رمضان تزکیہ نفس کا بہترین ذریعہ ہے

88

افروز عنایت
زرین کو اپنے شوہر کا طریقہ کار دیکھ کر بہت افسوس ہواّ آج سسرال میں اس کا پہلا روزہ تھا، سحری میں اس نے شوہر کو اٹھایا تو وہ ٹال مٹول کرکے سوگیا۔ نہ صرف اس کے شوہر نے یہ طریقہ دکھایا، بلکہ گھر کے اکثر بندوں کا یہی طرزعمل تھا۔ ارباز دوپہر میں آفس سے واپس آکر ٹی وی کے آگے بیٹھ گئے اور اِدھر اُدھر چینل گھماتے رہے، آخر ایک انگلش مووی انہیں پسند آئی تو محویت سے اس میں گم ہوگئے۔ نہ نماز، نہ تسبیح۔ دوپہر کو حسبِِ معمول میز پر کھانا بھی لگایا گیا۔ زرین کی شادی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا، اس لیے وہ کسی معاملے میں مداخلت سے گریز کررہی تھی، لیکن اسے یہ سب دیکھ کر دکھ ہورہا تھا۔ نند بھی وقت گزاری کے لیے ٹی وی کے آگے جاکر بیٹھ گئی۔
صرف ساس نماز سے فارغ ہوکر تسبیح لے کر اپنے کمرے میں آگئیں۔ اب یہ میرا کنبہ ہے، میرا ان کو اِس حال پر چھوڑ دینا صحیح نہیں۔ میں ضرور… کم از کم ارباز کو تو کچھ کہہ سکتی ہوں… لیکن اگر یہ بندہ برامان گیا تو؟ کیونکہ ارباز کو وہ ان تین چار مہینوں میں کافی پرکھ گئی تھی۔ وہ اپنی مرضی سے جینے والا بندہ تھا۔ نماز وغیرہ کی طرف بھی راغب نہیں تھا… اماں کے گھر میں تو اس ماہِ مبارک میں ایک روحانی ماحول ہوتا تھاُ جس کا اثر (مثبت) سارا سال رہتا۔
میں اگر سب کو نہیں تو کم از کم ارباز کو تو… مگر کیسے… کب… کس طرح کہوں…!
٭…٭
زرین: ارباز کل دفتر کی چھٹی ہے، کیا آپ روزہ رکھیں گے؟ میں سحری کے لیے قیمہ بنا رہی ہوں، آپ سحری میں کیا کھائیں گے؟ ویسے شامی کباب بھی ہیں، چاہیں تو وہ کھا لیجیے گا۔
ارباز: یار میں… میں روزہ نہیں رکھ سکتا۔ سارا دن پیٹ میں درد رہتا ہے، بے کار میں پڑا رہوں گا۔
زرین: اچھا یوں کرتی ہوں آپ سحری میں دہی وغیرہ کے ساتھ پراٹھا کھا لیجیے گا، اس سے پیاس بھی نہیں لگے گی اور پیٹ میں درد بھی نہیں ہوگا۔
٭…٭
زرین: آپ سحری کرکے ہی سوگئے…
ارباز: تو کیا کروں گا جاگ کر؟
زرین: اسی لیے… میرا مطلب ہے کہ کھانا کھا کر فوراً سونے سے ہی بدہضمی ہوتی ہے… اور اذان ہورہی ہے، آپ بھی وضو کرکے نماز پڑھ لیجیے، بڑا سکون ملے گا۔
ارباز نے نہ چاہتے ہوئے بھی نمازِ فجر پڑھ لی۔ نماز سے فارغ ہوکر وہ پلنگ پر لیٹا تو اسے واقعی سکون محسوس ہوا۔ پیٹ کی گرانی بھی کم ہوگئی…
ریحانہ: بھابھی رمضان میں آپ ٹی وی بھی نہیں دیکھتیں، بور نہیں ہوتیں؟ نہ دوستوں وغیرہ سے فون پر بات کرتی ہیں۔
زرین: بور…! بور کیوں ہوں گی؟ ماشاء اللہ اس ماہِ مبارک میں تو اللہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ اپنے آپ کو سنواریں… میرا دن تو ماشاء اللہ بہت اچھا گزر جاتا ہے، بلکہ تفسیر پڑھنے اور ذکرِ الٰہی کا خوبصورت موقع اس سے بہتر کوئی نہیں۔
زرین نے نند کو غور سے دیکھا کہ کہیں اس کی بات اُس پر گراں تو نہیں گزری۔ لیکن جب توجہ سے اس نے سنتے دیکھا تو بڑی خوشی ہوئی۔ وہ ریحانہ کے قریب آکر بیٹھ گئی… ’’ویسے بھی ماہ رمضان تزکیہ نفس کا مہینہ ہے، اس ماہِ مبارک کو اللہ کے احکامات کے مطابق گزاریں تو نہ صرف یہ مہینہ احسن اور خوبصورتی سے گزرتا ہے بلکہ اس کی برکتیں اور رونقیں پورے عالم کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں‘‘۔ ارباز بھی دوسرے کمرے سے آکر بیٹھ گیا۔ شوہر کو دیکھ کر وہ بولی ’’ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم پرہیزگار بن جائو‘‘۔ اس آیتِ کریمہ سے مکمل طور پر روزے کی فضیلت، افادیت، اہمیت اور عظمت واضح ہے (سبحان اللہ)۔‘‘
قرآن پاک کی اس آیتِ کریمہ کو پڑھ کر وہ رکی، پھر سامنے بیٹھے اپنے شوہر سے مخاطب ہوئی ’’ارباز اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ہر حکم کے پیچھے حکمت پوشیدہ ہے، اب یہی دیکھو روزہ انسان کو پرہیزگار بناتا ہے‘‘ (اس نے آیتِ کریمہ کا ترجمہ دوبارہ ارباز کو سنایا)
