۔” میں” سے “ہم” کا سفر۔۔۔۔

110

انسان اللہ تعالیٰ کی پیچیدہ ترین مخلوق ہے، جس کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ آج کے جدید دور میں جہاں انسان چاند تک پہنچ گیا، جانوروں پر تحقیقات ہورہی ہیں، مابعد الطبیعات میں خاصہ کام ہوچکا ہے، وہیں انسان کو سمجھنے کے لیے بھی تحقیق جاری ہے۔ آج انسان نے بڑی سے بڑی مشینیں ایجاد کرلی ہیں، وحشی درندوں اور جانوروں کو مسخر کرنا سیکھ لیا ہے، لیکن آج کا ترقی یافتہ انسان اس بات کا اعتراف کرنے سے قاصر ہے کہ وہ انسان کے رویوں، مزاج، افعال اور ان امور کو سرانجام دینے کے لیے قوتِ نافذہ کو کلی طور پر سمجھ چکا ہے؟ اور ریاضی اور سائنس کے کلیوں کی طرح انسانی رویوں کا بھی جائزہ لے کر یکساں نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے؟ انسانی احساسات و جذبات اور افعال حالات اور وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، انسان کبھی بھی ایک جیسا نہیں رہ سکتا، جیسے جیسے اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اسی طرح اس کا طرزِ فکر و عمل بھی تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ اگر انسان ایک جگہ سے ہجرت کرکے دوسرے کسی علاقے میں رہائش اختیار کرتا ہے تو لامحالہ نئے علاقے کے مطابق اُس کے رہن سہن اور آہستہ آہستہ خیالات و افکار میں بھی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔ ایک گاؤں میں رہنے والا جب شہر کی طرف رخ کرتا ہے تو کچھ عرصے بعد اُس کی ذہنی اور علمی سطح وہ نہیں ہوتی جو شہر میں آنے سے پہلے تھی۔ یہاں اوپر ذکر کی گئی بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہ کوئی حتمی کلیہ اور قاعدہ نہیں… ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ نئے ماحول اور حالات سے ذرہ برابر بھی اثر نہ لیں، اور جیسے تھے ویسے ہی رہیں۔ یہ بھی ایک انسانی خاصہ ہے جو اسے دوسری مخلوقات سے ممتاز کرنے کا ایک سبب بنتا ہے۔
خالقِ کائنات نے انسان کو تنہا پیدا کیا۔ حضرت آدم علیہ السلام اپنی خلقت کے وقت اکیلے انسان تھے، لیکن خالق کو معلوم تھا کہ ان کو جہاں میں اکیلے رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا، اور یہ بھی کہ ان کی جبلت میں ہی اکیلے رہنا نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے بی بی حوا علیہا السلام کو پیدا کیا۔ ایک سے بھلے دو… ایک عرصے تک دونوں جنت میں نعمتوں بھری زندگی سے مستفید ہوتے رہے۔ جب شیطان ان کو جنت سے نکلوانے میں کامیاب ہوگیا اور وہ دونوں دنیا کے الگ الگ اطراف میں اتارے گئے تو جہاں ان دونوں ہستیوں نے اللہ سے اپنی غلطی کی معافی طلب کی وہیں اپنی جبلت کے مطابق ایک دوسرے سے ملنے کے لیے بھی اللہ سے دعا کی۔ دعا قبول ہوئی اور دونوں ایک بار پھر ملے، اور اس زمین پر نسلِ انسانی کا تاقیامت قائم رہنے والا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ جو سلسلہ ایک انسان سے شروع ہوا وہ بڑھتے بڑھتے اربوں کھربوں انسانوں تک پہنچ گیا ہے۔ بی بی حوا علیہا السلام کی پیدائش کے بعد سے آج تک انسان پر ایسا کوئی وقت نہیں گزرا جب وہ پوری کائنات میں تنہا رہا ہو۔ اس کے بعد سے ہمیشہ انسانوں کی ایک بہت بڑی جماعت اِس دنیا میں رہی، آج بھی ہے اور تاقیامت رہے گی۔ جب انسان کی جبلت میں ہی تنہائی یا انسانوں سے دوری و بے زاری نہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی انسان تاحیات اکیلا رہے، انسانوں سے نفرت کرے، اور کسی کو بھی اپنے قریب آنے نہ دے! یہ فطرتِ انسانی ہی نہیں کہ وہ ایسی حرکتیں کرے، بلکہ ایک پاگل انسان بھی اکیلا رہنا پسند نہیں کرتا۔ اگرچہ وہ اکیلا رہتا بھی ہو، لیکن ایک وقت ضرور آتا ہے جب اسے انسانوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور وہ انہی کے درمیان ہوتا ہے۔
اس کائنات کے پہلے انسان یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے جو سفر شروع ہوا وہ مَیں (واحد) سے ہم (جمع) کی صورت میں آج بھی جاری ہے۔ یہ ’مَیں‘ سے ’ہم‘ کا سفر کسی کا اپنا انتخاب نہیں بلکہ اس کائنات کے خالق کی طرف سے ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہو، ایک دوسرے کی ضرورتوں کو پورا کرو، ایک دوسرے کے کام آؤ، بھلائی کے کام کرو، نیکی میں معاونت کرو، اچھائی پھیلاؤ، اگر تم مالدار ہو تو محتاجوں کی مدد کرو، ان کی غمگساری کرو، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھو، یتیموں کی خبر گیری کرو، اور اپنی مہارتوں اور فن کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے دوسرے انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو… جہاں یہ آسانیاں دوسروں کی ضرورتوں کی تکمیل کا سبب بنیں گی وہیں اس کے ذریعے تم اپنے لیے متاعِ زندگی کا اہتمام کرسکو گے۔ الغرض خالقِ کائنات نے اِس دنیا میں انسان کا ایسا عجیب و غریب اور مختلف الجہت کردار متعین کیا کہ وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ مل کر اپنی اور دوسروں کی ضرورتوں کی تکمیل اور آسانیوں کی فراہمی میں ہمہ تن مگن ہے۔ ذرا سوچیں آج تک دنیا میں جتنی بھی ایجادات ہوئی ہیں وہ سب انسان نے کیں۔ یہ ایجادات جہاں مؤجد کے لیے معاش اور شہرت کا ذریعہ بنیں وہیں ان سے دوسرے انسانوں کی ضرورتوں کی تکمیل ہوئی۔ آج دنیا کا امیر ترین انسان بھی دوسرے انسانوں کے لیے اپنی خدمات دینے میں مصروف ہے، بلکہ اس کے امیر ہونے کا سبب بھی یہی ہے کہ وہ انسانی ضرورتوں (خواہشات) کی تکمیل کے بدلے اپنے لیے سامانِ زیست جمع کرنے میں کامیاب ہوا۔ یہی انسان کا آپسی اصل تعلق ہے جس پر ہم غور ہی نہیں کرتے، اگرچہ موجودہ زمانے میں یہ تعلق غرض اور مطلب کی بنیاد پر ہی ہے، لیکن یہ بات مسلّم ہے کہ اِس دنیا میں رہنے کے لیے ایک انسان دوسرے انسانوں کے لیے ہی کام کررہا ہوتا ہے۔ اگر اس تعلق کو مثبت زاویے سے دیکھیں تو دنیا میں جتنے بھی بھلائی اور خیر کے کام ہورہے ہیں وہ خالص انسانیت کی فلاح اور رب کی رضا کے حصول کے لیے کیے جارہے ہیں۔ کسی غریب کو کھانا کھلا کر، تن کے کپڑے پہنا کر، سر پر چھت فراہم کرکے بغیر کسی دنیوی غرض کے کام بھی انسانی تعلق کی عظیم مثال ہے۔ اگر اخلاصِ نیت کے ساتھ ان دونوں صورتوں پر عمل کیا جائے تو یہی انسانی فلاح کے لیے کافی ہے۔
