ڈاکٹر آصف فرّخی کی رحلت پراہلِ ادب کے تاثرات

134

سیمان کی ڈائری
حصّہ سوئم

کشور ناہید

آصف فرخی سے میری ملاقات اُن کے ابّا کے ذریعے ہوئی تھی۔اُس وقت وہ کالج میں تھااور اُسے احساس تھا کہ وہ کچھ لکھ سکتا ہے ۔کینرڈ ایک بہت بڑا ادیب تھا سو،آصف نے اس کے ناول کا ترجمہ کیا جو مغل شہزادوں کے حوالے سے تھا اور وہ بہت مقبول ہوا۔اس کے بعد پھر چل سو چل …جب میں اپنے آپریشن کے سلسلے میں آغاخان اسپتال میں داخل تھی۔آصف نے نیا نیا اسپتال جوائن کیا تھا۔میرے آپریشن کو وہ مانیٹر کررہاتھا۔میری پوری فیملی اسپتال میںموجود تھی ۔ آصف ہر گھنٹے بعد آکر میرے آپریشن سے متعلق انھیں بتاتا تھا۔کیوں کہ میرا آپریشن آٹھ گھنٹوں پر مشتمل تھا۔پھر ہماری دوستی ہوگئی۔میں اُسے اہم لکھاری سمجھتی تھی۔مشورے بھی ہم ایک دوسرے سے کرتے تھے ۔انتظار حسین صاحب تو بالکل آصف کے مرید ہو گئے تھے۔ وہ کہتے تھے جو میں کہتا ہوں وہ یہ کردیتا تھا۔اُس زمانے میں آصف فرخی نے انتظار حسین صاحب کے انداز میں کہانیاں لکھیں۔میں نے اُسے سمجھایا کہ تم انتظار صاحب کے انداز میں مت لکھا کرو ،اُس نے میری بات مان لی۔شروع شروع میں اُس نے شاعری کی کوشش کی اُس سے کہا کہ ایک طرف رہو۔آصف نے افسانے لکھنا شروع کیے کیوں کہ اُس کا مزاج ہی اور تھا۔آصف نے کراچی کے حالات پر پورا ناولٹ لکھا ۔ اُس زمانے میں ایک سیاسی جماعت کی وجہ سے شہر پر مصیبت پڑی ہوئی تھی۔آصف کے لیے ایک چیز جو مشکل بھی تھی اور آسان بھی وہ یہ کہ بچیوں کو پڑھانا۔اُنھیں لمس میں پڑھایا اور پھر اُن کی مرضی سے اُن کی شادیاں کیں جو اب ملک سے باہر ہیں۔ماں کی طرح اپنی بچیوں کو بہت یاد کرتا تھا۔ مجھ سے کہتا تھا کہ پتا نہیں اِس (کورونا)وبا کے زمانے میں مَیں اپنی بچیوں سے کبھی مل بھی سکوں گا یا نہیں۔اُس کی کتابوں کا کوئی اندازہ کررہا تھا کہ ساٹھ کے قریب اُس کی کتابیں ہیں،تراجم الگ ہیں۔کچھ چیزوں کو اُس نے دوبارہ اٹھایا۔مثلاًممتاز شیریں اور عسکری صاحب کو لوگ تقریباً بھول چکے تھے،اُن کو سامنے لایا۔آج انڈیا میں اُس کی کتابوں کے تراجم شائع ہو رہے ہیں۔آصف نوکری کرتا تھا، پرچہ نکالتا تھا، کتابیں شائع کرتا تھا ۔ جو بیمار ہوتے تھے اُن کی خبر گیری کو اُن کے ہاں جایا کرتا تھا ۔سب کے ساتھ رابطے میں رہتا ۔بہت کام کرتا تھاحالانکہ میں خود بہت کام کرتی ہوں لیکن میں اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیںجتنا وہ کام کرتا تھا۔ادب میں کام کرنے والے کی حیات لمبی ہوتی ہے اور زندگی میں شاید کم ہوتی ہے۔ہم شیلے وغیرہ کو دیکھیں تو وہ بھی بتیس ،تینتیس برس کی عمر میں مرگئے تھے۔مارکیز کا بھی چھوٹی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔سب سے بڑی بات جو اُس کی وہ آج تک نہیں بھولے گی وہ یہ کہ آصف اور شاہ محمدمری ہمیں بہت پرموٹ کرتے تھے۔چاہے زہرہ آپا، اسدمحمد خان،مسعود اشعر کو یا مجھے کہے ۔اُس کا کہا ہم ٹال نہیں سکتے تھے۔آخری روز جب ہماری بات ہوئی تو میں نے اسے جارج فلائیڈ کے حوالے سے نظم لکھی تھی وہ سنائی۔نظم سن کراُس نے کہا کہ یہ بھی میں شامل کروں گا۔ میں نے کہا کورونا کے شمارے میں؟؟ کہنے لگا نہیں نہیں میں اِس نظم کی جگہ بنا لوں گا، آپ مجھے شام تک بھیج دیجیے گا۔اب شام تک وہ خود نہیں تھا۔ابھی تک اعتبار اس لیے نہیں آرہاکہ زندگی پر توتقریباً اعتبار نہیں تھا۔موت پر تو یہ اعتبار تھا کہ کچھ کہہ کے آتی ہے، کچھ سمجھ کے آتی ہے ۔اُس نے تو ایسے وار کیا کہ جو پرانی بات تھی خلاپیدا ہونے کی اُس کے جانے سے ہم سب ادھورے سے رہ گئے ہیں۔

