پروفیسر انوار احمد زئی بھی رخصت ہوئے

123

نثار احمد نثار
پروفیسر انوار احمد زئی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ ادیب‘ سفر نویس‘ افسانہ نگار‘ محقق‘ صحافی اور ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ نیک سیرت انسان بھی تھے۔ راقم الحروف کی ان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ایسٹ کراچی تھے۔ وہ علی پبلک اسکول کورنگی کراچی کے سالانہ تقریب تقسیم انعامات کے مہمان خصوصی تھے اور میں اس وقت لانڈھی کورنگی میں بحیثیت ہیڈ ماسٹر اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔ انوار احمد زئی چونکہ حیدرآباد سے کراچی آئے تھے لہٰذا وہ اپنی ٹیم بنانا چاہتے تھے اس مقصد کے لیے انہوں نے تمام سب ڈویژن سے کچھ افراد کا انتخاب کیا تھا ان میں یہ خاکسار بھی شامل ہے۔ مجھے یہ بات کہتے ہوئے کوئی عار نہیں کہ وہ میرے محسن تھے‘ انہوں نے میری پروموشن میں اہم کردار ادا کیا۔ مجھ پر ان کے بے شمار احسانات ہیں انہوں نے ہر مشکل وقت میں میری مدد کی۔ انہوں نے بہ حیثیت ناظمِ تعلیمات کراچی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں قابل ستائش اضافہ کیا اس کے ساتھ اہم بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہر اسکول کی اسمبلی میں درود ابراہیمی کو شامل کیا۔ ایک سرکلر کے ذریعے یہ لازمی قرار دیا گیا کہ ہر اسکول میں بچے درود ابراہیمی پڑھیں گے۔ ان کے زمانے میں کراچی کے گورنمنٹ اسکولوں کا تعلیمی معیار بہتر ہوا‘ مانیٹرنگ سسٹم اچھا تھا۔ ان کے زمانے میں یوم آزادی‘ یوم دفاع پاکستان اور عید میلادالنبیؐ کے بڑے بڑے اجتماعات ہر اسکول میں منعقد ہوتے تھے۔ انہوں نے ایجوکیشن سپروائزر کے مسائل پر بھی خصوصی توجہ دی اس کے ساتھ ٹیچرز کی فلاح و بہبود کے کام بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔
انوار زئی کے تعلیمی اسناد میں ایم اے (انگلش)‘ ایم اے (اردو)‘ ایم اے (سوشیالوجی)‘ ایل ایل بی‘ بی ایڈ‘ ای ایڈ‘ سی ایل (گرامر) اور CAS شامل ہیں۔ وہ اُن دنوں ضیا الدین یونیورسٹی بورڈ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تھے۔ اس سے قبل وہ چیئرمین سیکنڈری ایجوکیشن اور چیئرمین انٹر بورڈ کے عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپور خاص کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیں۔ وہ ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن سندھ کے عہدے پر فائز رہے نیز وہ بہ حیثیت ایڈیشنل سیکرٹری پلاننگ‘ ڈویلپمنٹ اینڈ فنانس اور چیئرمین آف سندھ ٹیکسٹ بورڈ جامشورو‘ پراجیکٹ ڈائریکٹر ورلڈ بینک سندھ‘ پراجیکٹ ڈائریکٹر ایشین ڈویلپمنٹ کے عہدوں پر بھی تعینات رہے۔ وہ جن اداروں سے بھی منسلک رہے وہاں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے میٹرک بورڈ اور انٹربورڈ میں نقل کے خاتمے کے لیے خصوصی طور پر کام کیا اور معروضی سوالات کے پرچوں میں نمایاں تبدیلی کی تاکہ نقل کا رجحان کم ہو سکے۔ وہ ایک ایسے بیورو کریٹ تھے جنہیں عالمی ادب‘ شاعری‘ کرنٹ افیئرز‘ بین الاقوامی مذاہب اور پاکستانی ادب کے حوالے سے ساری دنیا میں معتبر تسلیم کیا گیا۔ وہ بہترین منتظم تھے نیز اسکائوٹنگ کے حوالے سے بھی ان کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔
انوار احمد زئی نے دنیا بھر کے بے شمار ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ اردو ادب کا درخشاں باب تھے۔ نقد و نظر کی دنیا میں انوار احمد زئی ایک معتبر نام تھا‘ ان کے بے لاگ تبصرے اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے طویل عرصے تک اخبارات کے لیے کالم نویسی کی۔ ان کے سفر نامے اور افسانے اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی پہلی کتاب افسانوں کا مجموعہ ’’درد کا رشتہ‘‘ حیدرآباد سے شائع ہوئی تھی اس کے بعد افسانوں کے جو مجموعے آئے ان میں آنکھ سمندر‘ سوچ کا گھائو‘ دل دریچے شامل ہیں اس کے علاوہ سفر ناموں پر مشتمل جو کتابیں ہیں ان میں دیس پردیس اور اپنوں کے درمیان شامل ہیں۔ ان کے مضامین کا مجموعہ قلم گوہر ہے۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’آفتاب‘ دلیل آفتاب‘‘ ہے اس میں نعت‘ سلام اور منقبت کے حوالوں سے سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے اس کے دلاوہ دنیا بھر کے ادبی رسائل اور اخبارات میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے تھے۔ وہ مختلف ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں شامل ہوتے تھے ان کی ماہرانہ گفتگو سے علم و آگہی کے دروازے کھلتے تھے۔ وہ جہاں دیدہ شخصیت تھے انہوں نے بھرپور زندگی گزاری اور تمام عمر لکھنے پڑھنے میں صرف کی۔ میں نے ان کے انتقال سے قبل ضیا الدین یونیورسٹی کے آفس میں ان سے ایک ملاقات کی تھی (جس کی ریکارڈنگ میرے پاس موجود ہے) اس گفتگو کا کچھ حصہ سنڈے میگزین کے قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔
جسارت میگزین: موجودہ زمانے میں ہماری تنقید کا معیار کیا ہے اور کیا آج کے تنقید نگار اپنی ذمے داریاں پوری کر رہے ہیں؟
انوار احمد زئی: تنقید کا بنیادی مطلب پرکھنا‘ جانچنا‘ نقد و نظر ہے۔ جو لوگ کیڑے نکالنے کو تنقید کہتے ہیں‘ وہ تنقید کا مطلب نہیں سمجھتے۔ پہلے زمانے میں مشاعروں میں ملنے والی داد کو ’’خراج تحسین‘‘ سمجھا جاتا تھا اور جن اشعار پر داد نہیں ملتی تھی‘ وہ تنقید کے ذیل میں آتے تھے اور شاعر یہ سمجھتا تھا کہ اس کے اشعار میں کچھ کمی ہے لہٰذا وہ نئے سرے سے مصرعے کہتا تھا۔ آج کل یہ سب نہیں ہو رہا‘ آج کل مشاعروں کو میلے کی شکل دے دی گئی ہے۔ لوگ مشاعروں میں تالیاں بنا رہے ہیں‘ تکیوں پر آرام سے ٹیک لگائے بیٹھتے ہیں اور مشاعروں کے آداب کو پامال کر رہے ہیں۔ سامعین میں سے کوئی مصرع نہیں اٹھاتا۔ ترنم سے اشعار پڑھنے والوں کو اس کے ترنم کی داد مل رہی ہوتی ہے۔ اشعار کے مفہوم اور معنویت پر غور بہت کم کیا جارہا ہے‘ ہمیں ان روّیوں کے بدلنے کی ضرورت ہے۔
اردو ادب میں الطاف حسین‘ حالی‘ شبلی نعمانی اور محمد حسین‘ جن کو ہم اتحادِ ثلاثہ کہتے ہیں‘ تنقید نگاری کے اعتبار سے ان حضرات کا بہت اہم مرتبہ ہے۔ ان کو تنقید نگاری کا ٹرائی اینگل کہا جاتا ہے‘ ان کی کاوشوں سے شعرالعجم‘ مقدمہ شعر و شاعری اور آبِ حیات جیسی عظیم تصانیف اردو ادب میں شامل ہوئی ہیں نیز گورنمنٹ آف پنجاب نے ان حضرات کے ذمے یہ ڈیوٹی بھی لگائی تھی کہ یہ مغربی تنقیدی روّیوں کو اردو زبان و ادب میں آنے سے پہلے ان روّیوں کی اصلاح کریں اور ناقدانِ علم و فن کے لیے صحیح سمت کا تعین کریں۔ یہ حضرات اس مقصد میں پورے اترے اور انہوں نے یہ بتایا کہ کسی فن پارے کو جانچنے کے لیے ہمیں کن کن مراحل سے گزرنا چاہیے۔ ان معتبر ہستیوں کے بعد میرا جی اور حسن عسکری نے جس طرح بالالتزام مغربی تنقیدی روّیوں کا جائزہ لینے کے بعد جو راہیں متعین کی ہیں ان کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ آج کل جو تنقید لکھی جارہی ہے اس میں ایک اہم نام سلیم احمد کا بھی آتا ہے۔ ایک زمانے میں تنقید نگار ایمپائر ہوتا تھا‘ منصف ہوتا تھا‘ غیر جب دار ہوتا تھا۔ مختلف قسم کی تحریکیں بھی تنقید نگاروں پر اثر انداز ہوئی ہیں‘ جن میں ترقی پسند تحریک بھی شامل ہے‘ اس تحریک کے تناظر میں ادیبوں اور شعرا میں مختلف گروپ‘ دھڑے بن گئے اور تنقید نگاری کا شعبہ کمزور ہوتا چلا گیا۔ اس طرح تنقید نگاری اپنے محور و مرکز سے ہٹ گئی۔ آج کل کے زمانے میں یہ ہو رہا ہے کہ ہم نے اپنے اپنے گروہ بنا لیے ہیں‘ کلاسی فیکشن کر لی ہے‘ اپنے اپنے کمپارٹمنٹ بنا لیے ہیں‘ انجمن ستائش باہمی کی بنیاد پر تنقید نگاری ہو رہی ہے‘ ہم اپنے من پسند قلم کاروں کو پروموٹ کر رہے ہیں‘ ان رویوں سے تنقید قریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ آج کل بیشتر تنقید نگار پوری کتاب نہیں پڑھتے بلکہ وہی رٹے رٹائے جملے لکھ دیتے ہیں جو وہ برسوں سے لکھ رہے ہیں۔ وہ مصلحتوں کے شکار ہو گئے ہیں‘ حقائق بیان کرنے میں کنجوسی سے کام لے رہے ہیں‘ وہ کھل کر کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے۔ میرے نزدیک نقاد وہ ہے جو کسی بھی قلم کار کا سارا متن پڑھے‘ اس کی ایک ایک لائن پڑھے اور سمجھے‘ اس کے بعد وہ قلم کار کے مزاج کو سمجھے اور یہ فیصلہ کرے کہ تنقید کے لیے پیش کی جانے والی تخلیق کا موجودہ زمانے میں کیا مقام بنتا ہے اور انے والے وقت میں اس فن پارے کا کیا مقام ہوگا؟ اگر تنقید نگاروں نے تنقید نگاری کے مروجہ اصولوں سے ہٹ کر تنقید لکھی تو اردو زبان و ادب کی ترقی ممکن نہیں۔
