پاکستانی خواتین آج پہلے سے زیادہ پُراعتماد ہیں

328

لائیو شو ہوسٹ اور پروڈیوسر ایمن طارق سے جسارت میگزین کی گفتگو

فائزہ مشتاق
کہا جاتا ہے کہ ٹیلنٹ کسی کی میراث نہیں ہوتی، ٹیلنٹ کے ساتھ اگر لگن ہو تو مواقع بھی ہمراہی بن جاتے ہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب قدرت کی طرف سے عنایت کردہ صلاحیتوں کا نہ صرف ادراک ہو بلکہ ان کے بہترین استعمال کا علم بھی ہو۔ ہمارے ملک میں بھی ایسی بے شمار خواتین ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت کے بل بوتے پر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا مقام بنایا۔ ایمن طارق کا شمار بھی انہی میں ہوتا ہے۔ ایمن طارق سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں۔ اپنے منفرد اندازِ تحریر کی بہ دولت جانی پہچانی جاتی ہیں۔ آج کل لندن کے لوکل اردو چینل سے میزبانی کے فرائض بھی سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کی کامیابیوں کی طویل فہرست ہے جسے مزید جاننے کے لیے ہم نے اُن سے گفتگوکی جو قارئین کی دل چسپی کے لیے پیش کی جارہی ہے۔
جسارت میگزین: سب سے پہلے تو آپ اپنے بارے میں بتائیے۔
ایمن طارق: میں کراچی میں پیدا ہوئی، جامعہ کراچی سے صحافت میں ماسٹرز کیا اور 15 سال سے لندن میں رہائش پذیر ہوں۔ میرے ماشاء اللہ چار بچے ہیں۔ مینٹور کے علاوہ پیرنٹ گروپ لیڈر، لائف کوچ اور لائیو شو پروڈیوسر اور پریزینٹر ہوں۔ شوقیہ نظم و نثر لکھ لیتی ہوں۔
جسارت میگزین: بچپن کیسا رہا؟ دل تو کرتا ہوگا دوبارہ جانے کو؟
ایمن طارق: بچپن نارمل سا تھا۔ بچپن کے دنوں میں واپس جاکر مٹی کے برتنوں سے کھیلنے کا اب بھی دل چاہتا ہے۔ بچپن کے دو کردار نانا اور دادا شخصیت پر بہت اثرانداز ہوئے۔ دونوں بڑھاپے میں بھی فعال رہے اور اپنی صحت کا خیال رکھنے کے ساتھ خاندان اور روزمرہ زندگی میں بھی متحرک تھے۔
جسارت میگزین: لائیو شو کے بارے میں ہمارے قارئین کو کچھ بتائیے، پروگرام کی پیش کش کس طرح ہوئی؟
ایمن طارق: اسلام چینل اردو، جو اسلام چینل انگلش کا حصہ ہے، کا آغاز 2015ء میں ہوا تو اُس کی ٹیم کی طرف سے رابطہ کیا گیا۔ سید نعمان نے جو ہمارے شو پروڈیوسر ہیں، شو ہوسٹ کرنے کی پیش کش کی اور حوصلہ افزائی و رہنمائی بھی کی۔ شوہر سے مشورہ کرنے اور اُن کے اصرار پر ہامی بھر لی۔ ابتدا میں یہ شو ریکارڈ شدہ تھا اور اس کا نام ہم نے ’’ہمارا مستقبل‘‘ تجویز کیا۔ یہ پروگرام تقریباً چھ مہینے چلا۔ اس میں زیادہ تر ہم اولاد کی تربیت پر بات کرتے تھے۔ اس کے بعد ہم نے سوچا کہ لائیو پر جائیں اور اس کا نام بھی تبدیل کیا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ اُس وقت اسکرین پر آنے کے بعد جو اعتماد مجھے چاہیے تھا، میں اسے قائم رکھنے میں اللہ تعالیٰ کی مدد سے کامیاب ہو چکی تھی۔
جسارت میگزین: لائیو شو کب شروع کیا اور کس نوعیت کا ہے؟
