لداخ سے ملک ریاض، سوشل میڈیا کی گونج

185

عوام عظیم ترک ڈرامہ سیریل ’ارتغرل ‘کے سحر میں مبتلا ہو چکی تھی اور عید کے بعد پی ٹی وی کو رمضان کی طرح روزانہ کم از کم ایک قسط نشر کرنے کے لیے سوشل میڈیا پراِصرار کر رہی تھی۔پی ٹی وی نے عید کے بعد صرف تین دن تازہ اقساط نشر کرنے کا عندیہ دیا تھا، اس لیے سینیٹر فیصل جاوید نے ٹوئیٹ کر کے خوشخبری دی کہ عوامی مقبولیت کے پیش نظر پی ٹی وی اب یہ ڈرامہ روزانہ ہی نشر کریگا ۔اسی دوران ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر فرقان حمید نے اطلاع بھیجی کہ انہوں نے ہمارے بے حد اصرار پر اپنے چینل ’یار من ترکی ‘ کیلیے نے ارتغرل کے ڈرامائی تخلیق کار ،مصنف و ہدایت کار محمد بوزداغ کے انٹرویو کے لیے وقت لے لیا ہے، چنانچہ ہم نے بھی اپنے ذہن میں موجود کچھ فوری سوالات سفارش کے طور پر بھیج دیئے کہ یہ سوا ل بھی ضرور کر لیجیے گا۔ترکی میں بھی کورونا کا سخت لاک ڈاؤن جاری تھا بس جیسے ہی اُنہیںکچھ رعایت ملی ڈاکٹر فرقان انقرہ سے استنبول میںقائم اُن کے عظیم الشان شوٹنگ سیٹ پہنچ گئے جہاں اس وقت ’کورولش عثمان ‘ کے دوسرے سیزن اور مجموعی طور پر ساتویں سیزن کی شوٹنگ جاری تھی۔اس دوران انہوں نے انٹرویو کا ایک دلچسپ سا کلپ بھی ناظرین کی دلچسپی کیلیے جاری کیا جسے خوب پذیرائی ملی۔تفصیلی انٹرویو امکان ہے اگلے ہفتہ تک آجائے۔
ویسے مجھے دلچسپی تھی یہ جاننے کی کہ اس بار عید الفطر دُنیا بھر میں کس انداز سے منائی گئی، کیونکہ پاکستان کے علاوہ بھارت، بنگلہ دیش، سعودی عرب و دیگر کئی اسلامی ممالک میں سخت لاک ڈاؤن کی کیفیت برقرار تھی۔مبینہ طور پر بنگلہ دیش کی ایک جگہ کی تصویر ایسی نظر آئی کہ سب پانی میں کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے ہیں۔ ایک مبینہ نماز عید کی ویڈیو ملی جس میں لوگ گاڑیوں میں بیٹھ کر نماز ادا کر رہے ہیں۔ویسے مجموعی طورپریہ رمضان و عید الفطر غیر معمولی نوعیت کے گزرے ۔کورونا کی وبا کی وجہ سے پیدا شدہ حالات میںمنفرد تجربات نے دنیا کو کئی طریقوں سے حقیقت سے کہیں زیادہ ورچوئل بنایا ہے۔باقی مذاہب کا میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن عیدالفطر مسلمانوں کے لئے 2 میں سے ایک عظیم خوشی کا تہوار ہے جو نہایت بھرپور انداز سے منایا جاتا ہے۔دُنیا بھر میں لوگ جو اپنے ملک سے کسی وجہ سے باہر ہوتے ہیں جن میں طلبہ، نوکری پیشہ افراد و کاروباری حضرات سب جمع ہوتے ہیں، اپنوں سے ملتے ہیں اسلیے دُنیا بھر میں رمضان کے آخری اَیام کے دوران عمرہ کوچھوڑ کر مجموعی سفری بزنس کا حجم بہت بڑا ہوتا تھا ۔امسا ل لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ کاروبار یہ اتنا سمٹ گیا کہ منافع میں چلنے والی کئی عالمی ایئر لائن کمپنیوں کو بیل آؤٹ لینا پڑگیا۔بے شمار تارکین وطن کو اپنوں سے جڑے رہنے اور اپنے پیاروں سے عید کی مبارکباد کا تبادلہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارم کا سہارا لینا پڑا۔