جسارت میگزین: آپ کا نظریۂ ادب کیا ہے؟
انوار احمد زئی: شاعری ایک ایسی کیفیت ہے جو کہ ہر شخص پر اثر انداز ہوتی ہے‘ جو شاعری کو سمجھتا ہے یا نہیں سمجھتا‘ شاعری ایک گونج ہے‘ ایک آواز ہے‘ ایک بازگشت ہے‘ ایکو ہے۔ جب یہ آواز آتی ہے تو ہر سماعت سے ٹکراتی ہے‘ اب سماعت کنندہ کی مرضی ہے کہ وہ اسے رد کرتا ہے یا تسلیم کرتا ہے۔ میرے نزدیک ادب کی تین جہتیں ہیں پہلی جہت وہ ہے کہ جس میں شاعر اپنی ذات کا اظہار کرتا ہے‘ اپنی بات کرتا ہے۔ اب یہ وقت بتاتا ہے کہ شاعر کے جذبات کتنے پُراثر ہیں‘ سامع فیصلہ کرتا ہے کہ شاعر کی بات اسے کتنا متاثر کتی ہے۔ وہ شاعر کے خیالات کو رد کرتا یا تسلیم کرتا ہے۔ نقاد بھی یہ بتاتا ہے کہ شاعرکی بات میں کتنا وزن ہے۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ آتا ہے جسے ’’عصری‘‘ مرحلہ کہہ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شاعر کی بات نے‘ شاعر کے خیالات و افکار نے عصرِ حاضر میں کیا مقام بنایا ہے۔ یہ فیصلہ خود بخود شعوری طور پر ہو جاتا ہے۔ اگر کسی شاعر کی تخلیق زمانہ عصر تسلیم کر لیتا ہے تو وہ شاعری آنے و الے زمانے کے لیے ادبی شہ پارہ بن جاتی ہے۔
جسارت میگزین: نعت نگاری کے بنیادی تقاضے کیا ہیں؟ اس سلسلے میں روشنی ڈالیے۔
انوار احمد زئی: میرے نزدیک حمد کہنا آسان ہے‘ نعت کہنا مشکل ہے۔ نعت کہنے کا منصب یہ ہے کہ آپ نعت میں اتنی احتیاط پرتیں کہ سوئے ادب نہ ہو‘ عبد اور معبود کی حدیں آپس میں مل نہ جائیں۔ عبد اور معبود میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ نعت کہتے وقت سیرت مصطفیؐ شریعت مصطفیؐ‘ عشق مصطفیؐ کی ضرورت ہے۔ نعت میں شمائل رسول اور سیرت مصطفیؐ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ آپ اپنی کیفیتِ دل بھی رقم کرتے ہیں۔ نعت کے مجرد اشعار وہ ہیں جن میں صرف رسالت مآبؐ کی بات کی جائے۔ لیکن ہر شاعر حضورؐ سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتا ہے جیسے ’’مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ دیدہ‘‘ یہ واردات قلبی ہو سکتی ہے‘لیکن مجرد نعت کے زمرے میں یہ چیز نہیں آسکتی۔ مدینے کی تعریف یا وہاں جا کر آپ جو کچھ محسوس کریں گے‘ وہ سب واقعات نعت میں لکھے جارہے ہیں‘ یہ سب اظہار عشق محمد مصطفیؐ ہے۔
جسارت میگزین: کیا ہم نعت کو اصنافِ سخن میں شامل کر سکتے ہیں؟
