یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

129

پاکستان پہلے دن ہی سے ناشکروں اور اللہ کی اس عظیم نعمت کے منکروں کا یرغمال بنا رہا ہے۔ جی چاہتا ہے فیض احمد فیضؔ سمیت اُن تمام شاعروں کی نظمیں، غزلیں اور گیت بھارت کے شہروں کی اُن جلی ہوئی مسلمان بستیوں کے باہر زور زور سے سناؤں اور کہوں کہ وہ تمہارے ہی بھائی تھے جو قائداعظم محمد علی جناحؒ کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ایک ایسی سرزمین کی جانب چل پڑے تھے جو آج اُن کے لیے جائے امن ہے، اور اُس وقت ایک جائے پناہ تھی۔ انہیں بتاؤں کہ ہمارے ہاں صبحِ آزادی کے نام پر ہمارے شاعر فیض احمد فیضؔ نے جویہ لکھا تھا: ۔

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

یہ شعر بلکہ یہ پوری نظم بھارت کے مظلوم مسلمانوں پر آج کس قدر سچ ثابت ہوتی ہے۔
مغربی بنگال کے ضلع ہگلی کے علاقے ٹیلی نی پاڑہ میں 10 مئی 2020ء کو جلی ہوئی دکانیں، خاکستر ہوئے گھر، خون میں لتھڑے ہوئے ’’اللہ… اللہ…‘‘ پکارتے مرد، عورتیں اور بچے… آنسو، آہیں اور چیخ و پکار کے مناظر نظر آتے ہیں، تو مجھے اس ملک پاکستان کی تاریخ کا ہر وہ ناشکرا شاعر، ادیب، مصنف، صحافی اور اینکر پرسن زہر لگنے لگتا ہے جو اس جائے امن سرزمینِ پاکستان کے خلاف لکھتا اور بولتا رہا ہے۔
آخری چند برس تو ہم پر قیامت کے گزرے ہیں، جب اخبارات کے صفحات اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں ابوالکلام آزاد کی پیشن گوئیوں کو حرف بہ حرف سچ ثابت کرنے اور انہیں مستقبل کی خبر دینے والا ایک سچا رہنما دکھانے کے لیے میرے ملک کی ناکامیوں اور ناآسودگیوں کی داستانیں بڑھا چڑھا کر پیش کی گئیں۔ زبان پر یہ جملے کس دیدہ دلیری سے آئے کہ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو آج ہم امن میں ہوتے۔
میری قبیل کے وہ لوگ جو اس ملک سے، اس کے نظریے سے، اس کی اساس سے اور اس کے لاالٰہ الااللہ والے تشخص سے محبت کرتے ہیں، قیامِ پاکستان سے اب تک زہر میں بجھے یہ فقرے سنتے چلے آئے ہیں۔ یہی فقرے پچاس سال پہلے مشرقی پاکستان میں ایک منصوبے کے ساتھ عام کیے گئے تھے۔ انہیں مظلومیت، لاچاری، بے آسرا پن اور استحصال کے منظرنامے دکھاکر آگ بگولا کیا گیا، اُن کے سامنے بھارتی سماج کی رنگینیوں اور کثیرالمذہب ہم آہنگی کی جھوٹی تصویریں پیش کرکے گمراہ کیا گیا، تو بے چارہ بنگالی مسلمان اس فریب میں ایسا آیا کہ بھارتی افواج کو مسیحا تصور کرنے لگا۔ پھر ایک دن وہ اس ’’جائے امن‘‘ پاکستان سے علیحدہ ہوگیا اور اس نے علیحدہ وطن بنا لیا۔ مگر میرے ملک کا یہ ناشکرا اور جھوٹا دانشور آج بھی ہمیں اس بنگلہ دیش کی خوش حالی کی خوش کن تصویریں دکھا کر گمراہ کررہا ہے۔ یہ کیسی خوش حالی ہے کہ اس بنگلہ دیش کے ڈیڑھ کروڑ شہری ناجائز طریقے سے سرحد پار کرکے بھارت میں چند ہزار کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں، بلکہ اس قدر مجبور ہیں کہ قتل ہورہے ہیں، لیکن واپس بنگلہ دیش بھی نہیں جا پارہے۔ یہ بنگلہ دیشی مہاجرین ہی تو ہیں جن کی وجہ سے بھارت مسلمانوں کے لیے شہریت کا قانون لے کر آیا ہے۔
پاکستان سے علیحدگی کے بعد یہ کیسی خوش حالی آئی ہے کہ بنگلہ دیش سے بہلا پھسلا کر بہتر مستقبل کا جھانسا دے کر 20 لاکھ کے قریب بچیاں دنیا کے بازاروں میں بیچی گئی ہیں۔ ابھی تک ہر سال پچاس ہزار بنگلہ دیشی بچیاں بھارت میں لاکر فروخت کی جاتی ہیں۔
16دسمبر 1971ء سے پہلے تو میرا مشرقی پاکستان ایسا نہ تھا، لیکن میرے ملک کا ناشکرا سیاست دان اور پاکستان کی اساس سے بغض رکھنے والا دانشور اُس وقت کے مشرقی پاکستان کو ایک جہنم کہتا تھا اور آج کے بنگلہ دیش کو جنت۔ بنگال کے ٹیلی نی پاڑہ کے مسلمانوں کی یہ داستان کوئی نئی کہانی نہیں ہے۔ صرف بنگال کی آزادی کے بعد کی تاریخ کی بات کرتے ہیں، جس کی خواب ناکی کا ذکر کرکے میرے مشرقی پاکستانیوں کو گمراہ کیا گیا تھا۔ آج 2020ء کا تباہ شدہ ٹیلی نی پاڑہ اُسی دریائے ہگلی کے کنارے واقع ہے، جس دریا میں گزشہ ستّر سال سے مسلمانوں کی خون آلود لاشیں تیرتی چلی آرہی ہیں۔
