سید مودودیؒ سے چند سوالات

114

اعظم طارق کوہستانی

مولانا مودودیؒ بلاشبہ ایک مجدد ہیں، آپ آج ہی کے نہیں بلکہ آنے والے کل کے بھی امام ہیں، اُن کے انتقال کو چالیس برس گزر چکے ہیں لیکن اُس کے باوجود آپ ان کا لکھا ہوا پڑھیں تو بالکل تازہ مسائل پر بھی وہ باتیں اور آرا فٹ بیٹھتی ہیں جو کئی برس قبل اُنھوں نے بیان کیے تھے، موجودہ دور کے چند مسائل کو لیکر جب مولانا سے رجوع کیا تو مولانا کی کتابوں میں درج ذیل جوابات ملے ، یہاں ان سوالات اور مولانا کے جوابات دیے جارہے ہیں، اُمید ہے کہ اس سے نا صرف چند جدید مسائل کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ دماغی تطہیر کا ذریعہ بھی ثابت ہوگا۔یاد رہے کہ جوابات مولانا مودودیؒ کی کتب سے اَخذ شدہ ہیں۔

انسان ایک قسم کا جانور ہے، جو دوسری چیزوں کی طرح شاید اتفاقاً یہاں پیدا ہوگیا ہے۔ ہمیں اس سے بحث نہیں کہ اسے کس نے پیدا کیا اور کس لیے پیدا کیا۔ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ یہ اس زمین پرپایا جاتا ہے ،کچھ خواہشیں رکھتا ہے جنھیں پورا کرنے کے لیے اس کی طبیعت اندر سے زور کرتی ہے، کچھ قوٰی اور آلات رکھتا ہے ۔جو ان خواہشوں کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور اپنے گردوپیش زمین کے دامن پر بہت سا سامان پھیلا ہوا ہے،لہٰذا اس کی زندگی کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ طبیعت حیوانی کے مطالبات پورے کرے اور اس کی انسانی استعدادوں کا مصرف اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ ان مطالبات کو پورا کرنے کے بہتر سے بہتر ذرائع فراہم کرے۔
دوسرا نظریہ شرک کے اصول پر مبنی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کا نظام اتفاقی تو نہیں ہے اور نہ بے خداوند ہے ،مگر اس کا ایک خداوند Master)) نہیں بلکہ بہت سے خداوند ہیں۔
یہ خیال چوں کی کسی علمی ثبوت (scientific proof) پر مبنی نہیں ہے ۔بلکہ محض خیال آرائی پر اس کی بنا ہے، اس لیے موہوم، محسوس اور معقول اشیا کی طرف خداوندی والہٰیت کو منسوب کرنے میں مشرکین کے درمیان نہ کبھی اتفاق ہو سکتا ہے ،نہ کبھی ہوا ہے ۔اندھیرے میں بھٹکنے والوں کا ہاتھ جس چیز پر بھی گیا وہ خدا بنا لی گئی اور خداؤں کی فہرست ہمیشہ گھٹتی بڑھتی رہی، فرشتے، جن، ارواح، سیارے، زندہ اور مردہ انسان، درخت، پہاڑ، جانور، دریا، زمین، آگ، سب دیوتا بنا ڈالے گئے۔ بہت سے معانی مجروہ(abstract idea) مثلاً محبت، شہوت، قوتِ تخلیق، بیماری، جنگ، لچھمی، شکتی وغیرہ کو بھی خدائی کا مقام دیا گیا ۔طرح طرح کے خیالی مرکبات،مثلاً شیرانسان، ماہی انسان، پرندہ انسان، چہارسرا، ہزاردستہ، خرطوم بینی وغیرہ بھی مشرکین کے معبودوں میں جگہ پاتے رہے۔
