ہم نے خود تراشے ہیں راہ منزل کے سنگ

67

اسسٹنٹ کمشنر سابقہ طالبہ جامعہ المحصنات سمعیہ قیوم سے گفتگو

شعبہ تشہیر و ترویج جامعات المحصنات پاکستان
سوال: آپ کا نام اور تعارف؟
جواب: میرا نام سمعیہ قیوم ہے میرا تعلق ضلع ایبٹ آباد کے ایک گاؤں سے ہے۔ ہم ماشاءاللہ پانچ بہنیں ہیں اور سب کو ہمارےوالدین نے بہترین تعلیم سے آراستہ کیا ہے ۔ میرے والد صاحب گاؤں کے ایک بازار میں ہی کاروبار کرتے تھے اور بہت ہی نیک خصلت اور خوش اخلاق انسان تھے ۔ میری والدہ گورنمنٹ اسکول سے بطور ہیڈمسٹریس ریٹائرڈ ہیں۔ میں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول اور ہائی اسکول برائے طالبات سے حاصل کی انٹرمیڈیٹ کے لئے میرے والدین نے۔ جامعۃالمحصنات اسلام آباد کا انتخاب کیا یہاں کی تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد میں نے انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس آنرز انگلش، ایم اے اور ایم فل انگلش کیا۔اس کے بعد میں نے پانچ سال اسلامی یونیورسٹی اور وش یونیورسٹی میں بطور ویزیٹنگ لیکچرار کے اپنی خدمات انجام دیں ۔ ایم فل کے فائنل کے دو مہینے پہلے میں نے سول سروسز (CSS ) کا امتحان دیا اور اپنے والدین کی دعاؤں، اساتذہ کے دلی لگاؤ وانتھک محنت کے طفیل اور اپنے اللہ کریم کی خاص رحمت سے اس میں کامیابی حاصل کی اور اب میں بطور اسسٹنٹ/ ڈپٹی کمشنر Inland Revenue میں اپنے فرائض ادا کر رہی ہوں . میری والدہ نے مجھے بچپن میں ایک دعا سکھائی تھی
*اے اللہ میں آپ سے نافع علم خشوع و خضوع والا دل ذکر کرنے والی زبان اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتی ہوں*
اللہ کریم نے اپنی قوم کے سب سے اہم سیکٹر Tax System میں جو خدمت کا موقع دیا ہے وہ اسی دعا کا نتیجہ ہے یہ کامیابی سے ذیادہ ذمہ داری ہے۔ ہر دن یہی امید لے کر نکلتی ہوں کہ اپنی ذمہ داری کو پوری لگن اور حتی الامکان دیانتداری سے ادا کر سکوں۔
سوال:جامعۃالمحصنات میں داخلے کے لئے کیا جذبہ محرک بنا؟
جواب:یہ ایک خوبصورت حادثاتی اتفاق تھا اور اپنے رب کریم کی بہت شکر گزار ہوں کہ اس نے اتنا اچھا ماحول دیا جس نے میری آنے والی ذاتی اور پیشہ ورانہ دونوں فیلڈز میں بےپناہ مدد دی ۔ دراصل میں نے اپنے میٹرک کے رزلٹ کے بعد ICS کرنے کے لئے گورنمنٹ کالج راولپنڈی میں داخلہ لیا مگر پہلی بار گھر سے دور ہاسٹل کی زندگی میرے لئے بہت مشکل ہو گئی تھی میں دوبارہ گاؤں جانے کے لیے ڈٹ گئی تھی دوسری طرف چونکہ میری بہن جامعۃالمحصنات اسلام آباد میں سال دوئم میں تھی تو میرے والدین نے یہی مناسب سمجھا کہ بہن کے ساتھ ہی جامعہ میں داخلہ کرادیں بہرحال جامعہ میں جانے کے بعد کا وقت اگرچہ مشکل مگر بہت ہی اچھا ثابت ہوا اور اس کا سارا کریڈٹ میرے والدین اور بہن کو ہی جاتا ہے جامعہ میں آنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ روحانی پیاس اور میرے والدین کی جو مجھ سے امیدیں ہیں ان کو پورا کرنے کا اللہ تعالی نے ایک انتظام کر دیا ہے ۔
سوال:جامعۃ المحصنات سے کہاں تک تعلیم حاصل کی؟
جواب:میں نے جامعہ سے عامہ ،خاصہ اور ساتھ انٹرمیڈیٹ کیا۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد میں نے انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں بی ایس انگلش میں ایڈمیشن لیا۔
