میری وال سے

140

افشاں نوید

کتاب اور معاشرے کا زندہ تعلق

۔”1970ء کی دہائی میں مجھے کسی سفر کی غرض سے کمیونسٹ چین سے گزرنا پڑا۔
جیسے ہی جہاز سے اتر کر میں امیگریشن والوں کے پاس پاسپورٹ پر مہر لگانے کے لیے گیا، امیگریشن والے نے مجھ سے کہا:
”کیا آپ نے ماؤزے تنگ کا وہ بیان سنا ہے جو آج ہی دیا گیا ہے؟“
میں نے کہا ”نہیں“۔
اس پر اُس نے مجھے پورا بیان سنا دیا۔
اس کے بعد آگے بڑھا، کسٹم والوں کے پاس گیا، انہوں نے پوچھا ”کیا آپ نے چیئرمین ماؤزے تنگ کا نیا بیان پڑھا ہے؟“
میں نے کہا ”ابھی سنا ہے“۔اس نے پھر مجھے سنا کر سوٹ کیس پر مہر لگادی۔
اس کے بعد ہم ہوٹل جانے کے لیے بس میں سوار ہوئے تو خاتون کنڈیکٹر کھڑی ہوگئی اور یہی سوال کیا۔ مجھے ایک بار پھر اس بیان کو سننا پڑا۔
ہوٹل میں داخل ہوئے تو استقبالیہ پر جو خاتون نام درج کررہی تھیں، انہوں نے کہا ”کیا آپ نے ماؤزے تنگ کا نیا بیان سنا؟“
میں نے کہا “ہاں، اب تو کئی دفعہ سن چکے ہیں“۔
اس نے پھر سنادیا۔
کمرے میں خادمہ چائے لے کر ائی تو اُس نے بھی یہی پیغام سنایا۔
مجھے تھوڑی دیر کے لیے خیال آیا کہ کوئی زندہ چیز ہو تو معاشرے سے اس کا کیا تعلق ہوتا ہے، اور تلاوتِ آیات کا لفظ قرآن استعمال کرتا ہے یتلوا علیہم۔ اس کی شاید یہی کیفیت ہوتی ہوگی۔ دن رات اس کا ذکر اور تلاوت۔ ہر ملنے والا دوسرے کو بتاتا ہو گا کہ آج تو یہ وحی آئی ہے، آج آسمان سے یہ اعلان ہوا ہے، اللہ نے یہ ہدایت فرمائی ہے، اللہ نے اس واقعے پر یوں تبصرہ کیا ہے۔
میرا خیال ہے کہ میں نقشہ کھینچ رہا ہوں، ہوسکتا ہے اس سے بھی کئی گنا زیادہ ہو۔
یہ تو اللہ کا کلام ہے، شاید معاشرے کا اور انسانوں کا اس کتاب کے ساتھ ایسا ہی زندہ تعلق اور کیفیت ہوتی ہوگی جس کی جھلک میں نے آپ کو دکھائی۔“
(خرم مراد ؒ کی تحریر سے ماخوذ)
………

