یہ بچہ آپ کا نہیں۔۔۔۔

251

نورالعین انور
’’حسن کیا ہوا آپ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل نہیں رہے؟‘‘ میں نے اپنے بھانجے سے پریشان کن لہجے میں پوچھا۔ وہ ہنستا کھیلتا بچہ یوں کملایا ہوا بیٹھا تھا کہ میرے دل میں درد ہوا اور میں نے ٹھان لی کہ آج تو اس کو ٹھیک کر کے ہی رہنا ہے۔
حسن میرے تمام بھانجوں‘ بھانجیوں کی طرح میرے دل کے بہت قریب تھا۔ اس کا چلبلا پن اور کھٹی میٹھی باتیں اس محبت کو اور بھی بڑھا دیتیں مگر چند دنوں سے وہ بہت ڈرا ہوا لگ رہا تھا۔ ایسا لگتا جیسے اسے کوئی کچھ کہتا ہو یا وہ منفی احساسات کی زد میں ہو۔
ایک دن میرا اپنی بہن کے گھر جانے کا اتفاق ہوا تو حسب معمول اس نے مجھے حسن اور حفصہ کے کمرے میں بٹھایا۔ سائرہ باہر کچھ کام نمٹانے گئی تو میری نظر حسن کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی کاپی پر پڑی۔ میں نے ایسے ہی وہ کاپی اٹھائی اور اس کی ورق گردانی کرنے لگی۔کھولنے پر مجھے کافی خوش گوار حیرت ہوئی کہ حسن دس سال کی عمر میں ڈائری لکھ رہا ہے۔ آخر کے چند صفحات پر اس نے اداس چہرے بنائے ہوئے تھے، جس نے مجھے وہ صفحات پڑھنے پر مجبور کیا۔ذرا آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

