میری وال سے

124

افشاں نوید
آپ نے بھی ٹیلی وژن اسکرین پر دیکھا ہوگا، امریکا میں ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر سعد انور نے ایسا وینٹی لیٹر بنایا جس سے 6 مریض بیک وقت سانس لے سکتے ہیں۔ محدود وسائل میں وہاں کورونا کے مریضوں کا علاج کیا۔
امریکی ریاست کے چند شہری اپنی گاڑیوں میں ان کو خراجِ تحسین پیش کرنے ان کے گھر پہنچ گئے۔ دروازے پر بیل دی، پھول رکھے۔ وہ گھر کی بالکنی میں آئے تو ان سے ہاتھ ہلا کر اظہارِ محبت کیا۔
شکریہ کا پلے کارڈ دیکھ کر ڈاکٹر صاحب کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ انھوں نے سینے پر ہاتھ رکھ کر عاجزی سے ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اشارے سے کہا کہ حفاظتی تدبیر کے پیش نظر وہ منتشر ہوجائیں۔۔۔ اور لوگ محبت سے ہاتھ ہلاتے ہوئے منتشر ہوگئے۔
میں سوچنے لگی کہ اگر امریکی حکومت ڈاکٹر صاحب کو کوئی اعزاز دیتی، یقیناً اس سے بڑا اعزاز ان کے لیے دروازے پر لوگوں کا پھول لے کر آنا تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے اس مقدس پیشے کے لیے جو قربانیاں دی ہوں گی یہ شکریہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں، لیکن ایک فرد کے لیے یہ بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ کوئی اس کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرے۔ کوئی قدردان دل میسر آجائے۔
ڈاکٹر صاحب کے آنسو بتا رہے تھے کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔
ہمارے اطراف میں کتنے لوگ ہیں جن کو ہماری حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، لیکن ہم نے کبھی خراج تحسین پیش نہیں کیا۔
اپنے خاندان میں کتنوں کی قربانیاں ہمارے سامنے ہیں۔ کسی کو احساس دلانا اُس کی قربانیوں کا، کسی کو خراجِ تحسین پیش کردینا، کسی کو سلامِ عقیدت کہنا، یہ کتنا کم خرچ ہے، مگر ہم نہیں کرپاتے۔
کچھ عرصہ قبل میرے بیٹے نے ایک صاحب سے رابطہ کیا جو علمی ورکشاپس کراتے ہیں مختلف فورمز پر۔
اس کو اپنے ادارے کے لیے اُن کی خدمات درکار تھیں۔
انہوں نے میرے بیٹے سے کہا: اپنی عظیم ماں کو میرا سلام پیش کرنا۔ میرے بیٹے کو یہ اتنا اچھا لگا کہ اُس نے نہ صرف یاد رکھا بلکہ انہی کے الفاظ مجھے پہنچائے۔
جب میرے بیٹے نے مجھے بتایا تو میں سوچنے لگی کہ اصل میں عظیم وہ فرد ہے جو کسی کی عظمت کو محسوس کرتا ہے۔
آپ جانیے! دنیا کی ہر ماں عظیم ہے، چاہے وہ جھونپڑے میں رہنے والی ماں ہو یا شاہی محل میں رہنے والی…بحیثیت ماں سب عورتیں اپنے بچوں کے لیے ایک جیسی قربانیاں دیتی ہیں۔
لفظ ”ماں“ میں خود عظمت پوشیدہ ہے۔ میں نے آج تک کتنی ماؤں کو اس طرح سلام کہلوایا۔
