پروفیسر منظر ایوبی بھی جہان فانی سے رخصت ہوئے

174

نثار احمد نثار

جون کا مہینہ اس حوالے سے نہایت تکلیف دہ ہے کہ اس ماہ اردو ادب کی گراں قدر شخصیات دنیا سے رخصت ہوئیں۔ گزشتہ ہفتے ہم سرور جاوید کے جنازے میں شریک ہوئے تھے اور ٹھیک ایک ہفتے بعد پروفیسر منظر ایوبی کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ پروفیسر منظر ایوبی اردو دنیا کے اُن معتبر اور مستند قلم کاروں کی صف میں شامل تھے کہ جن سے اردو زبان و ادب قائم ہے۔ وہ شاعر‘ نثر نگار‘ ڈراما نویس‘ صدا کار‘ کالم نگار‘ نقادِ سخن کے ساتھ ساتھ ایک ممتاز ماہر تعلیم تھے۔ میری اُن سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ کورنگی گورنمنٹ کالج کے پرنسپل تھے ان کے کالج میں بورڈ کا سینٹر پڑا تھا میں اپنے خسر محترم شاہدالوری کے توسط سے ان کے کالج میں امتحانی ڈیوٹی (Invigilator) کے لیے گیا تھا۔ انہوں نے مجھے ایک کمرے میں بھیج دیا ابھی امتحان شروع ہوئے آدھا گھنٹا ہوا تھا کہ ایک لڑکے نے نقل شروع کر دی میں نے اسے سمجھایا مگر وہ نہ مانا۔ ابھی میں اس لڑکے سے الجھ رہا تھا کہ بورڈ کی ٹیم کمرے میں داخل ہوئی اور انہوں نے اس لڑکے کا کیس بنا کر تین سال کے لیے نااہل کر دیا جب پرچہ ختم ہوا‘ میں کالج کے مین گیٹ سے جیسے ہی باہر نکلا‘ لڑکے مجھے مارنے کے لیے دوڑے‘ میں بھاگ کر کالج کے اندر آگیا اور منظر ایوبی کو سارا ماجرا سنایا۔ اس زمانے میں سیل فون نہیں ہوتے تھے‘ انہوں نے کورنگی پولیس اسٹیشن فون کرکے موبائل منگوائی اور مجھے گھر بھجوا دیا لیکن انہوں نے مجھے دس امتحانی ڈیوٹیوں کے پیسے دیے یہ ان کا بڑا پن تھا۔ اس وقت سے لے کر مرتے دم تک میں ان کی گڈ بک میں رہا۔ میں نے ان کے ساتھ بہت سے مشاعرے پڑھے۔ وہ مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے ان کا ترنم اور ان کا کلام سامعین کے دل میں اتر جاتا تھا۔
منظر ایوبی کا تعلق بھارت کے شہر بدایوں سے تھا‘ وہ ایک متوسط زمیندار گھرانے میں 4 اگست 1932ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری کا آغاز 1946ء میں ان کے ماموں عارف ایوبی کی سرپرستی میں ہوا۔ انہوں نے قیام پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا اور ہجرت کے کرب سے گزرے۔ وہ 5 مئی 1950 کو بھارت سے پاکستان آئے تھے اور لاہور سے ہوتے ہوئے راولپنڈی گئے جہاں انہیں ملازمت مل گئی اس کے بعد انہوں نے سندھ میں سکونت اختیار کی اور پھر کراچی آ گئے۔ انہوں نے مرکزی وزارتِ عمال (محنت) میں ملازمت اختیار کی اور تعلیم بھی جاری رکھی انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ادیب فاضل‘ جامعہ کراچی سے بی کام ڈپلومہ شماریات اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ 1961 میں سندھ کے محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوئے اور 30 جون 1994 میں بحیثیت پرنسپل اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے۔ ان کی شاعری میں زندگی کے مسائل نظر آتے ہیں اورہجرت کا المیہ بھی۔ انہوں نے زمانے کے گرم اور سرد دیکھے تھے۔ 