تیسرا نظریہ رہبانیت پر مبنی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا اور یہ جسمانی وجود انسان کے لیے ایک دارا لعذاب ہے۔ انسان کی روح اس قفسِ عنصری میں دراصل ایک سزا یافتہ قیدی کی حیثیت رکھتی ہے۔ لذات وخواہشات اور تمام وہ ضروریات جو اس جسمانی تعلق کی وجہ سے انسان کو لاحق ہو تی ہیں دراصل اس قید خانے کے طوق و سلاسل ہیں۔ انسان اس دنیا اور اس کی چیزوں سے جتنا تعلق رکھے گا اتنا ہی گندگی سے آلودہ ہوگا اور اسی قدر مزید عذاب کا مستحق بن جائے گا۔ نجات کی صورت اس کے سواکوئی نہیں کہ اس زندگی کے بکھیڑوں سے قطع تعلق کیا جائے، خواہشات کو مٹایا جائے، لذات سے کنارہ کشی کی جائے، جسمانی ضروریات اور نفس کے مطالبات کو پورا کرنے سے انکار کیا جائے ان تمام محبتوں کو جو دینوی اشیا اور گوشت و خون کی رشتہ داریوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، دل سے نکال دیا جائے اور اپنے اس دشمن، یعنی نفس وجسم کو مجاہدات وریاضات کے ذریعہ سے اتنی تکلیفیں دی جائیں کہ روح پر اس کا تسلط قائم نہ رہ سکے ۔اس طرح روح ہلکی اور پاک صاف ہوجائے گی اور نجات تک بلند مقامات پر اُڑنے کی طاقت حاصل کر لے گا۔
چوتھا نظر یہ وہ ہے جسے انبیاعلیہم السلام نے پیش کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے :
یہ سارا عالم ہست وبود جو ہمارے گرد پیش پھیلا ہوا ہے اور جس کا ایک جزوہم خود ہیں ،دراصل ایک بادشاہ کی سلطنت ہے۔ اسی نے اسے بنا یا ہے ،وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس کا واحد حاکم ہے۔ اس سلطنت میں کسی کا حکم نہیں چلتا۔سب کے سب تابع فرمان ہیں اور اختیارات اسی ایک مالک و فرماں روا کے ہاتھ میں ہیں۔
انسان اس مملکت میں پیدائشی رعیت ہے ۔یعنی رعیت ہونا یا نہ ہونا اس کی مرضی پر موقوف نہیں، بلکہ یہ رعیت ہی پیدا ہوا ہے اور رعیت کے سوا کچھ اور ہونا اس کے امکان میں نہیں ہے۔ اس نظام حکومت کے اندر انسان کی خود مختاری وغیر ذمہ داری کے لیے کوئی جگہ نہیں، نہ فطر تاً ہوسکتی ہے ۔پیدائشی رعیت اور ایک جزوِ مملکت کے تمام اجزابادشاہ کے امر کی اطاعت کررہے ہیں اسی طرح یہ بھی کرے ۔یہ خود اپنے لیے طریق زندگی وضع کرنے اور اپنی ڈیوٹی آپ تجویز کر لینے کا حق نہیں رکھتا۔اس کا کام صرف یہ ہے کہ مالک الملک کی طرف سے جو ہدایت آئے س کی پیروی کرے ۔اس ہدایت کے آنے کا ذریعہ وحی ہے اور جن انسانوں کے پاس وہ آتی ہے وہ نبی ہیں۔
مگر انسان کی آزمائش کے لیے مالک نے یہ لطیف طریقہ اختیار کیا ہے کہ آپ بھی چھپ گیا اور اپنی سلطنت کا وہ پورا اندرونی انتظام بھی چھپادیا ،جس سے وہ تدبیر امر کرتا ہے۔ ظاہر میں سلطنت اس طرح چل رہی ہے کہ نہ اس کا کوئی حاکم نظر آتا ہے ،نہ کار پرداز دکھائی دیتے ہیں۔انسان صرف ایک کا خانہ چلتا ہوا دیکھتا ہے ،اس کے درمیان اپنے آپ کو موجود پاتا ہے اور ظاہر حواس سے کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ میں کسی کا محکوم ہوں اور کسی کو مجھے حساب دینا ہے ۔اعیان وشہود میں کوئی ایسی نشانی نمایاں نہیں ہوتی کہ اس پر فرماں روائے عالم کی حاکمیت اور اپنی محکومیت و مسئولیت(responsibility)کا حال غیر مشتبہ طور پر کھل جائے ،یہاں تک کہ مانے بغیر چارہ نہ رہے۔ نبی بھی آتے ہیں تو اس طرح نہیں کہ ان کے اوپر عیاناً وحی اترتی دکھائی دے یا کوئی ایسی صریح علامت ان کے ساتھ اترے جسے دیکھ کر ان کی نبوت ماننے کے سوا چارہ نہ رہے ۔