دونوں بہن بھائی زرین کی گفتگو غور سے سن رہے تھے۔ ’’ہم اگر رمضان کے قیمتی لمحات رب العالمین کی ہدایات کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں گے تو تمام دن فضول چیزوں، باتوں اور سرگرمیوں سے پرہیز کرنے لگیں گے (کچھ دیر رک کر) چند سال پہلے تک میں بھی رمضان کو ’’ایسے ہی کاموں‘‘ میں گزار دیتی تھی، پھر اللہ نے مجھے موقع فراہم کیا کہ میں اپنے طور طریقوں میں تبدیلی لا سکی، اور یہ ایسا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ پہلے میرا آدھا دن ٹی وی نشریات وغیرہ دیکھنے اور دوستوں سے گپ شپ میں گزرتا تھا، جس میں جھوٹ، غیبت جیسی اخلاقی برائیاں سر زد ہوجاتی تھیں۔ یہ تمام برائیاں ایسی ہیں جن سے روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کے لیے رہ جاتا ہے، ان منفی طور طریقوں سے روزے کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ اللہ کو ہمارے بھوکے اور پیاسے رہنے کی نہیں بلکہ روزے کی حالت میں تقویٰ کی ضرورت ہے۔ اگر دیکھا جائے تو روزہ (ماہِ رمضان) بندے کو مومن بنا سکتا ہے اگر ہم اللہ کے احکامات اور سنتِ نبوی کے مطابق رمضان گزاریں۔‘‘
٭…٭
زرین کے انداز اور طور طریقے میں اللہ نے یہ تاثیر رکھی تھی کہ جلد ہی اسے اپنے شوہر کے اندر تبدیلی کا احساس ہوگیا۔ بے شک انسان خلوصِ دل سے کسی کی رہنمائی کرے تو ضرور کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ بے شک ہدایت دینے والی ذات تو رب العزت کی ہے۔
کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
ریحانہ اور ارباز کو تھوڑی سی رہنمائی کی ضرورت تھی… اللہ رب العزت نے انہیں یہ توفیق عطا کردی کہ وہ ماہِ رمضان کے طفیل اپنے نفس کی اصلاح کرسکے۔ یہ ماہ رمضان ان دونوں بہن بھائیوں کے لیے مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنا۔ آئیں ہم بھی عہد کریں کہ یہ ماہِ رمضان احکاماتِ الٰہی و سنتِ نبویؐ کے مطابق گزاریں گے تاکہ ہمارے نفس میں بھی مثت تبدیلی رونما ہو (ان شاء اللہ تعالیٰ)۔
خصوصاً ان سطور کے ذریعے میں مائوں سے ضرور کہوں گی کہ اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے نہ صرف روزہ رکھنے کا عادی بنائیں، بلکہ روزے کے دوران ان ضروری امور کی نہ صرف نشاندہی کرتی رہیں بلکہ عمل بھی کروائیں۔ اکثر گھرانوں میں دیکھا گیا ہے کہ بچے روزہ تو رکھ لیتے ہیں لیکن نماز سے غافل رہتے ہیں، بلکہ ایسے بچے روزہ رکھ کر اپنا زیادہ وقت سونے میں یا موبائل میں گزار دیتے ہیں۔ اس دوران اگر والدین دینی کتب کے ذریعے ان کی رہنمائی کریں، قرآنی آیات اور چھوٹی چھوٹی سورتیں حفظ کروائیں تو یہ ان کی آخرت سنوارنے کا سامان بھی بنے گا، کیونکہ یہ عبادت خالص اللہ رب العزت کے لیے ہے، جیساکہ طبرانی کی اس حدیثِ مبارکہ سے بھی واضح ہے:
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا ’’روزہ خاص اللہ ہی کے لیے ہے، اس پر عمل کرنے والے کا ثواب سوائے اللہ کریم کے کوئی نہیں جانتا۔‘‘ (طبرانی)۔
اسی طرح دوسری حدیثِ مبارکہ میں آپؐ کا فرمان یوں ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔‘‘ سبحان اللہ (مشکوٰۃ) ۔
ان احادیث کی روشنی میں واضح ہے کہ جو بندہ اللہ کے حکم کے مطابق روزے میں احتیاط برتے گا اور نیک اعمال کرے گا، وہی اجر عظیم کا مستحق ہوگا۔ آئیں اس مرتبہ پوری ایمان داری و خلوصِ دل سے دلوں میں تقویٰ پیدا کریں اور ایسے روزے رکھیں جو احکاماتِ الٰہی اور سنتِ نبوی کے مطابق ہوں، جن کا مقصد نفس کو صاف کرنا ہو۔ یہ مبارک مہینہ تزکیہ نفس کا ذریعہ بن جائے تاکہ ہم اپنی تمام زندگی پرہیزگاری سے گزار پائیں (آمین ثم آمین یارب العالمین) اور یہ کام اتنا مشکل نہیں جیسا کہ ارباز اور ریحانہ کے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مثبت طریقے سے اُن کی رہنمائی کی گئی تو واضح فرق سامنے آیا… ہم بھی اپنے دل و ذہن کی اصلاح کریں تو کامیاب ہوسکتے ہیں۔ آمین ثم آمین یارب العالمین

حصہ