اللہ نسیم صدیقی کے حق میں میری گواہی قبول فرمائے

144

تنویر اللہ
اُن سے میری پہلی ملاقات نعمت اللہ خان کے دفتر میں ہوئی تھی وہ سٹی ناظم کے معاون برائے تعلیم تھے، کرتا شلوار پہنے ہاتھ میں ڈائری پکڑے نسیم صدیقی مجھے اصولوں کے بہانے میں جکڑے ایک بے فیض سے آدمی نظر آئے، اس وقت تک اُن سے میرا کوئی لینا دینا نہیں تھا لہٰذا رسمی سی سلام دعا ہوئی اور ہم نے اپنی اپنی راہ لی، یہ 2000ء کے پہلے سال کی ایک ملاقات تھی۔
اللہ کی بنائی مخلوق میں انسان ہی وہ واحد ہے جو اکثر ظاہر میں نظر کچھ آتا ہے اور باطن میں کچھ اور ہی ہوتا ہے لہٰذا منافق کی اصطلاح انسان کے لیے ہی خاص ہے لہٰذا ہمیں کبھی منافق جانور یا منافق سبزی نہیں ملتی انسان کے علاوہ جو بھی مخلوق ہے وہ اندر باہر سے عموماً ایک سی ہی ہوتی ہے۔
لہٰذا انسان کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی رائے نہیںبنانی چاہیے اور حتمی رائے کبھی نہ بنائیں تو زیادہ اچھا ہے کیوں کہ انسان کسی بھی لحمے بدل سکتا ہے۔
دس برس بعد نسیم صدیقی سے میری باقاعدہ راہ رسم ہوئی میں الخدمت کراچی کا سیکرٹری تھا اور نسیم صدیقی جماعت اسلامی کراچی کے قیم تھے، اب اکثر میری اُن سے جماعت اسلامی اور الخدمت کے درمیان کوآرڈینیشن کے سلسلے میں ملاقات ہونے لگی۔ اس تعلق کے بعد وہ مجھے اصول کا بہانہ بنانے کے بجائے حقیقتاً اصول کے آدمی نظر آئے۔
وہ عزت کے بات سنتے تھے ممکن ہے کہ یہ جملہ آپ کو عجیب لگے لہٰذا کچھ وضاحت کیے دیتا ہوں بعض لوگ باقاعدہ طے ملاقات میں بھی کبھی ٹیبل کو ترتیب دینے لگ جاتے ہیں‘ کبھی موبائل فون سے کھیلنے لگتے ہیں‘ کبھی اپنے ماتحتوں کو ہدایات دینے لگتے ہیں‘ ہر فون کال کا رسیو کرنا لازمی سمجھتے ہیں‘ بار بار گھڑی دیکھتے ہیں‘ اسے کہتے ہیں عزت سے بات نہ سننا‘ میری جب بھی نسیم صدیقی سے ملاقات ہوئی انھوں نے ہمیشہ پوری توجہ اور دل چسپی سے بات سنی اور جواب کے لیے مناسب الفاظ کا انتخاب کیا۔ اچھے قائد کی یہ ایک بڑی اور اچھی خصوصیت ہے، اللہ انھیں اس کا بہت اجر دے۔
میرے دونوں بیٹوں نے عثمان اسکول میں پڑھا ہے لہٰذا اس حوالے سے نسیم صدیقی اور نصراللہ شجیع سے ملاقات ہوتی تھی دونوں نے ہی اپنی دوسری دنیا آباد کرلی ہے اور ہماری دنیا ویران کرگئے ہیں۔
بچوں سے متعلق بات چیت میں وہ حال اور مستقبل دونوں پر بات کرتے تھے ملاقات کے اختتام پر ضرور کہتے تھے کہ آپ کا بچہ ہمارے پاس ہے اس کی تعلیم ہمارے ذمے ہے‘ آپ فکر نہ کریں۔ کہنے کو یہ بات رسمی سی محسوس ہوتی ہے لیکن ان کے لہجے کی اپنائیت سے بہت اطمینان مل جاتا تھا۔ قیادت کا یہ بھی ایک بڑا وصف ہے کہ اُس سے مل کر اور اُسے دیکھ کر کارکن دنیا کی مشکلات کو ہیچ سمجھنے لگے، اللہ نسیم صدیقی کو جنت کی ساری آسانیاں اور راحتیں عطا فرمائے۔
غالباً 2012 کا واقعہ ہے میں نے اسی میگزین میں ’’ انڈر دی کارپٹ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا بعض پڑھنے والوں کا اور نظم جماعت کے خیال میں میرا یہ مضمون مناسب نہیں تھا‘ لہٰذا نسیم صدیقی نے مجھے فون کیا اور یہ اعتراض بیان کیا۔ میں نے اپنی صفائی دی تو انھوں نے پوری بات سنی اور جواب دیا کہ میں آپ کے مضمون کے صیح غلط کا فیصلہ نہیں دے رہا بلکہ یہ توجہ دلا رہا ہوں کہ یہ رسالے میں لکھنے کی باتیں نہیں ہیں۔ اس زمانے میں فیس بک کا ایسا بے مہار استمعال نہ تھا اور ان کا انداز اور الفاظ کا انتخاب اتنا اچھا تھا کہ مجھے معذرت کرنی پڑی۔ اللہ نسیم صدیقی کی غلطیوں سے درگزر فرمائے۔
نسیم صدیقی کے بارے میں بہت کچھ اچھا کہا جا رہا ہے کوئی کہہ رہا ہے وہ بڑے ماہرِ تعلیم تھے‘ کسی کے خیال میں وہ ایک اچھے منتظم تھے‘ کوئی کہہ رہا ہے کہ وہ اچھے مربی تھے۔ بلاشبہ وہ یہ سب کچھ تھے‘ لیکن میرے نزدیک وہ ایک اچھے انسان تھے۔ آدمی سب کچھ ہو لیکن اچھا انسان نہ ہو‘ اس سے کہیں اچھا ہے کہ آدمی کچھ بھی نہ ہو‘ صرف ایک اچھا انسان ہو اور نسیم صدیقی ایک بہت اچھے انسان تھے، اللہ میری گواہی ان کے حق میں قبول فرمائے۔

حصہ