بچوں کا پسندیدہ رسالہ ماہ نامہ ساتھی

113

سیمان کی ڈائری

کلیم چغتائی صاحب اس رسالے کے شریک بانی اور پہلے مدیر تھے۔2009اور2015میں بچوں کا کل پاکستان مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔حالیہ وبا(کورونا) کے دنوں میں بھی ساتھی کی اشاعت کا سلسلہ رکا نہیں ۔ان مشکل حالات میں بھی طلبہ نے آن لائن اشاعت کو جاری رکھا اورجو ویب سائٹ پر موجود ہے۔ بچوں کے لیے خوش آئند بات یہ کہ بہت جلد ماہنامہ ساتھی کی ایپلی کیشن متعارف کرائی جائے گی جس سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کے قارئین اپنے موبائل فون پرایپ اسٹور سے با آسانی ڈاؤن لوڈ کر کے رسالہ پڑھ سکیں گے۔

علامہ اقبالؒ نے بچوں کے لیے بہت کچھ لکھا۔ ان کی نظم ’’بچے کی دعا‘‘ نسل در نسل یاد کروائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ ’’پہاڑ اور گلہری، گائے اور بکری، پرندے کی فریاد، جگنو، ہمدردی‘‘ وغیرہ بہت سی نظمیں لکھیں جن میں بچوں کی کایا پلٹنے اور ان کی بہترین تربیت کی کوشش کی گئی ہے۔ علامہ اقبالؒ بچوں کی تعلیم کے ساتھ تربیت کے بھی قائل تھے۔ انھوں نے ایک مقالہ ’’بچوں کی تعلیم و تربیت‘‘ بھی لکھا جو مخزن نے جنوری 1902ء کو شائع کیا۔اصغر سودائی کی نظم ’’پاکستان کا مطلب کیا‘‘ کو خاصی شہرت ملی۔اسی طرح میاں بشیر احمد جو کہ قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے بڑے عقیدت مند تھے، انھوں نے قائدؒ کے لیے نظم لکھی جسے خاصی پذیرائی ملی اور آج بھی بچے یوم قائدؒ پر پڑھتے ہیں ’’ملت کا پاسباں ہے‘‘۔اس دور میں بچوں کے نثری ادب میں پریم چند کی کہانیوں میں ’’عبرت، عید گاہ، معصوم بچہ، گُلی ڈنڈا، طلوع محبت، کشمیری، سیب، سچائی کا انعام‘‘ اہم ہیں۔ڈپٹی نذیر احمد، حسن نظامی، احمد قاسمی، نہرو، ڈاکٹر ذاکر، حامد حسن قادری، امتیاز علی تاج، اشرف صبوحی، حجاب امتیاز علی، ہاجرہ مسرور، رام لال اور کمال رضوی نے بھی گراں قدر اضافہ کیا۔بچوں کے ادب میں صوفی تبسم کی خدمات کافی زیادہ ہیں۔ ان کی نظمیں ’’ہمارا دیس، قائداعظمؒ، ٹوٹ بٹوٹ کی آپا، مدرسہ، بادل، آیا بسنت میلہ، ریچھ والا وغیرہ بھی ہیں۔اسی طرح اسماعیل میرٹھی کی خدمات کی بنا پر اُنھیں بابائے ادبِ اطفال کہنا بے جا نہ ہوگا۔انھوں نے اپنی ساری زندگی بچوں کے ادب کے لیے لگا دی۔حفیظ جالندھری کی دو کتابیں ’’بہار پھول، اور پھول مالا‘‘ بچوں کے لیے لکھی گئی ہیں۔اسی طرح حامد اللہ افسر،قتیل شفائی،مسرور انور ، جمیل الدین عالی ،احمد فراز،صہبا اختر، کلیم عثمانی،اسحٰق جلال پوری،چراغ حسن حسرت،آغا شید کاشمیری،مولانا ظفر علی خاں، احمدحاطب صدیقی نے بچوں کے لیے نظمیں لکھیں۔ بچوں کے نثر نگاروں میں کرشن چندر، عصمت چغتائی، احمد عباس، شوکت تھانوی، قراۃ العین حیدر وغیرہ اہم ہیں۔بچوں کے لیے لکھنے والوں میں ایک معتبر نام جنا ب مسعود احمد برکاتی کا بھی آتا ہے۔بچوں کے لیے ڈرامے اور پروگرام لکھنے والوں میں فاروق قیصر عرف انکل سرگم، فاطمہ ثریا بجیا کا نام بھی آتا ہے۔بچوں کے لیے ناول لکھنے والوں میں راشد الخیری، سراج انور، کرشن چندر، انور عنایت اللہ، عزیز اثری، نظر زیدی، لطیف فاروقی،امتیاز علی، وغیرہ کے نام آتے ہیں۔اسی طرح ہم تاریخ کے اوراق کھنگالتے جائیں تو ہمیں بچوں کے ادب کے لیے معروف ادیبوں کے بیش بہا قیمتی خزانے ملیں گے اور ان سب کا احاطہ محض ایک کالم میں ممکن نہیںلیکن ان کا چیدہ چیدہ ذکر بھی ضروری ہے۔ایک اور بات کی وضاحت کہ پہلے حصے میں بچوں کے ادب کے حوالے سے تفصیل سے اس لیے لکھا تاکہ جو نئے قاری ہیں انھیں تاریخ میں بچوں کے ادب کے لیے لکھی گئی تحاریر،شعرا اور نثر نگاروں کے نام سے آگاہی ہو۔ کیوں کہ بچوں کا ادب، بچوں کی تربیت اور ذہنی نشونما کے لیے دنیا کے ہر معاشرے میں ایک اہم جزو رہا ہے اور پہلے حصے میں محققین کی بچوں کے ادب پر تاریخ میں لکھی گئی تحریروں سے اقتباس شامل کیے۔