1950 کے بعد پاکستان میں کہی جانے والی غزلوں اور نظموں میں تمام سچائیاں‘ رعنائیاں‘ تلخیاں‘ ذاتی مشاہدات و خارجی حالات کی عکاسی موجود ہے اور ہدایات و پیغامات بھی نظر آتے ہیں ان کے نزدیک شاعری اور زندگی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ معاشرتی قدروں کا جمالیاتی ادراک ہی شاعری کی معراج ہے۔ وہ زندگی بھر متحرک رہے۔ 24 اپریل 1950 کو یو پی کے ایک معروف گھرانے کی لڑکی حبیبہ خاتون سے ان کی شادی ہوئی جس سے ان کے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں تولد ہوئیں۔ اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد پروفیسر منظر ایوبی نے دو شادیاں اور کیں جو بوجوہ کامیاب نہ ہو پائیں۔ منظر ایوبی کی 9 کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں 5 شعری‘ تین تنقیدی اور تاثراتی مضامین اور تحقیقی مقالہ شامل ہے۔ ان کی تصانیف میں تکلم (غزلیں)‘ مزاج (نظمیں)‘ چڑھتا چاند‘ ابھرتا سورج (قومی اور ملی شاعری)‘ نئی پرانی آوازیں (تنقیدی مضامین)‘ متاعِ آخرت (مذہبی شاعری) فردوس جنوں (شاعری)‘ سخن وروں کے درمیان‘ اردو شاعری میں نئے موضوعات کی تلاش شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسٹیج ڈرامے بھی لکھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے کراچی کے سیاسی منظر میں انٹری کی اور اپنے علاقے کے ناظم مقرر ہوئے اس حوالے سے انہوں نے اپنے علاقے کے لیے بہت سے ترقیاتی کام کرائے۔ وہ پاکستان رائٹرز گلڈ کے فعال عہدہ داروں میں شامل تھے آرٹس کونسل کراچی کے انتخابات میں بھی حصہ لیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان کے پروگراموں میں صدا کاری بھی کی اور پانچ برس تک محنت کشوںکا پروگرام ’’محنت کشوں کے لیے‘‘ بھی کیا۔ انہوں نے 20 جون 2020ء کو دنیائے فانی سے کوچ کیا۔ ان کی نماز جنازہ فاروق اعظم مسجد نارتھ ناظم آباد میں ادا کی گئی۔ کورونا وائرس کے خطرات کے باعث محدود تعداد نے ان کے جنازے میں شرکت کی البتہ بعض اہم شخصیات کی کمی محسوس کی گئی۔
پروفیسر منظر ایوبی کو سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ان کے جنازے میں محمود احمد خان‘ حیات رضوری امروہوی‘ رضوان صدیقی‘ رونق حیات‘ مظہر ہانی‘ قمر وارثی‘ خالد میر‘ شجاعت حسین‘ خلیل فاروقی‘ سید خالد حسن رضوی‘ سید علی اوسط جعفری‘ فہیم برنی‘ طارق جمیل‘ راقم الحروف نثار احمد‘ رشید خان رشید‘ محمد علی گوہر‘قاسم جمال‘ اویس ادیب انصاری‘ فیاض علی فیاض‘ احمد سعید خان‘ صفدر علی انشا‘ رانا اشفاق رسول‘ مسرور احسن‘ سہیل عابدی‘ رفیق مغل ایڈووکیٹ‘ الطاف احمد‘ سرتاج صدیقی‘ نظر فاطمی‘ عقیل عباس جعفری‘ جہانگیر خان‘ شکیل احمد خان‘ شجاعت اللہ‘ اکرم رازی‘ آسی سلطانی‘ واحد رازی‘ شہزاد سلطانی‘ مہتاب عالم مہتاب‘ وسیم احسن‘ سہیل احمد جمالی اور چاند علی چاند شریک تھے۔ میں جن لوگوںکے نام نوٹ نہیں کر پایا ان سے معذرت خواہ ہوں۔ پروفیسر منظر ایوبی کے انتقال پر بہت سی تقریبات ہوں گی اور انہیں منظوم خراج عقیدت پیش کیا جائے گا تاہم آج کالم میں اختر سعیدی کی نظم شامل کر رہا ہوں۔

