دوسری جانب زندگی کے ہر شعبہ کا احاطہ کرتا ہے۔ ایف۔ سی۔ آر۔ رابن سن (F.C.R.Robinson)لکھتے ہیں کہ :۔
مولانا مودودی نے ان لوگوں پر تنقید بھی کی ہے جو اسلامی ریاست اور اس کے قیام کو ایک خیالی پلائو ((Utopian conceptقرار دیتے تھے ۔ انھوں نے اپنی تحریروں سے اسلام کو زندہ و جاوید مذہب قرار دیا ا ور بتایا کہ دور جدید کے نت نئے نظریات اور مسائل کو اسلام ہی حل کر سکتا ہے ۔
استاد فتحی عثمان لکھتے ہیں :
’’معاصر مسلم دنیا کے تجزیے ،اسلام کے عالمگیر تعلیمات کی وضاحت اور موجودہ حالات سے ان کی مطابقت اور دوسرے معاصر افکار و نظریات کا تقابلی مطالعہ جیسے اہم موضوعات میں ،مولانا مودودی نے بے پناہ ذہانت و صلاحیت اور وسیع علم کا مظاہرہ کیا۔‘‘
مولانا مودودی بے شمار لوگوں کے لیے اسلام مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے اختیار کرنے کاذریعہ ثابت ہوئے ۔ انھوں نے کم و بیش ہر موضوع پر قلم اٹھایا اور ایسی جاندار تحریریں چھوڑیںکہ نہ صرف عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے استفادہ کیابلکہ خواص بھی ان کی فکر انگیزتحریروںسے مستفید ہوئے اور ہورہے ہیں۔رائے جکسن(Roy Jackson (کے بقول آج مولانا مودودی کی فکر اور ان کی تحریروں کو نہ صرف عالم اسلام میں بلکہ مغربی دنیا میں بھی مستقل طورپڑھاجارہاہے اور اسلامی احیاء کے جدید عنوانات پر مسلسل ان کی تحریروں سے استفادہ کیا جارہا ہے ۔ اسی بات پر ہوگ گارڑدارد (Hugh Goddard) کو بھی اتفاق ہے ،وہ لکھتے ہیں کہ
’’یعنی مولانا مودودی بیسویں صدی میں احیائے اسلام کے ایک عظیم قائد اور رہنماء تھے ۔انھوں نے اپنی فکر اور تحریروں سے پورے عالم اسلام پر حیرت انگیز اثر الا۔ ‘‘
ا س سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مغربی اہل علم کتنی گہرائی اور گیرائی سے فکر مودودی کا مطالعہ کررہے ہیںاور ساتھ ہی یہ بھی تجزیہ کرتے ہیںکہ اس فکر سے اب تک مشرق و مغرب پرکتنے اثرات مرتب ہوچکے ہیںاور یہ بھی کہ آنے والے زمانے میں اس فکر سے کیا اثرات پڑنے والے ہیں اور کیا نتائج نکلنے والے ہیں؟ مغربی فکر و تہذیب سے متاثر نئی نسل مختلف ذہنی اشکالات اور تہذیب حاضر کے نت نئے مسائل اور الجھنوںمیں گھری ہوئی تھی اس اہم طبقہ کو مولانا مودودی نے بحسن و خوبی Adressکیا ہے ۔مولانا مودودی کی شخصیت ہی نہیں بلکہ ان کا لٹریچر بھی تاریخ ساز ہے ۔یہ لٹریچر ان کی حیات میں ہی دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کرہر جگہ پہنچ گیا جس سے نمایاں فکری تبدیلیا ں رونماں ہوئیں ۔ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے معبودان باطل اور دین بے زاری سے منہ موڑ کر معبود برحق اور حق پرستی کی راہ اختیا کی۔ ان لوگوں کے دل ودماغ اس جاوداں اور جامع لٹریچر سے نہ صرف مطمئن ہوگئے بلکہ وہ اظہار دین اور اس کی سربلندی کے لئے متحرک بھی ہوگئے۔مولانا مودودی کے لٹریچر نے جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور تہذیب حاضر کے غلام الحاد پرستی اور مغربی فکر و تہذیب کو رہنمائی کا واحد ذریعہ سمجھتے تھے اور اسی فکر و تہذیب میں ان کی زندگیاں ڈھل چکی تھیں۔ مولانا مودودی کے لٹریچر نے انہیں اس الحادی فکر و تہذیب کا باغی بنایا اوروہ اسلامی فکر و تہذیب کے علمبردار بھی بن گئے۔ اس ہمہ جہت لٹریچر سے جو نمایاں اثرات پڑے وہ مصباح الحق فاروقی کی زبان میں یہ ہیں :