4- درس نظامی اور عصری علوم کی مشترکہ تعلیم میں کن مشکلات کا سامنا ہوا اور ان مسائل کو کیسے حل کیا؟
جواب:عصری اور درس نظامی کی مشترکہ تعلیم میں مجھے دو قسم کے مسائل نظر آتے ہیں
*وقت کی منصفانہ تقسیم اور توجہ
* انگریزی کے مضمون پر بضرورت توجہ
الحمدللہ ہمارے اساتذہ کرام اور انچارج ہوسٹل بمع ہیڈ گرل ہمیں بنائے گئے ٹائم ٹیبل پر سختی سے عمل کرآتی تھیں۔ ان مہربان لوگوں کی بہترین مینجمینٹ تھی اور ہمارا شوق اور لگن اس طرح مشکل آسان ہوگئی
دوسری طرف انگریزی کا چونکہ ایک ہی اکلوتا مضمون تھا جس پر ہمیں مناسب توجہ کی ضرورت تھی اس کا حل ہمارے لئے یہ نکالا گیا تھا کہ ہماری ٹیچر ہفتے کے اختتام پر بھی پڑھانے آتی تھیں۔اس طرح میں یہ سمجھتی ہوں کہ سب مسائل کا حل ہماری انتظامیہ نے دیا تھا۔ جو بھی مسئلہ ہوتا تھا اس کو مکمل توجہ کے ساتھ حل کیا جاتااور سب سے بہترین بات میں نے یہ دیکھی تھی کہ اس مسئلہ کے حل میں ہم طلبہ کو برابر شراکت داری دی جاتی تھی ۔
سوال:آپ کے مشاغل؟
جواب: کتب بینی، سیروسیاحت، باغبانی اور آرٹیکل رائٹنگ ۔ فطری مناظر میں رہنا میری سب سے بڑی تفریح ہے۔
سوال:آپ کی پڑھائی کے معمولات کیا تھے؟
جواب: پڑھائی کے معمولات ہمیشہ مختلف رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اپنی ٹیچنگ کے ساتھ پڑھائی کی تو وقت کی تقسیم کا فارمولا ہمیشہ تبدیل ہوتا رہا۔ تاہم ایک بات ہے کہ مطالعہ کا وقت ہمیشہ صبح چار بجے سے شروع ہو جاتا ہے اور کبھی بھی رات دس بجے کے بعد پڑھائی نہیں کی۔ جلدی سونا اور جلدی اٹھنا ماں جی کی طرف سے ملی ہوئی ایک انمول عادت ہے۔
سوال:کامیابی حاصل کرنے کے بعد کیا تاثرات ہیں اور اس کامیابی میں اپنے ساتھ اور کس کو کریڈٹ دیں گی؟
جواب: اپنے والدین کے چہرے پر آئی خوشی اور اطمینان کی وجہ ہونا باعث فخر ہوتا ہے اور میرے لیے بھی تھا ۔اپنی زندگی کی ہر خوشی،مسکراہٹ اور کامیابی کا کریڈٹ میرے پیارے والدین، بہنوں،جامعہ،اساتذہ کرام اور بچپن کے ان خوابوں کو جاتا ہے جنہوں نے مجھے خود کو تراشنے اور ہمیشہ امید کا دامن پکڑے رکھنے کی ترغیب دی۔ زندگی ایک کٹھن سفر ہے اور جب آپ کی منزل بھی بہت سوں سے الگ ہو تو مسافر تھک جاتا ہے مگر میرے اس سفر کو میرے والدین کے اعتماد اور اساتذہ کرام کی بہترین رہنمائی نے آسان کیا۔
*یوں تو پتھر کی بھی تقدیر بدل سکتی ہے
شرط یہ ہے کہ اسے دل سے تراشا جائے*
سوال:جامعہ المحصنات کی تعلیم عملی زندگی میں کس طرح معاون ثابت ہوئی؟
جواب: میری جامعہ کی اساتذہ شہناز فاروق، شہناز ہاشمی، عائشہ ناصر، آسیہ، ثمینہ، میری ہاسٹل انچارج، استاد محترم اصغر اور باہر گیٹ پہ ہمارے سکیورٹی اور ضرورت اشیاء کے لئے بار بار جانے والے پیارے انکل جی ان سب سے میں نے صبر و برداشت ،اخلاق وشائستگی ، ہمدردی اور رواداری اور اللہ تعالی پر یقین رکھنا سیکھا۔ ان کی کسی غلطی پر سرزنش اور اچھی کارکردگی پر پیار بھری تھپکی دونوں ہی مشعل راہ بنیں۔ غرض تخلیقی و تقریری صلاحیتیں انہی کی مرہون منت ہیں ۔ آپ کے جریدے کے ذریعے ان سب کہ لئے یہ پیغام ہے کہ آپ سب میرے لیے اور میری طرح سینکڑوں ساتھیوں کے لئے بے حد قابل احترام اور ایک مضبوط چٹان کی طرح سپورٹ ہیں۔ آج ہمارے اندر اگر دوسروں کے لئے احساس کی دولت موجود ہے وہ آپ سب کی دی گئی تربیت کی وجہ سے ہی ہے ۔میری طرح ایک کھلنڈری شرارتی طالبہ کو اگر کسی نے صبر و برداشت ،صفائی ستھرائی اور اٹھنا بیٹھنا سکھایا تو وہ آپ لوگ ہی ہیں ۔رب کریم آپ کی اور آپ کے بچوں کی زندگی کو دوسروں کے لیے عملی نمونہ بنائی۔
