موجِ سخن ادبی فورم کا لائیو اسٹریم نعتیہ مشاعرہ

122

نثار احمد نثار
موجِ سخن ادبی فورم کے روح رواں نسیم شیخ کا شمار سینئر شعرا میں ہوتا ہے‘ ان کی ادبی تنظیم تواتر کے ساتھ مشاعرے‘ مذاکرے اور تنقیدی نشستوں کا اہتمام کر رہی ہے۔ کورونا وائرس کے سبب زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں‘ تمام لوگ گھروں میں بیٹھے لاک ڈائون پر گورنمنٹ کی طرف سے سختیاں دیکھنے میں آرہی ہیں جس کی وجہ سے شہر میں سناٹا ہے البتہ وڈیو لنک مشاعرے کا رواج ان دونوں زوروں پر ہے۔ موجِ سخن ادبی فورم کے تحت 26 اپریل بوقت 9 بجے شب لائیو اسٹریم نعتیہ مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت راقم الحروف نثار احمد نے کی۔ یہ نسیم شیخ کی مہربانی ہے ورنہ میں اس منصب کا اہل نہیں ہوں‘ میں ادب کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں‘ میری ترقی کا سفر جاری ہے۔ مجھے جسارت میگزین میں ادبی رپورٹنگ کے لیے اجمل سراج نے منتخب کیا ہے۔ میری کالم نگاری کی پرومیشن میں ان کا اہم کردار ہے‘ میں ان کا ممنون و شکر گزار ہوں۔ بہرحال بات ہو رہی تھی وڈیو مشاعرے کی جس کی میزبانی اور نظامت کے فرائض نسیم شیخ نے انجام دیے‘ اس سسٹم کے تحت بیک وقت 6 شعرا آن اسکرین ہوسکتے تھے لہٰذا تقدیم و تاخیر کے مسائل سے قطع نظر جن شعرا نے اس پروگرام میں اپنی نعتیں پیش کیں ان میں راقم الحروف‘ نسیم شیخ‘ نصرت یاب نصرت (اسلام آباد)‘ ڈاکٹر منیر تابش (چیک بیلی)‘ احسان الٰہی احسان (چکوال)‘ انجم الحسن نجمی (کلرکہار)‘ حسن افتخار (ہری پور ہزارہ)‘ ڈاکٹر صغیر احمد صدیقی (لاہور)‘ احساس مرل (اوڈو لعل)‘ شہزاد واثق (سیالکوٹ)‘ کراچی کے شعرا میں ابن عظیم فاطمی‘ عبدالمجید محور‘ نظر فاطمی‘ احمد سعید خان‘ سید غضنفر علی‘ واحد رازی اور کاشف علی ہاشمی شامل تھے۔ اس پروگرام کو ساری دنیا میں دیکھا گیا اور لوگوں نے Comments بھی کیے۔ اس موقع پر نسیم شیخ نے کہا کہ نعت رسولؐ کہنا عین عبادت ہے‘ حبِ رسولؐ کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ نعت وہ صنفِ سخن ہے کہ جس میں غلو اور جھوٹ کا عمل دخل ممکن نہیں۔ نعتیہ ادب کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ شعرائے متقدین اور شعرائے متوسطین کی نعتوں میں جمال مصطفی کے رویے کو کثرت سے برتا گیا ہے مگر وقت کے تقاضوں کے پیش نظر نعت گو شعرا نے جمال مصطفی کے ساتھ ساتھ سیرت رسولؐ کو بھی نعت کا حصہ بنایا۔ اب نعت میں ملت اسلامیہ کو درپیش عصری مسائل و مصائب‘ عالمی واقعات و حالات اور عالمِ اسلام کی زبوں حالی بھی بیان کی جارہی ہے کہ ان تمام مسائل کا حل اسوۂ رسول کی پیروی میں مضمر ہے۔ جب تک ہم اسلامی اصولوں پر عمل کرتے رہے‘ ہم کامیاب رہے اور جب سے ہم نے اپنے دین سے دوری اختیار کی ہم مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جسارت سنڈے میگزین میں ادب کے حوالے سے جو مضامین آرہے ہیں ان پر بات کرنے کا حق سب کو ہے لیکن مشاعرے کے انعقاد میں فنڈنگ بہت ضروری ہے کہ مالی وسائل کے بغیر دنیاوی کام نہیں چل سکتے کراچی میں جو لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ادبی پروگرام منعقد کر رہے ہیں وہ قابل مبارک باد ہیں یہاں یہ بات بھی ضرور کہنا چاہوں گا کہ متشاعروں کا سلسلہ بند نہیں ہو سکتا یہ وہ مسئلہ ہے جو کہ آج تک حل نہیں ہو سکا۔ نظر فاطمی نے کہا کہ وڈیو لنک مشاعرے عارضی طور پر چل رہے ہیں جیسے ہی کورونا سے نجات ملے گی‘ دوبارہ مشاعرے شروع ہو جائیںگے ان شاء اللہ۔ ابن عظیم فاطمی نے کہا کہ آج کی نعتیہ محفل بہت کامیاب ہے اور بہت عمدہ کلام سامنے آیا ہے۔ مشاعرے کے اختتام پر واحد رازی نے مصطفی جان رحمت پر لاکھوںسلام پڑھا اور دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ترقی عطا فرمائے اور ہمیں کورونا وائرس سے نجات مل جائے۔