اِدھرپاکستان میںڈاکٹرز و حکومت کی توجہات کے باوجود ’کورونا‘کے خوف سے آزادہوکر عید الفطر کی تیاریوں اور اُسکے بعد عید کی خوشیاں بانٹنے میں عوام الناس کی اکثریت ملک بھر میںمصروف تھی ۔کراچی کے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں بیڈ کم ہوجانے، وینٹی لیٹر کی شدید کمی ، مریضوں کے لیے کورونا علاج کی سہولیات کے فقدان کے حوالے سے پوسٹوں کے الرٹ بھی جاری تھے۔ڈاکٹر اظہر چغتائی کی ایک پوسٹ خاصی زیر بحث رہی جس میں انہوں نے 3ماہ بعد بھی حکومتی نا اہلی و مسائل کا ذکر کیا ،’’شہر کے سارے پرائیویٹ اسپتال،ماسوائے چندمریضوں کے لئے ڈاکخانہ بنے ہوئے ہیںیا یوں کہہ لیں راستہ پوچھنے کی چوکی۔کسی اسپتال چلے جائیں۔ ہم کھانسی کے مریضوں کو داخل نہیں کرتے آج کل۔ہماری پالیسی نہیں ہے ۔کیوں نہیں کرتے ؟ ہمارے پاس آئسولیشن وارڈ نہیں۔کیا وہ کوئی خاص آلات سے بنتا ہے ؟سوال صرف اتنا سا ہے کہ پچھلے 3ماہ میں سندھ سرکار نے پرائیویٹ اسپتالوں کو استعمال کرنے کا کوئی پلان بنایا؟شہر سے کمایا تو بہت پرائیویٹ اسپتالوں نے اب تھوڑی خدمت بھی کرلیں؟کوئی گائیڈ لائن ، کمیشن والے سندھ ہیلتھ نے بنائیں؟نجی اسپتالوں کو ایمرجنسی کرونا وائرس کی وبا میںکیا کرنا چاہیے؟ کیسے سرکاری اسپتال کے معاون بنیں؟ متبادل پلان ؟ایکسپو سینٹر کے مرکز کو ہی اور اَپ گریڈ کردو،ہر ایک کو وینٹیلیٹر نہیں چاہئے۔اس سے پہلے ، بھی آکسیجن دینے کے کئی طریقے ہیں۔یہ اربوں روپے کہاں گئے ؟لوگ اب بھی بغیر کسی نظام کے خوار ہو رہے ہیں،کرونا وائرس کے مریض بھی اورعام مریض بھی خاص طور پر بوڑھے مریض جن کو سینے کے امراض پہلے سے ہیں۔چند ایک نجی اسپتالوں کے سوائے باقیوں نے اِن سب مریضوںکو اچھوت بنادیاہے ۔‘‘
ایسے میں عید کے تین دن گزار کرلاہور کے ایک گھرمیںچاند رات کووقوع پذیر ہونے والے ایک واقعہ کی ویڈیو کلپ نے لیک ہو کرسوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔سب ہاتھ پیر دھو کر ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑ پڑے اور بلاوجہ کے بغض میں ’ٹھیکیدار کی بیٹی ‘، ملک ریاض، حسن نیازی اور پھر عظمیٰ خان کے نام سے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے۔حسن نیازی عظمیٰ خان کے وکیل کا نام تھا جبکہ ملک ریاض اور ٹھیکیدار سے تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے۔واقعہ کی ایف آئی آر چاند رات کو ہی درج ہو گئی تھی ، اس کے تین دن بعدجا کر ویڈیو کیوں وائرل کرائی گئی ؟ پھر مجموعی طور پر ’ملک ریاض‘ کو آڑے ہاتھوں لیکر یکطرفہ ٹرینڈ ہی بنائے گئے ۔اگلے دن کہیں جا کرمعاملہ بیلنس کرنے کیلیے ’آمنہ عثمان‘ کے نام سے بھی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کی صورت ابھرا ۔واقعہ کی تفصیلات دونوں جانب سے بعد کی ویڈیوز سے واضح ہو گئی۔ملک ریاض حسین کے مبینہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی مکمل تردید سامنے آگئی جس میں انہوں نے عثمان سے اظہار لاتعلقی کیا ہے۔