پھر آدمی ایک حد کے اندر اپنے آپ کو بالکل مختار پاتا ہے ۔بغاوت کرنا چاہے تو اس کی قدرت دے دی جاتی ہے ،ذرائع بہم پہنچادیے جاتے ہیں اور بڑی لمبی ڈھیل دی جاتی ہے ،حتّٰی کہ شرارت وعصیان کی آخری حدود کو پہنچنے تک کوئی رکاوٹ اسے پیش نہیں آتی ۔مالک کے سوادوسروں کی مدد کرنا چاہے تو اس سے بھی زبردستی اسے نہیں روکا جاتا ،پوری آزادی دے دی جاتی ہے کہ جس جس کی بندگی،عبادت،اطاعت کرنا چاہے۔ دونوں صورتوں ،یعنی بغاوت اور بندگی غیر کی صورتوں میں رزق برابر ملتا ہے ،سامان زندگی ،وسائل کار،اسبابِ عیش حسب حیثیت خوب دیے جاتے ہیں اور مرتے دم تک دیے جاتے رہتے ہیں ۔کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی باغی یا کسی بندۂ غیر سے محض اس جرم کی پاداش میں اسباب دنیا روک لیے جائیں۔
یہ ساراطرز کا رروائی صرف اس لیے ہے کہ خالق نے انسان کو عقل،تمیز،استدلال،ارادہ واختیارکی جو قوتیں دی ہیں اور اپنی بے شمار مخلوقات پر اسے ایک طرح کے حاکمانہ تصرف کی جو قدرت بخشی ہے ،اس میں وہ اس کی آزمائش کرنا چاہتاہے ۔اسی آمائش کی تکمیل کے لیے حقیقت پر غیب کا پردہ ڈالا گیا ہے تاکہ انسان کی عقل کا امتحان ہو۔انتخاب کی آزادی بخشی گئی ہے تاکہ اس امر کا امتحان ہو کہ آدمی حق کو جاننے کے بعد کسی مجبوری کے بغیر خود اپنی رضاورغبت سے اس کی پیروی کرتا ہے یا خواہشات کی غلامی اختیار کرکے اس سے منہ موڑجاتا ہے ۔اسبابِ زندگی کا سرمایہ ،وسائل اور کام کاموقع نہ دیا جائے تو اس کی لیاقت و عدم لیاقت کا امتحان نہیں ہوسکتا۔
یہ دینوی زندگی چوں کی آزمائش کی مہلت ہے اس لیے یہاں نہ حساب ہے نہ جزانہ سزا۔ یہاں جو کچھ دیا جاتا ہے وہ کسی عمل نیک کا انعام نہیں بلکہ امتحان کا سامان ہے اور جو تکالیف، مصائب، شدائد وغیرہ پیش آتے ہیں وہ کسی عمل بد کی سزا نہیں بلکہ زیادہ تر اس قانونِ طبعی کے تحت جس پر اس دنیا کا نظام قائم کیا گیا ہے ،آپ سے آپ ظاہر ہونے والے نتائج ہیں۔ اعمال کے اصلی حساب ،جانچ پڑتال اور فیصلے کا وقت مہلت کی یہ زندگی ختم ہونے کے بعد ہے اور اسی کا نام آخرت ہے ۔لہٰذا دنیا میں جو کچھ نتائج ظاہر ہوتے ہیں وہ کسی طریقہ یا کسی عمل کے صحیح یا غلط،نیک یا بد اور قابل اخذ یا قابل ترک ہونے کا معیار نہیں بن سکتے۔ اصلی معیار آخرت کے نتائج ہیں اور یہ علم کہ آخرت میں کس طریقے اور کس عمل کا نتیجہ اچھا اور کس کا بُرا ہوگا، صرف اس وحی کے ذریعے سے حاصل ہوسکتاہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیا پر نازل ہوئی ہے۔جزئیات وتفصیلات سے قطع نظر، فیصلہ کن بات جس پر آخرت کی فلاح یا خسران کا مدار ہے،یہ ہے کہ اولاًانسان اپنی قوت نظرو استدلال کے صحیح استعمال سے اللہ تعالیٰ کے حاکم حقیقی ہونے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے من جانب للہ ہونے کو پہچانتا ہے یا نہیں۔ ثانیاً اس حقیقت سے واقف ہونے کے بعد وہ (آزادیٔ انتخاب رکھنے کے باوجود)اپنی رضا ورغبت سے اللہ کی حاکمیت اور اس کے امرِ شرعی کے آگے سرِ تسلیم خم کرتا ہے یا نہیں ۔‘‘
٭…٭