اے زندگی۔۔۔اے زندگی

دورانِ کورونا یہ چوتھی فون کال تھی جنہوں نے ایک جیسے موضوع پر بات کی۔
ضعیف اور بیمار خاتون ہیں۔ فریکچر کے بعد بہت عرصے سے بستر پر ہیں۔ خیریت پوچھی تو بولیں ”دعا کریں کہ کورونا کی وبا میں میرا انتقال نہ ہو۔“
میں نے کہا ”اللہ آپ کو زندگی اور صحت عطا فرمائے، لیکن جو وبا سے مرتے ہیں انھیں شہید کا درجہ ملتا ہے۔“
بولیں ”میری تو خواہش تھی کہ فلاں مجھے آخری غسل دے۔ میرے جاننے والے اکٹھے ہوں تو بار بار میرے لیے مغفرت کی دعا کی جائے۔ کورونا میں تو بیٹے بھی بیرونِ ملک سے نہ آسکیں گے۔“
ایک کزن کا فون آیا کہ ابا کو ڈپریشن کے دورے پڑرہے ہیں کہ اگر اِن دنوں میں بلاوا آگیا تو میری نماز جنازہ بھی نہ ہوگی؟
اس سے قبل ایک بزرگ ساتھی جن کو دمہ کا عارضہ لاحق ہے، بالکل یہی الفاظ کہے…
”میں کورونا میں مرنا نہیں چاہتی۔ ذوالفقار (بیٹا جو جدہ میں رہتا ہے) میرا جنازہ نہ پڑھ سکے گا۔ میرے بیٹے ماجد کے ساتھ کندھا دینے والا اس کا سگا بھائی بھی نہ ہو؟ میری بہنیں میرے آخری دیدار سے محروم رہ جائیں؟“
میں نے کہا ”اللہ بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہے۔ اچھی کتابیں پڑھیں اور اچھی اچھی باتیں سوچیں۔“
کل ایک ساتھی کا فون آیا کہ مجھے کورونا میں موت کا سوچ کر بہت وحشت ہوتی ہے۔
اگر کورونا سے مری تو مجھے کوئی آخری غسل بھی نہ دے گا۔ میں تو حج سے کفن زمزم میں بھگو کر لائی ہوں۔ سنا ہے کہ کورونا والی موتوں کو کفن نہیں دے رہےٍ بس پلاسٹک کے تھیلوں میں سپردِ خاک کررہے ہیں۔
میرے پیارے میرا آخری دیدار بھی نہ کرسکیں گے۔
ایسی بھی کیا موت کہ بھانجے بھتیجے کندھا بھی نہ دے سکیں۔ رو رو کر دعا کرتی ہوں کہ مجھے کورونا کی ”تنہا موت“ سے اللہ بچا لے۔
اتنا بڑا خاندان ہے میرا، چھ تو سمدھیانے ہیں۔ میرا تو کئی دن گھر بھرا رہتا۔
کتنے ہاتھ میری بیٹیوں کے آنسو پونچھتے اور کتنے کندھے ہوتے اطراف میں جن پر سر رکھ کر میرے بیٹے رو لیتے۔ مگر کورونا کی موت تو بہت ہیبت ناک ہے۔ نہ غسل، نہ جنازہ، نہ تدفين!!
مومن کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے۔
سانس نکلی تو دنیا سے بندھا کچا رشتہ ایک جھٹکے سے ٹوٹ گیا۔ روح نکلنے کے بعد تو خاکی جسم رہ گیا جو مٹی کا ہے اور مٹی کے حوالے کردیا جاتا ہے۔
اب مرنے والے کو کیا غرض کہ غسل کس نے دیا، کندھا کس نے دیا، دعائے مغفرت کس نے کی، کس نے بچوں سے تعزیت کی، کون پرسہ دینے آیا وغیرہ۔۔۔
یہ مومن ہی کی شان ہے کہ وہ وہاں تک سوچتا ہے جہاں تک غیر مسلموں کے تخیل کے پَر جلنے لگتے ہیں۔
آپ سوچیں موت بھی کوئی ایسی تقریب ہے جس کے انعقاد کا اتنے اہتمام سے سوچا جائے؟
اللہ کے حکم کے بغیر ہم نہیں جا سکتے، اور جب جائیں گے تو وہ بڑا خوشگوار موقع ہوگا (ان شاءاللہ)۔
یہ مومنانہ تخیل ہے کہ مجھے اپنے رب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوگا۔ وہ معمولی ملاقات تو نہ ہوگی۔ آخر فرشتوں کی معیت میں ہوگی۔ موت نیستی تو نہیں ہے۔ موت قابلِ نفرت اور راتوں کی نیند اجاڑ دینے والا تصور تو نہیں کہ

موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

لیکن وہ جو دنیا ہی کو زندگی سمجھتے ہیں، جن کے لیے موت اندھے کنویں جیسی اور لذتوں کی قاتل شے ہے۔
جن کی لیبارٹریاں سالہا سال سے عظیم دماغوں اور کثیر سرمائے کے ساتھ کھپی ہوئی ہیں کہ کسی طرح موت کے وائرس پر قابو پانے کی ویکسین دریافت کرسکیں۔
مائیکل جیکسن نے لاکھوں ڈالر ماہانہ کے پہرے دار بٹھائے ہوئے تھے کہ موت کو قریب نہ آنے دیں۔
جن کے خیال میں بس یہی جیون سب کچھ ہے۔ انتہائی لذتوں کا حصول جن کا مقصدِ زندگی ہے۔ جنہوں نے کبھی جنت کے بارے میں نہیں سوچا۔ اسی لیے دوزخ سے بے نیاز رہے۔
اگر انسان نے اللہ سے ملاقات کی تیاری ہی نہیں کی تو موت کا تصور ہی اُس کے لیے موت کے برابر ہے۔
یہ مومن ہے جو موت کو آخری اسٹیشن نہیں بلکہ ٹریک بدلنا سمجھتا ہے کہ

میں ذرا وہاں چلا ہوں

اس وقت مسلم اور غیر مسلم معاشروں کا نفسیاتی تجزیہ ثابت کرتا ہے کہ عقیدہ زندگی میں کتنا اہم ہوتا ہے۔
ایمان زندگی کو کس درجہ سکون آشنا کرکے ذہنی امراض سے بچاتا ہے۔
لاالٰہ کی زندگی کا افق کتنا وسیع ہوتا ہے۔
………

