سید مودودیؒ سے چند سوالات

118

اعظم طارق کوہستانی

مولانا مودودیؒ بلاشبہ ایک مجدد ہیں، آپ آج ہی کے نہیں بلکہ آنے والے کل کے بھی امام ہیں، اُن کے انتقال کو چالیس برس گزر چکے ہیں لیکن اُس کے باوجود آپ ان کا لکھا ہوا پڑھیں تو بالکل تازہ مسائل پر بھی وہ باتیں اور آرا فٹ بیٹھتی ہیں جو کئی برس قبل اُنھوں نے بیان کیے تھے، موجودہ دور کے چند مسائل کو لیکر جب مولانا سے رجوع کیا تو مولانا کی کتابوں میں درج ذیل جوابات ملے ، یہاں ان سوالات اور مولانا کے جوابات دیے جارہے ہیں، اُمید ہے کہ اس سے نا صرف چند جدید مسائل کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ دماغی تطہیر کا ذریعہ بھی ثابت ہوگا۔یاد رہے کہ جوابات مولانا مودودیؒ کی کتب سے اَخذ شدہ ہیں۔

اسلام کی لڑائی چونکہ اس نوعیت کی نہیں ہے اس لیے وہ سرے سے اس لفظ ہی کو ترک کردیتا ہے۔ اس کے پیش نظر ایک قوم کا مفاد یا دوسری قوم کا نقصان نہیں ہے، وہ اس سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتا کہ زمین پر ایک سلطنت کا قبضہ رہے یا دوسری سلطنت کا، اس کی دلچسپی جس سے ہے وہ انسانیت کی فلاح ہے۔ اس فلاح کے لیے وہ اپنا ایک خاص نظریہ اور ایک عملی مسلک رکھتا ہے۔
اس نظریے اور مسلک کے خلاف جہاں جس کی حکومت بھی ہے، اسلام اسے مٹانا چاہتا ہے قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی قوم ہو اور کوئی ملک ہو۔ اس کا مدعا اور اپنے نظریے اور مسلک کی حکومت قائم کرنا ہے بلا لحاظ اس کے کہ کو ن اس کا جھنڈالے کے اُٹھتا ہے اور کس کی حکمرانی پر اس کی ضرب پڑتی ہے۔وہ زمین مانگتا ہے …زمین کا ایک حصہ نہیں بلکہ پورہ کر ۂ زمین…اس لیے نہیں کہ ایک قوم یا بہت سی قومو ں کے ہاتھ سے نکل کر زمین کی حکومت کسی خاص قوم کے ہاتھ میں آجائے بلکہ صرف اس لیے کہ انسانیت کی فلاح کا جو نظریہ اور پروگرام اس کے پا س ہے، یا با لفاظِ صحیح تریوں کہیے کہ فلا ح انسانیت کے جس پروگرام کا نام ’’اسلام‘‘ ہے، اس سے تمام نوعِ انسانی متمتع ہو۔
اس غرض کے لیے وہ تمام ان طاقتوں سے کام لینا چاہتا ہے جو انقلاب برپا کرنے کے لیے کارگر ہوسکتی ہیں اور ان سب طاقتوں کے استعمال کا ایک جا مع نام ’’جہاد ‘‘ رکھتا ہے۔ زبان و قلم کے زور سے پرانے ظالمانہ نظام زندگی کو بدل دینا اور نیا عادلانہ نظام مرتب کرنا بھی جہاد ہے اور اس راہ میں مال صَرف کرنا اور جسم سے دوڑ دھوپ کرنا بھی جہاد ہے۔
٭…٭
جہاد سے متعلق عرصہ دراز سے غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اور پڑھے لکھے لوگ بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہو کر جہاد کو نرا قتل وغارت گری کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے، دراصل جہاد ہے کیا؟ اور اس کے ذریعے اسلام انسانی زندگی میں کیا تبدیلیاں لانا چاہتا ہے، اس سے متعلق مولانا مودودیؒ نے ’’اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات ‘‘کے باب ہشتم میں جہاد فی سبیل اللہ کے حوالے سے اس غلط فہمی کو مضبوط دلائل کے ساتھ رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔
…………
اسلام تلوار کے زور سے پھیلا …یاپھر اسلام کی دعوت میں بھی اتنی طاقت اور جان تھی کہ وہ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلا۔ اس حوالے سے مولانا نے ایک تفصیلی کتاب’الجہاد فی الاسلام‘ تحریر کی ہے، یہ کتاب جہاد کے موضوع پر ایک غیر معمولی کتاب ہے۔ جسے دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور اسلام کے خلاف جو پروپیگنڈا کیا جارہا تھا وہ کافی حد تک رفع ہوا۔
حوالہ: مولانا مودودیؒ،اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات ‘(جہاد فی سبیل اللہ)، باب :ہشتم، ص:208