ہم کتنے خاندانوں کو جانتے ہیں کہ بوڑھے والدین کی تیمارداری میں سالہا سال اولاد کھپ گئی۔۔ اگر والدین میں سے کوئی معذوری کو پہنچ جائے تو اولاد کتنی قربانیاں دیتی ہے۔ اگرچہ کہ یہ سعادت بھی بانصیبوں کے حصے میں آتی ہے۔
ایسی کسی اولاد کے دروازے پر پھول رکھ کر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہم نے؟ پھول دروازوں پر کیوں رکھیں؟ اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیں جس نے ماں کی خدمت کی، باپ کو جوان کاندھے پیش کیے۔
اب تو دکانوں پر بھی ہر طرح کے تہنیتی کارڈ مل جاتے ہیں، کیا ہم کبھی سوچتے ہیں کہ فلاں فرد کی خدمات کا اعتراف ہم اس کارڈ کے ذریعے، یا چار لفظوں کے میسیج کے ذریعے، یا گھر پر کوئی چھوٹا سا تحفہ لے جاکر کرسکتے ہیں۔
شہداء کے کچھ عظیم گھرانوں کو چند لفظوں کے میں نے میسیج کیے کہ آپ کے خاندان کا یہ قرض ہے ہم پر کہ ہم آپ کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔
ان چند لفظوں پر کیا فیڈ بیک تھا ان خاندانوں کا۔ ہمارے لفظ اتنی قیمت رکھتے ہیں۔ ہمیں ساری زندگی ادراک ہی نہیں ہوپاتا۔
ہم اعتراف کرسکتے ہیں اُس باپ کی خدمات کا جس نے رزقِ حلال سے عسرت میں بچوں کو پالا پوسا۔ اعتراف کرسکتے ہیں اُس عورت کی خدمات کا جو بیوگی میں اولاد کا سہارا بنی، یا جس نے جوانی بھر ملازمت کی اور معاش میں شوہر کا ہاتھ بٹایا۔
خراجِ تحسین پیش کرسکتے ہیں اُس چھوٹے بچوں کی ماں کو جس کی راتوں کی نیندیں چھن گئی ہیں بچوں کی پرورش میں۔
کتنے لوگ ہیں جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔ کبھی اِن باکس میں یہ کہہ کر دیکھیں ان سے کہ رات کے پچھلے پہر آنکھ کھلی تو میں نے آپ کے لیے دعا کی، یا آج فلاں نماز کے بعد آپ کے لیے ہاتھ اٹھائے دعا کو۔
ہر انسان بہت مکرم ہے، ہر انسان خراجِ تحسین کے قابل ہے چاہے وہ ریڑھی پر بیٹھا، پسینے میں نہایا ہوا مزدور ہی کیوں نہ ہو۔
جب آپ کسی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں تو امنگوں بھرا ایک نیا انسان اُس کے اندر پیدا کردیتے ہیں۔ کسی کے جیون میں امید کا رس گھولنا کتنا بڑا ثواب ہے۔
چند روز قبل میں نے ماسی سے کہا: تم کتنی عظیم عورت ہو، رشتے کی معذور نند کی وہ خدمت کرتی ہو جو اپنی اولاد نہیں کرسکتی۔
یہ سن کر وہ روتی چلی گئی۔ زندگی کی بےشمار قربانیاں ایک منٹ میں اُس نے گنا دیں، جس میں بکریاں چرانے سے لے کر فصليں کاٹتے ہوئے ہاتھوں کے زخم بھی تھے۔
بولی: باجی ہم اَن پڑھ جاہل عورتیں بھی عظیم ہوسکتی ہیں؟ ہمیں تو نہ والدین کی وراثت ملتی ہے، نہ شوہر کے منہ سے دل رکھنے کے دو بول۔
ہم اعتراف نہیں کرتے، ہم خوش ہونے کے مواقع نہیں دیتے لوگوں کو۔ چند زندہ مہربان لفظوں کی دستک سے بہت سے سپنے جاگ جاتے ہیں نیم وا خوابیدہ آنکھوں کے۔
