غزل محوِ کمال ہے

51

ڈاکٹر سلمان ثروت
توقیر تقی:نظریاتی اساس پر ہم بعد میں آئیں گے پہلے پاسِ روایت کے تناظر میںایک بات آپ کے گوش گزار کرتا چلوںکہ آپ سرور صاحب کی شاعری کو محض امید و رجا یا پھر ہجر و یاس تک موقوف نہیں کرسکتے بل کہ سرور جاوید کا ہر شعر روایت سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس شاعری میں آپ کو کلاسک کی جھلک ضرور نظر آئی گی اور مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ سرور صاحب گزشتہ تہذیب کے آخری آدمی ہیں جو عہد ِرفتہ کی یاد بھی دلاتے ہیں اور نوحہ بھی پڑھتے ہیں ۔ احباب کو شاید میری بات آسانی سے ہضم نہ ہو تو جناب میں چند اشعار بطور دلیل پیش کرنا چاہوںگا:۔

نئے جذبے بھی گم کردہ محبت کے فسانے چاہتے ہیں
کہ ہم تازہ زمانوں میں بھی کچھ لمحے پرانے چاہتے ہیں
ہمارے بعد بھی آئیں گے قافلے دل کے
ہمارے بعد بھی سایہ شجر میں رکھا جائے
اب آستین و گریباں اٹھائے پھرتا ہوں
جنوں کے باب میں عزت مآب میں بھی تھا
یہ اعتبارِ عشق کہیں خواب ہی نہ ہو
جب تک وہ روبرو ہے نہ مژگاں اٹھائیے

راقم الحروف: توقیر اگر عہدِ گزشتہ سے آپ کی مراد برصغیر کی شعری تہذیب ہے یعنی اروو کلاسک کے ادوار ، تو آپ کی بات فقط اظہاری رجحان کی حد تک درست معلوم ہوتی ہے اور اگر عہدِ گزشتہ سے آپ کی مراد پچاس، ساٹھ یا ستر کی دہائی ہے تو آپ کا تجزیہ سرور صاحب کے تخیل کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ کیوں کہ یہ وہ دور ہے جہاں اشراکیت اور سرمایہ داری بھر پور انداز میں ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں۔ سرور جاوید بحیثیت ایک شاعر نظریاتی اور عملی طور پراشتراکیت کا پرورد ہ ہیںاور اشراکیت کو انقلابی سطح پر دیکھتے ہیں۔ سرور صاحب کی شاعری کا بڑا حصہ اشتراکیت کی جدوجہدبہت خوبصورتی سے اپنے اندر سموئے ہوئے ہے:۔

درد کی لہریں دل میں نہیں اب سڑکوں تک آپہنچی ہیں
کوئی بھی لمحہ وحشت ِ جاں کا اک طوفان اٹھاسکتا ہے
ہیں اتنے سانحے کارِ جنوں سے دامن گیر
یہ وقت سادہ روی سے گزرنے والا نہیں
اہلِ طاقت نے یہ چاہا کہ میں لکھوں کچھ اور
اور ہر عہد نے دیکھا نہیں لکھا میں نے
ہرایک سنگ گزیدہ ہر ایک سنگ بدست
کہیں نہیں ہے خط ِ امتیاز کس سے کہیں

جب سرور جاوید اشراکیت کی جدوجہد کا تجزیہ کرتے ہیں توکامریڈز کو آئینہ دکھانے سے بھی گریز نہیں کرتے:

ہوا کے عشق میں نکلے ہیں اور پوچھتے ہیں
متاعِ جاں کو کہاں تک سفر میں رکھا جائے
عشق میں سب کو کہاں دشتِ سفر چاہیے تھا
ہم میں وہ بھی تھے کہ جن لوگوں کو گھر چاہیے تھا

پھر سرور جاوید کی شاعری سرمایہ داری کے ہاتھوں اشراکیت کی شکست کا نوحہ بن جاتی ہے:۔

جنہیں ہم اپنا سہارا بنانے والے تھے
کہاں گئے وہ زمانے جو آنے والے تھے
چلی تھی قریۂ خواہش سے رسم ِ تشنہ لبی
تمام شہر ہی بے آب ہوگیا آخر
ترے نہیں تھے جو منصب ترے گواہ ہوئے
مجھے جو مل نہ سکے وہ کمال میرے تھے

عباس ممتاز: سلمان بھائی لگتا ہے آپ نے سرور صاحب کی شاعری مارکس کی عینک لگا کرپڑھی ہے ہر طرح کا شعر آپ نے اشراکی سوچ سے جوڑ دیا۔ راقم الحروف : عباس! مارکس کی عینک میں نے نہیں سرور صاحب نے لگائی ہوئی ہے اور وہ زندگی کے متنوع پہلو اسی عینک سے دیکھنا چاہتے ہیں۔
م م مغل: سرور صاحب یقیناً اشتراکیت پسند ہیں لیکن ان کی شاعری کا محض اشتراکی جہت پر منطبق کرنا ان کے تخیل کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ کوئی بھی شاعر زندگی کو اس کی آئیڈیل صورت میں دیکھنا چاہتا ہے اور جب اُسے زندگی اپنی آئیڈیل سطح پر نظر نہیں آتی تو ایسے اشعار کا ورود ہوتا ہے جس میں نا صرف شکست و حزن کی کیفیت نمایاں ہوتی ہے بلکہ استفسار یہ انداز بھی اشعار میں در آتا ہے۔ جس کی مثالیں سرور صاحب کی شاعری میں جابجا نظر آتی ہیں:۔

بے طلب کس لیے رہتے ہیں بتائیں کس کو
عشق میں اپنی ہی مسند سے اتارے ہوئے لوگ
کاش کھْل جائے پس ِ زخمِ شناسائی یہ بات
کس سے ملنا ہے کسے دشمنِ جاں رکھنا ہے
شاید اک عمر کی بے راہ روی سمجھائے
اب قدم عرصۂ ہستی پہ کہاں رکھنا ہے
کسے بتاؤں کہ بے مایہ ہوگئے ہیں خیا ل
سخن میں کوئی صحیفہ اترنے والا نہیں

نعیم سمیر: جناب یہ شعر تو سرور جاوید کا اردو ادب کے حوالے سے مقدمہ ہے کہ ادب روبہ زوال ہے۔ غلام علی وفا: یہ بھی عجیب مقدمہ ہے خود اتنے خوبصورت اشعار کہہ رہے ہیں ، نئے اور امکانات سے بھر پور شعرا کے جھرمٹ میں بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں ادب رو بہ زوال ہے۔ سرور جاوید : ارے بھئی وفا صاحب آپ کو کتنی مرتبہ اس حوالے سے دلائل دے چکا ہوں آپ کو با ت ہی سمجھ نہیں آتی۔ دیکھیے آپ ستر کی دہائی پر نظر ڈالیں کتنے بڑے بڑے نام آپ کے سامنے آجائیں گے اور آج ۔غلام علی وفا: سرورصاحب کی بات کا ٹتے ہوئے: اب آپ اپنا خطبہ دہرانا نہ شروع کر یں۔ ہم آج آپ کی شاعری پر بات کر رہے ہیں۔ مجید رحمانی معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے: ارے میَں آپ کو سرور صاحب چند شعراور سنا تا ہوںان اشعار میں بھی زندگی کے تجربے کا ماحصل نظر آئے گا۔

