ام المومنین حضرت خدیجہؓ

130

مسلمان عورتیں اپنی قوت کو پہچانیں

افشاں نوید
گزشتہ سے پیوستہ

نبوت کے اعلان کے بعد معاشرہ کیا سلوک کرے گا ،نئ دعوت کے راستے میں میں کیسے کیسے روڑے اٹکانے جائیں گے؟ایسا نہیں ہے کہ انھیں اس کا اندازہ نہیں تھا۔ورقہ بن نوفل بھی بتا چکے تھے کہ یہاں تک بدسلوکی ہوگی کہ آپﷺ کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔
پچپن برس کی عمر میں میں کوئی معذرت نہیں کرتیں کہ وہ آنے والے وقت کے چیلنجوں کو اپنی عمر رسیدگی کی وجہ سے نبھا نہ سکیں گی۔
یہی نہیں کہ سب سے پہلے ایمان لائیں بلکہ اپنا سارا مال تجارت جس کو ہزاروں اونٹ لاتے لے جاتے تھے سب اسلام کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔
ایک عورت اپنی قوت کو پہچانتی ہے تو وہ صدیوں کے دل کی دھڑکن بن جاتی ہے۔آپﷺ کی رفاقت جذباتی فیصلہ نہ تھا۔مال و اسباب تج کے وفا کی لاج رکھی۔
تاریخ کے صفحات پر آج بھی وہ آنکھیں رکھی ہیں کہ بیٹی اور داماد حضرت رقیہؓ وعثمان غنیؓ حبشہ ہجرت کر جاتے ہیں ، حکم ربی ہے۔
ماں کی ماری ممتا روز ایک برس تک حبشہ جانے والے رستہ پر آکر بیٹھتی رہی کہ شائد آتے جاتے کسی قافلہ سے پیاروں کی خیریت کی کوئی خبر مل جائے۔
اللہ تعالی نے جب آپﷺ کو حکم دیا کے آپ کھلم کھلا دعوت دین پہنچائیں تو آپ کبھی کوہ صفا پر کبھی حرم کعبہ میں کھڑے ہوکر توحید کا اعلان کرتے ایک دن آپ حرم کعبہ میں دعوت دے رہے تھے کہ کفار جمع ہوگئے انھوں نے آپ پر حملہ کر دیا حضرت خدیجہؓ کے پہلے شوہر کے بیٹے حارث شوروغل سن کر گھر سے باہر نکلے حرم میں داخل ہوئے آپ کو بچا کر باہر لے آئے لیکن چاروں طرف سے تلوار چمکتی ہیں اور وہ اللہ کے راستے میں قربان ہوجاتے ہیں۔
اس طرح ماں کو سب سے پہلے ایمان قبول کرنے کی سعادت اور فرزند کو سب سے پہلے راہ خدا میں جان دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔
جوان اولاد کی جدائی کوئی معمولی سانحہ نہیں ہوتا لیکن حضرت حدیجہؓ کے پائے استقلال میں کوئی جنبش نہ آئی۔راہ حق کی اس قربانی کو خوشی سے برداشت کیا۔کفار مکہ جب آپ کی تبلیغی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام ہوگئے اور دیکھاکہ اسلام کی روشنی پھیلتی ہی چلی جارہی ہے تو ایک خفیہ اجلاس میں اسلام کے بڑے بڑے مخالف جمع ہوئے انھوں نے فیصلہ کیا کہ بنی عبدمناف کا مقاطعہ کیا جائے اور اس وقت تک اس پر عمل کیا جائے جب تک وہ جان سے گزر جائیں یا آبائی دین میں واپس آجائیں۔ یہ معاہدہ نبوت کے ساتویں سال لکھا گیا اور کعبے کے وسط میں آویزاں کردیا گیا۔
آپ کا قبیلہ بنو ہاشم سوائے ابولہب کے اپنا گھر بار چھوڑ کر شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے قریش نے کھانے پینے کی چیزوں کا وہاں جانا بالکل بند کردیا بنی ہاشم کے بچے بھوک سے روتے ان کی آوازیں گھاٹی سے باہر آتیں۔ حضرت خدیجہؓ نے بھی یہ مظالم پورے صبر استقامت سے برداشت کئے۔