نشاۃ ثانیہ سے موجودہ عہد تک کے انسان میں جمالیاتی حس موجود ہے‘ ڈاکٹر جاوید منظر

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیر اہتمام مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر جاوید منظر نے کی۔ مہمان خصوصی راشد نور‘ ڈاکٹر نثار احمد نثار‘ پروین حیدر‘ عبدالمجید محور تھے۔ اس موقع پر صدر محفل ڈاکٹر جاوید منظر نے کہا کہ آرٹ سے متعلق تخلیقی خالص پن‘ تازہ کاری اور نبوغ کے تصورات بے حد کشش کے حامل ہیں۔ نشاۃ ثانیہ کے عہد سے انسان ان تصورات کے بارے میں رومانی انداز میں سوچتا آیاہے۔ یہ سلسلہ روسی سوشلسٹ حقیقت نگاری کے دور تک پوری آن بان سے چلتا رہا لیکن سوپو کی ساخیات کے فروغ کے ساتھ حالات نے پلٹا کھایا خصوصاً فرانس میں انسانی علوم کے ماہرین اور آرٹ کے نقادوں کی طرف سے ان تصورات کے خلاف آوازیں بند ہونے لگیں۔ اس زمانے میں تجریدی آرٹ اپنے عروج پر تھا۔ سب سے پہلے آرٹ کے نقاد نے شکایتاً لکھا کہ فن کارانہ خود پرستی اور بے مہار انفرادیت کے چکر میں پڑ کر مصوروںنے ایسی مجرد اور اظہاری پینٹنگز بنانا شروع کردی ہیں جو بور ژوائیت کی باسی کڑی کا ابال لگتی ہیں۔ یہ ایک ناقابل فہم اور بدمزا کھیل ہے۔ اس کھیل کو کھیلنے والے آرٹسٹوں نے یہ ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے کہ دنیا کو ایک ایسے رخ سے دیکھا جائے کہ بورژوا طبقے کے لوگ بھی اسے نہ دیکھ سکیں۔ اس دوران آرٹسٹوں نے یہ بھی طے کرلیا کہ سربلند رہنے کے لیے ضروری ہے کہ سرنگوں رہو اور ہمیشہ جوان رہو اسے بوھمین طرز زیست کا نام دیا گیا۔ راشد نور نے کہا کہ ادب کے بقا کو یہ ثابت کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ تخلیق کے تمام اجزا کس طرح باہم مربوط ہوں اور یہ کہ تخلیق کے ظاہری تضادات کو کس طرح ہم آہنگ یا ہموار شکل میں سامنے لایا جاسکتا ہے۔ ایک بات طے ہے کہ آلتھیو سے اور ماشیرے دونوں ساختیات کے دائرۂ کار میں رہ کر ہم ہر قسم کی نظریاتی کاملیت اور تصوراتی مرکزیت کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔ آلتھیو سے جہاں آرٹ آئیڈیالوجی کے جبر سے انکاری ہے اور اصرار کرتا ہے کہ ادب آئیڈیا لوجی کے جبر سے انکاری ہے اور اصرار کرتا ہے کہ ادب آئیڈیا لوجی سے آگے نکل جاتا ہے وہاں ماشیرے مِتن کی اندر موجود ناگزیر ہمواری اور تضادات کی نشاندہی کو فرض جانتا ہے۔ استدلال یہ ہے کہ متن کے کوئی ایک معنی نہیں ہوتے اور نہ ہی متن کو کسی آئیڈیل فریم ورک میں رکھ کر دیکھا جاسکتا ہے جیسے کہ اظہاریت پسند آرٹسٹوں نے ذہن کے آئینے میں اس کی تصویر بنا رکھی تھی۔ ڈاکٹر نثار احمد نثار نے کہا کہ فاولر کے اس ناول کی اشاعت 1969ء میں ہوئی تھی جس کے بعد مابعد جدیدیت اور پس ساختیات کے فروغ کی وجہ سے دنیا ہی تبدیل ہو گئی۔ پہلا وار اظہاریت پسند آرٹ اور تجریدی ادب پر ہوا۔ مابعد جدید مفکرین نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کے جمالیاتی تجربات بورژوائی ذوق کے آئینہ دار اور سرمایہ داریت کا شاخسانہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنف کی سوانح کو غیر ضروری بوجھ قرار دیدیا گیا۔ یوں مصنف کی متن میں مرکزیت کا تصور انجام کو پہنچا۔ اس کے بجائے تصنیف یا متن کو فوقیت ملی۔ رولاں بارت کا مصنف کی موت کا دعویٰ متن کی اسی فوقیت کا آئینہ دار ہے۔ اس موقع پر اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے کہا کہ جہاں تک تنقید کا تعلق ہے تو اسے قاری ردعمل کی تنقید کا نام دیا گیا۔ اس تنقید کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ ادبی تنقید کو متن کی صداقت کے انکشاف کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے صرف قاری اور متن کے درمیان دلچسپ جمالیات کھیل کے طور پر لینا چاہیے۔ ایکو اور فاولیز دونوں بارت کے اتباع میں ہی کہتے ہیں کہ صداقت میرے ہاتھ کی رہبر نہیں۔ یہ کھیل ہے جو میری رہنمائی کرتا ہے۔ یہی کھیل کا سچ اور صداقت ہے۔ مشاعرے میں ڈکٹر جاوید منظر‘ راشد نور‘ ڈاکٹر نثار احمد نثار‘ سید منیف‘ اشعر ملیح آبادی‘ پروین حیدر‘ عبدالمجید محور‘ سید علی اوسط جعفری‘ نصیر سومرو‘ وحید محسن‘ محمد علی زیدی‘ نجیب قاصر‘ ضیا حیدر زیدی‘ محمد رفیق مغل‘ دل شاد احمد دہلوی‘ شگفتہ ناز‘ ڈاکٹر رحیم ہمراز‘ ارحم ملک‘ ذوالفقار جسکانی‘ سیما ناز‘ سیدہ اوج ترمذی‘ کاشف علی ہاشمی‘ ہدایت سائر‘ سکندر رنداور سید حسن احمد زیدی نے اپنا کلام سنایا۔