خالد معین

آصف فرخی عہد ِ حاضر میں جدید شعرو ادب کی بلند قامت شخصیات میں سے ایک تھے۔اُن کی اچانک موت سے یقینا ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے اور یہ خلا کئی سمتوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔اس کا بڑا سبب آصف فرخی کا ہمہ جہتی ادبی کردار ہے۔وہ فکشن سے عشق کرتے تھے اور انہوں نے کئی افسانوی مجموعے تخلیق کیے۔بہت شان دار تراجم کیے۔تنقید لکھی،دنیا زاد نامی منفرد ادبی جریدہ نکالا اور شہر زاد کے نام سے اپنا پبلشنگ ادارہ بھی بنایا۔پھر کراچی میں انڈیا کی طرز پر اردو کانفرنسوں کی داغ بیل ڈالی جو خوب کام یابی سے پھلی پھولی۔ویسے دیکھا جائے تو آ صف فرخی نے بہت ابتدا ہی سے اپنے مغربی اور مشرقی مطالعے اور سنجیدہ ادبی کاوشوں کے سبب پوری ادبی دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا اور پھر اُن کا یہ سفر مزید کئی جہتوں میں غیر معمولی کام یابیوں کے ساتھ جاری بھی رہا لیکن وہ یوں ایک دن اچانک اُس سمت چلے جائیں گے،جہاں سے لوٹنا کسی کے اختیار میں نہیں ہوتا۔تاہم اُن کی منفرد ہمہ جہتی تخلیقات اور بھرپور ادبی خدمات کی گونج ایک زمانے تک ہم عصر شعروادب میں سنائی دے گی۔

ڈاکٹرروش ندیم

آصف فرخی کتنے بڑے ادیب تھے، ان کی تخلیقی خدمات کتنی شاندار تھیں اور انہوں نے پاکستانی اردو ادب میں کتنا بڑا خلا پیدا کیا؟ اس حوالے سے ہمارے فی الوقت فوری اظہارات ان جذبات سے تعلق رکھتے ہیں جو ان کی اچانک موت کے صدمے نے پیدا کیے ہیں۔ شاید آصف فرخی کے حوالے سے ہم ایسی کسی خبر کے لیے تیار ہی نہ تھے اور اسی لیے ہم اپنے رد عمل کو زیادہ کمپوزڈ نہیں بنا پا رہے۔ لیکن ایک بات ضرور طے ہے کہ آصف فرخی نے بہ طور ایک منظم ادیب و فعال مدیر اپنی گوناگوں تحریروں، جابجا ان کی اشاعت اور بروقت ادیبانہ ردعمل کے ساتھ ساتھ گذشتہ کچھ سالوں سے شہر بہ شہر اوکسفرڈ لٹریری فیسٹول کے نئے رجحان ساز اقدام کے ذریعے اپنی نمایاں موجودگی اور اہمیت کے احساس کو پاکستان بھر میں اجاگر کیا تھا۔ ان کی مدیرانہ وانتظامی صلاحیتوں، ہمہ جہت فعالیت اور پاکستان بھر کے اہم ادیبوں کے ساتھ روابط نے اسے مزید جلا بخشی اور ایک ادبی مرکزنما بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بہ طور ادیب ان کی تخلیقی خدمات کا معیار، ان کا تصورِ ادب، ان کی تنقیدی اپچ، ان کے نظریات اور خاص کر افسانے میں ان کے مقام و کردار کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔ لیکن ان کی اچانک وفات نے ان کی شخصیت کی ہمہ گیری کو پاکستان کے نمایاں اردو حلقوں میں جس طرح سے اجاگر کیا ہے وہ نہایت توجہ طلب ہے۔

