آگہی کے چراغ

61

ظہیر خان

دنیا کی کوئی بھی قوم تعلیم حاصل کیے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جن اقوام نے تعلیم کی دولت حاصل کی وہ ترقی کی منازل طے کرتی ہوئی عروج پر پہنچ گئیں اور انہوں نے ہی دنیا پر حکومت کی۔ علم حاصل کرنے کا بہترین طریقہ کتابیں ہیں، ہاں اساتذہ بھی ضروری ہیں، مگر اساتذہ بھی کتابوں ہی سے رہنمائی حاصل کرکے اپنے شاگردوں میں علم تقسیم کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے کتابوں کو یکجا کرنے کے لیے کتب خانے قائم کیے، دوسری زبانوں کی کتابوں کا ترجمہ اپنی زبان میں کرکے علم کو فروغ دیا اور اپنے کتب خانوں کے کتابی ذخیرے میں اضافہ کیا۔ یہ سلسلہ آج کا نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے قبل کا ہے۔ زمانہ قدیم کے وہ لوگ اتنے مہذب اور علم دوست تھے کہ انہوں نے علم کو محفوظ کرنے کے لیے اُس وقت کے کاغذ ’’پاپائے رس‘‘ کا استعمال کیا جو حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے چار ہزار سال قبل دریافت ہوچکا تھا۔ تو معلوم یہ ہوا کہ کتب خانوں کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ اُس وقت بھی لوگوں میں یہ شعور تھا کہ علم کی ترقی و ترویج کے لیے کتب خانے کس قدر اہمیت کے حامل ہیں۔
ڈاکٹر شیر شاہ سید کی کتاب ’’آگہی کے چراغ‘‘ اتفاقاً ہاتھ آگئی۔ دنیا بھر میں کتب خانے کب، کہاں اور کس طرح قائم ہوئے، ایک داستان کی شکل میں موصوف نے اسے بڑے سلیقے سے تحریر کیا ہے۔ کتاب کے مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ ڈاکٹر شیر شاہ سید نے یہ کتاب ایک دن میں تحریر نہیں کی ہوگی بلکہ عرصہ لگا ہوگا معلومات اکٹھی کرنے میں، تب کہیں جاکر کتاب پایۂ تکمیل کو پہنچی ہوگی۔
دنیا کے بہترین کتب خانوں کا ذکر، ان میں رکھی ہوئی کتابوں کی تفصیل، ان کی تعداد وغیرہ اس میں درج ہے۔ وہ تعلیم یافتہ اور امیر افراد جنہوں نے کتب خانے قائم کرنے میں بھرپور تعاون کیا، ان کے مختصر حالاتِ زندگی بھی اس کتاب میں قارئین کی دلچسپی کا سبب ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ کچھ ایسے کتب خانوں کا بھی ذکر ہے جو قبلِ مسیح قائم کیے گئے تھے۔ پہاڑی علاقوں میں گدھوں اور خچروں پر بھی کتب خانے قائم کیے گئے، کیونکہ پہاڑی علاقوں میں سڑکیں تو تھیں نہیں، لہٰذا کتابیں گدھوں یا خچروں پر لاد دی گئیں اور انہیں اوپر کی طرف ہانک دیا گیا۔ پہاڑ پر وہ چڑھتے گئے اور جہاں رُکے، لوگوں نے کتابیں نکالیں، پڑھیں، پھر گدھے پر اسی ترتیب سے رکھ دیں اور گدھا آگے کی جانب روانہ ہوگیا۔ یہ ایک بہترین طریقہ تھا لوگوں تک علم پہنچانے کا۔ غرضیکہ شیر شاہ سید نے دنیا کا کوئی بھی شہر ایسا نہیں چھوڑا جس میں کتب خانہ ہو اور انہوں نے اس کا ذکر نہ کیا ہو۔ کینیا کے اونٹ کتب خانے کا ذکر بھی بہت دلچسپ ہے کہ کتابیں اونٹ پر بہت ہی سلیقے سے بڑے بڑے تھیلوں میں رکھی گئیں اور ایک شخص متعین کردیا گیا۔ وہ اونٹ کی لگام کی رسّی ہاتھ میں پکڑ کر اونٹ کو بازاروں میں، کبھی ساحلِ سمندر پر، اور کبھی کسی پارک میں لے جاتا، علم کے شیدائی اپنی پسند کی کتابیں وہاں سے نکالتے، پڑھتے پھر اسی جگہ رکھ دیتے۔ مزے کی بات یہ کہ اونٹ بان اپنے ساتھ ایک خیمہ بھی رکھتا تھا، جہاں شام ہوئی اُس نے خیمہ نصب کیا اور رات وہیں گزار دی۔
دنیا کے قدیم ترین کتب خانوں میں ایک ’’ایبلا کتب خانہ‘‘ کا ذکر بھی مصنف نے بڑی تفصیل سے کیا ہے۔ یہ کتب خانہ تقریباً تین ہزار سال قبلِ مسیح ریاست میسو پوٹیما میں قائم کیا گیا۔ ریاست میسوپوٹیما دریائے فرات کے ساحلوں کے ساتھ عراق، شام اور ترکی کے علاقوں میں قائم تھی۔ ان علاقوں میں کتب خانوں کے آثار ملے ہیں جہاں بیس ہزار سے زائد مٹی سے بنی ہوئی اینٹوں پر عبارتیں تحریر ہیں جنہیں قدیم کتابیں کہا جاسکتا ہے۔ ان کتبوں کی تحریر بنیادی طور پر سومارین اور اکادین زبانوں میں ہے۔ مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں معاشرے میں علم حاصل کرنے کو بڑی اہمیت دی گئی۔ اندلس، بغداد، قاہرہ، قسطنطنیہ جیسے شہروں میں عظیم الشان کتب خانے قائم کیے گئے جہاں عام اور خاص میں تفریق کیے بغیر ہر کوئی کتابوں سے مستفید ہوسکتا تھا۔