کیا امریکا میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر ہی سرخ گلابوں کا حق دار ہے؟ یا ہمارے اپنے، ہمارے اطراف کچھ لوگ ان سرخ گلابوں کے منتظر ہیں۔ آئیے تلاش کرتے ہیں۔
………
اس ہفتے خاندان کے ایک فرد نے کچھ راشن بیگ دئیے تھے تقسیم کرنے کے لیے، جو اس شرط کے ساتھ تھے کہ ضرورت مند رشتے داروں کو دینے ہیں۔
میں نے ایک، دو، تین، چار میسیج کیے کہ کسی کو اپنے رشتے داروں کے لیے راشن کی ضرورت ہے؟
کہیں سے رسپانس نہ آیا۔ پھر میں نے ایک کزن کو کال کی اور کہا کہ بہت سے مستحق لوگ ہیں آپ کے اقارب میں، پھر کیا جھجک ہے؟ لینے والے کی ضرورت پوری ہوگی، دینے والے کو اجر مل جائےگا۔
بولیں ”اصل میں ان سب کے راشن کا بندوبست ہوگیا ہے، میں نے سوچا کہ آپ کو منع نہ کروں، لیکن اس وقت ہوس بہتر نہیں ہے۔ اچھا ہے کہ ایسے مستحق کو پہنچ جائے جو اس وقت زیادہ حق دار ہو۔ ہوا یوں کہ میرے بھانجے نے لسٹ بنائی کہ خاندان میں کتنے مستحق لوگ ہیں۔ پھر اس نے قریبی عزیزوں سے ہی فنڈنگ شروع کی۔ اس نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنی ایک سال کی بچت اس نیک کام میں لگاؤں گا۔ پھر اس نے رشتے داروں سے رابطہ کیا تو کسی نے زکوٰۃ دی، کسی نے صدقہ۔ اس کے پاس اتنی رقم ہوگئی کہ خاندان کے جتنے بھی مستحقین تھے ان سب کو اس وقت دو ماہ کا راشن دیا جاچکا ہے۔ میں نے سوچا آپ کا راشن اُن لوگوں کو چلا جائے جن کے گھر میں روٹی کے لالے پڑے ہیں۔“
اس وقت ٹی وی چینلز پر لوگ کس قدر پریشان نظر آرہے ہیں، دہائی دے رہے ہیں کہ ہم کورونا سے نہیں بھوک سے مر جائیں گے۔
ہم میں ایسا کون ہے جس کے خاندان میں مخیر لوگ نہیں ہیں؟ اس وقت پاکستان میں شاید ہی کوئی خاندان ہو جس کے دو چار لوگ بیرونِ ملک نہ ہوں۔
سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے وہ رشتے دار جو بہت مفلوک الحال ہیں یا ضعیف، عموماً ہم اُن سے رابطہ رکھنا پسند ہی نہیں کرتے۔ اگر اُن کا فون بھی آئے تو ہم نظرانداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس وقت ہر ایک اپنے خاندان پر نظر ڈالے تو یہ کسمپرسی نہ ہو۔۔ یا شدت کا تناسب کم ہو۔
ٹی وی پر نظر آرہا ہے کہ خاندان کے خاندان سڑکوں پر آکر بیٹھ گئے ہیں، ان کے گھروں میں روٹی نہیں ہے۔
بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے خاندانوں میں دینے والے لوگ نہیں ہیں۔ الحمدللہ لوگ دے رہے ہیں۔ خدمتی ادارے یونہی تو کروڑوں روپے کے راشن تقسیم نہیں کررہے ہیں!
اپنے خاندانوں کو کسی کے رحم وکرم پر نہ چھوڑیں۔خاندان پر دور دور تک نظر ڈالیں،نیکیاں آپ کے دروازے پر کھڑی ہیں۔
یہ اجتماعی وبا کسی اور ڈھنگ کا استغفار چاہتی ہے۔
کیا ہمارے خاندان میں وہ ”بھانجا“ہے جو مستحقین کی فہرست بنائے اور اپنی سالانہ بچت سے اس مبارک کام کا آغاز کرے!۔

حصہ