معاندین اور دین دشمنوں نے مولانا مودودی کی فکرکو ایک طرف منظم اور مدلل قرار دیا تو دوسری طرف اس فکر کو اپنے لیے خطرہ قرار دیا ۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قیام پاکستان کے دو برس بعد روس کے ایک صحافی پاکستان کے مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے تھے ۔ وہاں انھوں نے مشہور سوشلسٹ شاعر فیض احمد فیض سے انٹریو کیا جب گفتگو سیاسی جماعتوں اور شخصیتوں کے بارے میں ہونے لگی تو صحافی نے سوال کیا کہ یہ مولانا مودودی کون ہیں ؟ یہ سوال سنتے ہی فیض احمد فیض کا چہرہ یکدم سرخ ہوگیا اور ہلکے سے انداز میں دانت پیس کر رک رک کر بولے : He is real menace for us” ” یعنی یہ شخص ہمارے لیے حقیقی خطرہ ہے ۔ مغربی مفکرین کو بھی اس بات پر زبردست فکرلاحق ہے کہ مودودی کی فکر دنیا میں پھل رہی ہے اور خاموشی سے خود مختار اسلامی ریاستوں(Independent Islamic States (کے لیے راہیں ہموار کر رہی ہیں ،اسی لیے وہ اس فکر کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں ، اسلامو فوبیا ، دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فساد سے عالم انسانیت کو اندہیرے میں دھکیل رہے ہیں ۔مولانا مودودی نے فکری دنیا پر عالمگیر اثرات مرتب کئے ہیں ،اس معاملے میں بیسویں صدی میں ان کا کوئی ثانی نظر نہیں آرہا ہے ۔انھوں نے اسلامی احیاء کو نہ صرف مدلل کیا بلکہ اس کو منظم عملی شکل بھی دے دی ۔عالم اسلام میں دورسری تحریکیںبھی فکر ِ مودودی سے متحرک ہوئیں ۔جان ۔ای۔کیمپ اور گارڑن ملٹن(Juan.E.Camp and J.Gorden.Melton)لکھتے ہیں کہ
’’یعنی مولانا مودودی اپنے دور میں پوری طرح سے استعماریت اور قومیت پر مبنی سیاست کے خلاف متحرک تھے ۔ انھوں نے جدید احیائے کے نظریہ کو ایک ایسی شکل دی جو آج بھی اسلامی تحریکو ں کو حوصلہ اور تحریک دے رہی ہے ۔‘‘
اس گفتگوسے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مغربی اہل علم کتنی گہرائی اور گیرائی سے فکر مودودی کا مطالعہ کررہے ہیںاور ساتھ ہی یہ بھی تجزیہ کرتے ہیںکہ اس فکر سے اب تک مشرق و مغرب پرکتنے اثرات مرتب ہوچکے ہیںاور یہ بھی کہ آنے والے زمانے میں اس فکر سے کیا اثرات پڑنے والے ہیں اور کیا نتائج نکلنے والے ہیں؟

ہاتھی کے دانت…!۔

مغرب کی بعض جہانگیر قوموں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا میں تہذیب و انسانیت کی ترقی، درماندہ قوموں کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کی خاطر جنگ کرتی ہیں مگر اس زبانی دعوے کے برعکس ان کاعمل یہ ہے کہ کمزور قوموں کی آزادی پر ڈاکے ڈالتی ہیں اور تہذیب و انسانیت کی ترقی کے بجاے دنیا سے انسانیت اور انسانی شرافت کی تمام خصوصیات کو ایک ایک کر کے مٹا رہی ہیں۔
سید ابولاعلیٰ مودودیؒ

حصہ