بچوں کا پسندیدہ رسالہ ماہ نامہ ساتھی

67

سیمان کی ڈائری
بچے کسی بھی معاشرے کا سب سے اہم رکن ہوتے ہیں کیوں کہ انھیں ہی مستقبل میں قوم کا معمار بننا ہوتا ہے ۔ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم اِن تمام باتوں کو جاننے ، ماننے کے باوجود بچوں کی اہمیت کا احساس نہیں کرتے اور زیادہ تراُن سے بے اعتنائی کی روش اختیارکرتے ہیں۔ والدین کی اکثریت بچوں کی ساری ذمے داری معاشرے اور اساتذہ پر چھوڑ کر خود بری الذمہ ہو جاتی ہے جس سے اُن کی ذہنی، جسمانی اور معاشرتی تربیت پر فرق پڑتا ہے ۔ بچوں کی معاشرتی، تہذیبی اور اخلاقی تربیت کرنے اور انھیں اچھا شہری بنانا جو کہ ہم پر فرض ہے ، اسے ترک کرکے تعلیم کی طرف سارا زور لگا دیتے ہیں جب کہ تربیت کا وسیع فقدان نظر آتا ہے اور کبھی اس تربیت کی کمی کے اثرات کو جاننے کی زحمت ہی گواراہ نہیں کی جاتی ۔بچے کا دل و دماغ پاکیزہ ہوتا ہے۔ وہ سادہ جوہر ہے جو ہر قسم کے نقش و نگار سے خالی ہوتا ہے اس پر کچھ بھی نقش کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہم اسے جس طرف مائل کریں گے، وہ اسی طرف ہو جائے گا۔ ان کی اخلاقی، تہذیبی، لسانی اور معاشرتی ومعاشی تعلیم و تربیت کے ساتھ ایک اچھا انسان بننے کی تربیت بھی کی جانی چاہیے۔ہم انھیں معاشرے میں مقام دلانے کے لیے ڈاکٹر،انجینئراور دیگر علوم کے ماہر تو بنادیتے ہیں لیکن جو سب سے ضروری جزو احساس، انسانیت کا درد، دل جوئی، ہمدردی اور رواداری کا وہ پیدا کرنے میں کمی کوتاہی کر جاتے ہیں جس کے باعث نت نئے انسانیت سوز واقعاتجنم لیتے ہیں۔
کسی بھی معاشرے کی ترقی میں نسلِ نو کے دل و دماغ کی بہترین آبیاری کے لیے ادب اپنا کردار خوب اچھی طرح نبھا سکتا ہے کیوں کہ اس کے انسان کے اخلاق، کردارپر گہرے اثرات ہوتے ہیں ۔ ادب اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اسے اعلیٰ انسان بناتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ایک عام آدمی سے لے کر اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان تک ہرشخص نے اپنے بچپن میں کسی نہ کسی حد تک بچوں کے ادب (کتب و رسائل) کوپڑھا ہوتا ہے اور اس کے اثرات اُن کے ذہن و دل پر کسی نہ کسی حد تک منقش ہوتے ہیں اور اسی کے زیر اثر اپنے نظریات و خیالات رکھتے ہیں۔ادب ہر اس شخص پر اپنے اثرات چھوڑتا ہے جو اسے پڑھتا ہے۔ اس طرح سے ادب کسی بھی معاشرے کے افراد کی تعلیم اور تربیت دونوں پر اثرانداز ہوتا ہے ۔اردو ادب میں خاص کر بچوں کے ادب میں کچھ پہلو ایسے ہیں جن پر بات کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ بچوں کا ادب کیسا ہو۔ مثلاً یہ کہ موجودہ دور میں آج بھی ادب کے ذریعے بچوں کو کہانیوں، ڈراموں، ناولوں اور نظموں سے بہت سی اخلاقی اقدار سکھانے کے ساتھ علم بھی فراہم کیا جاتا ہے لیکن اس میں اُن کی اپنی زندگی سے براہ راست بہت کم مواد ہوتا ہے۔ انھیں طلسماتی اور مافوق الفطرت کرداروں کے ذریعے مختلف اقدار سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے بچے کسی قدر اثر بھی لیتے ہیں۔میرے خیال میں بچوں کی اپنی ہی زندگی ہے پر مشتمل کرداروں سے اقدار سکھانے کی سعی کی جانی چاہیے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں بچوں کا شعور پختہ ہے، پہلے جیسا نہیں۔ وہ اب جنوں، بھوتوں، پریوں، دیومالائی کہانیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ اب وہ ہر چیز کو اصل اور حقیقی رنگ میں دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ آج کا بچہ چاند ستاروں، مریخ کے بارے سوچتا، سمندر میں غوطہ زن ہونا چاہتاہے اورکمپیوٹر کے ذریعے پوری دنیا کی سیر کرنا چاہتا ہے۔ زمانہ ٔقدیم میں بچوں کے پاس مصروفیت اور شغل کے لیے کھلونے اور ہم جولی ہوتے تھے مگر آج ٹی وی، ویڈیو، کمپیوٹر، موبائل اور دیگر برقی آلات ان کی توجہ کا مرکز ہیں ۔کتب ورسائل کیوں ضروری ہیںاور اِن برقی آلات کے ہوتے ہوئے ہم کس طرح انھیں نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرسکتے ہیں۔بچوں کے ادب سے مراد نظم و نثر کا وہ ذخیرہ ہے جسے بچوں کی عمر، نفسیات،جذبات و تقاضوں کو مد نظر رکھ کر تخلیق کیا جائے۔وہ ادب جو بچوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو پیش نظر رکھ کر لکھا جائے۔وہ ادب جو بچوں کی ذہنی و جسمانی تعلیم و تربیت اور صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لیے صاف سادہ اور عام فہم زبان میں لکھا جائے۔ بچوں کا ادب اسے کہیں گے جسے بچے پسند کرتے ہیں یا جسے بچے اپنا ادب سمجھتے ہیں۔ بچوں کے لیے ایسا ادب تخلیق کیا جائے جو ان کو مذہبی، معاشرتی، تہذیبی، اخلاقی، انسانی اقدار سکھانے کے ساتھ ساتھ زمانے کے تقاضوں کے مطابق جدید اور ایک اچھا انسان بننا بھی سکھائے۔ بچوں کو جدید سائنسی علوم و فنون سے نظم، کہانی، ڈراما وغیرہ کے ذریعے آگاہ کیا جائے ۔اس کے علاوہ بچوں کو ان کے اسلاف کی کہانیاں جو انسانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز رہے سنائی، دکھائی جائیں، تاریخ کے مثالی لوگوں سے آگاہ کیا جائے جو انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائزرہ کر زندگی گزار گئے۔ انھیں ان کے شاندار ماضی سے روشناس کرایا اور بتایا جائے کہ وہ کیسے اعلیٰ پائے کے نہ صرف سائنس داں، ڈاکٹر، انجینیئر غرض ہر شعبۂ زندگی کے مثالی لوگ تھے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انسانیت کے اعلیٰ درجے پر بھی فائز تھے اور اس طرح کے پیغام کے ساتھ کہ تم بھی اپنی دنیا سنوارنے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بن کر آخرت بھی سنوار سکتے ہو۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ بچوں کا ادب دین و دنیا دونوں کا حسین امتزاج ہو۔بچوں کے ادب میں نظم اور کہا نی ایسی اصناف ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ چھوٹے بچوں کو ایسی نظموں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جو انھیں کھیل کھیل میں سکھا سکیں اور ارد گرد کے ماحول سے سمجھ سکیں۔ بچپن میں پڑھی گئی نظموں کا بچوں کی زندگی پر بہت اثر پڑتا ہے۔ اس لیے ایسی نظموں کی تخلیق کی ضرورت ہے جو بچوں کو اچھا انسان بنانے کے ساتھ جدید ترقی یافتہ دور کی دوڑ کے قابل بھی بنائیں۔
اردوادب کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں (شاعری اور نثر) میں ابتدا ہی سے ایسی کاوشیں نظر آتی ہیں جن میں بچوں کے ادب پر خصوصی طور پر لکھا گیا۔امیر خسرو کو بچوں کا پہلا شاعر مانا جا تا ہے اور ان کی تصنیف ’’خالق باری‘‘ بچوں کے ادب کی پہلی کتاب کہی جاتی ہے۔ اسی طرح امیر خسرو کی پہیلیاں اور دو سخنے بھی بچوں کے ادب کی مثالیں ہیں۔بچوں کے دوسرے شاعر محمد قلی قطب شاہ کے دیوان میں بچوں کے لیے نظمیں انھیں بچوں کا شاعر کہلواتی ہیں۔ اس کے بعد اگر کسی ادارے میں بچوں کے لیے لکھنے کا آغازہواتوکسی حد تک جامعہ ملیہ دہلی سے ہوتا ہے جہاں بچوں کے لیے نظمیں تو لکھی جاتی رہیں لیکن نثر کا میدان خالی رہا۔انگریزی عروج کے دور میں بچوں کے لیے فورٹ ولیم کالج کے تحت مولوی محمد باقر، میر امن، ضیاء الدین، حیدر بخش حیدری، منشی پیارے لال اور ماسٹر رام چند کے نام ملتے ہیں جنھوں نے انگریزی ضروریات کے تحت بڑوں کے لیے لکھنے کے ساتھ ساتھ بچوں کا ادب بھی تخلیق کیا۔(محقق عبد الرحیم عزم کی تحریر سے اقتباس)اسی دور میں میرؔ، سوداؔ، نظیر اکبر آبادی اور اکبر الٰہ آبادی کانام آتا ہے۔نظیر اکبر آبادی کی نظموں میں ’’ریچھ کا بچہ، گلہری کا بچہ، بلبلوں کی لڑائی، ہنس ، طفیلی نامہ، پتنگ بازی، کبوتر بازی، بلدیو جی کا میلہ‘‘ وغیرہ ملتی ہیں ۔اکبر الٰہ آبادی کی شاعری اگرچہ طنزیہ مزاحیہ ہے لیکن اس میں کافی ساری رباعیات، قطعات اور نظمیں ایسی ہیں جو بچوں کے لیے لکھی گئیں۔ خدائے سخن میرتقی میرؔبڑے شاعر تھے مگر ان کے کلام سے بچے بھی محروم نہیں رہے، ’’موہنی بلی، بکری اور کتے، مرغوں کی لڑائی، مچھر اور کھٹمل‘‘وغیرہ اُن کی بچوں کے لیے نظمیں ہیں ۔کلیات سودا میں ’’عصا، شکایت موسم گرما سرما، مریل ٹٹو، بخیل دولت مند بنیا، اور باز‘‘ نامی نظمیں بچوں کے لیے لکھی گئی ہیں۔اسی طرح غالب کا اپنے منھ بولے پوتوں (عارف کے بچوں باقر علی اور حسنین علی خان) کے لیے لکھا گیا اُردو قاعدہ ’’قادر نامہ‘‘ بھی بچوں کے ادب کا حصہ مانا جاتا ہے۔مولانا الطاف حسین حالی کی نظمیں برسات، امید، رحم، انصاف، حب وطن وغیرہ بچوں کے ادب کا ایک بڑا سرمایہ ہیں۔ اُن کی نظم وطن کا نشان، برکھا رت، وغیرہ بھی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’مسدسِ حالی‘‘ کے کئی اشعار مختلف عنوانات کے تحت بچوں کی درسی کتب (چھٹی سے دہم تک) میں شامل کیے گئے ہیں۔سر سید احمد نے بچوں کے لیے نثر کے میدان میں گراں قدر اضافہ کیا۔ ان کے زیر انتظام شائع ہونے والے رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ میں بچوں کے لیے متعدد مضامین لکھے گئے جن میں ان کی اصلاح اور شعور بیدار کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی مثلاً خوشامد، اپنی مدد آپ، کاہلی وغیرہ۔(اقتباس)محمد حسین آزاد کی نظمیں شب قدر، حب وطن، ابر کرم اور صبح امید اگرچہ مشاعروں میں پڑھی گئیں لیکن یہ لکھی بچوں کے لیے ہی لکھی گئی تھیں۔ڈپٹی نذیر احمد نے بچوں کے لیے بیش قیمت نثر لکھ کر بچوں کے ادب کو چار چاند لگائے۔ انھوں نے بچوں اور بچیوں کی معاشرتی و اخلاقی اصلاح کے ساتھ ساتھ ان میں دین اور تعلیم کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے بہت سے ناول لکھے جن میں ’’مراۃ العروس، توبۃ النصوح، بنات النعش، ابن الوقت، رویائے صادقہ، فسانہ مبتلا، ایامی‘‘ وغیرہ اہم ہیں۔اسی دور میں انگریزی نصابی ضروریات کے تحت مشاعروں میں مظاہرِ فطرت پر نظمیں کہنے والے شعرا کی نظمیں بھی بچوں کے ادب کا حصہ ہیں اور ان میں بڑے بڑے نام آتے ہیں جن میں عدیل کنستوری، احمد علی شوق، تلوک چند محروم، واسطی، ہادی، ظفر علی خان، علامہ اقبالؒ، حالی، آزاد اور اسماعیل میرٹھی کی نظمیں انگریز سامراج کے دور میں نصاب کا حصہ رہیں۔ (جاری ہے)

زمانہ کيسے کرے گا مجھے نظر انداز
گلی گلی مرے دشمن گلی گلی مرے دوست

اقبال پیرزادہ

حصہ