کراچی۔۔۔ لاوا پک رہا ہے

787

کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں کو سابق وزیر اعظم ذوا لفقار علی بھٹو کی دور رس تعصبی نگاہوں نے اچھی طرح جانچ کر یہاں کی تعلیم یافتہ آبادی کو اپنا غلام بنانے کے لیے ‘ کوٹہ سسٹم ‘ جیسے کالے قانون کی بھینٹ چڑھادیا۔ یہ 1970ء کی بات ہے کہ جب سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں داخلہ پالیسی کو سندھ کے لیے مخصوص ‘ کوٹہ سسٹم ‘ کا پابند بنایا گیا ۔
دنیا بھر میں نو آبادیاتی نظام دم توڑ چکا تھا مگر پاکستان کے صرف ایک صوبے یعنی صوبہ سندھ میں اس کالے قانون کو نافذ کروادیا گیا۔
اس تعصبی فیصلے کے اثرات فوری طور پر تو نہیں مگر آج چالیس سال گزر جانے کے بعد انتہائی بھیانک شکل میں کراچی اور سندھ کی اردو زبان بولنے والی آبادی کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔
ماضی میں کراچی کے تعلیم یافتہ نوجوان اس ملک کا قیمتی سرمایہ تھے ، ظاہر ہے اسی تعلیم یافتہ ہونے کی بنیاد پر انہیں اچھی سرکاری ملازمتوں میں بھی ترجیح د ی جاتی تھی اور اسی بنیاد پر کراچی دیگر شہروں کے مقابلے پر اقتصادی طور پر زیادہ خوشحال تھا –۔
شاید یہی وہ کانٹا تھا جو بھٹو صاحب کی آنکھ میں کھٹک رہا تھا اسی کو بنیاد بنا کر کالے قانون کو یہاں تھوپا گیا ، اگرچہ نافذ کرتے ہوئے بہت خوش کن الفاظ میں اس کی توجیہات پیش کی جاتی رہیں لیکن جاننے والے جانتے تھے کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں ‘ایکوٹی ‘ کے نام پر جس کالے قانون کا ہاتھ تھا، اس کی دوسری شکل ‘ کوٹہ سسٹم ‘ تھی –۔
مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں کہنے والے کہتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمان اور اس کے چھ نکات کا ہاتھ تھا۔مگر سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے محب وطن پاکستانی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ چھ نکات ترتیب پانے سے بہت پہلے ہی ایوب خان کی آمرانہ سوچ نے زیادہ آبادی والے مشرقی پاکستان پر ایکوٹی قانون لاگو کردیا تھا ، جس کی ضرب ایک طرف مشرقی پاکستان کی اقتصادیا ت پر پڑرہی تھی تو دوسری جانب ووٹوں کی اور قومی و صوبائی سیٹوں کی تقسیم پر – یہ سوچ آخر تھی کیا ؟
ایک سطر میں اس کا جواب بھی دیکھ لیجیے۔
’’ آبادی میں کم ہونے کے باوجود فوج اور بیورو کریسی اور پالیسی سازی میں مغربی پاکستان بالادست ہے‘‘۔
اس صریح ظلم و زیادتی پر شیخ مجیب الرحمن نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اپنے چھ نکات پیش کیے – 1970ء میں سیاسی جوڑ توڑ اور اسٹیبلشمنٹ کی گود میں پروان چڑھ کر اقتدار میں آنے والے سندھ سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ اور پنجاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں کے میرٹ پر شب خون مارتے ہوئے ‘ کوٹہ سسٹم ‘ کو متعا رف کروایا – اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور بھٹو صاحب نے کہا کہ ‘کیونکہ مہاجر نوجوانوں سندھی نوجوانوں سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور سندھی نوجوان میرٹ پر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ چناں چہ دس پندرہ یا بیس سال کے لیے سندھی نوجوانوں کو ملازمتوں میں کوٹا سسٹم کا تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے ‘۔
راوی چین ہی چین لکھتا اور قسمت کا لکھا سمجھ کر مان لیتا ، اگر اس قانون میں کوئی نیک نیتی کا دخل ہوتا ، اور اسے صرف دس بیس سال کے لیے ہی لاگو کیا جاتا – مگر بدقسمتی اور ‘ کچھ اپنوں ‘ کی مہربانی سے ایسا ممکن نہ ہوسکا اور آج چالیس سال گزرنے کے باوجود یہ کالک ہمارے ماتھے پر اس طرح لگائی جاچکی ہے کہ اس سے جان چھڑانا ممکن دکھائی نہیں دیتا –۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کہ بیس سال گزرنے کے بعد 1990 میں کوٹا سسٹم کا قلاوہ کراچی والوں کی گردن سے اتار دیا جاتا مگر کوٹا سسٹم ختم کرنے کے بجائے اس کی مدت بڑھادی۔
اب آئیے اس کے بھیانک اثرات کی جانب کہ جس نے کراچی کو ایک آتش فشاں بنا رکھا ہے ، لاوا پک چکا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے – اگر فوری طور پر سیاسی دانشمندی کا مظا ہرہ نہ کیا گیا تو پھر خاکم بدہن ، میرے منہ میں خاک، یہاں بھی چھ نکات تیار کیے جانے والے ہیں۔!