کتابی سلسلہ ادب عالیہ شائع ہو گیا

ادبی رسالہ ادب عالیہ کا شمار 6-7 منظر عام پر آگیا ہے۔ اس رسالے کی مدیرہ حجاب عباسی ہیں جو بڑی محنت اور لگن سے یہ رسالہ نکال رہی ہیں۔ اس شمارے میں صروف دو بڑے اشتہار اور دو چھوٹے اشتہار شامل ہیں جن کی آمدنی سے 572 صفحات پر مشتمل رسالہ نکالنا ممکن نہیں۔ حجاب عباسی قابل مبارک باد ہیں کہ انہوں نے اس رسالے میں صنفِ سخن کی تمام اصناف کو شامل کیا ہے اور تمام قلم کاروں کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اپنا اپنا کلام بھیجیں۔ اس رسالے کی مدیرہ سے ہم نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ دنیا کی دوسری زبانوں کے مقابلے میں جو تنوع اور رنگا رنگی بہ لحاظِ درجہ بند تقویم‘ اردو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے‘ اس کی مثال ملنی مشکل ہے اور آج بھی آنے والا ہر نیا دن اپنی ساتھ نئے امکانات لے کر آتا ہے۔ یہ وسعت ہی تو ہے جو اصنافِ سخن کی طویل صف سے نکل کر نئی بے کرانی کی کھوج میں سرگرداں ہے۔
دیگر زبانوں کے ادغام سے جو اصناف معرضِ وجود میں آئے ان میں بے تکلفی کا عنصر نمایاں ہے جیسے گیت‘ دوہے‘ بارہ ماسہ‘ الا اودل وغیرہ اور یوں اہتمام و التزام کی شعوری کوشش سے اجتناب تروتازگی کی صورت میں نمایاں ہوا‘ ان اصناف میں مٹی سے جڑے اور سادگی میں پروئے ہوئے انسانوں کے جذبات کا بے محابا اظہار ایک ایسی من موہنی صورت میں نمایاں ہوا کہ انسان مرتے دم تک اس کی رنگین طرح داری کا اسیر رہتا ہے۔
ان تمام اظہاریوں میں بے ساختگی کی چھاپ بہت گہری ہے‘ ہم اب تک امیر خسرو کے گیت‘ دوہے‘ پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں یوں گنگناتے ہیں گویا وہ آج کی معاشرت کا حصہ ہوں‘ ان کی غنایت آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے۔ شاعرِ شکر مقال‘ طوطی بیاں ہفت زباں حضرت امیر خسروؒ نے برصغیر کے تہذیبی‘ تمدنی‘ سماجی‘ معاشری اور مذہبی پہلوئوں کے ان ناگفتہ اظہاریوں کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا جو اس سے پہلے تشکیلی حیثیت کے حامل تو تھے لیکن تمثیلی صورت میں نہیں ڈھل سکے تھے۔ تصویریں وجود پا چکی تھیں لیکن خود نما نہیں تھیں‘ رنگ و رنگینی سے تہی تھیں۔
