ہمارے چند لمحے کسی کی “عید” کو “عید” بناسکتے ہیں

122

افروز عنایت
الحمدللہ سب ٹھیک ہیں تم سنائو آپ لوگوں کے یہاں کیا حالات ہیں…!۔
مسرت: ہاں… الحمدللہ، اللہ کا شکر ہے یہ مضان یہ عید… یقین کرو میری بہن اتنی رونقیں اور پر مسرور مناظر نظر آتے تھے مساجد اور مسلم کمیونٹی سینٹر میں کہ ہمٍن ان موقعوں پر اپنا ملک کم ہی یاد آتا تھا ہمیں کبھی یوں محسوس نہیں ہوا کہ ہم اسلامی ملک میں نہیں ہیں لیکن اب تو یہ سب جیسے ختم ہو رہا ہے ملنا جلنا مساجد میں روزہ کھولنا، تراویح، دینی اجتماع پھر رات گئے گھر آکر سحری کرکے سونا (مسرت کی آواز رندھ گئی)…
٭…٭
مسرت نے یہ غلط بھی نہیں کہا جب بھی میری مسرت سے فون پر بات ہوتی رمضان اور عید کے موقع پر اس کی آواز سے خوشی و مسرت جھلکتی تھی اب اس کا سوال تھا کہ اپنوں سے دور، جہاں میل ملاقات دوست و احباب سے منقطع ہو گئی ہے کس طرح گزریں گے یہ دن۔
٭…٭
ہم سب مسلمانوں کے لیے رمضان المبارک جو بخشش و مغفرت کا مہینہ ہے اور عیدین کی بڑی اہمیت ہے یعنی ایک عید الفطر کے دن کی اور دوسری عیدالاضحیٰ کے دن کی، سال میں دو مرتبہ المہ مسلمہ کے لیے اجتماعی عبادات کے صلے میں رب الکریم کی طرف سے یہ خوشی کے تہوار ہیں جنہیں دنیا کے ہر خطے کے مسلمان نہایت عقیدت شوق و محبت سے مناتے ہیں اور اس کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ ماہ رمضان جو مغفرتوں اور بخشش کا مہینہ ہے المہ اسلام اس میں خشوع و خضوع عقیدت و احترام سے عبادات سرانجام دیتے ہیں۔
رب العزت کے حکم کے مطابق یہ ماہ رمضان گزارنے کی وجہ سے مسلمان تزکیہ نفس و اخلاص نفس کے گوہر سے منور ہوتے ہیں جو المہ اسلام کے لیے تشکر رب العزت کا باعث بنتا ہے۔ اسی خاص طور پر اہتمام سے رمضان گزارنے پر رب کی طرف سے عیدالفطر کا تحفہ عطا فرمایا گیا ہے عالم اسلام اسی خوشی کے پر مسرت موقع پر بھی اپنی جبیں رب العزت کے آگے جھکا دیتے ہیں تشکر و محبت اور عقیدت کا یہ نزرانہ کسی مذہب و قوم میں نظر نہیں آتا یہ صرف عالم اسلام کی جبیں کائنات رب کے حضور سر بسجود حمد و ثناء شکر کے نزرانے پیش کرتیں ہیں بلکہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی خوشیوں کے نزرانے پیش کرنے ہیں بھی کسی کوتاہی کے مرتکب نہیں ہوتے جی ہاں فطرہ، صدقہ، خیرات، ہدیات کی روایت اس موقع پر بکثرت نظر آتی ہیں جس سے دلوں کے میل دھل جاتے ہیں آپس میں ایک روحانی رشتہ استوار ہوتا ہے عزیز و اقارب ایک دوسرے کو اپنے یہاں مدعوع کتے ہیں حسب توفیق ایک دوسرے کی تواضح ہوتی ہے یہ یاد گار لمحے ہوتے ہیں جب انسان (مسلمان) بڑی خندہ پیشانی سے اور خوش اخلاق۲ی سے ایک دوسرے کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
دیس ہو یا پردیس ’’مسلمان کمیونٹی‘‘ ایک دوسرے کے لیے باعث تسکین اور مسرت ہوتے ہیں جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن اس موقع پر بھی مسلمانوں کو اس تہوار کے تقدس کو قائم رکھنا ضروری امر ہے۔ لہو ولہب قسم کی سرگرمیوں سے اجتناب برتنا لازمی ہے۔ لہٰذا احکامات الٰہی کی پیروی کرنے والے اس بات کو ذہن نشیں رکھتے ہیں کیونکہ آپؐ کے توسط سے عیدیں کا جو تصور اور تعلیم ہمیں ملتی ہے اس میں غیر اسلامی رسوم ڈھول باجے ہنگامے کہیں نظر نہیں آتے ویسے بھی ہم ایک ماہ کی تربیتی کورس سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں جو ہمیں ان لہو ولہب اور غیر ضروری سرگرمیوں سے بچنے کی تربیت کر چکا ہوتا ہے رمضان المبارک ہمیں رب کی رضا کا خواہش مند بناتا ہے اس موقع پر بھی رب کی رضا کو مقدم رکھنا چاہیے رب کی رضا تو یہ ہے کہ ہم طاعوتی سرگرمیوں سے نہ صرف اپنے آپ کو بچائیں بلکہ ہماری ذات دوسروں کے لیے باعث رحمت و سکون بھی ثابت ہو… جس کے لیے ہم اس موقع پر اپنے عزیز و اقارب کی خیر خبر لیتے ہیں انہیں احساس دلاتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں جیسا کہ میں نے مضمون کے آغاز میں اپنی بہن کا ذکر کیا کہ وہ پردیس میں بھی ان تہواروں پر خوشی محسوس کرتی ہے کہ اس کے آس پاس مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے دوست احباب ان کے ساتھ ہوتے ہیں ایک دوسرے کو مبارک دیتے ہیں ایک دوسرے کو اپنے گھروں میں کھانے پر مدعوع کیا جاتا ہے بچوں میں تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں ایک دوسرے کو کھانے دعوت دینا بھی بڑا ہدیہ ہے۔ جسے رد نہیں کرنا چاہیے۔ بظاہر یہ چیزیں معمولی لگتیں ہیں لیکن دوسرے کی خوشی کا باعث بنتی ہیں دین اسلامی تو محبتیں بانٹنے اور رشتے استوار کرنے کا دین ہے خصوصاً ’’حساس‘‘ اور ’’خاص‘‘ لوگوں کو خوشیاں دینے سے آپ کے دلوں کو راحت محسوس ہوتی ہے۔ آپؐ نے جب اس یتیم بے سہارا بچے کو اپنی پناہ و محبت اور شفقت سے سعادت بخشی اور اس وقت اس معصوم کی مسرت و خوشی کے جو احساسات ہوں گے وہ قابل دید و قابل تحسین ہوں گے آپ اس موقع پر کسی کے ساتھ ایسا برتائو روا رکھ کر دیکھیں کہ سامنے والے کی آنکھوں میں عید کی اصل چمک عیاں ہو جائے گی اس کے لیے یہ لمحات تقویت کا باعث بن سکیں گے خصوصاً اس کورونا کی وجہ سے جو لاک ڈائون کی فضا نے تمام ماحول کو افسردگی کی چادر اوڑھا دی ہے ہر ایک فکر مند ہے کہ آگے کیا ہو گا؟
اسے لوگوں کو اس موقع پر حوصلہ دینا چاہیے آس پاس یا گھروں میں بزرگ ہستیاں ہیں تو ان کی دلجوعی کرنی ہوگی انہیں احساس دلانا ہو گا کہ ’’ہم ہیں نا‘‘ رب کی طرف سے آپ کے نزدیک آپ کا حوصلہ بڑھانے والے… یہ بزرگ ہستیاں ویسے ہی اس عمر میں بہت حساس ہو جاتیں ہیں ان کے ساتھ گزارے آپ کے کچھ لمحے نہ صرف آپ کو اطمینان بخش لگے بلکہ ان کی آنکھوں میں بھی خوشیوں کے دیپ جل اٹھیں گے یہ ’’دیپ‘‘ آپ کے دلوں کو بھی تسکین بخشیں گے۔
ان خوشیوں بھرے لمحات میں بھی جو اپنوں سے دور ہوتے ہیں ان کے دلوں میں چھائی اداسی کسی کے دو میٹھے بول کسی قیمتی ہدیے سے کم نہیں ہوتے…۔
فرحانہ جس کی شادی کو چند ماہ ہوئے تھے ماں باپ بھائی بہنوں سے دور دوسرے شہر میں اپنے سسرال والوں کے ساتھ رہ رہی تھی عید کی آمد تھی اس کے دل میں بہت سی امنگیں تھیں لیکن گھر والوں کے سرد رویے اور ان کا معمول تھا اس موقع پر اسے اپنے ماں باپ بہن بھائی سب یاد آرہے تھے جن کے سنگ اس نے زندگی کے 18 سال گزارے تھے اس نے سوچا وہ خود والہانہ انداز سے ان کے سرد رویوں کی تلافی کرے گی عید کے دن صبح اس نے بڑھ کر سب کو گلے لگایا گرچہ سامنے والوں میں وہ جوش و خروش نہ تھا اس نے اپنی ساس کو گلے لگایا بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو روا ہو گئے اسی لمحے اس کی نانی ساس آگئی جس نے اسے پیار کیا سینے سے لگایا بہت ساری دعائیں دیں نانی کے اس اندازِ پیار نے اس کے دل میں پیدا ہونے والے سارے شکوے دھو دیے اس نے ایک سوئیوں کا پیالہ نئی آنے والی اس بہو کے ہاتھ میں رکھا اور دس کا نوٹ بھی ہاتھ میں تھمایا کہ دلہن یہ تمہاری عیدی ہے۔
نانی کا یہ انداز یہ پیار اس کا یہ ہدیہ تھا جس نے اس کی عید کو ’’عید‘‘ بخشی…
نانی کا یہ رویہ ہم بھی دوسروں کے ساتھ روا سکتے ہیں ان کی عید کو عید بنا سکتے ہیں کسی کو چند لمحے بھی خوشیاں آپ کی ذات کے توسط سے مل سکتیں ہیں تو ضرور آگے بڑھیں کیوںکہ میرے رب کو آپ کی یہ ادا پسند آئے گی کیونکہ جو اس باری تعالیٰ کے بندوں کو سکھ اور چین پہنچاتا ہے رب اسے ’’نوازتا‘‘ ہے۔

حصہ