کورونا کے درمیان تعصب میں جلتے امریکا کا سماجی میڈیا پر شور

164

ہم شاید یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ سانحہ ساہیوال، خروٹ آباد و دیگر لاتعداد پولیس گردی کے واقعات صرف پاکستان ہی میں ہوتے ہیں۔ کون کہہ سکتا تھا کہ کورونا کے حالات میں امریکا جیسی سپرپاور کو اس طرح کے حالات کا سامنا بھی ہوگا، امریکا کی ریاست منیسوٹا میں پولیس تحویل میں ایک پُرتشدد ہلاکت، لاکھوں کورونا متاثرین سے بھی بھاری ہوگی! 25 مئی کو امریکی ریاست منیسوٹا کے مقامی پولیس افسران کی جانب سے سرِعام ایک 46سالہ سیاہ فام امریکی شہری ’جارج فلائیڈ‘کو بدترین تشدد کے بعد ہلاک کرنے کا واقعہ ’خون رنگ لائے گا‘ والے نعرے کی عملی تصویر بن گیا ہے۔ ویسے آٹوپسی رپورٹ کے بعد جارج کو بھی ’کورونا‘ کا مریض قرار دیا گیا جو کہ 3 اپریل یعنی اُس کی موت سے کوئی 8 ہفتہ قبل ایک ٹیسٹ میں سامنے آیا تھا۔ کہا جارہا ہے کہ اس کے بعد سے امریکا جو خود کو بڑا مہذب اور اعلیٰ انسانی اقدار کا محافظ کہتا تھا، آج نسل پرستی و تعصب کی آگ میں جل رہا ہے۔ 1492ء میں کولمبس نے امریکا میں قدم رکھا، اس کے بعد امریکا کے مقامی سیاہ فام (ریڈ انڈین) سے زبردستی کی نفرت انگیز نسل کُشی کا جو سلسلہ شروع ہوا جو یورپ سے سفید فاموں کی آبادکاری تک جاری رہا، وہ نفرت آج بھی کسی نہ کسی شکل میں وارد ہوتی رہتی ہے۔ امریکا کے حقیقی آبائی باشندوں (سیاہ فاموں)کے بارے میں جو لکھا جاتا ہے وہ کچھ یوں ہے:
The American Indian Holocaust, known as the “500 year war” and the World’s Longest Holocaust In The History Of Mankind
بہرحال اس تازہ واقعہ کے بعد سیاہ فام افراد کے ساتھ پولیس کے بدترین رویّے کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے مستقل جاری ہیں۔ اس عوامی احتجاج کا دائرہ منیسوٹا سے نکل کر کئی امریکی شہروں سے ہوتا ہوا اب یورپ تک جاپہنچا ہے۔ سماجی میڈیا پر تو طوفان مچا ہوا ہے، پھر امریکی صدر کو سوجھتی بھی ایسی ہے کہ وہ خود موضوع بن جاتے ہیں۔ اِن مظاہروں میں پُرتشدد واقعات کے بعد 40 شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، تاہم متعدد شہروں میں مظاہرین کرفیو کے باوجود باہر نکلے نظر آتے ہیں۔ ٹوئٹر، انسٹا گرام سمیت تمام پلیٹ فارم پر امریکی عوام کا غم و غصہ نمایاں ہے۔ جارج فلائیڈ کی گردن گھٹنوں تلے دبائے پولیس والے کی تصویر، اور اس کی کئی میمز کے ساتھ سوشل میڈیا پر All 50 states protest،Justice for George ، White lives Matter تو کبھی Black Lives Matterتو ،Make Whites Great Again،All Lives Matterتوکبھی Trumpout2020 جیسے بے شمار ٹرینڈ بنے۔ ان مظاہروں میں احتجاج تو اپنی جگہ لیکن جو توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہوا ہے وہ مزید خطرناک ہے۔ اربوں ڈالر کے نقصانات پر مبنی لوٹ مار کی سیکڑوں ویڈیوز سوشل میڈیا پر نظر آئیں۔ عجیب افراتفری کا عالم ہے۔ کرفیو بھی حالات قابو کرنے میں ناکام… ایک پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کی ویڈیو بھی وائرل رہی۔کرفیو کی پروا نہ کرتے ہوئے مظاہرین تمام تر پابندیوں کے باوجود امریکی صدر کے دفتر و رہائش گاہ وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، اور خبروںکے مطابق امریکی صدر کو بنکر میں چھپنا پڑا۔ وائس آف امریکا نے رپورٹ کیا کہ ’امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں نسلی تعصب کے خلاف مظاہرے جاری رہے۔ مظاہرین کی وائٹ ہاؤس کے نزدیک آتش زنی، امریکی جھنڈے سمیت گاڑیاں اور دکانیں نذرِ آتش‘۔ جمیل فاروقی نے ٹوئٹ کیا کہ امریکا میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد مظاہروں نے اتنی شدت اختیار کرلی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت اہلِ خانہ کو 60 منٹ تک وائٹ ہائوس کے زیر زمین بنکر میں پناہ لینا پڑی۔ مظاہرین نے جب وائٹ ہائوس پر دھاوا بولا تو ٹرمپ کو اہلِ خانہ سمیت بھاگ نکلنا پڑا۔ صدر ٹرمپ کے بیانات میں اتنی نفرت شامل تھی کہ خود ٹوئٹر نے امریکی صدر کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری کردہ ایک ٹوئٹ پر ’تشدد کو ہوا دینے‘ کا الزام لگاکر اُس کو ڈیلیٹ تو نہیںکیا البتہ وارننگ لگا دی۔ ویسے یہ بھی بہت تھا۔ ایک اور اہم واقعہ ہیوسٹن پولیس چیف کی جانب سے امریکی صدر کو بھی ایسے نفرت آمیز بیانات دینے کے خلاف شٹ اپ کال دینے کا ہوا جسے سی این این سمیت سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی ملی۔ سوشل میڈیا پر بے شمار تصاویر اور ویڈیوز میں ایک اور بات سامنے آئی ہے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران امریکی پرچم کی توہین بہت کھل کر کی گئی ہے۔ جھنڈے جلانے کے علاوہ اسے الٹا لہرا کر نظام سے نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے مطابق قومی پرچم کی آتشزدگی و توہین غداری نہیں بلکہ حکومت کے خلاف ناراضی اور غصے کا اظہار ہے۔
امریکا میں دس دن سے جاری پُرتشدد مظاہروں میں اب تک نقصانات کا تخمینہ امریکا کے سالانہ بجٹ سے زیادہ بتایا جاتا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے کئی ریاستوں میں کرفیو لگاکر باقاعدہ فوج طلب کرلی ہے۔ لیکن عالمی ابلاغی اداروں کی مانند پاکستانی میڈیا پر اس حوالے سے نہ تو تخریبی کارروائیوں کی لائیو رپورٹنگ ہورہی ہے اور نہ نام نہاد تجزیہ کار تبصرے اور تجزیے کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ سخت ابلاغی ممانعت کے باوجود سماجی رابطوں کے آزاد ذرائع ابلاغ پر جو مناظر دکھائے جارہے ہیں ان سے اندرونی صورت حال کی حساسیت اور نزاکت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ نیویارک اور واشنگٹن سمیت کئی شہروں میں امریکی شہری اپنے ہی ملک کا پرچم نذرِ آتش کرنے میں مصروف ہیں، تو دوسری طرف امریکا مخالف عالمی رہنماؤں کے حق میں نعرے لگائے جارہے ہیں۔
پولیس سے نفرت کا عالم انتہائی شدید ہے، ایک ویڈیو میں تو پولیس کی تمام گاڑیوں پر احتجاجی اسپرے کردیا گیا تھا۔ امریکا میں پولیس کا سیاہ فام امریکیوں کے خلاف یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اسی طرز کے کئی واقعات ایسے ہی احتجاجی ردعمل کے ساتھ رونما ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی ویڈیوز میں امریکی پولیس کی عوام پر شدید تشدد و بہیمانہ رویّے کی کئی ویڈیوز شامل تھیں۔ ان کو دیکھ کر یہی تبصرے کیے گئے کہ ’’امریکی پولیس کا یہ والا روپ آپ نے نہیں دیکھا ہوگا۔ میرے لیے بھی حیران کن بات ہے کہ ساری دنیا کو انسانی حقوق سکھانے والے امریکا کے گھر کے حالات کیا ہیں۔ کالوں کے احتجاج کی بہرکیف کوئی وجہ تو ہے۔‘‘