1964ء کاکلکتہ کسی کو یاد ہے جب مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں پر حملے شروع ہوئے، لوٹ مار کی گئی، سو سے زیادہ مسلمان شہید کردیے گئے اور 438 شدید زخمی ہوئے تھے۔ 70 ہزار کے قریب مسلمان جان بچانے کے لیے اپنے گھربار چھوڑ کر اُس وقت کے مشرقی پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش میں جاکر پناہ گزین ہوگئے۔ یہ مسلم کُش سلسلہ کلکتہ تک نہیں رکا تھا، بلکہ گاؤں گاؤں پھیل گیا تھا۔ فوج بلانی پڑی، اور فوج نے 58 ہزار مسلمانوں کو ہندوؤں کے بڑھتے ہوئے ہجوم سے نجات دلائی۔
ابھی تک مشرقی پاکستان جائے پناہ تھی کہ وہاں جاکر اطمینان کا سانس لے سکتے تھے۔ لیکن جب یہی مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا تو وہاں کے بنگالی اس خیال میں گم تھے کہ اب تو ہم نسل، زبان اور زمین و تہذیب کے حوالے سے ایک ہوچکے ہیں تو چلو وہاں قسمت آزمائی کرتے ہیں۔ بے چارے بنگلہ دیشی ’’بہتر مستقبل‘‘ کے لیے بھارت منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ لیکن جیسے ہی ان مسلمانوں کی تعداد بھارت میں تھوڑی زیادہ محسوس ہونے لگی، 1983ء میں نیلی کے مقام پر ہندو غنڈوں اور بلوائیوں نے بنگلہ دیش سے آئے ہوئے ان مسلمانوں پر حملہ کردیا، جن میں سے اٹھارہ سو سے زیادہ مسلمانوں کو باقاعدہ چھریوں سے ذبح کیا گیا۔ اس فساد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی علاقے میں ہونے والی سب سے بڑی قتل و غارت تھی، اس لیے کہ ذبح کیے جانے والوں میں سے اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی۔
اس قتل و غارت پر تیواڑی کمیشن بنا جس نے 600 صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کروائی، جسے آج تک شائع نہیں کیا گیا۔ یہ تو صرف بنگال اور بنگالی مسلمانوں کی اذیت ناک داستان ہے، جس کا تازہ ترین ہولناک منظر ٹیلی نی پاڑہ میں نظر آیا۔ لیکن اس گنگا جمنی مشترکہ سرزمین پر 1970ء میں بھی فسادات ہوئے جن میں مسلمانوں کے ہزاروں گھر نذرِ آتش کردیے گئے، 1980ء میں مراد آباد میں تقریباً ڈھائی ہزار مسلمان شہید کیے گئے، اور واقعے کی ساری منصوبہ بندی پولیس سے مل کر کی گئی۔
1988ء میں بھاگل پور شہر میں ایک ہزار مسلمان قتل کردیے گئے۔ بھاگل پور کا واقعہ، جو رام مندر کی تعمیر کی تحریک شروع ہونے کے بعد پہلا واقعہ تھا، 22 مئی 1987ء کو میرٹھ شہر میں آرمڈ کانسٹیبلری کے 19 جوان، 42 مسلمانوں کو ٹرک پر سوار کرکے لے گئے، انہیں مراد نگر کے قریب جنگلوں میں لے جاکر مار دیا اور لاشیں نہر میں پھینک دیں۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد 1992ء کے ممبئی فسادات میں 900 مسلمان شہید کیے گئے اور نریندر مودی کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران 2002ء میں گجرات کا قتل عام تو ایک عالمی سطح کی دہشت و سفاکی کا سانحہ ہے۔
گزشتہ ساٹھ سال سے مسلمان بھارت کے اندر ہی مسلسل ہجرت کررہے ہیں، لیکن یہ ہجرت کسی دوسرے ملک کی جانب نہیں بلکہ اپنے ہی گھروں سے نکل کر بھارت ہی میں اُن پسماندہ اور بدترین حالات والی کچی آبادیوں کی جانب ہے، جنہیں عرفِ عام میں Ghettos کہا جاتا ہے۔ جہاں بدبو ہے، سڑاند ہے، غربت و افلاس ہے، صحت ہے نہ تعلیم، پانی ہے نہ سیوریج کا نظام۔ وہ جو 1947ء میں ایک ہجرت کے منکر تھے، اللہ نے انہیں اسی بھارت کے اندر مستقل مہاجر بنادیا۔ یہ ہے وہ شب گزیدہ سحر اور داغ داغ اجالا۔ میرے ملک کا ناشکرا دانشور آزادی پر لکھی ہوئی ساحر لدھیانوی کی یہ نظم بہت زور شور سے پڑھتا تھا، خصوصاً یہ شعر :۔

چلو وہ کفر کے گھر سے سلامت آ گئے لیکن
خدا کی مملکت میں سوختہ جانوں پہ کیا گزری

خدا کی مملکت میں تو سوختہ جان آج بھی امن سے ہیں اور عزت و آبرو سے زندہ ہیں۔ لیکن بغیر خدا والی سیکولر مملکت کا نوحہ بھی لکھ دو۔ آج کوئی نہیں بولے گا۔ اللہ ناشکروں سے وہ زبان ہی چھین لیتا ہے جو شکر گزاری کرنے کے قابل ہو۔

حصہ