آہ! ہمارے نسیم بھائی

134

انوار احمد شاہین

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے

آج اسکول جانے سے پہلے فیس بک کھولا تو وہاں بہن راحیلہ وقار کا ایک افسوس نا ک پیغام تھا کہ ہمارے نسیم بھائی اب ہم میں نہیں رہے۔۔اناللہ وانا الیہ راجعون… بوجھل دل کے ساتھ اسکول گیا تو راستے میں نسیم بھائی کا ہنستا مسکراتا اور دھیمے لہجے میں باتیں کرتا روشن چہرا نظر آتا رہا اور کانوں میں آواز آتی رہی جی انوار بھائی… کافی دنوں سے ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی- کورونا نے اور اس کے بعد اسکول کھلنے پر مصروفیات اتنی بڑھ گئی تھیں کہ نہ ملاقات کر سکا اور نہ ہی فون۔ روز ارادہ کرتا تھا کہ ان سے آن لائن اسکولنگ پر بات کروں‘ لیکن یہ آرزو پوری نہ ہو سکی اور ان کے انتقال کی اطلاع آگئی۔
یہ 1996 کے اوائل کی بات تھی‘ میں نیا نیا بفر زون شفٹ ہوا تھا اور اپنے بیٹے اسامہ کے نرسری جماعت میں داخلے کے لیے پریشان تھا۔ ہمارے دوست زاہد سلیم نے عثمان پبلک اسکول کا پتا بتایا۔ وہاں نسیم بھائی سے میری پہلی ملاقات ہوئی وہ اس وقت عثمان اسکول کے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ اس دن سے ہماری دوستی کا آغاز ہوا ۔گو کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن کوئی دوستوں کا ساتھ تھوڑی چھوڑتا ہے وہ تو میرے دل میں مکین تھے اور جب تک یہ دل دھڑکتا رہے گا وہ اس میں مقیم رہیں گے۔
نسیم بھائی بہت محبت کرنے والے ساتھی تھے۔ ان کا پورا گھرانہ اور ننھیال جماعت اسلامی سے وابستہ تھے ان کی اور ان کے تمام عزیز و اقارب کی تربیت اسلامی جمعیت طلبہ میں ہوئی اور اس سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی کا رُخ کیا اور تاحیات اسی کا دامن تھا مے رکھا۔ وہ جماعت میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ نعمت اللہ خان صاحب کے دور میں تعلیم کے شعبے کی نگرانی بھی کی۔ میرا اور ان کا تعلق زیادہ تر تعلیم کے حوالے سے رہا۔ میں اس وقت جامعہ ملیہ سے بطور استاد منسلک تھا۔ جب انہیں یہ معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے اسکول اور تعلیمی تحقیق کے ادارے میں بارہا مجھے خدمت کا موقع دیا۔ میں جب بھی جاتا وہ ہمیشہ ’’چشم ما روشن اور دل ما شاد‘‘ کے مصداق استقبال کرتے اور خصوصی مرتبہ دیتے‘ دونوں اداروں میں نسیم بھائی اور بہن صفورا بہت عزت کرتے تھے اور وہ جب بھی ملتے میرے بچے‘ جو عثمان سے ہی فارغ التحصیل تھے اُن کا نام لے کر ان کے بارے میں ہمیشہ خبر گیری کرتے تھے۔ میری اہلیہ جو عین جوانی میں ہی عارضۂ قلب میں مبتلا ہو گئی تھیں‘ اُن کے بارے میں بہت فکر مند رہتے تھے اور ہمیشہ ان کی صحت کے لیے دعا کرتے رہتے تھے۔ یہ صرف میرا معاملہ نہ تھا بلکہ وہ اپنے تمام ملنے والوں سے ایسا ہی تعلق رکھتے تھے۔
