نعت رسولؐ

42

اختر سعیدی

از ازل تا ابد آپؐ کی ذات ہے
آپؐ ہی ابتدا آپؐ بدرالدجیٰ
آپؐ کا ہر عمل، مظہرِ ارتقا
آپؐ نے تیرگی میں اجالا کیا
از ازل تا ابد آپؐ کی ذات ہے
آپؐ میرا یقیں، میرا ایمان ہیں
آپؐ سر چشمۂ علم و عرفان ہیں
اُمتِ وسط کی آپؐ پہچان ہیں
آپؐ یا مصطفیؐ روحِ قرآن ہیں
پیرو کار آپؐ کے سب مسلمان ہیں
از ازل تا ابد آپؐ کی ذات ہے
داور عامیاں یاورِ بے کساں
آپؐ کی ذات ہے راحتِ قلب و جاں
آپؐ کے دستِ رحمت میں ہیں دو جہاں
آپؐ نے بے زبانوں کو دی ہے زباں
بے سہاروں کو دی آپؐ ہی نے اماں
از ازل تا ابد آپؐ کی ذات ہے
مرحبا! عرش کے آپؐ مسند نشیں
آپؐ کا ثانی دنیا میں کوئی نہیں
جیتے جی مر گئے آپ کے خوشہ چیں
مدح خواں آپؐ کے آسمان و زمیں
آپؐ کے نام پر جھک گئ ہر جبیں
از ازل تا ابد آپؐ کی ذات ہے
آپؐ آئینہ دارِ جمالِ خودی
آپؐ شاہد بھی ہیں آپؐ مشہود بھی
جزوِ قرآن ہے آپؐ کی زندگی
آپؐ سے پہلے سایہ نہ تھا‘ دھوپ تھی
آپؐ آئے تو ہر سُو ہوئی روشنی
از ازل تا ابد آپؐ کی ذات ہے
مظہرِ کن فکاں آپؐ کی زندگی
سر بہ بسر گلستاں آپؐ کی زندگی
دھوپ میں سائباں آپؐ کی زندگی
رحمتوں کا جہاں آپؐ کی زندگی
رحمتوں کا جہاں آپؐ کی زندگی
میں کہاں اور کہاں آپؐ کی زندگی
از ازل تا ابد آپؐ کی ذات ہے
مصطفی جانِ رحمت کی کیا بات ہے
٭

حصہ