٭…٭
آخر ہم نماز کیوں پڑھتے ہیں؟
کیا واقعی نماز ہمیں گناہوں سے بچاتی ہے؟
جواب: نماز کو بھی ہم ایک خاص طریقے سے اُٹھنے بیٹھنے کا عمل سمجھ لیا ہے کہ جس سے خدا خوش ہوتا ہے اور انسان برائیوں سے بچ جاتا ہے، لیکن فی زمانہ نماز ہماری زندگیوں میں کوئی تغیر نہیں لاتی۔ایسا کیوں ہے؟ اسے سے متعلق سید مودودیؒ لکھتے ہیں:
’’عبادت دراصل بندگی کو کہتے ہیں اور جب آپ خدا کے بندے ہی پیدا ہوئے ہیں تو آپ کسی وقت کسی حال میں بھی اس کی بندگی سے آزاد نہیں ہوسکتے۔ جس طرح آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں اتنے گھنٹے یا اتنے منٹو ں کے لیے خدا کا بندہ ہوں اور باقی وقت میں اس کا بندہ نہیں، اسی طرح آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ میں اتنا وقت خدا کی عبادت میں صَرف کروں گا اور باقی اوقات میں مجھے آزادی ہے کہ جو چاہوں کروں۔ آپ تو خدا کے پیدائشی غلام ہیں۔ اس نے آپ کو بندگی کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔ لہٰذا آپ کی ساری زندگی اس کی عبادت میں صَرف ہونی چاہیے اور کبھی ایک لمحے کے لیے بھی آپ کو اس کی عبادت سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ عبادت کے معنی دنیا کے کام کاج سے الگ ہوکر ایک کونے میں بیٹھ جانے اور اللہ اللہ کرنے کے نہیں ہیں، بلکہ دراصل عبادت کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آپ جو کچھ بھی کریں خدا کے قانون کے مطابق کریں۔ آپ کا سونا اور جاگنا، آپ کا کھانا اور پینا، آپ کا چلنا اور پھرنا، غرض سب کچھ خدا کے قانون کی پا بندی میں ہو۔ آپ جب اپنے گھر میں بیوی بچوں، بھائی بہنوں اور عزیز رشتہ دارو ں کے پاس ہوں تو ان کے ساتھ اس طرح پیش آئیں جس طرح خدا نے حکم دیا ہے۔ جب اپنے دوستوں میں ہنسیں اور بولیں، اس وقت بھی آپ کو خیال رہے کہ ہم خدا کی بندگی سے آزاد نہیں ہیں۔ جب آپ روزی کما نے کے لیے نکلیں اور لوگوں سے لین دین کریں اس وقت بھی ایک ایک بات اور ایک ایک کام میں خدا کے احکا م کا خیا ل رکھیں اور کبھی اس حد سے نہ بڑھیں جو خدا نے مقرر کردی ہے۔ جب آپ رات کے اندھیرے میں ہوں اور اور کوئی گناہ اس طرح کر سکتے ہوں کہ دنیا میں کوئی آپ کو دیکھنے والا نہ ہو، اس وقت بھی آپ کو یاد رہے کہ خدا آپ کو دیکھ رہا ہے اور ڈرنے کے لائق وہ ہے نہ کہ لوگ۔
جب آپ جنگل میں تنہا جا رہے ہوں اور وہاں کوئی جرم اس طرح کر سکتے ہوں کہ کسی پولیس مین اور کسی گواہ کا کھٹکا نہ ہو، اس وقت بھی آپ خدا کو یا د کر کے ڈر جا ئیں اور جرم سے باز رہیں۔ جب آپ جھوٹ اور بے ایمانی اور ظلم سے بہت فائدہ حاصل کر سکتے ہوں اور کوئی آپ کو روکنے والا نہ ہو، اس وقت بھی آپ خدا سے ڈریں کہ خدا اس سے ناراض ہو گا اور جب سچائی اورایمان داری میں سراسر آپ کو نقصان پہنچ رہا ہو، اس وقت بھی آپ نقصان اُٹھا نا قبول کرلیں، صرف اس لیے کہ خدا اس سے خوش ہوگا۔ پس دنیا کو چھوڑ کر کونوں اور گوشوں میں جا بیٹھنا اور تسبیح ہلانا عبادت نہیں ہے، بلکہ دنیا کے دھندو ں میں پھنس کر خدا کے قانون کی پابندی کرنا عبادت ہے۔ ذکر الٰہی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان پر اللہ اللہ جا ری ہو، بلکہ اصل ذکرِ الٰہی یہ ہے کے جھگڑوں اور بکھیڑوں میں پھنس کر ہی تمھیں ہر وقت خدا یاد رہے۔ جو چیزیں خدا سے غافل کرنے والی ہیں ان میں مشغول ہو اور پھر خدا سے غافل نہ ہو۔ دنیا کی زندگی میں جہاں خدائی قانون کو توڑنے کے بے شمار مواقع بڑے بڑے فائدوں کے لالچ اور نقصان کا خوف لیے ہوئے آتے ہیں وہا ں خدا کو یا د کرو اور اس کے قانون کی پیروی پر قا ئم رہو۔ یہ ہے اصل یاد ِخدا۔ اس کا نام ہے ذکرِ الٰہی۔