مصائب کے اس دور کا ذکر کرتے ہوئے سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے کہ مجھے کوئی پرانا چمڑا ملا میں نے پانی میں ڈالا آگ پر ابالا اور پانی پی کر چمڑا چوس کر پیٹ بھرا تاریخ اسلام کے عظیم مجاہد کا یہ بیان دل دہلا دینے والا ہے۔شعیب ابی طالب کی سختیوں نے سیدہ خدیجہؓ کو بھی گھلا دیا ،جہاں پتے تک کھانے پڑے ،تین ہفتے نہ تین ماہ ,پورے تین سال اس مشکل وقت میں سیدہ کے اثرورسوخ سے کبھی کبھی کھانا پہنچ جارہاتھا۔ان کے بھتیجے حکیم بن حزام چوری چھپے پھوپھی کو غلہ پہنچا آتے جس سے سب حاجت مندوں کا بھلا ہو جاتا۔
تین سال۔کے بعد مصائب کا یہ دور ختم ہوا۔
شعب ابی طالب سے نکلے ہوئے ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے تھے کہ پہلے ابو طالب اور پھر سیدہ خدیجہ کا انتقال ہو گیا۔رحمت وشفقت کے دوستون زمین بوس ہوگئے۔صدمے سے گویا آپ کی کمر جھک گئی۔آپ نے اس سال کو عام الحزن قرار دیا۔آپﷺ سے پچیس برس صابرانہ رفاقت نبھائی۔
آپ سیدہ کی رحلت کے بعد بھی ان کی سہلیوں سے بہت عزت واحترام سے پیش آتے۔ایک روز سیدہ کی بہن ھالہ تشریف لائیں اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپﷺکے۔چہرے پر خوشی نمایاں ھوگئی۔فرمایا ھالہ ہوںگی۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں مجھے بہت رشک آیا اور میں نے کہا کہ آپ بڑھیا کو یاد کرتے ہیں،ان کی تعریفیں کرتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کو جوان نعم البدل عطا فرمایا :
آپﷺ کو غصہ آگیا فرمایا۔۔ نہیں خدا کی قسم اللہ نے مجھے ان کا نعم البدل عطا نہیں فرمایاجب لوگوں نے مجھ پر ایمان لانے سے انکار کیا تو وہ مجھ پر ایمان لائیں، جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو نے میری تصدیق کی، جب لوگوں نے مجھے مال سے محروم کیا انہوں نے مجھے مال دیا۔ ان سے مجھے اولاد فرمائی۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں ڈر گئی اس دن عہد کرلیا کہ آئندہ خدیجہ کے بارے میں ایسی کوئی بات نہ کہوںگی۔
حضرت عائشہؓ کہتی اگرچہ میں نے خدیجہؓ کو نہیں دیکھا لیکن مجھے ان پر اس قدر شک آتا تھا کہ اللہ کے نبیﷺ ہمیشہ ان کا ذکر کرتے تھے حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آپﷺ کا معمول تھا کہ گھر میں جب جانور ذبحہ ہوتا تو آپ ڈھونڈ کر حضرت خدیجہؓ کی سہلیوں کے پاس گوشت بھجوایا کرتے۔
حضرت خدیجہؓ کو ایک ایسا شرف حاصل ہے جو کسی کو حاصل نہیں۔ ایک دفعہ جبرئیلؑ آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا خدیجہؓ آپ کے پاس برتن میں کچھ کھانے کو لے کر آ رہی ہے اللہ رب العالمین کا اور میرا سلام انھیں پہنچا دیں۔
اس محسنہ نے امت کو یہ پیغام دیا کہ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے جب حق کی تاریخ رقم کرتے ہیں تو ان کو پتھر بھی کھانا پڑتے ہیں اور پتے بھی۔۔
ایسی” لو اسٹوری” تاریخ کے صفحات پر اور کہاں رقم ہے؟؟
لیکن اس داستان کا اہم ترین حصہ ایک مرد کے ہاتھوں رقم ہوا ہےﷺ۔ جس میں سبق ہے قیامت تک امت کے مردوں کے لیے۔
اللہ کے نبیﷺ ان سے زندگی میں بھی عشق کی حد تک محبت کرتے تھے اورانکی وفات کے بعد بھی ان کی یادوں کے ساتھ جیتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ آپ حضرت خدیجہؓ کی یاد میں کھوئے رہتے تھے۔ ایک بار میں نے کہہ دیا وہ تو بوڑھی عورت تھیں آپ کو اللہ نے جوان بیویاں دیں۔