بنیادی طور پر تو یہ ہماری ایلیٹ کلاس کاایک عمومی مسئلہ ہے ، بس حیرت ، شکر یا خوشی اِس بات پر ہوئی کہ اِن سب کے باوجود ایک خاتون کو اپنا گھر بچانے کی فکر اِس حد تک لے گئی۔حملہ کرنے والی خاتون آمنہ عثمان کے شوہر عثمان ملک کا مبینہ طور پر اداکارہ عظمیٰ خان کے ساتھ کوئی تعلق قائم تھا جس کی خبر ہونے پر اُن کی اہلیہ ملک ریاض حسین کی دو بیٹیوں اور کئی مسلح گارڈ کے ہمراہ اُن کے گھر گئیں اور خوب توڑ پھوڑ کی کہ اُس وقت اُنکا شوہر بھی وہیں موجود تھا۔ اداکارہ جسیمٹی کا تیل کہہ رہی تھیں ، آمنہ نے اُسے شراب قرار دیا جس کی محفل اُس وقت وہاںجاری تھی ۔ایف آئی آر کے مطابق حملہ آور خواتین موبائل فون ، کئی لاکھ کی نقدی و دیگر قیمتی سامان بھی لے گئیں، ساتھ ہی دھمکی بھی دی کہ اس واقعہ کا کسی کو نہیں بتانا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب موبائل وہ حملہ آورخواتین لے گئیں تو ویڈیو کس نے لیک کی؟ویسے اگلے دن ٹوئٹر پر دواور دلچسپ ٹرینڈ بنے ،ایک تھا ’زنا‘دوسرا تھا ’عور ت مارچ ‘ کا ۔اب کوئی اداکارہ کی حمایت میں خاتون کے شوہر کو گالیاں دے رہا تھا، کوئی بیوی کی حمایت میں اداکارہ کو آڑے ہاتھوں لے رہا تھا۔جس کو جہاں موقع مل رہا تھا ایشو پر سوچے سمجھے بغیر اپنی دانست استعمال کرتے ہوئے بونگیاں مار رہا تھا ۔28مئی کو اداکارہ نے جوابی پریس کانفرنس بھی کی جو کہ صحافیوں کی تسلی نہ کرا سکی، بلکہ اداکارہ کے وکیل نے بھی سارا ملبہ عثمان پر ہی ڈال دیا،اس ڈرامہ کا اصل کردار عثمان تو گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو چکا تھا۔ویسے اس کانفرنس میں یہ بات سامنے آئی کہ اداکارہ کے بہت ’دوست ‘ ہیں جن میں سے ایک نے ڈیفنس کا ایک عالیشان مکان اپنی دوست کو بھی دلوایا ہوا ہے۔محمد عاصم حفیظ ’لبرل آنٹیاں مشکل میں‘کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ ’’سوشل میڈیا پر آج لبرل آنٹیاں آپس میں لڑ رہی ہیں۔ایک کے خاوند نے دوسری کیساتھ تعلقات بنائے۔ بیوی اپنے خاوند کو تو سمجھا نہ سکی۔ اسکی محبوبہ کو اپنی بہن اور گارڈز کیساتھ جاکر خوب پیٹ ڈالا۔ ویڈیو بھی بنائی اور خود وائرل بھی کی۔اب بیچاری لبرل آنٹیاں پریشان ہیں کہ کس طرح “خواتین حقوق” کا ڈھنڈورا پیٹیں۔ دونوں طرف اپنا ہی طبقہ ہے۔ کسے مظلوم کہیں اور کسے ظالم۔ درمیان میں کوئی ’مولوی‘ تو ہے ہی نہیں۔ وجہ بھی اتنی شرمناک ہے کہ اس کا دفاع کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ لبرل طبقے کے طرز زندگی کا گھٹیا ترین روپ بھی سامنے آ رہا ہے کہ یہاں کس طرح کے تعلقات ہوتے ہیں۔ کمال تو یہ بھی ہے کہ کسی کا گھر اجاڑنے کی کوشش کرنیوالی بھی لبرل عورت ( جومبینہ طور پر باقاعدہ پوسٹر پکڑے عورت مارچ کا حصہ تھی) مار پیٹ کرنیوالی بھی ماڈرن عورت۔ ویڈیو بنانے والی اور وائرل کرنیوالی بھی عورت۔ اب “عورت کارڈ” کیسے کھیلا جائے۔ عورت مارچ میں “میرا جسم میری مرضی” کا نعرہ انہی عورتوں نے لگایا تھا۔ اب پتہ چلا ہو گا کہ جب یہ سب “سچ” ہو جاتا ہے تو پھر کتنا فساد برپا ہوتا ہے۔ کس طرح ایک دوسرے پر گھٹیا الزامات لگائے جاتے ہیں ۔ اس ویڈیو کا دلچسپ پہلو ایک اور بھی ہے کہ خاتون لڑائی کے عروج پر بھی لڑکی کی جانب سے خود کو ’ آنٹی‘کہنے پر ڈانٹ دیتی ہے کہ میری ابھی عمر ہی کیا ہے۔ تم سے چند سال بڑی ہوں۔ تمہاری آنٹی نہیں۔ یعنی ایلیٹ کلاس کی یہ خواتین لڑائی میں بھی عمر کو ذہن میں رکھتی ہیں۔ کاش ہمارے ہاں کے مغرب زدہ لبرل یہ سمجھ جائیں کہ ہمارا معاشرہ مغربی طرز زندگی اور سوچ نہیں اپنا سکتا کیونکہ یہاں کی عورت ابھی اتنی بے حس نہیں ہوئی کہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی خاوند کی عیاشیوں کو برداشت کرتی رہے۔ خاندانی فسادات سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ خاندانی طرز زندگی بھی اپنایا جائے۔ اپنا اور اپنے خاندان کا تماشہ بنوانے کی بجائے اولادوں کو رشتوں کا تقدس سمجھایا جائے اور ایک پاکباز زندگی کا تصور دیا جائے۔ اس سے ہی ایک بہتر معاشرتی طرز عمل جنم لے سکتا ہے۔ خاندانوں کی عزت بچ سکتی ہے اور تماشوں سے بچا جا سکتا ہے۔ مغرب زدہ کھوکھلے نعروں کی بجائے اپنی دینی و سماجی روایات کے تحت خاندانی تعلقات اور طرز زندگی بنانے کی ضرورت ہے۔
یوم تکبیر بھی اس سارے شور میں کہیں دبا دبامحسوس ہوا۔ سلام ڈاکٹر کبیر، یوم تکبیر، سلام نواز شریف، یسے موجودہ پاک بھارت سخت ٹینشن ایام میں سوشل میڈیا مجاہدین کے لیے اچھا موقع تھا۔28مئی کو ہونے والا پاکستان کا ایٹمی دھماکے کے بارے میں سب کا متفقہ بیانیہ درست ہے کہ وہ دھماکہ بھارتی ایٹمی دھماکہ سے کہیں زیادہ طاقتور ظاہر ہوا تھا۔بھارت کی مستقل جارحیت، میڈیا کی شر انگیزیاں تواتر سے جاری نظرا ٓئیں۔ کبوتر اسکینڈل پر بھی خاصا شور رہا ، بھارت کی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سرحدی علاقے سے ایک کبوتر پکڑا گیا، جس پر شک ہے کہ اِسے پاکستان نے جاسوسی کے لیے خاص تربیت دی۔ویسے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارتی حکام کی جانب سے اس قسم کاواقعہ سامنے آیاہو، اس سے پہلے ریاست پنجاب اور راجستھان کے سکیورٹی حکام بھی پاکستان کی طرف سے آنے والے کبوتروں کو مبینہ جاسوس کہہ کر پکڑ چکے ہیں۔چین کی جانب سے لداخ پر فوجی کارروائی کے ذریعہ قبضہ کی خبریں بھی خوب گردش میں رہیں۔کارگل کے بعد یہ دوسری بڑی سرحدی کشیدگی قرار دی گئی ہے۔اسی طرح بھارتی اثر میں ڈوبانیپال کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایک فرضی نقشہ جاری ہوا جس کے بعد چین و نیپال کی حمایت پرسوشل میڈیا مجاہدین صف بستہ نظر آئے۔حسین اصغر لکھتے ہیں کہ ’لداخ میں بھارت کو شکست، متنازع علاقے پر چین نے کنٹرول حاصل کرلیا۔جبکہ پاکستان میں عمران کی طرف سے انڈیا کے لئے بددعاؤں اور تقریروں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔‘اِسی طرح بھارتی میڈیا پالیسی کے تناظر میں اس انداز سے بھی مذاق اڑایا گیا کہ ،’’لداخ میں چین کی جانب سے کی جانے والی زیادتی کا بدلہ بالی ووڈ کی آئندہ ریلیز ہونے والی فلم میں ضرور دیں گے۔بھارتی آرمی چیف‘‘۔

حصہ