جو شخص دن میں پانچ مرتبہ اذان کی آواز سنتا ہو اور سمجھتا ہو کہ کیسی بڑی چیز کی شہادت دی جا رہی ہے اور کیسے زبردست بادشاہ کے حضور میں بلایا جا رہا ہے اور جو شخص ہر مرتبہ اس پکار کو سن کے اپنے سارے کام کاج چھوڑدے اور اس ذاتِ پاک کی طرف دوڑے جسے وہ اپنا اور تما م کائنا ت کا مالک جانتا ہے اور جو شخص ہر نماز سے پہلے اپنے جسم اور دل کو وضو سے پاک کرے اور جو شخص کئی کئی با ر نماز میں وہ ساری باتیں سمجھ بوجھ کر ادا کرے جو نماز میں پڑھی جاتی ہیں، کیوں کر ممکن ہے کہ اس کے دل میں خدا کا خوف پیدا نہ ہو؟ اس کو خدا کے احکام کی خلا ف ورزی کرتے ہوئے شرم نہ آئے؟ اس کی روح گناہوں اور بدکاریوں کے سیاہ دھبے لے کر با ر بار خدا کے سامنے ہوتے ہوئے لرز نہ اُٹھے؟ کس طرح ممکن ہے کہ آدمی نماز میں خدا کی بندگی کا اقرار ،اس کی اطاعت کا اقرار ،اس کے مالک یوم الدین ہونے کا اقرار کر کے جب اپنے کام کاج کی طرف واپس آئے تو جھوٹ بولے؟ بے ایمانی کرے؟ لوگوں کے حق مارے؟ رشوت کھائے اور کھلائے؟ سود کھائے اور کھلائے، خدا کے بندوں کو آزار پہنچائے؟ فحش اور بے حیائی اور بدکاری کرے؟ اور پھر ان سب اعمال کا بو جھ لاد کر دوبا رہ خدا کے سامنے حاضر ہونے اور اُنھی سب باتوں کا اقرار کرنے کی جرأت کرسکے؟ ہاں! یہ کیسے ممکن ہے کہ تم جان بوجھ کر خدا سے چھتیس مرتبہ اقرار کرو کہ ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور پھر خدا کے سوا دوسروں کے آگے مدد کے لیے ہاتھ پھیلائو؟
ایک بار تم اقرار کر کے خلاف ورزی کرو گے تو دوسری مرتبہ خدا کے دربار میں جاتے ہوئے تمھارا ضمیر ملامت کرے گا اور شرمندگی پیدا ہوگی۔ دوسری بار خلا ف ورزی کروگے تو اور زیادہ شرم آئے گی اور زیا دہ دل اندر سے لعنت بھیجے گا۔ تمام عمر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ روزانہ پانچ پانچ مرتبہ نماز پڑھو اور پھر بھی تمھارے اعمال درست نہ ہوں؟ تمھارے اخلا ق کی اصلاح نہ ہو؟ اور تمھاری زندگی کی کا یا نہ پلٹے؟‘‘
٭…٭
اسی موضوع سے متعلق اسلام کے بنیادی عقائد پر مولانا مودودیؒ نے ’’دینیات‘‘ کتاب تحریر کی، یہ کتاب ۷۰ سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے۔
ابوالا علیٰ، مودودی،سید، خطبات، باب سوم (نماز)،اسلامک پبلی کیشنز، لاہور، ص:102
٭…٭
اسلام عورتوں کو مردوں کی طرح تعلیم حاصل کرنے کا مکمل حق دیتا ہے… لیکن کیوں؟
جواب: ایک عام تاثر یہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دینے کا روادار نہیں ہے۔لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔حقیقت کیا ہے؟ آئیے سید مودودیؒ سے پوچھتے ہیں، ابوالاعلیٰ مودودیؒ اپنی کتاب ’’تعلیمات ‘‘میں لکھتے ہیں:
جہاں تک عورتوں کی تعلیم کا تعلق ہے یہ اسی قدر ضرور ی ہے جتنی مردوں کی تعلیم۔ کوئی قوم اپنی عورتوں کو جاہل اور پسماندہ رکھ کر دنیا میں آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اس لیے ہمیں عورتوں کی تعلیم کے لیے بھی اسی طرح بہتر انتظام کرنا ہے جیسا کہ مردوں کی تعلیم کے لیے۔ یہاں تک کہ ہمیں ان کی فوجی تربیت کا بھی بندوبست کرنا ہے کیوں کہ ہمارا سابقہ ایسی ظالم قوموں سے ہے جنھیں انسانیت کی کسی حد کو بھی پھاندنے میں تامّل نہیں ہے۔ کل اگر خدانخواستہ کوئی جنگ پیش آجائے تونہ معلوم کیا کیا بر بریت ان سے صادر ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی عورتوں کو مداخلت کے لیے بھی تیار کریں لیکن ہم اوّل وآخر مسلمان ہیں اور جو کچھ کرنا ہے …ان اخلاقی قیود اور تہذیبی حدود کے اندر رہتے ہوئے کرنا ہے جن پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور جن کی علم برداری پر ہم مامور ہیں۔
(جاری ہے)

حصہ