انوار احمد زئی: اب نعت بھی اصنافِ سخن میں شامل ہے۔ جب مکمل طور پر نعت ایک شعبہ بن گیا ہی تو یہ صنفِ سخن ہوئی۔ غزل اور نظم دونوں اصناف سخن ہیں‘ جب کہ غزل کا انداز الگ ہے اور ہر نظم کا اندازجدا ہے۔ نظم کی مختلف شکلیں ہیں اس میں دو مصرعوں والی نظم بھی ہے‘ اس میں ثلائی ہے‘ رباعی ہے‘ قطعہ ہے‘ مسدس ہی‘ مخمس ہے۔ جب آپ نعت کو ایک صنفِ سخن تسلیم کرتے ہیں تو نعت کو کسی بھی ایک صنف سخن کا پابند نہیں کرسکتے۔ نعت‘ غزل کی صورت میں کہی جا رہی ہے۔ نعت‘ نظم کی تمام اشکال میں لکھی جا رہی ہے‘ اس لیے اب نعت ایک صنفِ سخن بن گئی ہے۔
جسارت میگزین: سفر نامے کے سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ سفر نامہ لکھنے کے کیا آداب ہیں؟
انوار احمد زئی: سفر نامے کی ایک پوری تاریخ ہے‘ سند باد جہازی اور ابنِ بطوطہ کے سفر ناموں نے ادب کو مربوط‘ مرتب اور منظم کیا ہے۔ اس زمانے میںجب سفر کی آسانیاں میسر نہیں تھیں‘ سفر نامے کے ذریعے پتا چلتا تھا کہ کسی علاقے کی تہذیب و تمدن کیا ہے‘ وہاں کی سماجیات کیا ہیں؟ ایک زمانے میں سفر کرنا بھی دشوار تھا اور سفر نامہ لکھنا بھی مشکل کام تھا۔ سفرنامے لکھنے کے لیے ہمیں وہاں جانا پڑتا تھا کہ جہاں کا سفر نامہ ہم لکھنا چاہتے ہیں‘ لیکن آج کل تمام معلومات انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں‘ لہٰذا کچھ لوگ گھر بیٹھے انٹرنیٹ کے فیضِ عام کے بل بوتے پر سفر نامبہ لکھ رہے ہیں۔ یہ انتہائی درجے کی چوری ہے‘ سرقہ ہے۔ سفر نامہ نگاروں کی دوسری قبیل وہ ہے کہ جو حقیقت میں ان ممالک میں جاتے ہیں جہاں کا وہ سفر نامہ لکھ رہے ہیں‘ لیکن وہ وہاں جا کر سڑکیں ناپتے ہیں‘ عمارتیں گنتے ہیں اور کچھ اِدھر اُدھر کے واقعات ڈال کر سفر نامے کو رنگین اور دل چسپ بنا رہے ہیں۔ یہ دوسری قسم کی بددیانتی ہے‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لذت کے لیے سفر نامہ لکھ رہے ہیں‘ میرے نزدیک سماجی امتیازات کو سفر نامے کا حصہ ہونا چاہیے۔
جسارت میگزین: آپ معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے کیا تجاویز پیش کرنا چاہیں گے؟
انوار احمد زئی: میں نے میٹرک بورڈ‘ انٹر بورڈ کی چیئرمین شپ کے دوران تعلیم کی بہتری کے لیے کچھ اقدامات اٹھائے تھے مثلاً میں نے امتحانی پرچوں کے طریقۂ کار کو تبدیل کیا‘ امتحانی مراکز کے سلیکشن کے معیار تبدیل کیے‘ امتحانی مراکز پر چیکنگ کرنے والے افراد کا جائزہ لے کر ان کو منتخب کیا۔ میرے ان اقدامات سے کچھ فائدہ ہوا لیکن سو فیصد نتائج نہیں نکل سکے۔ اگر میں ان اداروں میں مزید رہتا تو بہت کچھ کرتا کیوں کہ میرے ذہن میں پوری منصوبہ بندی تھی جس پر میں مکمل طور پر عمل نہیں کرسکا۔ اب یہ بات بھی غور لب ہے کہ اسکولوں میں نویں‘ دسویں کا مجوزہ نصاب مکمل نہیں ہو پاتا جس کے نتیجے میں طلباء و طالبات کوچنگ سینٹرز کا رخ کر رہے ہیں‘ نہم اور دہم کا تجویز کردہ نصاب221 دنوں کا ہے‘ جب کہ آپ 221دن تک اسکولنگ نہیں کر رہے۔ آپ کے تعلیمی ورکنگ ڈیز 170 ہیں‘ یعنی آپ نے 50 دن کم کر دیے ہیں۔ اگر آپ ہر اسکول میں صبح 8 بجے سے 2 بجے تک کلاسز لگائیں‘ تب آپ کا مجوزہ نصاب مکمل ہوگا لیکن کراچی میں 90 فیصد ڈبل شفٹ اسکولز ہیں۔ صبح کا اسکول 8 بجے سے 12:30 تک ہے اور دوپہر کا اسکول 12:45 سے 5:10 تک لگتا ہے‘ جب کہ مجوزہ نصاب کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ہر اسکول میں سات گھنٹے پڑھائی ہو جب کہ ہم پانچ گھنٹے پڑھا رہے ہیں۔ میرے نزدیک ہر پیریڈ 45 منٹ یا ایک گھنٹے پر محیط ہونا چاہیے۔ جن اسکولوں میں سات گھنٹے پڑھائی ہو رہی ہے‘ وہاں نصاب کی تکمیل کا کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر ہم نے نصاب کم کر دیا تو ہم دوسرے ممالک سے پیچھے رہ جائیں گے۔۰ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے لازم ہے کہ والدین کی جانب سے ایک پریشر گروپ بنایا جائے جو تعلیمی اداروں کے معاملات پر نظر رکھے اور ہر تعلیمی ادارے کو مجبور کرے کہ وہ مجوزہ نصاب کو مکمل کرائے۔
جسارت میگزین: گورنمنٹ اور پرائیویٹ اسکولوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو آپ کی کیا رائے ہوگی؟
انوار احمد زئی: میں بلا خوف یہ کہہ رہا ہوں کہ گورنمنٹ اسکولز اپنی اہکیت اور افادیت کھوتے جا رہے ہیں۔ مانیٹرنگ کا فقدان ہے‘ حاضریوں کا تناسب کم ہے‘ گورنمنٹ کے تعلیمی اداروں میں گھوسٹ ملازمین بھی ایک اہم مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ سیکنڈری بورڈ میںامتحان دینے والے طلبہ و طالبات کی 70 فیصد اکثریت کا تعلق پرائیویٹ اسکولوں سے ہے‘ جب کہ گورنمنٹ کے اسکولوں سے صرف 30 فیصد طلبہ آرہے ہیں۔ جب رزلٹ آتا ہے تو 85 فیصد پرائیویٹ اسکولوں کے طلبہ پاس ہوتے ہیں‘ 15 فیصد گورنمنٹ اسکولوں کے بچے اور بچیاں کامیاب ہوتی ہیں۔ اے ون گریڈ پانے والوں میں 90 فیصد پرائیویٹ اسکولوں کے طلباء و طالبات ہوتے ہیں۔ پوری کراچی کی سطح پر پوزیشن لینے والوں میں پرائیویٹ اسکول کے 100 فیصد طلباء و طالبات ہوتے ہیں۔ گورنمنٹ اسکول اس معاملے پر صفر پر کھڑے ہیں۔ آپ گورنمنٹ اسکولوں میں مفت درسی کتب بانٹ کر یا انہیں وظیفہ دے کر گورنمنٹ اسکولوں کا معیار بہتر نہیں بنا سکتے۔ ہمیں شیڈول آف اسٹڈیز کی ضرورت ہے۔ 1997ء تک گورنمنٹ اسکولوں کا معیار تعلیم بہتر تھا۔ لیکن 1997ء کے بعد مختلف وجوہ کی بنا پر گورنمنٹ اسکولوں کا معیار تعلیم زوال کا شکار ہوا۔ اگر آپ گورنمنٹ کے اسکولوں کا معیار بلند کرنا چاہتے ہیں تو ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا پڑے گا۔ گورنمنٹ اسکولوں کے بنیادی مسائل حل کرنے ہوں گے اور مانیٹرنگ کے شعبے کو آزادی دینی ہوگی۔

حصہ