ڈاکٹر افتخار شفیع

ڈاکٹرآصف فرخی ایک علمی وادبی گھرانے کے فرد تھے،یہ ہمہ خانہ آفتاب است کی مثال ہے۔ انھوں نے مختصر عرصے میں اپنی علاحدہ یہچان بنائی۔آصف فرخی نے مترجم،ناشر اور مدیر کی حیثیت سے اردو زبان وادب میں نئی روایات کی بنیادرکھی۔اردوزبان وادب کو جدید رجحانات کا رفتار پیما بنادیا۔ابھی توان کے والدگرامی ڈاکٹراسلم فرخی کی وفات کاغم تازہ تھا کہ وہ بھی راہی ملکِ عدم ہوئے۔ایسی شخصیات خاموشی سے شخصیات میں سرایت کرتی ہیں اوراچانک مفارقت کاصدمہ دے جاتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ شہرزاد اوردنیا زاد کی صورت میں آصف فرخی مرحوم کی روشن کی ہوئی شمعیں فروزاں رہیں۔

قاسم یعقوب

آصف فرخی کا افسانہ کسی بھی معاصر فرنٹ لائن افسانہ نگار سے کم نہیں۔ ترجمہ نگاری میں وہ 4 بڑے معاصر مترجمین عمر میمن،شاہد حمید، اجمل کمال، سلیم الرحمن کے ساتھ آئیں گے۔ دنیا زاد اردو کی ادبی تاریخ کے کسی بھی ادبی رسالے کے معیار سے کم تر نہیں بلکہ بعض جہتوں میں آگے ہے۔ خاص کر مغربی فکشن کے مباحث میں اس کا ایک بھی ثانی نہیں۔ سفرنامہ نگاری میں ان کا مقام کسی طرح بھی کم نہیں۔ ان کی تنقید میں مکالمہ بھی اور بے پناہ مباحث کی کھلی کھڑکیاں بھی۔ 3 کتابیں کسی طرح بھی اہم معاصر تنقیدی مباحث سے خالی نہیں۔ ”عالم ایجاد” کو اہم کتابوں سے نکال نہیں سکتے ۔شخصی حوالے سے وہ (فیض طرز کی) محض بڑی شخصیت نہیں ورکر تھے۔میلے، منتظم یا شہرزاد وغیرہ تو میں ورکری میں رکھ رہا ہوں ۔ہوتا یہ ہے کہ بعض اوقات شخص خود اپنے آپ کواسٹیبلش نہیں کر رہا ہوتا۔ سلیم احمد کی مثال سامنے کی ہے۔ لوگ انھیں شاعر جانتے ہی نہیں مگر ناقد اور سمجھ دار ادیب کو علم ہونا چاہئے کہ سلیم احمد نے بہ طور ناقد خود کو اسٹیبلش کرنے میں زور لگایا، بہ طور شاعر نہیں ۔ سلیم احمد شاندار اور بڑے شاعر ہیں۔آفتاب اقبال شمیم خود کو اسٹیبلش نہیں کروا پائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بڑے شاعر نہیں۔ آصف فرخی کو عام لوگوں نے جاننا ہے کہ افسانہ نگار، مترجم، ناقد، مدیر یا سفر نامہ نگار بڑے تھے یا نہیں مگر ہم ناقدین کو پورا علم ہونا چاہئے کہ ان کی ادبی اہمیت کیا ہے۔

