نعت موضوعِ شاعری ہے، صنف سخن نہیں

184

معروف شاعر اور ادیب مظفر عارفی سے جسارت میگزین کی گفتگو

نثار احمد نثار

۔22 اگست 1965کو شاہ فیصل کالونی کراچی میں پیدا ہونے والے منظر عارفی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں‘ وہ شاعر‘ ادیب اور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کے اسکالر بھی ہیں‘ ان کی تصانیف و تالیفات میں پائوں میں گرداب (شعری مجموعہ)‘ اللہ کی سنت (قومی سیرت ایوارڈ یافتہ‘ نعتیہ مجموعہ)‘ تم میری منزل نہیں (افسانے)‘ روحِ ایماں (نعتیہ مجموعہ)‘ کمالِ سخن (مجموعۂ حمد)‘ بساطِ عشق سے کارِ سخن تک (شعری مجموعہ۔ کاروان ادب فیصل آباد سے ایوارڈ یافتہ)‘ انہی مشعلوں سے دیے جلے (منظوم احادیث۔ قومی سیرت ایوارڈ یافتہ)‘ حنبل (مجموعہ رباعیات)‘ سب سے مہنگی گائے (نثری کہانیاں۔ نیشنل بک فائونڈیشن سے انعام یافتہ)‘ فانوس (منظوم۔ قومی سیرت ایوارڈ یافتہ)‘ اے بیٹے! (نثری کتاب)‘ ابوجہل کی پٹائی (نثری کتاب)‘ شعری کھلونے (بچوں کے لیے نظمیں)‘ عرفانیات عارف (عارف اکبر آبادی کی حمد و نعت)‘ سیرتِ نبویؐ (صوبہ سندھ ایوارڈ یافتہ)‘ کراچی کا دبستان نعت‘ مناقب امام حسین‘ مناقب خلفائے راشدین۔ کراچی کے اہل قلم (جس کی تین جلدیں شائع ہوچکی ہیں) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ادبی رسالے سربکف اور کتابی سلسلہ ’’تذکرہ‘‘ میں اہم خدمات انجام دیں۔ گزشتہ ہفتے راقم الحروف نثار احمد نثار نے ان سے تفصیلی گفتگو کی جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

جسارت میگزین: اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتایئے گا۔
منظر عارفی: میرے والدین کا وطن الٰہ آباد (بھارت) ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد والدین پاکستان آگئے اور شاہ فیصل کالونی میں قیام کیا۔ تاحال ہم سب کا قیام یہیں ہے۔میرے پردادا سید امانت علی الٰہ آباد میں آرکی ٹیکچر تھے۔ برطانوی حکومت کی دعوت پر الٰہ آباد ریلوے اسٹیشن کا نقشہ الٰہ اباد کے کئی آرکی ٹیکچرز نے بنایا لیکن برطانوی حکومت نے میرے دادا سید امانت علی کا بنایا ہوا نقشہ منظور کیا اور اسٹیشن تعمیر ہو گیا جو آج بھی موجود ہے۔ وائسرائے نے پر دادا کے اسکیل پر بطور ایورڈ اپنے دستخط کیے تھے۔ وہ اسکیل میرے مرحوم چچا کے پاس یہاں کراچی میں محفوظ تھا۔ یقینا ان کے بچوں کے پاس اب بھی ہوگا۔ واللہ علم۔
ترقی کے کوئی ذرائع نہیں تھے۔ میٹرک کے بعد تعلیم بھی اپنے طور پر حاصل کرتا رہا۔ پڑھائی جاری رکھنے کا شوق تھا تاہم حالات سازگار نہیں تھے‘ سو پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ پڑھائی چھوٹی قلم کاغذ سے رابطہ نہیں چھوٹا۔ چوبیس‘ پچیس سال پہلے کراچی میں ایک پرائیویٹ ادارے میں ملازم ہوا تھا آج بھی اسی میں ملازم ہوں۔ گھر کی ضرورت اور ذمہ داریوں کو دائو پر لگا کر نہ کوئی کتاب چھپوائی نہ اپنا کوئی کھانے‘ پہننے اور سیر و تفریح وغیرہ جیسا شوق پورا کیا۔ کتب چھپوانے کے سلسلے میں مختلف حلال ذرائع اضافی محنت کی اور کتاب چھپوائی۔ بچوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت سے کبھی غفلت نہیں برتی۔ میرا بڑا بیٹا محمد احمد رضا سید الحمدللہ سوفٹ ویئر انجینئر ہے (لیکن بوجوہ اس کے مال میں میرا کوئی حصہ نہیں) چھوٹا بیٹا محمد حنبل رضا سید اسکول میں زیر تعلیم ہے‘ 24 سال سے کرائے کے مکانوں میں زندگی گزار رہا ہوں‘ مجھے اعتراف ہے کہ میرے رب نے مجھے سب کچھ عطا کیا۔ وہ زبان میرے پاس نہیں جس سے میں اپنے رب کا شکر ادا کر سکوں۔
جسارت میگزین: آج کے زمانے میں تنقید کا معیار کیا ہے‘ کیا آج کے تنقید نگار اپنی ذمہ داریاں پوری کر رے ہیں؟
منظر عارفی: آج کی تنقید کا معیار مقرر کرنا تو تنقید پر تحقیقی کام کرنے والے کا کام ہے‘ میرے نزدیک تنقید کے معنی ’’صرف علمی بنیاد پر ایک تخلیق کے محاسن و عیوب کو ظاہر کرنا ہیں‘‘ اس میں ایک تو تخلیق کار کو ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرے کسی اور کو گھما پھرا کر دور اذکار کی تاویلوں کے ذریعے اور نہ سمجھ میں آنے والی گفتگو لکھ کر اس کا رد نہیں کرنا چاہیے۔ جب دو اور دو چار ہوتے ہیں تو کیا ضروری ہے کہ اس پر بضد رہا جائے اور اس پر اپنی ساری توانائی صرف کی جائے کہ نہیں جناب ’’دو اور دو کچھ اور بھی ہوتا ہے۔‘‘ تنقید کے نام پر بڑے بڑے مقالے لکھے گئے ہیں‘ ضخیم کتابیں موجود ہیں‘ جن میں سے بیشتر کا توجہ سے پڑھنا بھی ممکن نہیں ہوتا چہ جائیکہ انہیں سمجھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعری تو پھر دس بیس فیصد پڑھی اور سنی جا رہی ہے میری ذکر کردہ ’’تنقید‘‘ کتنے فیصد پڑھی اور سنی جا رہی ہے۔ ہاں اپنی معلومات کا رعب بٹھانے کے لیے جو نہ کسی کی سمجھ میں آئے نہ کوئی اس پر گفتگو کرے‘ ایسی ’’تحریریں‘‘ اہمیت کی حامل ہیں جنہیں ’’تنقید‘‘ کا نام دے دیا گیا ہے۔ لیکن میری یہ گفتگو کوئی حرف آخر نہیں۔ یہ میری رائے ہے۔
جسارت میگزین: کیا نعت کو اصنافِ سخن میں شامل کیا جاسکتا ہے؟
منظر عارفی: ’’نعت‘‘ موضوع شاعری ہے‘ صنف نہیں۔ صنف سخن تو غزل‘ نظم‘ (معرا‘ پابند یا نثری وغیرہ) قطعہ‘ رباعی‘ مسدس‘ مخمس‘ مربع‘ ثلاثی‘ تروینی‘ چہار بیت‘ قصیدہ‘ دوہا‘ سانیٹ‘ ہائیکو‘ ترکیب بند‘ ترجیح بند‘ تضمین وغیرہ وغیرہ ہیں۔ ان اصناف میں کسی بھی موضوع پر شاعری کی جاسکتی ہے۔ عاشقانہ ہو‘ عارفانہ ہو‘ فلسفیانہ ہو‘ سیاسی ہو‘ معاشرتی ہو‘ اصلاحی ہو‘ انقلابی ہو‘ احتجاجی ہو‘ دفاعی ہو‘ حمدیہ ہو‘ نعتیہ ہو‘ منقبتی ہو‘ تحسینی ہو‘ تقریظی ہو‘ ہجویانہ ہو‘ ہزل ہو الغرض کسی بھی موضوع پر کسی بھی صنف میں شاعری کی جاسکتی ہے‘ کوئی پابندی نہیں۔ نعت بھی انہیں اصناف میں سے بیشتر میں کہی جارہی ہے اس کے لیے الگ سے کوئی صنف ایجاد نہیں کی گئی۔ اگر الگ سے کوئی صنف ایجاد کر لی جاتی اور نعت اسی صنف کے لیے مخصوص ہوتی تو کہا جاسکتا تھا کہ ’’نعت ایک صنفِ سخن‘‘ ہے۔ ابھی تو کسی صورت میں نعت کو ’’صنفِ سخن‘‘ نہیں کہا جاسکتا۔ اگرچہ 99 فیصد لکھنے والوں نے اسے ’’صنفِ سخن‘‘ لکھاہے لیکن اس سے دلیل نہیں لی جاسکتی یہی حال ’’مرثیے‘‘ کا ہے۔ مرثیہ بھی موضوعِ سخن ہے صنفِ سخن نہیں۔ صرف مسدس میں کہے جانے کی وجہ سے مسدس صنفِ مرثیہ نہیں بن گئی۔ مسدس آج بھی مسدس ہے۔ کیا غزل کی ہیئت‘ نظم‘ قطعہ‘ رباعی یا کسی اور صنف میں مرثیہ نہیں کہا جاسکتا یا مسدس میں کسی اور موضوع پر شاعری نہیں کی جاسکتی۔
جسارت میگزین: موجودہ زمانے میں نعت خوان حضرات خود ہی نعتیں لکھ رہے ہیں جن میں لوگوں کے جذبات سے کھیلا جارہا ہے‘ فلمی دھنوں پر نعتیں لکھی جارہی ہیں کیا اس طرح نعت کا تقدس پامال نہیں ہو رہا؟
منظر عارفی: ہمارے ہاں کسی موچی کو آپریشن تھیٹر میں آپریشن کا کام نہیں سونپا گیا کسی درزی کو پلاسٹک سرجری کی اجازت نہیں دی گئی‘ کسی بک سیلر کو ٹیچر مقرر نہیں کیا گیا‘ کسی ردّی پیپر خریدنے اور بیچنے والے کو ریسرچ اسکالر نہیں بنایا گیا لیکن ’’نعت‘‘ کے ساتھ شعوری ظلم یہ کیا گیا کہ ہر شخص کو اجازت دے دی گئی کہ وہ ’’نعت‘‘ کہے اور جیسے چاہے کہے اور اس کو یہ سرٹیفکیٹ بھی دے دیا گیا کہ وہ سب سے بڑا عاشق رسول‘ حقیقی فنا فی المصطفیٰ‘ اللہ تعالیٰ کا سب سے محبوب و پسندیدہ اور سب سے اہم بات بخشابخشایا ہے۔ اب کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔میں تحقیق سے یہ بات ثابت کر سکتا ہوں کہ جس کو ’’نعت‘‘ کہا جاتا ہے اردو شاعری کے سرمائے میں دس فیصد مل جائے تو کمال ہے۔ نعت کے نام پر اللہ‘ اسلام‘ دین‘ شریعت سے بے زاری اور صرف اور صرف سادہ عوام کے جذبات کو بھڑکا کر اس کی جیب سے پیسے نکلوانے والی شاعری کو ’’نعت‘‘ قرار دے دیا گیا ہے جس میں توہین رسول بھی چیخ رہی ہے اور ناموس رسول بھی واویلا کر رہی ہے اور ایسی باتوں کو مذہبی عقائد خصوصاً اہلِ سنت کے عقائد کا نام دے دیا گیا ہے جو علمائے اہلِ سنت کی تحریروں سے بھی ثابت نہیں۔ اور کمال یہ ہے کہ ان کے خلاف کوئی علم والا بول نہیں سکتا۔ عوام کو ان کے اصل چہروں سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
جسارت میگزین: یہ بتایئے کہ نعت کے بنیادی تقاضے کیا ہیں‘ کیا نعت پر تنقید درست ہے؟
منظر عارفی: نعت کے بنیادی تقاضے۔ یہی وہ کڑوی ترین چیز ہے جو اگر محبت اور عقیدت سے نگل لی جائے تو نعت شفاف ہو سکتی ہے۔ سچ‘ لایعنیت سے قطعی پرہی‘ اپنی من مانی سے قطعی گریز‘ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا عظیم المرتب رسول سمجھنا صرف اپنا ممدوح نہ سمجھنا۔ ذاتِ رسالت‘ منصب رسالت‘ حقوق رسالت‘ ناموس رسالت سے حقیقی آگاہی (اپنی مرضی والی نہیں) ادب‘ اخلاص‘ محض اور محض رضائے الٰہی‘ خوفِ حساب‘ احتسابِ حشر‘ احترامِ اسلام‘ احترامِ شعارِ اسلام‘ احترامِ تعلیماتِ اسلام یہ سب کچھ نعت کے بنیادی تقاضے ہی ہیں ان کے بغیر کوئی چیز نعت نہیں ہوسکتی اور ہمارے ہاں نعت میں کم و بیش یہی چیزیں نہیں ہیں بس وہ ’’نعت‘‘ ہے جو دولت اور شہرت اور لذت تینوں چیزیں دے رہی ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ نعت پر تنقید معاذ اللہ رسول اللہؐ پر تنقید کرنا ہے جس کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ یہ بات درست نہیں‘ تنقید جو ہو رہی ہے وہ شاعر کی اس شاعری پر ہو رہی ہے جسے اس نے لکھا ہے کہ نعت ہے۔ اس کلام کی اچھائی اور برائی کو اہلِ علم و معرفت سامنے لا رہے ہیں اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جو اچھا ہے‘ درست ہے وہ قبول کر لیا جائے اور جو کسی بھی وجہ سے غلط در آیا ہے اس سے بے زاری ظاہر کرکے اس کی اصلاح کر لی جائے یا اسے تبدیل کر لیا جائے۔ لیکن افسوس یہی نہیں ہوتا‘ لکھنے والا سمجھتا ہے اس نے جو کچھ لکھا ’’خدا کے غیر متزلزل کلام‘‘ کی طرح ہے جس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں‘ جس پر حرفِ اعتراض اٹھانا کفر سے بد تر ہے۔
جسارت میگزین: دیکھنے میں آرہا ہے کہ نعت پر یونیورسٹیوں کے تحت ایم اے‘ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے دھڑادھڑ سامنے آرہے ہیں یقینا آپ کی نظر میں ہوں گے ان کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
منظر عارفی: یہ بڑی خوش آئند بات ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نعت کو شاعری کا ایک مستقل اور محترم موضوع تسلیم کر لیا گیا ہے اور اس پر تحقیق کی اجازت جامعات نے دے دی ہے۔ مجھے برادرم صبیح رحمانی نے بتایا تھا کہ آج سے کم و بیش بائیس سال پہلے اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ کوئی جامعہ نعت پر کوئی موضوع ایم اے یا ایم فل کے لیے ہی پاس کر دے‘ پی ایچ ڈی تو بہت دور کی بات تھی۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے‘ مقالے اٹھا کر واپس کر دینے والے اب اپنی سپر وائزنگ میں نعت پرمقالے لکھا رہے ہیں لیکن میں یہاں یہ بات ضرور کہوں گا کہ یہ شعبہ نیا ہونے کے باوجود ابھی سے تساہل پسندی کا شکار ہے اور کم از کم ایم اے اور ایم فل کی سطح پر ایسا نہیں کہ کسی علمی فورم پر بحیثیت تحقیق یا بحیثیت علمی کام پیش کیا جائے۔ اس شعبے کو اگر واقعی زندہ رکھنا ہے تو ریسرچ اسکالر سے اصل کتابوں اور ماخذسے تحقیق کرائی جائے اس موضوع پر لکھے ہوئے پچھلے مقالوں سے کوٹنگ لینے پر سخت پابندی کی جائے۔
جسارت میگزین: بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اردو ادب روبہ زوال ہے‘ آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟
منظر عارفی: یہ کہنا تو درست نہیں کہ اردو ادب روبہ زوال ہے‘ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو ادب کا معیار روبہ زوال ہے اس کی سب سے بڑی وجہ جو مجھے نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ بغیر سوچے سمجھے‘ بغیر کسی معیار کے‘ بغیر کسی مقصد کے لکھنے والوں کی تعداد میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے خصوصاً خواتین کا تو شمار ہی نہیں۔ ڈائجسٹوں کی بھرمار نے اس سلسلے کو خوب ترقی دی ہے کیوں کہ مالکان کو ڈائجسٹ نکالنے کے لیے مواد چاہیے۔ ان کو مواد مل رہاہے اس بات سے قطع نظر یہ مواد کتنا معیاری اور کتنا بوگس ہے۔ اس مواد کو پڑھنے والا جو طبقہ ہے وہ علمی اور تنقیدی شعور سے عاری ہے‘ وہ بھی بے سوچے سمجھے پڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں لکھوانے والون کا ایک الگ کردار ہے۔ وہ لکھنے والوں کو بریفنگ دیتے ہیں کہ تم نے یہ یہ لکھنا ہے اور وہ یہ اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں اپنا ڈائجسٹ بیچنا ہے۔ مدیر جانتا ہی نہیں کہ افسانہ کیا چیز ہے اور سپاٹ کہانی کیا چیز ہے۔ میں کہانی کا مخالف نہیں ہوں لیکن اس بات پر ضرور زور دیتا ہوں کہ کہانی اور افسانے میں فرق کو ملحوظ رکھا جائے۔ ہر طویل رومانی کہانی ناول قرار دی جارہی ہے۔ میں ادبی پرچوں میں اکثر دیکھتا ہوں کہ افسانے کا نام دی ہوئی تیسرے درجے کی کہانی پہلے نمبر پر شائع کی جارہی ہے۔ یہی حال غزل اور نظم کا ہے۔ بے مقصد تحریروں سے موٹے موٹے پرچے بھرے ہوئے ہیں۔ بامقصد اور اعلیٰ تحریروں کی تلاش کا کام خواب و خیال ہو کر رہ گیا ہے۔
جسارت میگزین: اس سلسلے میں پیش لفظ‘ مقدمے اور تفریظ وغیرہ لکھنے والے کہاں تک آپ کو حق بجانب نظر آتے ہیں؟
منظر عارفی: میرا صرف خیال نہیں بلکہ گہرا مشاہدہ ہے کہ اب یہ شعبہ صرف اور صرف جانبداری کا شکارہے۔ اس وقت لکھنے والوں میں سے بیشتر کا حال یہی ہے کہ کسی کتاب پر وہ کچھ لکھ رہے ہیں جو کتاب کے مواد سے ثابت نہیں یا تو وہ بغیر کتاب پڑھے لکھ رہے ہیں یا لکھتے وقت ان کے پیش نظر صرف شخصیت اور تعلق ہے۔ معیاری زوال کا ایک بہت بڑا تعلق اس سے بھی ہے۔ معمولی لکھنے والے کو ایسی خوش فہمی میں مبتلا کر دینا کہ اس کے ذہن کا گنبد ہی بند ہو جائے میرے خیال میں اسے ظلم کہنا بے جا نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود یہ عنصر بھی ہمارے ہاں موجود ہے کہ اگرکسی نے سچ لکھ دیا تو وہ سچ لکھوانے والے کو قبول نہیں ہوگا۔ لکھوانے والا اپنی تخلیق پر نظر ثانی کرنے کے بجائے سچ لکھنے والے کااور ہی رنگ دینے لگتا ہے۔ اسی کی طرح کے دس حاشیہ بردار اس کے پہلے سے حمایت پر موجود ہوتے ہیںلیکن اس کے باوجود میں کہوں گا کہ پیش لفظ‘ مقدمہ‘ تقریظ‘ تحسین‘ شخصیت اور تعلق سے ماورا ہوکر محض تخلیق کی بنیاد پر ہی لکھی جانی چاہیے صرف زمین و آزمان کے قلابے ملانے سے معیار پست ہی ہوتا ہے۔

حصہ