بچوں کے ادب کے حوالے سے آج بھی ملک اور باہر کے ممالک میں کسی ادارے کی زیر سرپرستی یا اپنی مدد آپ کے تحت رسائل اور جرائد ہر ماہ باقاعدگی سے نکالے جاتے ہیں۔ ایسے ہی بچوں کا ایک اچھا اور معیاری، اردو زبان کا رسالہ ماہنامہ ’’ساتھی ‘‘ہے۔بچوں ،بڑوںمیں یکساں مقبولیت کی وجہ اس میں موجود بہترین ادبی مواد ہے ۔اس ادبی مواد کا باقاعدگی سے بہترانداز میں انتظام کرنے کے لیے ماہ نامہ ساتھی کی ٹیم موجود ہے اوراس کے تمام ارکان طالبِ علم ہیں۔ رسالے کے مدیر ایک باصلاحیت ،تعلیم یافتہ نوجوان اور شاعر عبدالرحمان مومن ہیں ۔ماہنامہ ساتھی کی یہ ٹیم دن رات اس رسالے میں نیا کرنے کی تگ و دو میں مگن رہتی ہے۔اس رسالے کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ابتداہی سے اس کی قیادت باصلاحیت افراد کے ہاتھوں میں رہی ہے ۔ اس کا پہلا شمارہ اگست 1977ء کو کراچی سے شائع ہوا۔ شروع میں اس کا نام پیامی تھا جسے بعد میں تبدیل کر کے ساتھی کر دیا گیا۔ کلیم چغتائی صاحب اس رسالے کے شریک بانی اور پہلے مدیر تھے۔2009اور2015میں بچوں کا کل پاکستان مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔حالیہ وبا(کورونا) کے دنوں میں بھی ساتھی کی اشاعت کا سلسلہ رکا نہیں ۔ان مشکل حالات میں طلبہ نے ساتھی کی آن لائن اشاعت کو جاری رکھا اورتقریباًاس کے تمام شمارے ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ بچوں کے لیے خوش آئند بات یہ کہ بہت جلد ماہنامہ ساتھی کی ایپلی کیشن متعارف کرائی جائے گی جس سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کے قارئین اپنے موبائل فون پرایپ اسٹور سے با آسانی ڈاؤن لوڈ کر کے رسالہ پڑھ سکیں گے ۔
ماہنامہ ساتھی میں موجود مواد بچوں کی اردو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انھیں مختلف طریقوں سے معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔اسی لیے اساتذہ ساتھی کو بچوں کی معلومات میں اضافے کے علاوہ ان کا شوقِ مطالعہ بڑھانے کے لیے بھی اسے پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ماہنامہ ساتھی میں بچوں کے لیے مختلف اقسام کی مزیدار کہانیاں اور نظمیں شامل ہوتی ہیں جو ان کے لیے ذخیرہ الفاظ اور زبان کی فصاحت کا ذریعہ بنتی ہیں ۔ان کہانیوں سے بچوں کی نہ صرف کردار سازی ہوتی ہے بلکہ ان میں شوقِ مطالعہ اور مثبت انداز میں سوچنے کی عادت بھی پروان چڑھتی ہے۔اس کے علاوہ سائنسی تجربے ماہنامہ ساتھی کے مستقل سلسلوں میں شامل ایک دلچسپ سلسلہ ہے جس سے بچوں کو ماحول سے واقفیت حاصل کرنے کے علاوہ نت نئی معلومات بھی ملتی ہیں اوربچے سیکھتے ہیں۔ ایک صفحہ عالمِ اسلام کی دنیا بھر میں خوب صورت مساجد کی تعمیر اور تزئین و آرائش سے متعلق معلومات پر مبنی ہوتا ہے جس سے اسلامی ثقافت کی پہچان اور تاریخ سے بچوں کو شناسائی فراہم کی جاتی ہے۔اسلامی مضامین میں صحابہؓ کرام کی زندگی کے اچھے کرداروں اور مختلف پہلوؤں سے رہنمائی فراہم کی جاتی ہے ۔ مستقل سلسلوں میں’’دل پہ دستک‘‘،’’ رومی کی حکایت‘‘ ہے ۔ دل پہ دستک کے سلسلے میں علامہ محمد اقبال کی شاعری کو آسان اندازمیں بچوں تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے کہ کس طرح علامہ اقبال نے قرآن مجید کے پیغام کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کے لیے عام کیا ہے۔