خلیق الرحمان

ڈاکٹر آصف فرخی کی وفات معاصر اردو ادب کے لیے بڑا سانحہ ہے۔ وہ اردو ادب کے لیے کئی محاذوں پر کام کر رہے تھے۔ وہ ایک ذمہ دار ادیب تھے۔ وہ جہاں بہت عمدہ افسانہ نگار تھے، وہیں ایک تنقید نگار، محقّق اور مترجم بھی تھے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ادبی مدیر کے حوالے سے زندگی کا ایک بڑا حصہ ادیبوں کی نگارشات کی ترویج اور ادب کے فروغ کے لیے بھی کام کیا۔ بلا شبہ آصف فرخی اپنی ذات میں ایک ادراہ تھے۔ آکسفورڈ فیسٹول جیسی کانفرس کا آغاز کر کے انہوں نے عملی اور سماجی سطح پر بھی ادب کی آبیاری کا فریضہ بھی خوب نبھایا۔ انہوں نے مختصر سہی مگر بھر پور زندگی گزاری۔ وہ محبتوں کے پیام بر تھے۔ میں نے انہیں بار ہا منشایاد صاحب کے گھر عشائیوں اورمیٹننگز میں قریب سے دیکھا اوربہ حیثت ادیب ہمیشہ ان پر رشک کیا۔ ان کا کام کثیر بھی ہے اور معیاری بھی۔ عالمی ادب سے اردو دانوں کو مستفید کیا اور اس پائے کے تراجم کیے کہ بڑے بڑے ترجمہ نگار رشک کریں۔ کام کرتے رہنے کا انہیں شدید لپکا تھا اگر زندگی مہلت دیتی تو ابھی ناجانے وہ کتنا کچھ اور لکھ جاتے۔اپنی وفات سے قبل انھیں ایک اجلاس کی آن لائن صدارت کرنا تھی۔ انہوں نے وعدہ بھی کر لیا تھا کہ ان کی طبعیت بہت بگڑ گئی۔ میں نے یاد دہانی کی غرض سے فون کیا تو کہنے لگے بھیا طبعیت اچھی نہیں۔ ہم نے چند منٹ بات کی۔ انہوں نے بیماری کی تفصیل سے آگاہ کیا اور پروگرام سے معذرت چاہی۔ ہماری بدقسمتی کہ اس اجلاس کی صدارت وہ نہ کر سکے زندگی اور صحت نے مہلت ہی نہ دی۔ اللہ اُن کے درجات بلند کرے۔ کیا خوب صورت انسان اور کیسے سجیلے ادیب تھے۔

خرم سہیل

رواں سال میں ادبی و علمی شخصیات کی رحلت سے شہرِ کراچی سمیت ملک بھر میں ادبی محفلیں ماند پڑچکی ہیں۔ ان جانے والوں کی یاد میں پاکستان کا ادبی منظر نامہ سوگوار ہے۔ڈاکٹر آصف فرخی کے والد ڈاکٹر اسلم فرخی ممتاز ادبی شخصیت اور مدرس تھے۔ آپ کی والدہ ڈپٹی نذیر احمد کی پڑپوتی اور شاہد احمد دہلوی کی بھتیجی ہیں۔ آباء کا تعلق ہندوستان کے شہر فرخ آباد سے تھا، اسی مناسبت سے والد نے اور پھر آپ نے بھی فرخی کا صیغہ نام کے ساتھ استعمال کیا۔شہرِ کراچی میں ان کے خوابوں کی تعبیر یہ ادبی میلے تھے، جہاں قاری اور ادیب کے مابین مکالمہ ہو اور ملاقاتیں بھی، جنہیں ادبی دنیا میں یاد رکھا جائے گا۔ساری زندگی انگریزی اور اردو زبان میں لکھتے اور پڑھتے رہے۔ دنیا بھر میں کہاں کیسا فکشن لکھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں رہتے ہوئے اُس سے باخبر رہتے اور ادبی دوستوں کو بھی مطلع کرتے۔ دونوں زبانوں پر یکساں مہارت بھی اُن کا ایک ہنر تھا، اب جو ہمارے معاشرے سے ناپید ہو رہا ہے۔ڈاکٹر آصف فرخی کی ادبی جہتیں تو بہت ساری ہیں، لیکن جن شعبوں میں ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں، اُن میں افسانہ نگاری، ترجمہ نویسی اور ادارت سازی شامل ہیں۔ انہوں نے بہ طورِ افسانہ نگار جو کچھ لکھا، ان کے افسانوں کے 7 مجموعے شائع ہوئے۔ادبی تنقید کے تناظر میں لکھے گئے مضامین کی 2 کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں جبکہ تراجم کے کئی مجموعے ان کے علاوہ ہیں۔ ایک ادبی رسالہ ’دنیا زاد’بھی جاری کیا، جس کے ذریعے عالمی اور ملکی ادب کے فروغ میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے تحت شاہد احمد دہلوی کے مشہور رسالے ’ساقی’کا جاپان نمبر شائع ہوا تو کراچی میں قائم جاپانی قونصل خانے میں اس رسالے کی تقریب میں بھی وہ شریک ہوئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسی فورم کے تحت کئی بار میری درخواست پر مطالعہ کے سیشن میں شریک ہوئے اور اپنی دھیمی لیکن مدلل گفتگو سے ہمیشہ اپنا اسیر کیا۔پاکستان میں افسانہ نگاری کے میدان میں ڈاکٹر آصف فرخی کی کہانیوں کو توجہ ملے گی کیونکہ انہوں نے روز مرہ زندگی کو کہانیوں کے روپ میں پیش کیا۔ اُن کی کہانیوں میں ہمارے سماج کے لب و لہجے کی گونج ہے اور اداسی بھی، جس سے وہ تمام عمر پیچھا نہ چھڑا سکے۔

حصہ