عملی زندگی میں جامعہ المحصنات کی زندگی اور تعلیم و تربیت نے ہمیشہ معاونت کی ہے۔ تفاسیر کے وہ روشن باب، فقہ کے پیچیدہ مسائل کی تشریح، سیرت نگاری اور اس کی خوبصورت بیان
احادیث کے پرکشش ڈسکشن تاریخ کے وہ لازوال قصے غرض اگر میری شخصیت میں کوئی اچھائی ہے تو وہ جامعہ المحصنات کی مرہون منت ہے ۔ جامعہ نے میرے دل میں دوسروں کے لیے محبت و رواداری کا جذبہ بیدار کیا ۔ دوستوں کے ساتھ مل جل کر رہنا سکھایا۔ بڑوں کا ادب اور کتب بینی کا شوق پیدا کیا جب کبھی بھی اردگرد کچھ دیکھ کر اداس ہوتی ہوں تو میڈم آسیہ کا تاریخ کا باب پڑھاتے ہوئے شعر یاد آتا ہے
” شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
سوال:آپ نے ایم فل کے لیے کونسے موضوع کا انتخاب کیا ؟
جواب:میں نے ایم فل کے لیے بطور موضوع diasporic identity and double conscioisness کا انتخاب کیا جو کے ایک مشکل مطالعہ تھا۔اگر میں آسان الفاظ میں اپنے موضوع کی وضاحت کروں تو یہ ایک ایسی نسل کے بارے میں تحقیق تھی جو ایک یا زیادہ ممالک میں منتشر اور آباد ہوگئے صرف آباد کاری پہ ہی محدود نہیں بلکہ یہ بے امان ہونے والوں کے بارے میں ہے اور تارکین وطن کی جدوجہد کے بارے میں ۔ حنیف قریشی کی تحاریر THE BLACK ALBUM & THE BUDHA OF SUBARABIA۔۔۔میں دلچسپی میرے تھسیس کی وجہ بنی۔
سوال:عملی زندگی میں جس شعبے کا انتخاب کیا اس کے پیچھے کیا سوچ تھی؟
جواب:اس شعبے کا انتخاب کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ شعبہ مجھے وہ طاقت، مواقع اور حالات دے سکتا تھا کہ جس کے ذریعے میں حق اور سچ پے قائم ہو کے اپنا کام کر سکوں اپنے لوگوں کے لیے بہت آگے جاکر کر کچھ کرنے کا موقع صرف اسی ذریعے سے مل سکتا تھا اور الحمدللہ اب میں مطمئن اور زیادہ پر سکون ہوں۔
سوال:اپنی کامیابی پر دیگر طالبات اور گھر اولوں کے نام کیا پیغام دینا چاہئے گی؟
جواب:ہم میں سے کوئی بھی مکمل انسان نہیں ہر ایک زندگی کے سفر میں رواں دواں ہے اور ہر ایک کی اپنی الگ سوچ اور منزل ہے ہم سب اس کٹھن سفر کو مل کر آسان بناسکتے ہیں والدین کے لئے ادنیٰ سا پیغام ہے کہ آپ کی اولاد آپ کے پاس ایک امانت ہے اسے آپ جو تعلیم بھی دینا چاہیے ضرور دیں مگر دین کا علم لازمی دیں وہ ان کی زندگی میں خوبصورتی اور مثبت سوچ اور رویہ پیدا کرے گا۔ طلباء اور دوستوں کے لیے پیغام ہے کہ اپنے اساتذہ کرام اور والدین کا احترام کریں ان کے ساتھ مل کر پورے خلوص سے محنت کریں یہ وہ دو روشنی کے ممبع ہیں کہ بے بہا خزانے لٹا کر پڑیں تو بس۔ زندگی میں محنت کریں اسباب اللہ کریم بنا دے گا ۔میرے دوستوں اگر زندگی عارضی ہے تو مشکلات بھی مستقل نہیں ہے اپنے اللہ کی شکر گزاری کرتے رہو اور یاد رکھو کہ منزلیں چاہے کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو راستے ہمیشہ پیروں کے نیچے ہوتے ہیں اور وہ راستے ہم نے خود بنانے ہوتے ہیں چاہے اس راستے پر چلنے کے لئے آپ اکیلے ہی کیوں نہ ہو ۔

حصہ