پہاڑوں کے بیٹے

71

اُمِ ایمان
(دسویںقسط)
یوں تو شیر دل کی سارے محلے سے اچھی جان پہچان تھی اور اسکول کی وجہ سے سارے ہی لوگ شیر دل کی دل سے قدر کرتے تھے لیکن مہرو یعنی مہربان خان کے باپ سے شیر دل کی اچھی خاصی دوستی تھی۔
شام کو دکان سے واپسی پر وہ بہت دیر مہرو کے باپ سبحان خان کی بیٹھک پر بیٹھا باتیں کرتا رہتا تھا۔ زیادہ تر تو ملک کے حالات کے حالات ہی زیر بحث آتے تھے۔ دونوں کو اس معاملے میں بے حد تشویش تھی۔ سبحان خان کی معلومات زیادہ وسیع تھی۔ وہ اکثر کوئی نہ کوئی کتاب شیر دل کو پڑھنے دیتا تھا پھر دونوں اس کے اوپر بات چیت کرتے اور یوں شیر دل کا ذوق بھی کتب بینی کی طرف بہت زیادہ ہو گیا پھر جب اسکول کے ایک نگراں کی ضرورت ہوئی تو سبحان خان نے ہی محلے کے سامنے شیر دل کا نام لیا اور یوں شیر دل نے اپنا صبح کا وقت اسکول کے نام کر دیا۔
ایک دن بیٹھک میں گپ شپ کرتے کرتے سبحان خان خاموش سا ہو گیا شیر دل کے بہت پوچھنے پر سبحان خان نے بڑے دل گیر لہجے میںکہا کہ ’’شیر دل! کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے کہ ہم صرف بیٹھے بیٹھے باتیں بنا رہے ہیں۔ دیکھو تو اخبار روسی مظالم سے بھرا پڑا ہے۔ وہ روسی کتے ہماری بہنوںاور مائوں کی عزتوں کو تاراج کرنے سے بھی نہیں چوکتے اور ہم بس یہاں بیٹھے زبان ہلانے کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔‘‘
سبحان خان کی نظریں سامنے دیوار پر گڑی تھیں۔ اس کا چہرہ جوش کے باعث سرخ ہو رہا تھا۔ آنکھوں کی نمی بتا رہی تھی کہ دل میں طوفان برپا ہے جو آنکھوں سے چھلک رہا ہے۔
…٭…
زبیر کی نظریں سانپوں کی دہشت سے خوفزدہ لڑکوں پر جم کر رہ گئی تھیں۔ فوجی نے رائفل سے ٹہوکا دیا تو چونک کر وہ آگے بڑھ گیا۔ آگے ایک سے ایک دل ہلا دینے والے منظر اس کا انتظار کر رہے تھے۔ اذیت دینے والے خوف ناک اوزار اور مشینیں کمروں میں لگی تھیں خون آلود کپڑوں کے ساتھ کہیں کہیں ستم رسیدہ افراد مشق ستم بنائے جارہے تھے۔ ایک کمرے میںکئی تابوت نما بکس رکھے تھے جن کے گرد مختلف پائپ فٹ تھے۔ا سے بتایا گیا کہ ان پائپوں کے ذریعے پہلے انتہائی گرم کھولتا ہوا پانی گزارا جاتا ہے۔ بس کے اندر لیٹا ہوا مجرم اپنے آپ کو تنور میں محسوس کرتا ہے۔ پھر فوراً گرم پانی کے بجائے انتہائی سرد برفیلا پانی گزارا جاتا ہے۔ گرم اور ٹھنڈ کی اچانک تبدیلی سے فالج کا حملہ ہوتا ہے اور مجرم جب باہر نکالا جاتا ہے تو وہ اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔
آخری کمرے میں دیوار کے ساتھ چھوٹی چھوٹی سلاخوں والی کھڑکیاں نظر آرہی تھیں۔ بتایا گیا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں حکومت کے انتہائی ناپسندیدہ افراد کو رکھا جاتا ہے۔ یہ اوپر تلے قبروں کے سائز کے پنجرے تھے جن کا سامنے کا حصہ کھلا تھا جن میں سلاخیں لگی تھیں۔ ان میں قید کیے گئے مجرم کھڑے نہیں ہو سکتے نہ بیٹھ سکتے ہیں‘ ہاں کروٹ ضرور لے سکتے ہیں۔ سامنے کے ایک حصے کو اوپر اٹھا کر انہیں کھانا پانی اور دیگر ضروریات فراہم کرنے کا انتظام تھا۔ زبیر دہشت کے عالم میں جائزہ لے رہا تھا۔ اگرچہ یہ اذیت خانہ دیکھ کر واقعی اس کے ہوش اڑے جا رہے تھے لیکن دلو دماغ قابو میں تھا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ انسان انسانوں پر ظلم کے لیے کہاں تک جا سکتا ہے۔ یہ مناظر دیکھ کر انسانیت بین کتی‘ سسکتی نہ جانے کس کونے میں جا بیٹھی ہوگی۔ اذیت دینے والے یہ طریقے اور مشینیں ایجاد کرنے والے یہ بات بھلا بیٹھے ہیں کہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور خدا کی رسی دراز ہے تو وہ مزے کر رہے ہیں جب کھینچی جائے گی تو سارے خود ساختہ کدائوں کو منہ کے بل گرا دے گی۔
بعد میں تو یہ بھی پتا چلا کہ افغان حکومت کے کچھ اہل کار بھی ان قبر نما بیرکوں میں بند ہیں کہ انقلاب کے بعد آنے والی نئی حکومت کے لیے وہ انتہائی ناپسندیدہ تھے۔
اسی دن بلڈنگ نمبر 99 کے سیر کے بعد اسے واپس اسی کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا جہاں سے لے جایا گیا تھا۔ ساتھ ہی خبر دی گئی تھی کہ ابکل اس کو افسروں کو سامنے پیش ہونا ہے۔ کمرے میں اب صرف تین افراد تھے‘ زبیر کے ساتھ ناظم اللہ اور زمان خان۔ باقی دونوں طلباء جو یونیورسٹی کے طالب علم تھے‘ رحیم اللہ اور خان محمد‘ وہ موجود نہیں تھے۔
ناظم اللہ کے چہرے پر اس کو دیکھ کر خوشی کی ہلکی سی لہر دوڑ گئی لیکن اس نے جلدی سے اِدھر اُدھر دیکھا جیسے اسے خدشہ ہے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے لیکن وہاںکوئی اور تو موجود ہی نہیں تھا۔ فوجی زبیر کو چھوڑ کر واپس جا چکے تھے۔
ناظم اللہ نے قلم جیب سے نکالا اور اخبار کے ٹکڑوں پر لکھا ’’کیسا رہا؟‘‘ زبیر نے جواب میں لکھا ’’بہت ہولناک۔‘‘ پھر دوبارہ لکھا ’’کوئی بچائو کی تدبیر ہے؟‘‘
ناظم اللہ نے زبیر کو غور سے دیکھا جیسے جائزہ لینا چاہ رہا ہو کہ وہ کس حد تک خوفزدہ ہے پھر لکھا کہ ’’یہاںسے بھاگنا انتہائی مشکل ہے۔‘‘
دروازہ کھلنے کی آواز پر ناظم اللہ نے ایک دوسرا اخبار جلدی سے کاغذ کے ٹکڑوں اور قلم پر ڈال دیا۔ آنے والا کھانا لے کر آیا تھا‘ ہاتھوں میں کھانے کی ٹرے میں پانی کا جگ بھی تھا۔ ناظم نے میز پر پڑے اخبار اٹھا کر احتیاط سے بستر پر رکھ دیے۔ انہی اخباروں کے درمیان وہ کاغذ کے ٹکڑے اور قلم پڑا تھا۔
خوف کے مارے زبیر کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نوجوان سپاہی نے کھانا میز پر رکھا اور واپس پلٹ گیا۔ دروازہ بند ہونے کی آواز پر زبیر کی جان میں جان آئی۔ اس نے ناظم اللہ کی طرف دیکھا اس کی حالت بھی اسے اپنے جیسی ہی محسوس ہوئی۔
ناظم اللہ نے کاغذ کے وہ ٹکڑے نکال کر جلدی سے فلش میں بہا دیے پھر سکون سے آکر کرسی پر بیٹھا اور کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ ڈھکن کھولے تو مرغی کے مزیدار سالن کی خوشبو کمرے میں پھیل گئی۔ کھانا دیکھ کر زبیر کو بھی زبردست اشتہا محسوس ہوئی۔ اسے یاد آیا کہ آج صبح ناشتے کے بعد سے اس نے کچھ نہیں کھایا ہے۔ دوپہر کے کھانے سے پہلے وہ لوگ اسے لے گئے تھے اور اب واپس چھوڑا ہے۔
