ایک ستارہ تھا میں، کہکشاں ہوگیا

149

افشاں نوید
بولیں: میرے میاں نے میری ساس کے انتقال پر پانچ مسجدوں میں قرآن رکھوائے،صفیں بچھوائیں، اور سسر کے انتقال پر سال بھر تیسری جمعرات کو لنگر کراتے تھے۔
ہم سب اپنے مرحومین کے لیے صدقہ جاریہ کا سوچتے ہیں۔
جانے والے سے محبت تو ہوتی ہے لیکن اس کی جدائی کے بعد زیادہ شدت سے احساس ہوتا ہے۔ جی چاہتا ہے کچھ ایسا کریں کہ اُس کی روح خوش ہوجائے، اس کے درجات بلند ہوجائیں۔
جو اس سے زیادہ صاحبِ حیثیت ہوتے ہیں۔۔۔ وہ کنویں کھدواتے ہیں مرحومین کے نام پر، ہینڈ پمپ لگواتے ہیں۔
پچھلے دنوں ایک مدرسے کا دورہ کیا تو مہتمم نے بتایا کہ مدرسے سے متصل مسجد انہوں نے اپنی والدہ کے صدقہ جاریہ کے لیے بنوائی ہے۔
کوئی اور زیادہ مال دار ہوتا ہے تو وہ ہسپتال بنواتا اور چلاتا ہے۔
لوگ یتیم خانے بنواتے اور اسپانسر کرتے ہیں۔
ایمبولینس خرید کر ہسپتالوں کو عطیہ کرتے ہیں۔
اور بھی کئی صورتیں ہوتی ہیں۔
ایک ہمارے جاننے والے ہر ماہ بہن بھائیوں کو اکٹھا کرتے ہیں، کھانا کھلاتے ہیں کہ اماں مرحومہ سب کو اکٹھا دیکھ کر خوش ہوتی تھیں۔
اگر ہم سید منور حسنؒ مرحوم و مغفور کے صدقہ جاریہ کے لیے۔۔۔
ایک لاکھ لوگوں کو راشن خرید کر دے دیں!
کسی یتیم خانے کی بنیاد رکھ دیں!
ان کے نام کی مسجد، مدرسہ بنوا دیں!
کوئی چوک، چوراہا ان کے نام منسوب کردیں!
آپ کا کیا خیال ہے۔۔۔ وہ محسن ہیں ہمارے۔ امتِ مسلمہ کا اثاثہ تھے وہ۔۔۔
بات وژن کی بھی ہوتی ہے، جو شخص شہر بھر کی مسجدوں میں قرآن رکھواتا ہے اُسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اپنے بچوں میں سے کسی کو دین کی خدمت کے لیے وقف کرے۔
کسی کو عالم دین، فقیہ، مفتی بنائے، تاکہ دین کا علم بھی پھیلے۔
حضرت مریمؑ کی والدہ کی طرح کوئی ماں چپکے سے رب سے عہد کرے کہ دنیا میں آنے والے بچے کو تیرے دین کے لیے وقف کروں گی، تاکہ میرے والدین کا اور میرا صدقہ جاریہ بنے۔
ہماری ایک ساتھی کی والدہ وفات پا گئیں،بولیں ”مجھے ان کی موت کے بعد صبر نہ آتا۔ فرش پر لوٹیں لگاتی اور موت کی دعائیں مانگتی۔۔کسی نے بتایا محلے میں درس ہوتا ہے، میں قرآن خوانی سمجھ کر چلی گئی کہ قرآن ختم ہوگا تو ماں کی بخشش کی دعا کرا لوں گی۔
اس درس نے میری زندگی بدل دی، میں نے مدرّسہ کے گھر کا نمبر لیا اور ایک دن ان کے گھر چلی گئی۔اُن سے پوچھا کہ اپنی ماں کا صدقہ جاریہ کیسے بنوں؟وہ بولیں: اللہ نے آپ کو جتنا نوازا ہے آپ اتنا ہی بڑا کام کریں۔۔ ہمارے دینی ادارے ہیں، وہاں کی بچیوں کو اسپانسر کریں۔۔ جو کتب چھپنے سے رہ جاتی ہیں ان میں رقم لگائیں۔۔ آپ خود چل کر جائیں، گاؤں کے لوگوں کو کلمہ نہیں آتا، اُن کو دین سکھائیں۔۔ گاؤں کے لوگوں کو میٹھے پانی اور سڑکوں کی ہی نہیں ہدایت کی بھی ضرورت ہے۔“
آج وہ بیٹے کے ہمراہ نگر نگر جاتی ہیں۔۔
دعوتِ دین کا کام کرتی ہیں، یتیم بچوں کو اسپانسر کرتی ہیں، ہسپتالوں کو سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔۔
ہر ایک سے کہتی ہیں: دعا کریں یہ سب میری ماں کے درجات میں اضافہ کرے۔ کتنا قیمتی ہے اُس فرد کا وجود جو ماں کے صدقہ جاریہ کے لیے خلق کی خدمت میں لگ گیا۔
تدفین کے موقع پر امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی اثاثہ ہے منور حسن صاحب کا۔۔
اثاثہ جات کی حفاظت اور ان کی بڑھوتری کی کوشش کی جاتی ہے۔
کتاب چھپوانا اور بانٹنا آسان کام ہے لیکن فکر کو منتقل کرنا مشکل۔۔
انہوں نے مودودیؒ فکر، جو دراصل اقامتِ دین کی جدوجہد ہے۔۔ اس کے لیے اپنی بہترین صلاحیتیں اور زندگی وقف کردی۔
امر بالمعرف تو ہم میں سے اکثر کرتے ہیں۔ نہی عن المنکر مشکل کام ہے۔