نغمانہ شیخ کی کتاب ’’دھوپ میں جلتے خواب‘‘ ہمارے معاشرے کا منظر نامہ ہے

گزشتہ ہفتے نغمانہ شیخ نے اپنے افسانوں کی کتاب ’’دھوپ میں جلتے خواب‘‘ بذریعہ ڈاک مجھے ارسال کی میں اس کرم نوازی پر بہت مشکور ہوں۔ کتاب 150 صفحات پر مشتمل ہے خوب صورت ٹائیٹل سے مزین اس کتاب میں 17 افسانے شامل ہیں۔ نغمانہ شیخ افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعرہ بھی ہیں‘ میں نے انہیں تنقیدی نشستوں‘ آرٹس کونسل اور کراچی پریس کلب کی ادبی پروگراموں میں دیکھا ہے۔ کئی بار ان کے افسانے تنقید کے لیے رکھے گئے اور انہیں کافی سراہا گیا۔ زیر نظر کتاب میں نسیم درانی نے لکھا ہے کہ نغمانہ شیخ کا پہلا افسانہ کڑوا گھونٹ تھا جس کو انہوں نے اپنے رسالے میں شائع کیا انہوں نے مزید لکھا ہے نغمانہ شیخ بہت جی دار خاتون ہیں معاشرے پر بہت گہری نظر رکھتی ہیں ان کے افسانے جرأت مندی کا اظہاریہ ہیں۔ وہ معاشرے کے حساس موضوعات پر لکھتی ہیں۔ اظہار کی پختگی اور خوب صور جملوں کی ادائیگی کہانی کو چار چاند لگا دیتی ہے‘ وہ بہت بے باک انداز میں لفظوں کا چنائو کرتی ہیں لیکن ان کے جملوں میں عریانیت نہیں ہوتی۔ اے خیام کہتے ہیں کہ نغمانہ شیخ اپنے موضوعات کے باوصف وہ ایک فیمنسٹ کے طور پر حقوق نسواں کی علم بردار ہیں ان کی کہانیاں چونکا دیتی ہیں ان کی چند کہانیوں کے موضوعات ایسے ہیں جنہیں عموماً خواتین کہانی کار‘ بھاری پتھر سمجھ کر چھوڑ دیتی ہیں لیکن نغمانہ شیخ نے بڑی بے باکی سے دلیرانہ اظہار کیا ہے اور بڑی چابک دستی کے ساتھ ایسے جملے تراشے ہیں جو ہمارے ذہن کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کے طنز کی تیزی بھی ہے‘ دکھوں کا اظہار بھی‘ بے اطمینانی بھی‘ انصاف کی ارزانی بھی‘ جذبات کی فراوانی بھی اور رائیگانی بھی ہے۔ ان کے موضوعات اور کہانی کی ٹریٹمنٹ‘ ان کی بے باکی اور جسارت‘ دلیرانہ اظہاریے انہیں ایک اچھا افسانہ نگار بناتے ہیں۔ رحمن نشاط نے کہا کہ نغمانہ شیخ نے اپنے بیشتر افسانوں کی بنیاد کرداروں اور ان کی نفسیات پر رکھی ہے۔ ہر افسانہ ایک نیا پن لیے ہوئے ہے‘ افسانوں کا زبان و بیان عمدہ ہے‘ اسلوب بہت سادہ ہے جس کے باعث با آسانی ابلاغ ہو رہا ہے۔ ان کے تمام افسانوں کا اختتام Closed Handed پر نہیں چھوڑا۔ نغمانہ شیخ نے اپنے افسانوں میں کلائمکس‘ ٹوئسٹ‘ کانفلکٹ‘ منطقی اور فطری روّیوں کا خیال رکھا ہے یہ ایک کامیاب افسانہ نگار ہیں۔ زیب اذکار کے نزدیک نغمانہ شیخ‘ موضوعات کو سچائی کے ساتھ دیکھتی ہیں ان پر خوب غوروفکر کرتی ہیں اس کے بعد ان موضوعات کو افسانوں کا حصہ بناتی ہیں ان کے ہاں بہت ٹھہرائو ہے‘ مضبوطی ہے اور گہرائی بھی۔ ہمارے معاشرے کی عورت کے بسی کو نغمانہ شیخ نے بڑے جرأت مندانہ طریقے سے لکھا ہے ان کے یہاں کرداروں کے چنائو میں بھی ایک تنوع ہے‘ ان کا اسلوب روایتی نہیں ہے یہ بڑے رچائو اور شعوری استحکام کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ مجھے ان سے بڑی امیدیں ہیں۔ نسیم انجم نے لکھا کہ نغمانہ شیخ نے دردِ دل اور خون جگر سے افسانے تخلیق کیے ہیں۔ اپنے اردگرد کے ماحول پر نگاہ رکھتی ہیں تلخ تجربات اور مشاہدات نے ان کے افسانوں کو حرارت بخشی ہے لفظوں کی حدت اور زمانے کی ستم گری کا نوحہ ان کے افسانوں کا محور ہے۔ ان کے افسانوں کا خمیر سچائی کی آنچ معاشرے کی ناہموار صورت حال سے اٹھا ہے۔ یہی وہ سچ ہے جس کو سماج نے عورت کی حق تلفی کو سلب کرکے ودیعت کیا ہے جب کہ معاشرے کا ہر فرد چاہتا ہے کہ وہ عزت و آبرو سے زندگی گزارے اس تناظر میں خیر و شر کی جنگ جاری ہے جس کا بہت سا احوال نغمانہ کے افسانوں میں مل سکتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد ضمیر نے کہا ہے کہ نغمانہ شیخ کے افسانے پڑھ کر محسوس ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں نظریاتی وابستگی کا تعلق ذات سے جوڑنا پسند کرتی ہیں اور زندگی کی سب سے بڑی سچائی ہے اگر افسانہ نگار اپنا حصہ معاشرے میں نہ ڈالے تو یہ معاشرہ ثقافت مفلوج ہو جائے گا لہٰذا نغمانہ شیخ نے Short Story کو بنیاد بنا کر معاشرتی مسائل پیش کیے ہیں جس میں ان کے کرداروں کی زبان ہمارے معاشرے کی نمائندگی کر رہی ہے ان کے افسانے ثقافت اور ادب کا حسین امتزاج ہیں۔ ظریف احسن نے لکھا ہے کہ نغمانہ شیخ کے افسانوں کا مجموعہ دھوپ میں جلتے خواب‘ دراصل مردوں کے معاشرے میں عورت کی مظلومیت کی داستان ہے۔ راقم الحروف نثار احمد نے بھی ان کے افسانے پڑھے ہیں میرے نزدیک یہ کتاب اردو ادب میں گراں قدر اصافہ ہے ان کے کسی بھی افسانہ میں ابہام یا تشنگی نہیں ہے۔ سارے کردار اپنی اپنی جگہ کام کر رہے ہیں۔ ہر زمانے میں معاشرتی مسائل‘ سیاسی مسائل‘ مذہبی مسائل تبدیل ہوتے رہتے ہیں ہر اچھا قلم کار‘ زمانے کے ساتھ جڑ کر چلتا ہے نغمانہ نے بھی اسی کلیے کو مدنظر رکھا ہے اور موجودہ عہد کی برائیوں پر قلم اٹھایا ہے چونکہ وہ خود عورت ہیں لہٰذا انہوں نے اپنے طبقے پر ہونے والے مظالم کو زیادہ لکھا ہے اور ایسا ہونا عین فطرت ہے انہوں نے بھاری بھرکم الفاظ استعمال کرکے اپنی قابلیت کا رعب نہیں ڈالا بلکہ سادہ حرفوں میں کہانی پیش کرکے داد و تحسین حاصل کی۔ یہ ایک اچھی شاعرہ اور نظامت کار ہونے کے علاوہ اچھے افسانہ نگار کے طور پر بھی میدانِ ادب میں نظر آرہی ہیں ان کی ترقی کا سفر جاری ہے۔