ناظم اللہ نے پلیٹ اس کے سامنے رکھی اور کہا جلدی سے ہاتھ دھو کر آجائو۔
زبیر نے ہاتھ دھونے کے لیے غسل خانے کا رخ کیا۔ ہاتھ دھو کر وہ کھانا کھانے بیٹھا تو دو‘ چار نوالوں سے زیادہ اس سے کھایا نہ گیا۔ بار بار بلڈنگ نمبر 99 کے خوف ناک مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے خاص طور سے ان نوجوان لڑکوں کے خوف سے پیلے پڑے ہوئے چہرے جنہیں سانپوں کے ساتھ قید کیا گیا تھا۔
اسے ہاتھ روکتا دیکھ کر ناظم اللہ نے اشارہ کیا کہ وہ کھانا جاری رکھے۔ پتا نہیں آگے کیا ہو اور کتنے دن ایسا مزیدار کھانا نہ ملے بلکہ خدا جانے کچھ کھانے کو بھی دیں یا نہیں۔ زبیر اشارہ سمجھ گیا اور چھوٹے چھوٹے نوالے زبردستی کھانے لگا۔ ابھی ان کا کھانا ختم نہیں ہوا تھا کہ دروازہ پھر کھلا اور سپاہی قہوہ کی پیالیاں لے حاضر تھا۔ زبیر قہوہ دیکھ کر خوش ہوا۔ اسے قہوے کی خواہش محسوس ہو رہی تھی۔
کھانے کے بعد انہوں نے گرم گرم قہوے کی چسکیاں لیتے ہوئے آپس میں گپ سپ جاری رکھی۔ زمان خان ان کے ساتھ خاموشی سے شریک تھا۔ ناظم اللہ نے بتایا کہ روسیوں نے زمان خان سے 3 لاکھ افغانی روپے تاوان کے سلسلے میں مانگے ہیں اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ اگر روپے نہ دیے گئے تو ساری عمر جیل میں سڑتے رہو گے۔ اس وقت سے زمان خان سوچ و فکر میں غلطاں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اتنی رقم اوّل تو اس کے پاس ہے نہیں ہاںاگر چائے خانہ بیچ دیا جائے تو اتنی رقم مہیا ہو سکتی ہے اور یہ چائے خانہ اس نے تیس سال کی محنت و مشقت کے بعد بنایا ہے۔
’’دیکھو زمان خان! سوچ بچار نہ کرو روسیوں سے ہامی بھر لو ورنہ تم کو پتا ہے کہ وہ تم کو قتل کرکے بھی تمہارے چائے خانے پر قبضہ کر سکتے ہیں پھر تمہارے بیوی بچے دربدر ہو کر رہ جائیں گے۔‘‘
زبیر نے ساری بات سن کر زمان خان کو مشورہ دیا۔ زمان خان کی آنکھیں ایک لمحے کو چمکیں جیسے تصور کی آنکھ سے وہ اپنے گھر والوں کو دیکھ رہا ہو اس نے آہستہ سے کہا ’’ٹھیک ہے ابھی قہوے کی پیالیاں لینے سپائی آئے گا تو اس کے ہاتھ پیغام بھجوا دوںگا کہ ’’میں تیار ہوں۔‘‘
’’اللہ کرے کہ وہ تمہیں رہا کر دیں۔‘‘ ناظم اللہ نے زیر لب آہستہ سے کہا۔
اب پیٹ بھرا تو تینوں بستر پر دراز ہو گئے۔ ناظم اللہ نے کاغذ کے ٹکڑے اور قلم اپنے اور زبیر کے درمیان رکھا۔ لیکن زور سے بولا ’’بھئی مجھے اب نہ اٹھانا مجھے بہت نیند آرہی ہے۔‘‘
’’میں بھی بہت تھکا ہوا ہوں اب آرام کروں گا۔‘‘ زبیر نے جواب دیا۔
زمان خان نے دیوار کی طرف منہ کیا۔ شاید وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ساتھی اسے آنسو بہاتا دیکھیں۔ زبیر اور ناظم اللہ نے اپنی تحریری بات چیت کا آغاز کیا۔ کوئی راستہ ہے؟ زبیر نے لکھا۔