انہوں نے صرف نماز، روزے، نفلی عبادتوں اور صدقات سے اپنے درجات بلند کرنے کی فکر نہیں کی۔۔ انہوں نے وقت کے فرعونوں، ہامانوں، نمرودوں کو للکارا۔
”گو امریکا گو“ کا نعرہ وہ اتنی شدت سے لگاتے کہ وہائٹ ہاؤس تک اس کی گونج سنائی دیتی۔
اہالیانِ کراچی نے 25 برس جس طرح حبس بے جا میں گزارے ہیں ایم کیو ایم کے ہاتھوں، وہ تاریخ کا بدترین دور ہے۔ ایسی گھٹن، ایسا حبس تھا کہ لوگ رورو کر لُو کی دعا مانگتے تھے۔ ان فاشسٹوں کے خلاف زبان کھولنے والے کی زبان کاٹ دی جاتی تھی۔
بوری بند تحفے دے کر شہریوں کی زبان بندی کی جاتی تھی۔
سیدی کو بھی خیر خواہ مشورے دیتے کہ ہلکی بات کریں، آپ کی جان بہت قیمتی ہے، ان بدبختوں سے کچھ بھی بعید نہیں۔
ان کا تو ایمان تھا کہ
یہ جان تو ایک دن جانی ہے پھر جان کے کیسے لالے ہیں۔۔۔
منور حسن اس دور کا ایک اہم حوالہ ہیں۔ وہ دبنے، جھکنے، مداہنت کے لیے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ وہ میڈیا پر، جلسوں میں ایم کیو ایم کو للکارتے تھے، ان کے مظالم بیان کرتے تھے۔ ان کا ساتھ دینے والوں کو ملامت کرتے اور راہِ راست پر آنے کی تلقین کرتے۔
بہی خواہوں نے مشورہ دیا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، نقل وحرکت محدود کردیں، سیکورٹی بڑھا دیں۔ ان کے سر میں اور ہی سودا سمایا ہوا تھا۔
وہ کراچی میں ہوتے تو نکاح کی تقریبات میں بھی ہوتے، جنازوں میں بھی شریک ہوتے۔ کوئی ہٹو بچو یا اضافی سیکورٹی کسی کو نظر نہ آتی۔
کہنے والے نے کہا: یہ اس سیاسی نسل کی آخری نشانیاں ہیں جو بنی اسرائیل کے بارہویں قبیلے کی طرح کھو گئی ہے۔
بلاشبہ دنیاوی مال واسباب سے بےنیازی کے باوجود وہ نظریاتی دولت اور امارت سے رؤسا میں شمار ہوتے تھے۔
ان کی زندگی ایک طرف کھلی کتاب تھی تو دوسری طرف سربستہ راز۔۔
کچھ کتابیں جتنی بار پڑھیں کوئی نہ کوئی راز آشکار ہوتا ہے۔۔
کچھ لوگ اپنی انفرادیت کو اجتماعیت میں یوں گم کردیتے ہیں کہ ان کی کوئی رائے ہی نہیں رہتی۔
کچھ لوگ اپنی رائے پر اتنا اصرار کرتے ہیں کہ انفرادیت کے خول میں قید ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے خود کو اجتماعیت کے حوالے کردیا تھا مگر دلیل کا جواب دلیل سے دیتے اور طلب کرتے تھے۔
وہ فیصلوں سے ٹھوس اختلاف بھی کرتے تھے، مگر انہوں نے اپنے اختلافات کو کبھی میڈیا کی چوپالوں کا موضوع نہ بننے دیا۔
ذاتی زندگی میں وہ ایسے نظریات کو داخل نہیں ہونے دیتے تھے جو انسانوں میں تفریق پیدا کریں۔
وہ سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی انتہائی شائستگی اور رواداری برتتے۔
وہ مولانا مودودیؒ کی نظریاتی سپاہ کے پرچم بردار تھے۔ مشنری زندگی گزار گئے۔
دنیا جانتی ہے کہ عیسائی مشنریز عیسائیت کے فروغ کے لیے جس قدر مالی، انسانی وسائل خرچ کرتی ہیں مسلمان اس کا دسواں حصہ بھی نہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہمارا مال، ہماری صلاحیت، ہمارے اوقات کتنے اپنی ذاتی تسکین کے لیے خرچ ہوتے ہیں اور کتنے مشن کے فروغ کے لیے
اگر ان کی وفات تحریک کی رگوں میں حیات بن کر اترتی ہے
ہم کچھ کھو کر کچھ پانے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں
خود اپنے نظریے سے اپنا تعلق مضبوط کرتے ہیں۔ اس فکر، اس لٹریچر کی طرف پلٹتے ہیں
عہد کرتے ہیں کہ
اس اثاثے کی حفاظت کے لیے
اپنے سے بہتر افراد اس مشن کے حوالے کر کے جائیں گے۔۔۔
سیدیؒ لرزتی ٹانگوں اور کانپتے لہجے میں بھی اُس وقت تک اپنے مشن میں کھپے رہے جب تک ان کے اعصاب نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑ دیا۔۔۔
یہی تو لکھا ہے دیوار پر کہ۔۔۔۔

یہ جان تو اک دن جانی ہے پھر جان کے کیسے لالے ہیں
گر ساتھی منزل پانی ہے تو منزل آخر منزل ہے

حصہ