ایمن طارق: ’’سسٹرز کیفے‘‘ 2016ء کے وسط میں شروع کیا گیا۔ شو کا نام ’’سسٹرز کیفے‘‘ اس لیے رکھا کہ اس میں گھریلو اور معاشرتی زندگی کے حوالے سے مختلف خواتین کو دعوت دی جائے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ یہ لائیو شو ہے ، ہفتہ وار ’’اسلام چینل اردو‘‘ لندن اسٹوڈیو سے نشر کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں عموماً ایک یا دو خواتین کو موضوع کی مناسبت سے دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ آئیں اور گفتگو میں حصہ لیں۔ اکثر ہم آن لائن بھی شرکاء کو بلاتے ہیں جو دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود اور اپنی فیلڈ میں ماہر ہوں۔ دیکھنے والے کال کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
جسارت میگزین: لائیو ہوسٹنگ کا تجربہ کیسا رہا؟
ایمن طارق: لائیو میزبانی کا تجربہ بہت دل چسپ ہے اور میں اسے بہت انجوائے کرتی ہوں۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ اس سے پہلے چھ مہینے ریکارڈ شو کرچکی تھی، شاید اس لیے اتنا مشکل نہیں لگا۔ سوال پوچھنا، شو میں شریک ہونے والوں کو موضوع تک محدود رکھنا، پوری گفتگو کا خلاصہ اختتام سے پہلے بیان کرنا اور اس کے ساتھ اسٹوڈیو میں موجود پروڈکشن ٹیم کی ہدایات سننا، سب ملٹی ٹاسکنگ کا حصہ ہے۔ لائیو شو ہوسٹ کرنا اور مختلف معاشرتی موضوعات پر دیکھنے اور سننے والوں کو آگاہی فراہم کرنا اس قدر سکون اور اطمینان بخش کام ہے کہ میں اس سے بہت پازیٹو محسوس کرتی ہوں۔ اسکرین کے اُس پار بیٹھے ہوئے کتنے ہی لوگوں کے دلوں پر دستک دینا، دماغ کو سوچنے کے لیے مواد فراہم کرنا اور لوگوں کی الجھی زندگیوں کو سلجھانے میں اپنا حصہ ڈالنا، یہ سب کرتے ہوئے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ شاید مجھے اللہ تعالیٰ نے ایسی ذمے داری سونپ دی ہے جس کے لیے میں جو اب دہ ہوں۔ میری ذمے داری ہے کہ اپنے حصے کا چراغ جلاتی جاؤں۔ اللہ تعالیٰ قبول کریں اور کوئی اچھا کام لے لیں۔
جسارت میگزین: شو کے دوران کبھی کسی شرمندگی کی صورتِ حال کا سامنا ہوا؟
ایمن طارق: نہیں، شرمندگی کا تو کبھی سامنا نہیں ہوا البتہ کبھی کبھی کچھ کالرز موضوع کے برخلاف کوئی ذاتی مسئلہ پوچھ لیں تو مشکل لگتا ہے۔
جسارت میگزین: پسندیدہ موضوعات کون سے ہیں؟ ایسے کون سے موضوعات ہیں جن پر آپ کو لگتا ہے کہ آج بھی بحث کی ضرورت ہے؟
ایمن طارق: پسندیدہ موضوعات ذہنی صحت، اولاد کی تربیت اور disabilities Learning ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ ان موضوعات پر مزید آگاہی کی ضرورت ہے۔
جسارت میگزین: بحیثیت شاعرہ اور مصنفہ اب تک آپ کی کتنی تحریریںہیں؟
ایمن طارق: میری بے شمار تحریریں ہیں۔ زیادہ تر فیس بک اور مختلف ویب سائٹس کے لیے لکھی ہیں، جن میں ’’دلیل‘‘ اور ’’ادیب‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔
جسارت میگزین: آپ اتنی پُراعتماد دکھائی دیتی ہیں، خداداد صلاحیت ہے یا آہستہ آہستہ پروان چڑھی؟
ایمن طارق: پرائمری تعلیم تک بالکل اعتماد نہیں تھا، البتہ اعتماد پیدا کرنے کی خواہش تھی۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ خود کو کمفرٹ زون سے نکال کر ہر مرحلے پر آگے بڑھانے کی کوشش کرتی رہی۔ اسکول میں ہونے والے تقریری مقابلوں اور جہاں جہاں آگے بیٹھ کر اپنے دوست احباب کے مسائل اور ایشوز پر بات کرسکتی تھی، وہاں لیڈرشپ کوالٹی میں اضافے کے لیے شعوری کوشش کی۔ کراچی یونیورسٹی میں جمعیت طالبات کی انچارج بھی رہی، جس سے مزید مواقع ملے۔ بعد میں جامعات میڈیکل کالجز کی ذمے داری کے دوران مختلف اداروں میں جاکر لوگوں سے ملنے اور بات کرنے کا سلیقہ آیا۔
جسارت میگزین: آج کی پاکستانی خواتین کو آپ کیسے دیکھتی ہیں؟
ایمن طارق: پاکستانی خواتین آج پہلے سے زیادہ پُراعتماد اور باشعور ہیں۔ بڑی تعداد دین کی سمجھ رکھتی ہے اور دنیا کو بھی ساتھ لے کر چلنا جانتی ہے۔ یہ خواتین ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں سے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں، البتہ اولاد کی تربیت پر ان کی گرفت کمزور ہورہی ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔
جسارت میگزین: کون سے سماجی اور معاشرتی رویّے تکلیف کا باعث بنتے ہیں؟
ایمن طارق: معاشرتی بے حسی دل دکھاتی ہے، نقالی کی دوڑ میں اپنی اصل بھول جانے والے رویّے بھی تکلیف دہ ہیں۔
جسارت میگزین: اپنا مینٹور کس کو مانتی ہیں؟
ایمن طارق: میں سمجھتی ہوں کہ میری مینٹور کوئی ایک شخصیت نہیں۔ میری والدہ میری محاسب، میری جمعیت کی سینئرز میری ذاتی تربیت اور خود کو سدھارنے کے موقع فراہم کرنے والی، میری پھوپھیاں مجھے بغیر نصیحت اپنے کردار سے بہت کچھ سکھانے والی، انگلینڈ کی اسلامی آرگنائزیشن میں میرے سینئرز سب میرے مینٹور اور رہنما تھے جن کی محبت، اخلاص اور بھرپور رہنمائی نے مجھے ہر قدم آگے بڑھنے میں مدد دی۔
جسارت میگزین: آپ ورسٹائل اور پختہ سوچ کی حامل خاتون ہیں، یہ کس کی تربیت کا نتیجہ ہے؟
ایمن طارق: محنت و لگن کا بہت ہاتھ ہے، اور تربیت پہلے زمانے میں آج کی طرح باقاعدہ منصوبہ بندی اور ایکٹیوٹی پر مبنی نہیں ہوتی تھی بلکہ آپ کے بڑے بغیر کہے آپ کے اندر اپنی سوچ و اقدار منتقل کرتے تھے۔
جسارت میگزین: شاعری، نثر اور میزبانی کون سا شعبہ چیلنجنگ رہا؟ کس میں مزا آیا؟
ایمن طارق: شاعری، نثر اور میزبانی سب میرے گہرے دوست اور میرے لیے آئینہ ہیں، ان کے اندر میں خود سے ملتی اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہوں۔ چیلنجنگ کوئی بھی نہیں۔ جس میں بھی محنت کی، رزلٹ نظر آیا۔ جہاں محنت کم کی وہاں مزا بھی نہیں آیا۔
جسارت میگزین: آپ کی کامیابیوں میں فیملی کا کردار کیسا رہا؟ گھر کو کیسے وقت دیتی ہیں؟