آپ کو اتنا ملال ہوا اس بات کا کہ آپﷺ کی آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے اور آپﷺ نے ان کے احسانات بیان کیے کہ خدیجہؓ نے اس وقت مجھ پر احسان کیے جب میں سماجی طور پر تنہا تھا،جب مجھے معاشی طور پر ان کے مال کی ضرورت تھی، جب مجھے غم گساری کی ضرورت تھی۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں اس کے بعد کبھی ایسی بات کہنے کی میری ہمت نہ پڑی۔
ہمارے سماج میں وہ لوگ جن کی دو بیویاں ہوں دوسری کے سامنے پہلی کا ذکر کرنے کا بھی حوصلہ نہیں رکھتے۔ وفات کے بعد تو دل سے بھی نکل جاتی ہے۔
آپ تو بابانگ دہل حضرت خدیجہؓ کی سہلیوں کو تحفے بھیجتے۔انکے احسانات کا ذکر کرتے۔
عورت اگر کسی بھی دائر ۂ حیات میں چاہے ذہنی جسمانی صلاحیتوں کی بات ہو یا جاہ و حشم کی، شوہر سے زیادہ ہو تو اس کا کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہیے۔
یہ حضرت خدیجہؓ کی زندگی کا سبق ہے کہ بیوی کی صلاحیتوں کو دبایا نہ جائے۔ کہیں روایت میں نہیں کی آپﷺ نے انھیں تجارت سے منع کیا یا اسلام لانے کے بعد ان کے تجارتی روابط میں رکاوٹ ڈالی ہو۔
جو خاتون بین الاقوامی تاجر ہو اسکا سماجی طور پر ہائی پروفائل اسٹیٹس ہوگا آپﷺ نے ان کو پورا اسپیس دیا۔
نہ صرف یہ کہ انکی تحسین فرمائی بلکہ ان کی صلاحیتوں کا بارہا برسرعام اعتراف کرتے رہے۔
آپﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے کوئی سفارش نہیں کی لیکن حضرت زینبؓ کے شوہر کے فدیہ کے لیے حضرت خدیجہؓ کا ہار دیکھ کر آپﷺ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔اس ہار کے ہر موتی سے حضرت خدیجہؓ کا لمس وابستہ تھا۔
ایسا نہیں تھا کہ آپﷺ نے حضرت خدیجہؓ کے جاہ و حشم کی وجہ سے دوسری ازواج کےمقابلے میں آپ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ۔
آپﷺ نے ہر ایک کا پورا پورا حق ادا کیا۔
جب پوچھا گیا کہ آپﷺ سب سے زیادہ کس سے محبت کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا عائشہؓ سے۔
پوچھا گیا مردوں میں؟
فرمایا عائشہؓ کے باپ سے۔
حضرت خدیجہؓ کی پیاری سیرت میں امت کی عورتوں، مردوں کے لیے یکساں پیغام ہے۔ بیوی کی زندگی میں ہی نہیں اس کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اس کو یاد رکھنا اس کی سہلیوں کو تحفے بھیجنا۔
اس کی محبت کا اعتراف کرنا۔
دوسری بیویوں کے سامنے ذکر سے دلوں کو تکلیف ہوتی ہے لیکن آپﷺ نے یہ پیغام دیا کہ محسنوں سے بعد وفات بھی احسان کا رویہ رکھا جاتا ہے، کیونکہ آپﷺ خود محسن انسانیت تھے آپ سے زیادہ قدر کرنے والا دل کس کے پاس ہو سکتا ہے؟؟
حضرت خدیجہؓ کا یہ مقام ومرتبہ کہ جبرئیل امین ان کے لیے اپنا اور اللہ کا سلام پیش کرتے ہیں۔
آج اسلامی معاشروں میں گھر گھر خدیجہ،عائشہ اور فاطمہ نام موجود ہیں۔ضرورت ہے کہ اسلام کی ان عظیم شخصیات کو ہم اپنی نسلوں کے رول ماڈل بنائیں۔نام کے ساتھ ان کرداروں کے روشن تذکروں سے بھی اپنے گھروں کو منور رکھیں۔

حصہ