’’ابھی ان کا ساتھ دینے کی ہامی بھر لو بعد میں موقع دیکھ کر حالات کے مطابق فیصلہ کرنا ورنہ انجام وہی ہے جو بلڈنگ نمبر 99……‘‘
زبیر نے ایک جھرجھری سی لی’’اچھا دوست ٹھیک ہے۔‘‘
’’تم انہیں یہ باور کرا دو کہ تم مجاہدین کے خلاف ان کی بہت مدد کر سکتے ہو تو کامیابی حاصل کر لو گے۔ ذہن میں ایک کہانی کا خاکہ ترتیب دے لو۔ کل اسے اچھی طرح رنگ آمیزی کے ساتھ دھرا دینا۔‘‘ زبیر نے جواب میں کچھ لکھنے کے بجائے صرف سر ہلایا۔ ناظم اللہ نے اٹھ کر ٹکڑے سمیٹے اور باتھ روم کا رخ کیا۔
زبیر اپنے ذہن میں کہانی بنانے میں مصروف ہوگیا۔ اسے اس کہانی کی چھوٹی چھوٹی جزئیات کو بھی مد نظر رکھنا تھا۔ ایک بات اس نے طے کر لی تھی کہ وہ اپنے آپ کو مجاہدین کا ساتھی مان تو لے گا لیکن اس سلسلے میں اپنے آپ کو محض ایک نیا نیا رنگروٹ مجاہد بتائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ معلومات دینے کے لیے مجبور نہ کرسکیں۔
سردی سے سرخ موٹے موٹے گالوں والا کریم خان پتا نہیں کب سے دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔ شیر دل اگرچہ فجر سے پندرہ بیس منٹ پہلے اٹھ جاتا تھا کہ فجر سے پہلے تہجد پڑھ سکے لیکن ابھی تو اندھیرا تھا۔ شاید ساڑھے تین چار بج رہے ہوںگے۔ دروازے کی ہلکی ہلکی دستک نے اسے بستر سے اٹھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ پتا نہیں شاید محلے میں کوئی مشکل کا شکار ہے جو اتنی رات گئے کھٹکھٹا رہا ہے۔ اللہ خیر کرے۔ شیر دل زیر لب دعا کر رہا تھا۔ دروازہ کھولا تو سامنے مجاہد عبداللہ خان کا بیٹا کریم خان تھا۔ بارہ سال کے کریم خان کو شیر دل نے ایک لمحے میں پہچان لیا کہ یہ بھی تو اس کے اسکول میں پڑھتا تھا۔ سردی سے اسے کپکپی سی لگی ہوئی تھی۔ پتا نہیں کب سے کھٹکھٹا رہا تھا۔ شیر دل نے دل ہی ہی دل میں اپنے آپ کو لتاڑا ۔
’’کیا بات ہے بیٹا آئو اندر آئو۔‘‘
’’نہیں چاچا شیر دل! بابا جا رہے ہیں۔ انہوں نے آپ کو پیغام بھجوایا ہے کہ وہ ابھی اسی وقت نکل رہے ہیں۔‘‘
’’اچھا ٹھہرو میں تمہارے ساتھ ہی چلتا ہوں۔‘‘
شیر دل نے پلٹ کر دروازے کی کنڈی لگائی اور کریم خان کا ہاتھ تھام لیا جو سردی سے ایک دم یخ ہو رہا تھا۔ عبداللہ کا گھر اسی گلی کے آخر میں تھا۔ کریم خان نے شیر دل کو بیٹھک میں بٹھایا اور اندر اپنے باپ کو خبر دینے چلا گیا۔ ’’ہاں شیر دل تم کو کوئی پیغام دینا ہو تو جلد بتا دو‘ میں بس اب نکلنے والا ہوں۔‘‘
عبداللہ سیاہ رنگ کے ملیشیا کی موٹی شلوار قمیض کے ساتھ جیکٹ اور گرم شال لیے ہوئے تھا۔ شیر دل آگے بڑھ کر اس سے گلے تو اس نے محسوس کیا کہ جیکٹ کی جیب میں پستول کے علاوہ بغل میں کلاشنکوف بھی موجود ہے۔
’’میرے مجاہد دعا کرو کہ میں بھی تمہاری صفوں میں شامل ہوسکوں۔‘‘ شیر دل نے رندھے ہوئے جذبات سے بوجھل لہجے میں کہا۔
’’نہیں میرے بھائی تم جو خدمات یہاں انجام دے رہے ہو‘ ان کی اہمیت کم نہیں ہے۔‘‘
(جاری ہے)

حصہ