ایک پوسٹ میں ’’امریکا کی بربادی کے لیے 20 ڈالر کافی ہیں‘‘ کے عنوان سے یوں خاکہ کھینچا گیا کہ ’’جارج فلائیڈ ایک سیاہ نسل امریکی تھا۔ اُس نے ایک دکان سے کوئی چیز خریدی اور 20 ڈالر اس کی قیمت ادا کی۔ دکان والے کو لگا کہ یہ نوٹ شاید جعلی ہے، اُس نے عمومی پریکٹس کے مطابق مقامی پولیس کو فون کیا اور فلائیڈ پر الزام لگایا کہ اس کے پاس جعلی نوٹ ہیں۔ پولیس موقع پر فوراً حاضر ہوگئی اور متوقع ملزم کو سیاہ فام دیکھ کر غالباً روایتی تعصب کا شکار ہوگئی، چنانچہ وہ واقعہ پیش آیا جس نے امریکا کو ہلاکر رکھا ہواہے۔ جارج فلائیڈ ایک سفید فام امریکی پولیس افسر کے گھٹنوں کے نیچے دم گھٹنے سے فوت ہوگیا جبکہ وہ مسلسل چیخ رہا تھا: ’’پلیز، میری سانسیں رک رہی ہیں‘‘۔ امریکا جل گیا۔ اُس دُکان کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ بعد میں تحقیق سے پتا چلا کہ فلائیڈ کا دیا ہوا 20 ڈالر کا نوٹ اصلی تھا اور دکاندار کا شک درست نہیں تھا۔ یوں20 ڈالر دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور عسکری طاقت کو ختم کرنے کے لیے شاید کافی تھے۔ وہ اربوں ڈالر جو ٹرمپ دودھ دیتی گائے ’بن سلمان‘ سے نکال لے گیا تھا، اور وہ اربوں ڈالر جو کمزور قوموں کا استحصال کرکے چوری کرکے لے گیا تھا، ان 20 ڈالر کے سامنے بے بس دکھائی دئیے۔ شاید نمرود کے قصے کی آج کے حالات کے مطابق پھر سے تکرار ہورہی ہے۔ وہاں ایک مچھر تھا، یہاں 20 ڈالر‘۔ ایک دوست نے مظاہرین کے پلے کارڈز کو نوٹ کیا: ’’امریکا میں پُرتشدد مظاہرین کے پلے کارڈز پر دو نعرے دیکھے گئے: ’ہم عرب نہیں ہیں کہ آپ ہمیں مارتے رہیں گے اور ہم خاموش رہیں گے!!‘ ’ہم افغانی نہیں ہیں کہ آپ ہمیں قتل کرتے رہیں گے اور ہم خاموش رہیں گے!!‘ اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ ان نعروں کا سیدھا سادہ مطلب ہے کہ عرب اور افغان جاہل لوگ ہیں۔ یہ اتنے برسوں سے دہشت گردی میں ڈوبا ہوا ہے۔ انہیں بے گناہ مارا جارہا ہے لیکن سب خاموش ہیں۔ کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔ کوئی احتجاج نہیں کرتا۔ آئیے ان سے سیکھیں۔ جو ہمارے مسلم ممالک میں غیر قانونی خون بہائے گا ہم اُس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔آئیے اس رجحان کو تبدیل کرتے ہیں۔ ہم ظلم کے ان اصولوں کو نہیں جانتے اور نہ ہی قبول کرتے ہیں۔‘‘
ایک اور دوست لکھتے ہیں کہ ’’انسانیت پسند گورے، کالے، گندمی سب مل کر جارج فلائیڈ کی آواز بن گئے ہیں، پورے امریکا میں ایک ہی پکار ہے ’مجھے سانس نہیں آرہی‘۔ امریکا باون ریاستوں کا غیر فطری مجموعہ ہے جو مفادات کے رشتے سے جڑی ہوئی ہیں۔ عوام کا احتجاج ان کو الگ کرسکتا ہے۔ عوام مطالبہ کرسکتے ہیں کہ ’بدمعاش‘ ریاستوں کے جرائم کی سزا ان کو نفرت کی صورت کیوں ملے! جیسے ہی یہ احساس شدت پکڑ گیا امریکا ٹوٹ جائے گا۔ امریکا میں ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا اور امریکی عوام نے سڑکوں پر احتجاج کرکے سارا امریکا بند کردیا، یہاں تک کہ کرفیو نافذ کرنا پڑگیا‘‘۔ سینیٹر مشاہد اللہ لکھتے ہیں کہ ’’امریکا میں ایک شہری کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر پورا ملک سڑکوں پر آگیا۔ پاکستان میں راؤانوار 450 سے زیادہ شہری مار کر یوں دندناتا ہے جیسے ’فاتح جلال آباد‘ ہو۔کیس کا ڈراما چلا تو ثاقب نثار کرسیِ عدالت پر انتظار کرتے ہوئے استفسار کرتے کہ راؤ انوار صاحب تشریف لے آئے ہیں؟‘‘
پاکستان میں ماورائے عدالت و پولیس گردی کے ہاتھوں کئی بے گناہوں کے قتل کی طویل فہرست ہے۔کراچی کا علاقہ منگھوپیر اس حوالے سے بے حد مشہور مقام ہے، تاہم پاکستان میں کبھی ایسا ردعمل سامنے نہیں آیا، نہ ہی مقتولین کے ورثاء کی جانب سے، نہ ہی کسی سیاسی جماعت میں ہمت ہوئی۔ مسعود ابدالی لکھتے ہیں کہ ’’سوشل میڈیا کا سب سے بڑا عذاب ان مناظر کا مشاہدہ ہے جسے ساری زندگی بھلایا نہیں جاسکتا۔ گزشتہ پیر کو جب گھٹی گھٹی آواز میں ’میں سانس نہیں لے پا رہا‘کی فریاد کرتے جارج فلائیڈ کو دم توڑتے دیکھا تو کراچی کا سرفراز شاہ یاد آگیا جو 2011ء میں اپنے قاتلوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر ’مجھے اسپتال لے چلو‘کی فریاد کرتے چل بسا۔‘‘ ترکی اردو اس صورت حال میں اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سوال اٹھاتا ہے کہ ’’دنیا امریکا میں سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ کے قتل پر بات کررہی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز/ ٹی وی چینلز پر میراتھن نشریات چل رہی ہیں۔ مگر جارج فلائیڈ کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ فلسطینی شہریوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے، روٹین کی بات ہے۔ مگر دنیا خاموش ہے ان دہرے معیارات پر‘‘۔ جارج کی تصاویر سے ملتی جلتی فلسطین، کشمیر، پھر کورونا سے قبل بھارت میں جاری شہریت قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے خلاف تشدد کی تصاویر بھی شیئر کی جاتی رہیں، تاکہ موقع کا فائدہ اٹھا کر یہ شعور بیدار کیا جائے کہ امریکا کا ظلم صرف سیاہ فاموں پر نہیں بلکہ وہ اپنی مجموعی نہاد میں ہی ظالم ہے اور ظلم کی سرپرستی کرتا ہے۔ بھارت میں کشمیر کے علاوہ اب ہر قسم کے مسلمانوں کو بھی ایسے ہی شدید تعصب اور نفرت کا نشانہ بناکر مارا جارہا ہے، اس لیے بھارت اور امریکا کے حالیہ واقعے کا بھی خوب موازنہ سوشل میڈیا پر جاری رہا۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ اس سب کے دوران ’کورونا‘ بدستور جاری ہے اور عالمی موضوع ہے۔ بھارتی بارڈر پرچین کی پیش قدمی اپنی جگہ موضوع رہی، کورونا کا لاک ڈاؤن اور مسائل اپنی جگہ، لیکن مسلم دشمنی و نفرت کا اظہار بدستور جاری رہا۔ ’’سیاہ فام لوگوں کے لیے یہ نفرت مودی کی مسلم کُش نفرت جیسی ہی ہے، صدیوں سے نہ اس ہندو کا مائنڈ سیٹ بدلا اور نہ اس گوری چمڑی والے انگریز کا… افسوس۔‘‘
دوسری جانب کورونا اس ہفتے بھی سوشل میڈیا پر چھایا رہا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کا انجام تیزی سے بڑھتے مریضوں کی صورت سامنے آیا، ہسپتال بھر گئے اور سوشل میڈیا پر سب سے مقبول سوالیہ جملہ تھا کہ ’کیا تمہارے کسی جاننے والے کو ہوا ہے یہ کورونا؟‘ وہ اب اتنی بڑی حقیقت بن گیا کہ ’’کون ہے جو تمہارے جاننے والوں میں اِس سے محفوظ رہا ہے اب تک؟‘‘ پیما (پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن) کے ڈاکٹروں کی کراچی میں پریس کانفرنس نے اس حوالے سے خاصا شور مچایا، حکومتی اعداد و شمار کو مکمل رد کیا اور حقیقت کے برخلاف قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر جاری مختلف سازشی نظریات دم توڑتے نظر آئے جب دھڑادھڑ مریضوں اور انتقال کی خبروں میں اضافہ ہوا۔ اصل چیز احتیاط ہے جس کا معاملہ اب بھی ملک میں ناپید ہی محسوس ہورہا تھا۔
پچھلے ہفتے عظمیٰ خان کیس بھی وقار ذکاء کی ویڈیوز کے نتیجے میں اختتام کو پہنچا اور اداکارہ عظمیٰ خان نے اپنا کیس واپس لے لیا۔ اسی طرح اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے پاکستان اسٹیل کے تمام ملازمین کو ایک ماہ کے نوٹس کے ساتھ نکالنے کا فیصلہ بھی سوشل میڈیا پر خاصا گردش میں رہا۔ خصوصاً وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 2017ء میں پاکستان اسٹیل کے دروازے پر کھڑے ہوکر کی گئی تقریر کا ایک کلپ اور 2017ء میں ہی وفاقی وزیر اسد عمر کا یادگار ویڈیو کلپ بھرپور انداز سے وائرل رہا جس میں انہوں نے خود کہاکہ یہ جملے محفوظ کرلیں اور بعد میں شرمندہ کیجیے گا اگر میں وعدہ نہ پورا کرسکا۔

حصہ