نظم

اختر سعیدی

معترف ہے جن کی خدماتِ جلیلہ کا سماج
پیش کرنا چاہتا ہوں ان کی خدمت میں خراج
آشنائے عظمتِ ارباب فن رخصت ہوا
تاجدارِ قریہ شعر و سخن رخصت ہوا
ان کی رحلت پر ہماری آنکھ نم کیسے نہ ہو
عالمِ شعر و ادب کو ان کا غم کیسے نہ ہو
ان کے جانے سے نہ جانے کتنے دل مرجھا گئے
شدتِ غم سے نقوشِ زندگی دھندلا گئے
شخصیت ان کی بڑی دل کش‘ بڑی شاداب تھی
زیست ان کی جلوہ گاہ منبر و محراب تھی
ان کے طرزِ گفتگو میں تھی بلا کی چاشنی
ان کی تحریروں میں ہے پیغامِ حق و آگہی
فکر میں بالیدگی تھی‘ گھن گرج آواز میں
زندگانی کی رمق تھی ان کے ہر انداز میں
بالیقیں ان کا ترنم تھا بہت ہی دل نشیں
ان کے جیسا صاحبِ فن دوسرا کوئی نہیں
ان کی مٹی میں بھی شامل تھا بدایوں کا خمیر
اس حوالے سے رہے تا زندگی روشن ضمیر
ان کو حاصل تھی ہر اک صنفِ سخن پر دسترس
تھا سخن آگاہ ان کی زندگی کا ہر نفس
ان کی غزلوں میں تحیر خیزیوں کا رقص ہے
ان کی نظموں میں سماجی زندگی کا عکس ہے
ان کا طرزِ گفتگو تھا صورتِ آبِ رواں
ان کی تحریروں میں بے عکس نشاطِ دو جہاں
شاعرِ شیریں بیاں بھی ماہر تعلیم بھی
لائق توقیر بھی تھے‘ قابل تعظیم بھی
دوسروں سے مختلف ہے ان کا اندازِ سخن
ان کے فن کے قدرداں ہیں صاحبانِ علم و فن
ہر کتاب ان کی کتابِ عشق کی تفسیر ہے
آبشارِ زندگی ان کی ہر ایک تحریر ہے
ریڈیو پر ایک زمانے میں صدا کاری بھی کی
نسلِ نو کی منظر ایوبی نے دل داری بھی کی
ان کی باتیں‘ ان کے جملے یاد آئیں گے بہت
قصے بزم آرائی کے ہم کو رلائیں گے بہت
جنت الفردوس میں ان کو جگہ دے اے خدا
ان کے حق میں مغفرت کی کر رہے ہیں ہم دعا

حصہ