ایمن طارق: میرا خیال ہے فیملی سپورٹ کے بغیر کچھ بھی نہ ہوپاتا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میرا ہر ممکن ساتھ رہا۔ جہاں جہاں اپنے قدم بڑھانے کی کوشش کی، وہاں روکا نہیں گیا بلکہ حوصلہ افزائی کی گئی۔ شوہر، بچے، حتیٰ کہ میں سسرال سے دور رہتی ہوں لیکن پھر بھی حوصلہ افزائی ہوئی۔ گھر ہمیشہ اوّلین ترجیح رہتی ہے۔ اگر وہاں سکون نہ ہو تو کوئی بھی کام کرنا مشکل ہے۔ اس لیے کوشش کی کہ گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو پڑھانا سب استطاعت بھر کیا جائے اور ساتھ اپنے شوق بھی پورے کیے جائیں۔ یقینا ہمیشہ سب کچھ بہت آئیڈیل نہیں ہوا، لیکن الحمدللہ اس پر محنت ضرور کی۔ میں ذاتی طور پر رشتوں سے جڑی رہنا اور اُن سے محبت کا اظہار کرنا پسند کرتی ہوں، اس لیے اس کو بہتر بنانے کے لیے کوشش بھی کرتی ہوں۔
جسارت میگزین: کوئی ایسا واقعہ جو آج بھی مسکراہٹ بکھیر دیتا ہو؟
ایمن طارق: لندن میں پہلی بار بہت اونچے ایسکیلیٹر(بجلی سے چلنے والی سیڑھیاں) سے نیچے آرہی تھی تو گھبراہٹ کے مارے اپنا ہینڈ کیری ہاتھ سے چھوڑ دیا جو نیچے جاکر میرے شوہر کے قدموں میں ڈھیر ہوگیا اور وہ ہکا بکا دیکھتے رہ گئے۔
جسارت میگزین: آپ کے مشاغل کیا ہیں؟ اپنی کس عادت کو بدلنا چاہیں گی؟
ایمن طارق: مجھے خاص اہتمام سے دعوتیں کرنے کا بہت شوق ہے۔ گھر کی سیٹنگ کو ہر کچھ دن بعد بدلتی رہتی ہوں۔ گنگنانا، نئی نئی ترکیبیں ایجاد کرنا اور دوسروں سے بھی شیئر کرنا میرے پسندیدہ مشاغل ہیں۔ لوگوں سے ملنا ملانا اور تحفے دینا، اچھی کتابیں خریدنا مجھے اچھا لگتا ہے۔ میں ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش میں رہتی ہوں۔ میں ہر کام ڈیڈلائن سے ذرا پہلے کرتی ہوں، اپنی اس عادت کو بدلنا چاہوں گی۔
جسارت میگزین: مطالعے کا شوق ہے؟ ادب کی دنیا میں کس سے متاثر ہیں؟
ایمن طارق: مطالعے کا شوق اپنے گھر سے ملا۔ اپنے ددھیال، سسرال میں پڑھنے کی عادت دیکھ کر دل چسپی میں مزید اضافہ ہوا۔ اسلامک لٹریچر میں خرم مراد کی تحریروں سے متاثر ہوں۔ اردو ادب میں الطاف فاطمہ کا اندازِ تحریر پسند ہے۔
جسارت میگزین: وطن سے دوری تو ستاتی ہوگی؟
ایمن طارق: بالکل، اپنی سرزمین، اپنی مٹی کی یاد تو ستاتی ہے، لیکن الحمدللہ آنے کے مواقع مل جاتے ہیں۔
جسارت میگزین: بحیثیت خاتون کن مسائل کا سامنا رہا؟ خواتین مضبوط اور خود مختار کیسے بن سکتی ہیں؟
ایمن طارق: مجھے لگتا ہے کہ بحیثیت خاتون ملٹی ٹاسکنگ مشکل ہوجاتی ہے۔ گھر، پروفیشن، اولاد، رشتے دار، دوست احباب، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے تعلق، معاشرتی ذمہ داریاں، داعیانہ کردار… یہ سب ساتھ نبھانا ناممکن سا نظر آتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ایک خاتون گھر کے میدان میں باہمی رضامندی سے کچھ پُرامن ماحول پیدا کرلے اور یہ سوچ لے کہ اس کا وجود تصویر کائنات میں رنگ بھرنے کے ساتھ معاشرے کی مضبوطی میں اپنا کردار بھی ادا کرنا ہے، تو وہ سب کچھ کر سکتی ہے۔

حصہ