۔8 جنوری 2019

میری پیاری ڈائری! شاید تم ہی میری سنتی ہو اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ تم میری بیسٹ فرینڈ ہو! میری کلاس ٹیچر کہتی ہیں کہ آپ کے والدین آپ کے بیسٹ فرینڈ ہوتے ہیں لیکن پتا نہیں کیوں مجھے ایسا نہیں لگتا؟ ماما تو مجھے صرف کام کرنے کو کہتی ہیں اور زیادہ باتیں کروں تو بے زار ہونے لگتی ہیں۔ اب بتاؤ میں اگر تم سے دس بار ایک جملہ کہوں تم بور تو نہیں ہوگی نا؟
کبھی حساب کا کوئی سوال مجھے بار بار پوچھنا پڑ جاتا ہے کیوں کہ میں حساب میں کمزور ہوں مگر ماما پاپا دونوں اس بات پر ناراض ہوتے ہیں۔ شاید وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ میں بالکل نکما ہوں اور اگر میں اچھی آرٹ کر لیتا ہوں تو اس میں کون سا کمال ہے؟ انہیں کیوں کہ مجھے انجینئر بنانا ہے اس لیے مجھے پڑھائی میں محنت کرنی چاہیے مگر کیا کروں پیاری ڈائری آپی کے پراجیکٹس بھی بنا دیتا ہوں مگر پڑھائی میں اتنا دل ہی نہیں لگتا۔ ہاں اگر ماما ساتھ بیٹھیں تو دل کرتا ہے پڑھنے کا، مگر ایسا تو کبھی کبھار ہوتا ہے۔ جب میں روتا ہوں کہ کوئی میرے پاس بیٹھ کر میری مدد کردے پلیز! کچھ چیزوں میں اپنی مدد آپ نہیں کر پاتا۔
تمہیں پتا ہے ڈائری؟ آپی کو ہمیشہ میرے بنائے ہوئے پراجیکٹس پر اے ون گریڈ ملتا ہے مگر کوئی مجھے شاباشی ہی نہیں دیتا۔ ماما پاپا کہتے ہیں کہ اگر اس دفعہ میں نے گریڈ اے لیا تو ہی اچھا سا گفٹ ملے گا‘ مگر پیاری ڈائری میرا ایسا گریڈ نہیں آتا اور آپی کی پوزیشن آتی ہے سو اسے اس کا من پسند تحفہ ملتا ہے اور مجھے؟ کوئی عام سی چیز۔
کیا نکمے بچوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے؟مجھے لگتا ہے کہ میں کبھی کامیاب نہیں ہو پاؤں گا،کیا کرنا چاہیے مجھے؟
…٭…
آگے کی کچھ اور ڈائریاں بھی ایسی ہی تھیں۔ میرا دل بہت دکھا اور میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی بہن کو بہت پیار محبت سے سمجھانا ہے۔ یہ سب اس کے بچے کی ذہنی صحت اور تمام تر صلاحیتوں پر اثر انداز ہو رہا تھا!
واپسی کے راستے بس ایک سوچوں کا سلسلہ بندھا رہا۔ سوچ رہی تھی کہ نہ جانے کتنے بچے اپنے والدین کے اس رویے کی وجہ سے اپنا اصل ٹیلنٹ نکال ہی نہیں پاتے ہیں، ہم ان کو موقع ہی نہیں دیتے۔ بس صرف ویسا دیکھنا چاہتے ہیں جیسا کہ ہم نے خواب دیکھا ہوتا ہے۔ اگر ہم انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں تو کسی دوسری فیلڈ سے منسلک ان کی تمام تر صلاحیتوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ ہمیں لگتا ہے کہ والدین ہونے کے ناتے ہمارے علاوہ بچہ خود بھی اپنے بارے میں درست فیصلہ نہیں کرسکتا، نہ ہی سوچ سکتا ہے۔ یہ ’’گمان‘‘ آپ کے لیے بہت تکلیف کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ہاں اس بات کو کوئی رد نہیں کرتا کہ آپ نے بہت تکلیفیں برداشت کرکے بچوں کو پیدا کیا، ان کی پرورش کی، راتوں کی نیندیں حرام کیں اور بہت سی خوشیاں اپنے بچوں کی خوشیوں پر قربان کیں۔ خاص طور پر ایک ماں تو سراسر قربانی ہی ہوتی ہے! باپ بھی اس کا کچھ کم حصے دار نہیں جو اپنے خون پسینہ ایک کر کے اپنی اولاد کے لیے کماتا ہے۔ اس تمام تر جدوجہد کے بعد والدین کا اپنے بچوں سے امیدیں وابستہ کرنا فطری سی بات ہے اور ان کا بچوں کو بھی خیال کرنا چاہیے لیکن!!۔
یہ بات یاد رکھیے کہ بچے آپ کی میز کرسیاں نہیں جن کو آپ جب چاہیں، جیسے چاہیں ہلائیں جلائیں اور پٹخیں! عزت مآب والدین کے ساتھ اس طرح کے جملے استعمال کرنے کے لیے معذرت لیکن بچوں کو جس طرح توڑ دیا جاتا ہے، اس پر دکھ ناقابل بیان ہے!