اسلام اور جاہلیت کی اصولی وتاریخی کشمکش کے بارے میں پڑھنے کے لیے مولانا مودودیؒ کی لازوال کتاب ’’تجدید واحیاے دین‘‘ پڑھیے۔
حوالہ: ابوالا علیٰ، مودودی،سید، تجدید واحیاے دین، باب اول ، اسلامک پبلی کیشنز، لاہور، ص:12
٭…٭
جدید تعلیم کے ساتھ دینیات کا جو ڑ …کیا ہمارے بچوں کو خدا سے قریب کرسکتا ہے؟
جواب: ہمارے ہاں یہ تصور عام ہے کہ اسلامیات کا سبق پڑھا دینے سے ہم اپنی نئی نسل کو اسلام سے روشناس کرارہے ہیں۔اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے مولانا مودودیؒ اپنی کتاب ’’تعلیمات‘‘ میں رقمطراز ہیں:
انگریزی حکومت کے قیام کے بعد جب یہ نظام تعلیم ملک میں رائج ہوا اور ترقی وخوش حالی کے تمام دروازے ان لوگوں کے لیے بند کردیے گئے جو یہ تعلیم حاصل نہ کریں تو ہما ری قوم کے صاحب فکر وتدبیر لوگوں کو یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ نظام تعلیم ہماری نئی نسلوں کو بالکل ہی نا مسلمان بنا کر نہ رکھ دے۔ اس لیے اُنھوں نے چاہا کہ اسی نظام کے تحت خود اپنے اہتمام میں قومی مدد سے، کالج اور یونی ورسٹیاں قائم کریں جن میں طلبہ کو پڑھایا تو وہی کچھ جائے جس کے لیے انگریز اُنھیں تیار کرنا چاہتا ہے، مگر ساتھ ساتھ دینیات کی تعلیم کا جوڑ بھی لگادیا جائے تاکہ وہ بالکل کافر ہی ہوکر نہ رہ جائیں۔
یہ ایک اصلاح کی تجویز تھی اور خیال یہ کیا گیا تھا کہ اس طریقے سے ہم ان مسلمان نوجوانوں کو جو ہمارے اداروں میں آکر پڑھیں گے، ان بُرے اثرات سے کسی نہ کسی حد تک بچا سکیں گے جو انگریزی تعلیم سے اُن میں پہنچنے کی توقع تھی لیکن تجزیے نے ثابت کردیا اور عقل سے بھی آپ سوچیں تو یہی آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ اس طرح کے قلم لگانے سے حقیقت میں کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ پیوندی انسان تیار کرنے کی ایک عجیب کوشش تھی جو قطعاً ناکام ہوئی اور قانون فطرت کے مطابق اسے ناکام ہونا ہی چاہیے تھا۔
ایک طرف آپ ایک طالب علم کو تمام دینوی علوم اس طریقے سے پڑھاتے ہیں کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ سارا کار خانہ بے خداہے اور خدا کے اندر کہیں اسے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ اس کارخانۂ دنیا میں یا اس کارخانۂ زندگی میں کہیں خدا کا کوئی مقام ہے، کہیں رسول ؐ کا کوئی مقام ہے، کہیں وحی کی کوئی حاجت ہے۔ سارے کے سارے نظامِ زندگی کووہ اسی نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔اس کے بعد یکایک آپ دینیات کی کلاس میں لے جا کر اسے بتاتے ہیں کہ خدا بھی ہے اور رسول بھی ہے اور وحی بھی آتی ہے اور کتابیں بھی آتی ہیں ۔آپ خود غور کیجیے کہ دنیا کے مجموعی تصّور سے الگ اور بالکل بے تعلق کر کے یہ اطلاع جو آپ اسے دے رہے ہیں اسے وہ اس مجموعے میں آخر کہاں نصب کرے گا ؟ کس طرح آپ ہر طالب علم سے یہ توقع کرسکتے ہیں کہ کائنات اور زندگی کے بے خدا تصّور کے ساتھ دینیات کی یہ پوٹلی جو آپ الگ سے اس کے ہاتھ میں تھمادیتے ہیں، اسے کھول کر روز کے روز دوسرے اجزائے علم کے ساتھ ترکیب دیتارہے گا اور خود بخود اپنے ذہن میں ایک دوسرا باخدا تصور مرتب کرتا رہے گا۔