اس پورے پس منظر کو سامنے رکھنے کے بعد ذرا ہم اپنے رویوں کو دیکھیں تو ہمیں کبھی صورت حال اس سے مختلف بھی نظر آتی ہے۔ ایک انسان دوسرے کو پسند نہیں کرتا، اسے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، اس کے وجود کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، اس کے ساتھ کھڑے ہونے کو اپنی تحقیر سمجھتا ہے، معاشی لحاظ سے کمتر فرد کو اپنے قریب برداشت نہیں کرتا، اپر کلاس کا بندہ اُس جگہ بیٹھنا یا بیٹھ کر کچھ کھانا پسند نہیں کرتا جہاں کسی دوسری کلاس کا بندہ موجود ہو۔ امیر و غریب کے علاوہ یہ صورت حال ایک جیسے حالات و اسٹیٹس کے حامل افراد میں بھی دیکھی جاسکتی ہے، جو اپنے گھمنڈ یا برتری کی وجہ سے ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے، حتیٰ کہ لوگوں کے مابین تو اپنے آپ کو ممتاز دکھانے اور برتری جتلانے کے لیے بھی یہ رویّے دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہ تمام رویّے اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب انسان اپنی اصل سے دور ہوجاتا ہے۔ جب وہ اپنی خلقت اور اصلیت سے غافل ہوجاتا ہے تو اپنے آپ کو ہی سب کچھ سمجھنے لگتا ہے، اور اپنے علم، عمل، دولت، اولاد نامعلوم کس کس بات پر فخر کرنے لگتا ہے، حتیٰ کہ بسا اوقات تو کپڑوں، جوتوں اور گھڑی وغیرہ جیسی بہت معمولی چیزوں پر بھی فخر جتلایا جاتا ہے۔
درحقیقت یہ وہی رویہ ہے جو انسان کو سجدہ کرتے وقت شیطان نے اپنایا تھا۔ اس نے بھی اپنے اسٹیٹس پر فخر کیا، خالق کی حکم عدولی کی اور نتیجتاً آج تک ذلیل و خوار ہے۔ قرآن میں شیطان کے تکبر کا یہ واقعہ ہمارے لیے ہی بیان کیا گیا ہے، ہم اس سے سبق حاصل کریں کہ اپنے اسٹیٹس اور صلاحیتوں پر فخر و تکبر کرنے کے بجائے ان کو اسی ذات کی عطا سمجھیں جس نے ہمیں عدم سے وجود دیا۔ شیطان کی خلقت اور جبلت میں اللہ تعالیٰ نے وہ خصوصیات نہیں رکھیں جو انسان کو عطا کیں۔ اللہ نے انسان میں انس و محبت کا مادہ رکھا ہے، ہمدردی اور رحم جیسی عظیم نعمتیں عطا کیں۔ اگر انسان اللہ کی ان نعمتوں کو چھوڑ کر شیطانی جبلت کو اپنانے کی کوشش کرے گا تو اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو شیطان کا ہوا۔ ایسا انسان دنیا میں بھی شیطان کا پیروکار ہوگا اور آخرت میں بھی اسی کے ساتھ ہوگا۔ اگر ہم اِس دنیا کو جنت نظیر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اسی فطرت کی طرف لوٹنا ہوگا جو خالق نے ہمیں ودیعت کی ہے۔ مَیں (ایک انسان) سے ہم (بے شمار انسان) کا یہ سفر جو انسان نے طے کیا ہے یہی انسانیت کی اصلیت ہے، اسے سمجھنا ہوگا۔ اسی کے مطابق زندگی گزار کر اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو آسودہ بنایا جاسکتا ہے۔

حصہ