عثمان پبلک اسکول کو تناور درخت بنانے میں نسیم بھائی اور بہن صفورا نعیم نے دن رات ایک کردیے‘ نہ اپنی صحت کی فکر کی اور نہ ہی مال و دولت کی۔ یہ ایک ایسی بہترین بصیرت افروز ٹیم تھی جس نے عثمان کے شجر سایہ دار تلے کئی ماہرین تعلیم پیدا کیے۔ آج کراچی میں جو بھی تعلیم وتربیت کے بہترین ادارے ہیں‘ وہ سب کے سب عثمان پبلک اسکول کی نرسری کے پودے ہیں جو اپنی اپنی جگہ تناور درخت بن چکے ہیں۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ ایجوکیشنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے درسی کتب کی تیاری اور تربیت اساتذہ ہے۔ عثمان پبلک اسکول کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کے اساتذہ مقصد سے لگن رکھنے والے اور دھن کے پکے ہیں اس لیے وہ صبح اسکول میں پڑھاتے اور سہ پہر ایجوکیشنل ریسرچ میں تحقیق و تصنیف کرتے تھے۔ یہ ایک ایسی بے مثال ٹیم تھی جس کی کوئی نظیر نہ تھی جو نسیم بھائی اور بہن صفورا نعیم کی قیادت میں کام کر رہی تھی۔ اس ٹیم نے درس وتدریس اور درسی کتابوں میں اسلامی نظریۂ حیات کی جدید رجحانات کے ساتھ ایسی آمیزش کی جس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس ٹیم نے یہ ثابت کیا کہ تعلیم کے ذریعے نوجوان نسل کی ذہن سازی کیسے کی جاسکتی ہے۔ کم فیس کے ساتھ انہوں نے عثمان پبلک اسکول کو نہ صرف شہر بلکہ ملک کا ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ بنا دیا۔ جس نے اپنے معیار اور نتائج سے سب کو حیران کیا اور ایسے رہنما اصول مقرر کیے جس نے مزید اداروں کے لیے راستہ آسان کر دیا۔ داخلے کا ایک معتبر اور باجواز معیار مقرر کیا جہاں سفارش کی گنجائش نہیں تھی۔ میرے سسرال کے چند بچوں کے وہاں داخلے نہیں ہوئے تو میں نے ان سے استفسار کیا تو انہوں نے بچوں کے ٹیسٹ کے نتائج سامنے رکھ دیے۔ وہاں داخلے صرف قابلیت اور اہلیت پر ہوتے تھے۔ وہ اپنوں اور غیروں دونوں کے طعن و تشنیع سنتے تھے لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔
آج عثمان درجنوں برانچوں کے ساتھ اسی معیار کے ساتھ کھڑا ہوا ہے جس کی بنیاد نسیم بھائی نے ڈالی تھی۔ وہ تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اسی لیے وہ عثمان کی مزید برانچیں بنانے میں بہت محتاط تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین روز و شب عثمان اور ایجوکیشنل ریسرچ کی ترقی میں صرف کر دیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنی بزرگی کے ایام میں ان کو اس ادرے سے علیحدہ ہونا پڑا جس کا انہیں بہت ملال تھا۔ لیکن انہوں نے اس غم کو نہایت استقلال کے ساتھ سہا اور زبان پر حرفِ شکایت نہیں لائے۔ انہوں نے مجھ سے بھی اس بات کا کبھی تذکرہ نہیں کیا اوراس غم کو اپنی طاقت بنا لیا اور بہن صفورا کے ساتھ مل کر ایک اور نئے تعلیمی ادارے انسپائریشن ماڈل اسکول سسٹم کی بنیاد رکھی اور جلد ہی یہ سسٹم بھی مقبول ہو گیا اور اس کی اب کئی فرنچائز تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ابھی یہ پودا برگ و بار لاہی رہا تھا کہ اللہ نے اس بے چین روح کو سکون فراہم کردیا۔ امید واثق ہے اللہ تعالیٰ نسیم بھائی سے خوش ہوں گے اور وہ اپنے مالک سے راضی۔ وہ اپنے نیک اعمال اور تعلیمی خدمات کے حوالے سے اپنے ہزاروں شاگردوں اور دوستوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

حصہ