اس رسالے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں عہدِ موجود کے اہم شعرا اور نثر نگاروں کی تحریریںشامل ہوتی ہیں۔ جانوروں کی دنیاسے متعلق اس معلوماتی حصے میں ان جانوروں کی عادات اور ان کے ماحول سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ شکاریات سراغ رسانی کی داستانوں میں عہدِ بلوغت کے طلبہ میں ذوقِ مطالعے کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف نوعیت کی شکاری مہم، مہم جوئی یا سراغ رسانی پر مبنی داستانیں ماہنامہ ساتھی کا اہم حصہ ہیں۔ ان داستانوں کے ذریعے طلبہ کا ذوقِ مطالعہ پختگی کی جانب گامزن ہوتا ہے۔ امور خانہ داری میں بچیوں کو طاق کرنے اور انھیں سگھڑ بنانے کے لیے خاص کہانیوں، مضامین کی اشاعت کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ذرا کھلکھلائیے میں لطائف کا انتخاب بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے ۔ تاریخ کی کھوج میں بچوں کی تاریخی معلومات کو بڑھانے اور اُن کی اردو کو بہتر بنانے کے لیے سوالات پر مشتمل مقابلہ دیا جاتا ہے جس میں حصہ لے کر بچے بہت سی معلومات سے مستفیض ہوتے ہیںاور صحیح جواب دے کر انعام بھی حاصل کرتے ہیں جو کہ اُن کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتا ہے۔ حصہ اردو زبان ہماری میں اردو زبان و بیان کے حوالے سے جناب اطہرہاشمی صاحب کا خاص مضمون شامل کیا جاتا ہے جس سے بچوں کی اردو نہ صرف بہتر ہوتی ہے بلکہ ان کو اردو قواعد کی پہچان بھی ہوجاتی ہے۔ بچوں میں فنون لطیفہ کے اہم رکن مصوری میں مہارت پیدا کرنے کے لیے مصوری کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس سے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی تخلیقات شائع کی جاتی ہیں۔’’ آپ کی تخلیق ‘‘میں نئے لکھاری بچوں کی تخلیق کردہ کہانیاں اور نظمیں شاملِ اشاعت ہوتی ہیں۔ وہ بچے جو لکھنا چاہتے ہیںوہ ماہنامہ ساتھی سے رابطہ کر کیاپنی تخلیقات اصلاح کے بعد شائع کرا سکتے ہیں۔خطوط کا بہت اچھا سلسلہ ہے جس میں بچے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیںاوراِس سے ان میں لکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور یہ تمام چیزیں ساتھی کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
ماہنامہ ساتھی کے حالیہ شمارے مئی2020میںپیارے نبی اکرم ﷺکی عید ،جناب کلیم چغتائی کا ـ’علم کا خزانہ‘، عربی ادب سے ماخوذ ایک کہانی تحفہ اورقرنطین پر ایک دلچسپ تحریرشامل ہے۔ نظم کورونا کی کہانی،قائد کے نام خط جس میں پاکستان کے پریشان کن حالات اور کشمیر پر ہونے والے مظالم کا ذکر ہے ۔ایک معلوماتی مضمون آخر آپ تھکتے کیوں ہیں؟انعامی سلسہ الفاظ کا تعاقب جس میں شہروں ،پرندوں تاریخی شخصیات، پھل جانور ،رنگوں کے نام پوشیدہ رکھے گئے ہیں جنھیں صحیح جواب دینے والے بچوں کو اکیڈیمی بک سنٹر کی جانب سے کتابیں دی جائیں گی۔ایک ملاقات میں معروف ایپلی کیشن اسلام 360کے بانی زاہد حسین چھیپا سے گفتگو کا احوال درج ہے ۔معروف شاعر عمران شمشاد کا ایک مختصر مضمون میں کون ہوں ؟اورماہر ِ امراض اطفال ڈاکٹر اظہر چغتائی سے کورونا وبا سے متعلق احتیاطی تبدابیر پر مبنی گفتگو اور مختلف صفحات پر بچوں کی نظمیں شامل ہیں۔غرض یہ کہ ماہنامہ ساتھی میں ہر وہ تخلیق موجود ہے جو بچوں کی ذہنی تربیت کے لیے ضروری ہے ۔ہر تحریر،نظم کا اندازِ بیاں ایسا ہے کہ بچے اسے نہ صرف باآسانی پڑھ لیتے ہیں بلکہ ان کے معانی بھی ان پرواضح طورپر آشکار ہوتے ہیں۔اچھا ساتھی قدرت کا بہترین تحفہ ہے اور کتاب سے بڑھ کر آپ کا اچھا ساتھی کوئی نہیں۔

حصہ