دنیا کے سب سے بڑے کتب خانے ’’کانگریس لائبریری واشنگٹن ڈی سی‘‘ پر مصنف نے تفصیلاً گفتگو فرمائی ہے۔ یہ کتب خانہ 1800 عیسوی میں نیویارک اور فلاڈلفیا سے اپنے قیام کے گیارہ سال بعد واشنگٹن ڈی سی منتقل کردیا گیا۔ کتب خانہ چار عظیم الشان عمارتوں میں قائم ہے جو زیرِ زمین ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ تیس ملین کتابیں، اکسٹھ ملین مسودے اور دنیا کی چار قدیم بائبل میں سے ایک اس کتب خانے میں موجود ہے۔ متحیّر کرنے والی بات یہ کہ اس کتب خانے میں پچھلی تین صدیوں کے ایک ملین سے زائد اخبارات، پانچ ملین سے زائد نقشے، چھ ملین سے زائد موسیقی کے اندراج اور چودہ ملین سے زائد تصاویر موجود ہیں۔ اس کتب خانے میں ہر عام آدمی کتابوں اور دستاویزات سے مستفید ہوسکتا ہے۔ اس کتب خانے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’جو کتاب دنیا کے کسی بھی حصے میں دستیاب نہ ہو یہاں ضرور مل جائے گی۔‘‘
دنیا کا دوسرا بڑا کتب خانہ ’’نیویارک پبلک لائبریری‘‘ بھی امریکا میں ہے۔ اس کی87 شاخیں ہیں۔ یہ نیویارک کا ایسا عظیم الشان کتب خانہ ہے جہاں دنیا بھر سے کتابیں اور مسودے خرید خرید کر جمع کیے گئے ہیں۔ ان کتب خانوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکا کی ترقی کا راز کیا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک پر وہ کیونکر حکمرانی کررہا ہے۔
ساتویں صدی عیسوی میں طارق بن زیاد نے اسپین فتح کیا، مسلمانوں نے وہاں علم کے فروغ کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا۔ مسجد قرطبہ کے ساتھ ایک کتب خانہ بھی قائم کیا گیا جہاں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں رکھی گئیں۔ مسلمان اپنے ساتھ یونانی، ایرانی اور یہودی علوم لائے تھے۔ بہت جلد قرطبہ تہذیب و ثقافت کا ایسا مرکز بن گیا جہاں یورپ سے یہودی عالموں نے آکر پناہ لی۔ یورپین تاریخ داں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یورپ میں آگہی پھیلانے میں اندلس کی تہذیب و تمدن کا بہت بڑا حصہ ہے۔
غرضیکہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز وہاں قائم کردہ کتب خانے ہوتے ہیں۔ جن اقوام میں علم و آگہی کا شعور پیدا ہوا وہ ترقی کی دوڑ میں سبقت لے گئیں، اور جنہوں نے علم حاصل کرنے میں کوتاہی برتی وہ اقوام صرف پیچھے ہی نہیں رہ گئیں، بلکہ ہمیشہ دوسروں کے زیرِنگیں بن کر زندگی گزاری۔ ہمارے پیارے نبیؐ کا ارشادِ گرامی ہے کہ ’’علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘۔
ہماری بدنصیبی کہ ہمارے ملک میں علم کی ترقی و ترویج کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں سارا سال تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں، نہ وہاں اساتذہ کرام جانے کی زحمت کرتے ہیں اور نہ ہی طلبہ۔۔۔ مگر سال ختم ہونے پر تمام طلبہ کو اسناد ’’بسروچشم‘‘ تقسیم کی جاتی ہیں اور انہی جھوٹی اسناد کی بنا پر انہیں سرکاری محکموں میں سیاسی نوازشِ خسروانہ کے زیرِاثر ملازمتیں عطا کی جاتی ہیں۔ اب آپ اندازہ کریں کہ ایسے افراد وہاں جاکر کیا کریں گے! ہمیں تو خوف اس بات کا ہے کہ ’’ہر شاخ پہ ا،لّو بیٹھے ہیں انجامِ گلستاں کیا ہوگا‘‘۔ آخر میں ہم ڈاکٹر شیر شاہ سیّد کو ان کی بے نظیر کتاب ’’آگہی کے چراغ‘‘ پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اس کتاب کی تصنیف میں ان کی بے پناہ محنت اور تحقیق قابلِ تحسین ہے۔ کتاب میں کاغذ اعلیٰ معیار کا استعمال کیا گیا ہے، کتابت بھی بہت خوب ہے۔ جن کتب خانوں اور شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے اُن کی تصاویر سے کتاب کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ سرورق پُرکشش ہے اور قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ آپ اپنے گھریلو کتب خانے میں ایک اچھی کتاب کا اضافہ کرسکتے ہیں۔

حصہ