آپ کے بچے آپ ہی کی طرح کے انسان ہیں، جو احساسات و جذبات سے آراستہ ہیں۔ انسان ہونے کے ناتے وہ بہت سی خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہیں۔ ذرا دیر کو تصور کریں جب آپ چھوٹے تھے اور آپ کے والدین کسی بدگمانی کی وجہ سے سختی سے ڈانٹ دیتے تو کیسا محسوس ہوتا تھا؟ رونا آتا ہوگا نا؟ آپ میں سے کچھ کا اپنے والدین کو جواب دینے کا دل کرتا ہوگا اور کچھ دے بھی دیتے ہوں گے کیوں کہ ہم انسانوں کا مزاج بہت سے پہلو رکھتا ہے۔ ہر کسی کا مزاج یکساں نہیں ہوتا۔ کوئی ایسا ہوتا ہے جو دب جاتا ہے جب کہ دوسرا بغاوت کر جاتا ہے۔ آپ کے بچے بھی اسی طرح کے جذبات رکھتے ہیں۔ معزز والدین! یاد رکھیے ، جب آپ اپنے بچوں کو بے عزت کرتے ہیں، انہیں ناکام اور نکما یا اس طرح کے اور بہت سے ذلت آمیز القابات سے نوازتے ہیں تو وہ اور تکلیف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کچھ بچے ڈر کر احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں، جو چاہے کتنے بڑے ہوجائیں اپنی خود اعتمادی بحال نہیں کر پاتے۔ چاہے اسکول، آفس یا کوئی فرم ہو وہاں اپنے آپ کو ذلیل ہوتا دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ میں اسی کا حق دار تھا کیوں کہ انہوں نے اپنے والدین کو اپنے لیے ایسا پایا ہوتا ہے اور والدین تو آخر اپنی اولاد کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ ان کی طرف سے عنایت کیا گیا کوئی بھی اچھا برا لقب بچوں کے لیے مہر کی سی حیثیت رکھتا ہے۔
دوسری قسم کے بچے وہ ہوتے ہیں جو باغی طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ آپ کا مارا ہوا تھپڑ یا پلائی ہوئی ڈانٹ ان کو اور ڈھیٹ بنا دیتی ہے اور وہ وقت کے ساتھ یہی سب آپ کو اور برے انداز سے واپس لوٹا کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہاں ہیں ہم بہت برے۔
میں جانتی ہوں آپ ماں ہوں یا باپ اپنے بچوں پر ان کی بہتری کے لیے حدود لاگو کرتے اور ڈانٹتے ڈپٹتے ہیں مگر یاد رکھیے ان کی عزت پر انگلی اٹھا کر آپ اپنی عزت کا جنازہ ان کے دل سے اپنے ہاتھوں خود نکالتے ہیں!
اگر آپ اپنے بچوں کی عزت ان نمبروں کی وجہ سے کرتے ہیں، جو انہیں آگے جا کر کسی نامی گرامی یونیورسٹی میں داخلہ دلوا سکتے ہوں تو یاد رکھیے آپ صریح غلطی پر ہیں۔ میں یہ نہیں کہتی کہ بچوں کو محنت کرنے یا اچھے نمبر لینے پر ابھارا نہ جائے مگر زور زبردستی کرنا اور گریڈ کو ہی عزت کا معیار جاننا سوچ کی پستی ہے۔ جب آپ کے بچے بڑے ہو جائیں گے تو ان کے میڈلز یا شیلڈز یا یہ گریڈز اور سرٹیفکیٹ ان کے کچھ کام نہ آئیں گے بلکہ وہ اخلاق و کردار جو آپ نے اپنی حرکات و سکنات اور زندگی گزارنے کے طریقوں سے ان کے اندر انڈیلا ہوگا، وہی آپ کی آنے والی زندگی کو جنت کا باغ بنا دے گا۔ ہاں ! اگر آپ کا بچہ نہایت عقل مند اور تیز دماغ کا حامل ہے تو اس کی نشوونما کے لیے احسن زاویے فراہم کرنا آپ کا کام ہے۔ مگر ایک بچہ جو علمی سرگرمیوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کررہا تو اس سے دل برداشتہ نہ ہوں۔ محبت سے اس کے ساتھ وقت گزاریں ، مسئلہ سنیں اور اسے حل کرنے کی کوشش کریں شاید کہ وہ آپکے نظر کرم اور وقت کا متمنی ہو۔اول تو اس عمل سے کارکردگی میں بہتری ضرور آئے گی، آپ کے معیار کے مطابق نہ سہی مگر بہتری آپ خود محسوس کریں گے۔ اس کے باوجودآپ کا بچہ مثبت نتائج دینے سے قاصر ہے تو دیکھیں کہ بچے کا رجحان کہاں ہے اور کون سا شعبہ اس کے لیے بہتر ہے۔
خدارا ان والدین کی طرح نہ بنیں جو اپنے بچوں کو اچھی کارکردگی نہ دکھانے پر گھر سے نکال دینے یا کسی ایسی سزا کی دھمکی دیتے ہیں جس سے ڈر کر وہ یا تو گھروں سے بھاگ جاتے ہیں یا پھر اپنی جان دے دیتے ہیں۔ ان کی بہترین پرورش کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر نہ لیں اور دور کا سوچیں۔ اگر وہ میڈیکل میں جانے کے قابل نہیں تو طعنے تشنے دے کر اسے جیتے جی مار نہ ڈالیں بلکہ اس کی ہمت بندھائیں۔ ہم انسان تو غلطیوں سے سیکھتے ہیں لیکن اگر ان ہی غلطیوں کو لے کر بیٹھ جائیں اور ایک ناکامی کو زندگی کا اختتام جانیں تو واقعتاً کبھی کامیاب نہ ہوپائیں گے۔

حصہ