یلیتنی۔۔۔ اے کاش

54

سعدیہ نعمان
عبداللہ سبق سنا کے کب کا جا چکا تھا لیکن یہ ایک آیت میرے دل و دماغ پہ ٹھہر سی گئی تھی ۔ یلیتنی کنت ترابا( النبا40) ۔
کاش میں خاک ہوتا‘ مٹی کا ذرہ‘ پاوں تلے روند دیا جاتا ‘ ہوا میں اُڑ جاتا… درخت کا ایک سوکھا پتا جو خزاں میں جھڑ کے فنا ہو جاتا …کاش میں کچھ نہ ہوتا…ذہن اٹک گیا تھا ۔
دل سوچ کے ڈوب سا جاتا ۔ پھر گھر کے روزمرہ کے کام انجام دیتے ہوئے یک دم ایک روتی سسکتی حسرت بھری آواز کانوں میں گونجنے لگتی یلیتنی کنت ترابا… اور آنکھیں بہنے لگتیں۔
ہائے اس بڑے دن کی سختی …جب عمل کا دور گزر چکا ہو گا نامۂ اعمال بند ہو چکا ہوگا اور ہم حساب کے لیے اپنے اپنے رجسٹر اٹھائے مالک کے روبرو حاضر ہوں گے … اور نہ ماننے والے کہیں گے کاش میں خاک ہو گیا ہوتا… یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔
ہائے میری کم بختی… اب کیا ہو گا۔
پھر ایک اور نقشہ ذہن پہ ابھرنے لگتا ہے … مجرم اس دن اپنے چہروں سے پہچانے جا رہے ہوں گے …جہنم کھینچ کے لائی جا رہی ہو گی… ایک اور حسرت بھری چیخ سنائی دے گی یلیتنی قدمت لحیاتی اے کاش کچھ آگے ہی بھیج دیا ہوتا… کچھ اس زندگی کے لیے کما لیا ہوتا… ہائے میں تو تباہ ہو گیا… ہائے یہ میں نے کیا کر دیا اور پھر وہی درد بھری صدا… یلیتنی کنت ترابا …کاش ہائے کاش میں مٹی ہوتا۔
اس آیت نے مجھے جکڑ لیا ہے یہ آیت مجھے بار بار کٹہرے میں کھڑا کر دیتی ہے… رات تراویح کی ایک رکعت میں اسد نے پھر یہی آیت تلاوت کی ہے تو دل ایک بار پھر دہل گیا ہے ۔
میں بھلانا چاہتی ہوں یہ آیت مجھے بھولنے نہیں دیتی میں جھٹک کے کام میں مصروف ہو نا چاہتی یوں یہ آیت مجھے پھر سے اپنی جانب کھنچ لیتی ہے۔ کیا کمایا‘ کن کاموں میں زندگی گزار دی‘ رب کی رضا کے لیے یا دنیا میں خوشی اور راحت کے لیے… دین کی طلب میں یا کسی فانی کی چاہ میں ‘ کیا جمع کیا‘ کیا آگے بھیجا جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔
حضرت علیؓ یاد آتے ہیں جو قبروں کے پاس سے گزرے تو رونے لگے‘ روتے روتے ہچکی بندھ گئی اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جانتے ہو یہ قبر والے اگر بول سکتے تو تمہیں بتاتے کہ ’’بہترین توشہ پرہیزگاری ہے۔‘‘
آہ…! ہماری لمبی امیدیں اور جھوٹی آرزوئیں…اور گمراہ کر دینے خواہشات حضرت حسن ؓ کہا کرتے تھے ’’ان لوگوں پہ تعجب ہے جنہیں کہا گیا کہ زادِ راہ لو اور کوچ کی تیاری کرو‘ لوگ جانے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں اور یہ بیٹھے کھیل رہے ہیں۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کندھے سے پکڑا اور کہا ’’دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی پردیسی یا راہ چلتا مسافر۔‘‘
بس بے چینی ہے‘ اضطراب ہے‘ گناہوں کا اعتراف ہے‘ توبہ کی آرزو ہے‘ کچھ اچھے کاموں کے لیے نفس کو آمادہ کیا ہے‘ کچھ جمع کرنے کی آرزو ہے‘ دُعا کے لیے ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں لیکن اپنی بے بسی اور کم مائیگی کا اعتراف ہے اور نگاہ پھر اسی ایک ہستی کی جانب اٹھتی ہے جو میرے لیے‘ ہم سب کے لیے بے چین رہی‘ مضطرب رہی… ہاں وہ ایک رات اور وہ ایک آیت جسے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم دہراتے رہے اور روتے رہے‘ یہاں تک کہ صبح ہو گئی ’’اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ غالب اور دانا ہیں۔‘‘ ( سورہ المائدہ) ۔
بس یا رب ہم آپ کے گناہ گار بندے ہیں اور آپ کی بے پایاں رحمت سے بخشش کے طلب گار ہیں… ہمیں معاف فرما دیجیے… ہم پہ رحم کر دیجیے… ہماری پردہ پوشی فرمایئے… اور ہمیں اس نتیجے کے دن کی سختی اور حسرتوں سے بچا لجیے گا۔ ہمیں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا حقدار بنا دیجیے گا … یا رب! یا رحمن!۔

حصہ