کراچی کی ڈھائی کروڑ کی آبادی کو جس دیدہ دلیری اور مکاری کے ساتھ ڈیڑھ کروڑ کے لگ بگھ یعنی پنجاب کے شہر لاہور کی آبادی کے برابر دکھایا گیا – یہ خود ایک انتہائی پر تعصب عمل ہے جس کی بنیاد پر براہ راست نوکری ، پانی کے وسائل کی تقسیم اور این ایف سی میں حصے پر ضرب کاری پڑ رہی ہے – یہاں ملنے والے تمام فنڈز اور سرکاری نوکریاں اس سے ہر طور متاثر ہوں گی۔اور ہو رہی ہیں۔
آج کراچی میں اگر سرکاری نوکریوں میں یہاں کی مقامی آبادی کو دیکھا جائے تو وہ نہ ہونے کے برابر ہے ، براہ را ست کراچی کے انتظامی معا ملات سے متعلق اداروں میں بھی کراچی کے لوگ شامل نہیں اور جو تھے ان کی جگہ غیر مقامی افراد لے چکے ہیں ، کے ڈی اے کا ادارہ جو کہ خاص طور پر کراچی کے لیے تھا کہ جس کی بنیاد یہاں کے مقامی افراد نے رکھی تھی مگر آج چالیس سال کے بعد صرف چار سینئر افراد کا تعلق کراچی سے ہے جو اس سال اور آئندہ سال ریٹائر ہوجائیں گے ، اس سے پہلے گزشتہ کئی سالوں نے اندورن سندھ سے آنے والے افراد نے خالی ہوجانے والی نشستوں کو پر کرلیا ہے –۔
محکمہ انصاف میں چراغ لیکر ڈھونڈھنے سے بھی کوئی مقامی فرد نہیں ملتا۔ مختار کار سے لیکر چپراسی ، جج ، خدمت گار سب ایک مخصوص زبان بولنے والے – اس سے بڑی زیادتی اور نہ انصافی کیا ہوگی کہ کراچی شہر میں اردو زبان کا حامل مقامی فرد ڈپٹی کمشنر اور کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر تک نہیں ، پولیس کے ادارے میں پنجاب اور سندھ کے افسران نے ایک آسامی نہیں چھوڑی کہ مقامی آبادی کو سپاہی کی نشست بھی مل سکے –۔
کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں کوئی چپڑاسی بھی اگر یہاں کا مل جائے تو غنیمت جانیے۔ افسران سے لیکر ان کے تمام ماتحت ایک مخصوص زبان بولنے وا لوں پر مشتمل ہے –یہی حال سول سروسز میں ہے جہاں کراچی کے ڈومیسائل پر پنجاب اور سندھ کے افراد نے قبضہ جمایا ہوا ہے –۔
اسٹیبلشمنٹ یہ سمجھ رہی ہے کہ ان معاملات کا جو چالیس سالوں سے جاری ہیں کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا ہوگا ؟ یہ شائد وہی بھول ہے جو مشرقی پاکستان کے سانحے کے وقت بھی ہوچکی ہے – لاوا پک رہا ہے۔ بلکہ پک چکا ہے – یہاں کا تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے نوکری کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے اور مجبور ہوکر ڈلیوری بوائے بن کر جب پیزا سپلائی کرتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ اس کی ‘ نوکری کا حق ‘ کس نے ما را ہے ؟
اوبر اور کرائے کی ٹیکسیاں چلاتے ہوئے نوجوان کوٹا سسٹم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
ایک گریجویٹ نوجوان جب رکشہ چلا کر سواری اٹھاتا ہے وہ دیکھ رہا ہے کہ کون ہے جو اندرون سندھ سے آکر سرکاری گاڑیوں میں کراچی شہر میںدندنا تا پھرتا ہے۔؟
یہاں کی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر بیٹھنے والے دراصل کس کی زبان بول رہے ہیں ؟ اور کن کے اشاروں پر کراچی کے حقوق کے نام پر ان کی قسمتوں کا فیصلہ کر رہے ہیں ؟
بدقسمتی سے یہاں کے حقوق کی ترجمان متحدہ قومی مومنٹ جو کہ اسی لیے وجود میں آئی تھی کہ کوٹا سسٹم کی بنیاد پر ہونے والی نا انصافی کو ختم کرے گی ، مگر بدقسمتی سے یہ جماعت گزشتہ تیس سالوں سے کراچی کی قسمت کے فیصلے کراچی کے خلاف کرنے والوں کا ساتھ دیتی چلی آئی ہے –۔
پاکستان پیپلز پارٹی سے کیا گلا کیا جائے کہ یہی وہ جماعت ہے جس نے کوٹا سسٹم کے کالے قانون کو متعا رف کروایا۔
اہل دانش اس بات کو محسوس کر رہے ہیں کہ اگر اب بھی یہاں کی سیاسی جماعتیں مصلحت کوشی کا شکار رہ کر سچائی کی ترجمان نہیں بنیں گی اور تعصب پر مبنی کالے قانون کو ختم کرنے کی بات نہیں کریں گی تو ڈر ہے کہ یہ نا انصافی اور جبر پر مبنی نظام کسی بھی دن بہت بڑے آتش فشاں کی صورت میں نہ صرف ہم کو بلکہ تمام نہ عاقبت اندیش سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اور لسانی آگ بھڑکا کر اپنی دکانیں چلانے والوں سمیت سب کو جلا کر بھسم کردے گا۔

حصہ