جو اصنافِ سخن فارسی زبان کے حوالے سے اردو میں مستعمل ہیں‘ ان میں مضمون کا بست و کشاد‘ تراکیب‘ بات کہنے کا ڈھنگ خالصتاً شاعرانہ نوعیت کا ہے۔ فارسی کو زبانِ شیریں کہا جاتا ہے‘ سو ذہنِ رسا میں جو خیال بھی وارد ہوتا ہے‘ الفاظ کی جامہ زیبی کی وجہ سے اس کی ندرت دو چند ہو جاتی ہے۔ قدرت موسموں کی صورت اپنے ساتھ اپنا قرینہ لے کر آتی ہے‘ برصغیر کے لوگوں کو چاروں موسم اپنی پوری توانائی اور رعنائی کے ساتھ ودیعت کیے گئے ہیں اور فطرت کا یہی وجدان ہے جوساون کے گیتوں میں پیاس‘ بہار کی فرقتوں میں انتظار اور سردی کی طویل راتوں میں ہجر بن کر جاگتا ہے۔ اونچے پہاڑوں سے نکلنے والے دریا اپنے پانیوں کی شیرینی لیے میدانوںکا رخ کرتے ہیں اور جدھر سے گزرتے ہیں‘ فضا اور صبا میں صباحت اور حلاوت بھر دیتے ہیں‘ زرخیزی کی یہی مٹھاس نئے موسم اور نئی بودوباش میں جداگانہ کونپل اور اکوے دے کر نئے برگ و گل کا یوں اہتمام کرتی ہے کہ صحنِ چمن رنگ اور خوشبو کے لہجے میں باتیں کرتا نظر آتا ہے اور غزل کا سبب بنتا ہے۔
غزل عروسِ سخن ہے‘ غزلوں کے لغوی معنی عورتوں سے بات چیت کرنا ہے۔ صباحت‘ حلاوت اور ملاحت میں ڈوبی ہوئی اس پُرکشش صنف کو اس صنفِ نازک سے تشبیہ دی جاسکتی ہے جس کی جلوہ آرائی سے اردگرد کا ماحول حسین ہو جاتا ہے‘ جس کی کشش‘ کشش ثقل سے کچھ کم نہیں۔ اسی طرح شاعری کے دیگر اظہاریے اپنی اندر فکر و احساس کے نئے جہان اور نئی کائناتیں سموئے ہوئے ہیں۔ کوشش کی گئی ہے کہ اردو کے قالب میں ڈھلنے والے اصنافِ سخن کا کماحقہ احاطہ کر لیا جائے لیکن معدوم ہوتی ہوئی شاعری کی چند جہتیں اُن کے کہنے والوں کے دنیا سے اٹھ جانے اور نئے آنے والوں کی عدم توجہی کے باعث اتنی فزوں تر نہیں جتنی ماضی میں تھیں۔ طویل دورانیے کی لکھی جانے والی اصناف مثلاً قصیدہ‘ مثنوی‘ مسدس وغیرہ اب خال خال ہی نظر آتی ہیں۔ سہ غزلے کا رواج اور رجحان بھی اب دیکھنے میں نہیں آتا۔ بہر طور کوشش کی گئی ہے کہ مشاعروں میں پڑھی جانے والی مقبول اور پسندیدہ شاعری کے علاوہ وہ شاعری بھی زندہ و تابندہ رہے جو اپنے اندر بے حد تونائی رکھتی ہے۔ آخر میں ان تما م کہنے والوں کی شکر گزار ہوں جنہوںنے اس کاوشِ کارِ سخن میں مقدور بھر حصہ لیا اور اپنی موجودگی کو ہمیشگی کا درجہ دے دیا۔

کیا اردو زبان و ادب روبہ زوال ہے؟

اس موضوع پر ہم جسارت سنڈے میگزین میں آپ کی تحریر شائع کریں گے‘ آپ اپنا مضمون 0300-9271778 پر واٹس ایپ کیجیے۔
(انچارج صفحہ جہانِ ادب)

حصہ