رمضان کی تیاری مکمل

گھر کی اچھی طرح صفائی ہوگئی ہے۔
فریزر میں خور ونوش کی اضافی اشیاء تیار کرکے اسٹاک کی جاچکی ہیں۔ کباب، کوفتے، سموسے، رول، دہی بڑے، چنے، اور بہت کچھ۔۔۔۔
کچن کی کیبنٹس بھری ہوئی ہیں طرح طرح کے مشروبات، مسالوں، سحری اور افطاری کے لوازم سے۔
اب وہ رمضان طلوع ہونے کو ہے جس میں روزے کا مقصد ”تقویٰ“ کا حصول ہے۔ لعلکم تتقون
اب سوال یہ ہے کہ تقویٰ سے کیا مراد لیتے ہیں ہم ؟
جس درجے کا تقویٰ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ تقویٰ ہمارے روزے سے ہمیں حاصل ہوگا۔
ایک روزہ تو یہ ہے کہ خوب اچھی سحری کے بعد سو گئے، اٹھ کر تلاوت کرلی، ٹی وی دیکھ کر اور سوشل میڈیا پر ٹائم پاس کرلیا۔ مغرب سے دو گھنٹہ قبل افطار کی تیاری اور مابعد رات گئے تک ممکنہ شکم سیری۔ خود کو تھپکی کہ روزہ اچھا گزر گیا۔ گویا روزہ بجائے خود مقصد ٹھیرا۔
ہم جانتے ہیں کہ اسلام کا پورا نظامِ عبادات اسی ”تقویٰ“ کی آبیاری کے لیے ہے۔
نماز بھی نظامِ تربیت کا حصہ ہے۔ روزانہ پانچ ڈوز دیے جاتے ہیں، یعنی ہلکی ہلکی خوراک۔
روزہ اسپیشل ٹریننگ کورس، سال میں ایک بار آتا ہے۔۔۔ 720 گھنٹے کی تربیتی ورکشاپ۔ ایک سال میں تربیت میں جو کمی رہ گئی تھی وہ اس تربیتی سیشن سے پوری کی جائے گی۔
کورونا کا عذاب اس وقت نازل کیا گیا ہے جب انسان کو اپنا انسان ہونا بھولتا جا رہا تھا اور روح کی بیماریوں نے ہمیں صحت سے مایوس کردیا تھا۔
قرآن کی صورت میں جو شفا اتاری گئی انسانیت کی بیمار روح کے لیے، وہ بھی ایسا ہی وقت تھا جب انسان خدا سے غافل اور باغی تھا۔
ہم تقویٰ کو عبادت سے جوڑ دیتے ہیں۔ جو نمازی اور روزہ دار ہو وہ متقی ہے، چاہے اس کے معاملات کتنے ہی برعکس ہوں۔
جبکہ ”تقویٰ“ جس کے حصول کے لیے روزہ فرض کیا گیا، اس کے معنی بچنے کے ہیں۔
ہم سود، زنا، شراب، خنزیر کے گوشت و دیگر سے اسی لیے بچتے ہیں کہ قرآن نے ان کو حرام کہا ہے۔ اگر ”مُردار“ کھانا حرام ہے اس لیے کہ قرآن نے کہا ہے، تو اسی قرآن نے غیبت کو بھی حرام کہا ہے۔ جس قرآن نے خونِ ناحق کو حرام کہا ہے اسی قرآن نے تمسخر اڑانے، بدگمانی کرنے، جھوٹ بولنے کو بھی حرام کہا ہے۔
ہم شراب کو تو ہاتھ نہیں لگاتے کہ حرام ہے، لیکن رشتے داروں کے حقوق مارنے میں ذرا نہیں چوکتے، جب کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ایک مشہور حدیث ہے کہ شرک اور جو حقوق بندوں سے متعلق ہوں گے ان کو نہیں بخشا جائے گا۔ بڑی سخت پکڑ ہوگی۔
آپؐ کی وہ حدیث کہ میری امت کا مفلس وہ ہے کہ جو بہت ساری نیکیاں لے کے آئے گا لیکن اس نے بندوں کے حق مارے ہوں گے، تو قیامت کے دن اس کا نامہ اعمال خالی رہ جائے گا،بلکہ دوسروں کے گناہ اس کے پلڑے میں ڈال دیئے جائیں گے۔یہ کہتے ہوئے آپ ﷺ زاروقطار رو رہے تھے۔
جس شریعت نے روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے اسی نے لوگوں کے عیوب پر پردہ ڈالنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ہم سے کوئی کہے کہ اس کھانے میں خنزیر کا گوشت شامل ہے تو ہم کبھی بھی نہیں کھائیں گے، لیکن غیبت کرتے ہوئے ہم نہیں سوچتے کہ یہ تو انسان کا گوشت کھانا ہے۔
”تقویٰ“صرف چند عبادات،کھانے پینے، اوڑھنے بچھونے میں احتیاط کا نام نہیں ہے، بلکہ انسانی تعلقات اور معاملات میں بھی اللہ نے بے شمار چیزیں فرض اور حلال و حرام کی ہیں۔
رمضان نے اگر یہ تقویٰ ہمارے اندر پیدا نہ کیا کہ ہمارا ضمیر بیدار ہو جائے حقوق العباد کے معاملے میں۔
کیونکہ مومن کا ضمیر تو اُس ترازو کی مانند ہوتا ہے جو کسی بھی ذرہ برابر ظلم و زیادتی پر جھک جاتا ہے۔
اللہ کریم ہمیں وہ تقویٰ عطا فرمائے کہ ہماری ذات سے کسی کو ضرر نہ پہنچے۔
رمضان کی بے حساب رحمتیں آپ کو اپنے حصار میں لے لیں۔

حصہ