اگر شعور ہو تجھ کو مزاجِ ہستی کا
تو پھر کسی کو بھی الزامِ بے وفائی نہ دے
ہرایک لفظ میں پنہاں ہیں کتنی آوازیں
ملے شعورِ سماعت تو کچھ سنائی نہ دے
وہ شکل پا نہ سکیں جن کو ٹوٹ جا نا ہو
یہ اہتمام کفِ کوزہ گر میں رکھا جائے
کوئے جاں تک کوئی سیدھی راہ جاتی ہی نہیں
اس کی جانب نشہ ٔ ہستی میں حلقہ وار چل

نعیم سمیر بات کا رخ دوبارہ سرور جاوید کی شاعری کے محاسن کی طرف موڑتے کہنے لگے:سرور صاحب زندگی کے متنوع تجربات کو اپنی شاعری کا موضوع توضرور بناتے ہیں مگر ترقی پسند تحریک کے بنیادی اصول کا ہمیشہ اہتمام رکھتے ہیں کہ جمالیات مقدم رہنی چاہیے ۔سیف الرحمن سیفی سمیر کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے: بات دراصل یہ ہے کہ شاعری کے فرائض ِ منصبی میں محظوظ کرنامقدم اور باقی تمام باتیں ثانوی ہیں اور ہم تو سرور صاحب کے اشعارسے خوب حظ اٹھاتے ہیں اب اس کے پس منظر میں شعور کی روکی عمل داری بھی ہے اور نغمگی بھی، یاسیت بھی ہے اوررجائیت بھی، اداسی بھی ہے اور بانکپن بھی:۔

کون خیال و خواب کی خاطر ساری عمر گنواسکتا ہے
مجھ کو دیکھو اور یہ سمجھوعشق کہا ں تک جا سکتا ہے
جانے والے کو خبر کیا کہ رفاقت کے چراغ
کس قدر میَںنے بجھائے ہوا نے کتنے
یہ میَں نہیں پس ِ جاں ہے کوئی محرومی
جو ہر نفس تری چاہت کا روپ دھارتی ہے
گزرے ہیں رہ ِ عشق میں سارے ہی زمانے
ملنے کو ترس جانا ترستے ہوئے ملنا

ابھی سیفی صاحب مزید اشعارسناتے کہ احمد جہاں گیرنے بیک وقت میری اور سمیر کی جانب دیکھا جس سے مقصودیہ تھا کہ رات کافی ہوچکی ہے اب محفل برخاست ہونی چاہیے۔ نعیم سمیر نے احمد کا مدعا بھانپتے ہوئے محفل اور گفتگو دونوں کو سمیٹنے کے انداز سے سرور صاحب سے ـ اس غزل کی فرمائش کردی:۔

جب یہ کھلا کہ خود ہوں میں عرصۂ جاں میں بے نمو، خواب بدل گئے مرے
میری طلب نہ کیجیوعشوہ گرانِ چار سو،خواب بدل گئے مرے
اس کے جنوں سے کیا ملا، عمر کے رت جگے سوا،حاصلِ خواب تھا بھی کیا
وادیِ خواب کی طرف پھر بھی گیا اگر کبھو،خواب بدل گئے مرے
دل سے وہ چاہتیں گئیں، ساری شباہتیں گئیں،خواب اشارتیں گئیں
اب ہے عبثمرے لیے کھوئے ہوؤں کی جستجو،خواب بدل گئے مرے
حسن بھی میرے ساتھ تھا، جلوہ گرِ حیات تھا،کیسا فسونِ ذات تھا
عشق تھا میرے روبرولیکن میانِ گفتگو،خواب بدل گئے مرے

(یہ مضمون سرورجاوید کی کتاب :خواب بدل گئے مرے۔ کے مطالعہ کے بعد لکھا گیا ہے۔ اس تحریر میں کردار اورمحل ِوقوع حقیقی جب کہ مکالمہ مضمون نگار کا سرور صاحب کی شاعری پرتجزیہ ذاتی رائے ہے)

نقابِ رُخ اُٹھایا جا رہا ہے
وہ نکلی دھوپ سایہ جا رہا ہے

ماہرؔ القادری

حصہ