ہاں میں کرونا وائرس ہوں

71

سیف الزماں

ہاں میں کرونا وائرس ہوں
میں خود نہیں آیا بلایا گیا ہوں
بے گناہ کشمیری ماں بہنوں کی دعا
بے گناہ زخمی بچوں بوڑھوں کی التجا
بے گناہ سات ماہ سے قید کرفیو کی سزا
بے گناہ قید کشمیری پر ظلم کی انتہا
ہاں میں کرونا وائرس ہوں
میں خود نہیں آیا بلایا گیا ہوں
زخمی اور شہید فلسطینیوں کی پکار
بیت المقدس بھی چیخ رہا ہے بار بار
کب دیکھیں گے مسلمان آزادی کی بہار
ہاتھ اٹھا اٹھا کر مانگ رہی تھی دعا
ہاں میں کرونا وائرس ہوں
میں خود نہیں آیا بلایا گیا ہوں
روہنگیا کے مسلمانوں کو بھی نہیں بخشا
بھارت کے مسلمانوں کو بھی نہیں بخشا
مسجد کے مناروں کو بھی نہیں بخشا
دنیا کے مسلمانوں کو بھی نہیں بخشا
ہاں میں کرونا وائرس ہوں
میں خود نہیں آیا بلایا گیا ہوں
دنیا نے مسلمانوں پر کردی ہے زندگی تنگ
غیر مسلموں نے شروع کر دی ہے خدا سے جنگ
اقوام متحدہ بھی ہے کافروں کے سنگ
خدا تم لوگوں کو برباد کرکے گھروں میں کر دے گا بند
ہاں میں کرونا وائرس ہوں
میں خود نہیں آیا بلایا گیا ہوں

نظم

یسرا جواد

وہ ایک شام جو گھر میں بیٹھی
خوابوں میں کھوئی میں تک رہی تھی
دروازے کی مٹی جو جانے کہاں سے آئی
کتنی کہانیاں سموئے خود میں رنگ بسائے
کتنے دیکھے تھے وقت اس نے
کتنے طوفان کو خود میں سمائے
جو ریڑھی کے پہیوں میں لگ کر
اور مزدور کے کرتے میں ڈھل کر
کسی من چلے کی آنکھوں میں جل کر
کسی صحرا کے سینے میں دھڑک کر
وہ دروازے پر میرے پھسل رہی تھی
سوچوں کو میری پرکھ رہی تھی
تصویر کائنات کے حسن شبیہ کو
اپنے ذرات میں ثمر کررہی تھی
اور میری غور وفکر کو اڑان دے کر
اور وہ دوسرے آنگن سفر کررہی تھی

حصہ