پھراس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے قومی خرچ پر جو درس گاہیں قائم کیں ان میں بھی ہم نے وہی سارا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جو سرکاری درس گاہوں میں تھا۔ ہم نے کوشش کی کہ وہ انگریزی کلچر ہی کے رنگ میں رنگے جائیں۔ ہم نے کھیلوں میں اور نشست و بر خاست میں اور رہنے سہنے میں اور مسائل پر بحثوں میں، غرض ہر چیز میں یہی کوشش کی کہ ہماری یہ قومی درس گاہیں کسی طرح بھی سرکاری درس گاہوں سے مختلف نہ ہوں۔ بالکل اسی معیار کے آدمی یہاں سے نکلیں جیسے سرکاری درس سے نکلتے ہیں اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ انگریزی معیار کے لحاظ سے سرکاری درس گاہوں سے نکلے ہوئے لوگوں سے کسی طرح بھی کم تر ہیں۔ جب یہ مقصد ہمارے سامنے تھا اور اسی کی خاطر ہم نے پورا فرنگیت کا ماحول طاری کرنے کی کوشش کی تو ماحول کے اندر اسلام کی وہ ذراسی قلم جونے لگائی وہ آخر اپنا کیا رنگ دکھا سکتی تھی۔ تعلیمی حیثیت سے وہ نہایت کم زور تھی ۔ دوسرے کسی نصابِ تعلیم سے اس کا کوئی جوڑ نہ تھا۔ جتنے دلائل ایسے ہوسکتے تھے جو خداپرستی کے لیے کار آمد ہوتے وہ سارے کے سارے دلائل ہم نے ناخدا پرستی اور ناخدا شناسی کے لیے فراہم کرکے دیے۔ اس پر مزید ہم نے یہ کیا کہ اپنے قومی کالجوں میں بھی سرکاری کالجوں کی طرح زندگی کا پورا ماحول ذہنی تربیت کا پورا نظام ایسا رکھا جو اسلام کے اس کم زور سے پیوند کے بجاے فرنگیت اور اِلحاد کے لیے ہی سازگار تھا۔ اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہ تھی جو اس پیوند کو غذا دینے والی ہو، بلکہ ہرچیز عین اس کی فطرت کے خلاف تھی۔ یہ سب کچھ کرکے ہم کسی معجزے کی توقع رکھتے تھے کہ دینیات کی اس تعلیم کی اس تعلیم سے حقیقت میں کوئی دینی جذبہ پیدا ہوگا، کوئی دینی رجحان نشوونما پائے گا، حالانکہ قانونِ فطرت کے مطابق اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا اور یہی عملاً برآمد ہوا کہ جن طلبہ کو اس طریقے سے دینیات کی کالجوں سے زیادہ بدتر ہوگئی۔ یہ واقعہ ہے کہ ہمارے کالجوں میں بالعموم دینیات کا گھنٹہ تفریح اور مذاق کا گھنٹہ رہا ہے اور اس نے دلوں میں ایمان پیدا کرنے کے بجاے رہے سہے ایمان کابھی خاتمہ کردینے کی خدمت انجام دی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ہم خود اپنی اولاد کے سامنے اپنے دین کو تمام دوسرے مضامین سے حقیر تر نا پیش کریں گے تو اس کی کم از کم سزا جو قدرت کی طرف سے ہمیں ملنی چاہیے وہ یہی ہے کہ ہمارے بچے ہماری آنکھوں کے سامنے ملحد اور زندیق بن کر اُٹھیں اور اپنے ان بزرگوں کو احمق سمجھیں جو خدا،رسول اور آخرت کو مانے۔
اسلام میں تعلیم کا تصور کیا ہے۔جدید تعلیمی نظام سے متعلق اسلام کا نقطہ نظر کے بارے میں جاننے کے لیے مولانا مودودیؒ کی معروف کتاب ’’تعلیمات‘‘ پڑھیے۔
حوالہ: ابوالا علیٰ، مودودی،سید، تعلیمات، باب چھہ (اسلامی نظام تعلیم اور پاکستان میں اس کے نفاذ کی عملی تدابیر)، اسلامک پبلی کیشنز، لاہور، ص:95

حصہ