تصور اقامت دین پر اعتراض

64

سید سعادت اللہ حسینی/ مرتب: اعظم طارق کوہستانی
آخری قسط
۲۔ اگر اجتماعی امور میں احکام دین کے نفاذ کی ذمہ داری صرف حکمرانوں کی ہے، تب بھی کیا عام مسلمان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے پابند نہیں ہیں ؟ کیا حکمران اگر اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کررہے ہیں اورخدا کے احکام سے علانیہ انحراف کررہے ہیں تو یہ مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اس کی طرف اپنے حکمرانوں کو متوجہ کریں ؟ رسول اللہ نے فرمایا: الدین النصیحہ۔۔ للہ و لکتابہ ولرسولہ ولائمۃ المسلمین و عامتھم (دین خیرخواہی کا نام ہے۔ خیر خواہی اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے اماموں کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے) ابو سعید خدریؓکہتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور نماز عید سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ایک شخص نے کہا: مروان ! آپ نے سنت کے خلاف کیا، ایک تو آپ نے اس دن منبر نکالا حالانکہ اس دن منبر نہیں نکالا جاتا، پھر آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، حالانکہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا، ابو سعید خدریؓ نے کہا : اس شخص نے تو اپنا وہ حق جو اس پر تھا ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ’’ تم میں سے جو شخص کوئی بات خلاف شرع دیکھے، تو اگر اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس کو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے معمولی درجہ ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا : ستکون امراء فتعرفون و تنکرون فمن عرف بری ومن انکر سلم ولکن رضی و تابع قالوا افلا نقاتلھم قال لا ما صلوا یعنی عنقریب ایسے حکمران ہونگے جنہیں تم پہچانتے ہو گے اور ان کا انکار کرو گے، پس جس کسی نے ان (کی حقیقت) پہچان لی وہ بری ہوگا، جس کسی نے برملا ان کا انکار کیا وہ تو سلامتی کے راستے پر ہوگا سوائے اس کے جو ان پر راضی ہوگیا اور ان کی اطاعت کرنے لگا (یعنی نہ وہ بری ہے اور نہ سلامتی کے راستے پر)۔ صحابہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول کیاایسے امراء کے خلاف ہمیں قتال نہیں کرلینا چاہئے؟ آپ نے فرمایا جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں ایسا مت کرنا۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں جہاں اس حدیث کا باب باندھا ہے، اس باب کا موضوع ہی رکھا ہے۔ باب وجوب الانکار علی الامراء فیما یخالف الشرع وترک قتالھم ما صلو و نحو ذالک (یعنی اس بات کا باب کہ اگر امراء شریعت کی خلاف ورزی کریں تو ان کی نکیر واجب ہے ) یعنی جو حکمران خدا کے احکام کی کھلی نافرمانی کریں ، ان کے خلاف خروج اور قتال کے لیے تو کچھ اور شرائط ہیں ، لیکن ان کی نکیر اور ان کو معروف کی تلقین اور اسلام کے نفاذ کے لیے ان کو آمادہ کرنا، یہ کام تو ہر حال میں اہل ایمان کو انجام دینا ہے۔
۳۔ آج کے زمانہ میں ملکوں کے نظام اور قوانین کے لیے صرف حکمران ذمہ دار نہیں ہوتے، عوام بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ملکوں میں تو جمہوری نظام ہیں۔ جمہوری نظام کی تو تعریف ہی یہی ہے کہ وہاں قانونی طور پر عوام ہی اصل حکمران ہوتے ہیں۔ حکومت کے کام انہی کے منتخب نمائندے انجام دیتے ہیں۔ ملک کی قانون سازی اور پالیسی سازی عوامی رجحانات کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ اس لیے اب تو یہ بحث بالکل غیر متعلق ہے کہ حکمرانی سے متعلق احکامِ دین کے مخاطب صرف حکمران ہیں ، عوام نہیں ہیں۔ اب یہ بات ساری دنیا میں مسلمہ ہے کہ جمہوری حکومتوں میں جو پالیسیاں بھی بنتی ہیں ، ان کے لیے عوام پوری طرح ذمہ دار ہیں۔ عوام کے سامنے جواب دہ اور عوام کے ووٹ سے منتخب حکومت، اگر خدا کے احکام کی کھلی خلاف ورزی کرتی ہے اور ومن لم یحکم بما انزل اللہ کی تصویر بنی رہتی ہے تو اس معاشرہ میں رہنے والے مسلمان کیسے اس کی ذمہ داری سے بری ہوسکتے ہیں ؟براء ت کی ایک ہی شکل ممکن ہے اور وہ یہ کہ وہ معاشرہ کو اسلام کے نفاذ کے لیے تیار کرنے کی بساط بھر کوشش کرتے رہیں۔ بلاشبہ وہ کسی ایسے کام کے مکلف نہیں ہیں جو اْن کی طاقت اور استعدادسے باہر ہو لیکن جو کچھ ان کے بس میں ہے، اْ س جدوجہد کی ذمہ داری سے وہ کیسے بری ہوسکتے ہیں ؟ اسلام میں اجتماعی ذمہ داری کا تصور بھی پایا جاتاہے۔ ہم کو ایسے واضح نصوص بھی ملتے ہیں جن میں سماج کی اجتماعی خرابیوں کے لیے سماج کے ہر فرد کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
۔(اور بچو اس فتنہ سے جس کی شامت مخصوص طور پر انہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔)۔
جاوید غامدی صاحب خود اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’دنیا میں خدا کا قانون یہی ہے کہ بعض اوقات ایک گروہ کے جرائم کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑتی ہے۔ یہ اُس سے متنبہ فرمایا ہے کہ اپنے رویے کی اصلاح کر لو، ورنہ اندیشہ ہے کہ اس طرح کے کسی فتنے میں مبتلا ہو جاو گے جو پوری جماعت، بلکہ آیندہ نسلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتا ہے۔ اللہ کے دین میں اِسی بنا پر لوگوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی بھلائی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں ‘‘۔
حدیث میں آیا ہے:یعنی اگر کسی قوم میں گناہ کے کام کیے جاتے ہوں اور ان کاموں کو روکنے کی کوئی کوشش نہ کی جائے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عذاب میں گرفتار کرلے۔
۴۔ کسی نظریہ پر پختہ ایمان کا لازمی تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے نفاذ کے لیے جدوجہد کی جائے۔ یہی انسانی فطرت ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کے اجتماعی احکام پر عمل ضروری نہیں ہے( اس مکتب فکر کا ہم نے ابتدا میں ذکر کیا تھا) تو اس کا معاملہ مختلف ہے۔ لیکن اگر کسی کا یہ ایمان ہے کہ اسلام سیاست سمیت زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کرتا ہے، اور یہ رہنمائی ہی انسانوں کی فو ز و فلاح کی واحد ضامن ہے، تو اس کے بعد، اس نظریہ کے نفاذ کا خواب دیکھنا اور اس کے لیے ممکنہ جدوجہد کرنا خود بخود اس کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ زندگی کے مشن اور نصب العین کا گہرا تعلق اعتقاد System Belief سے ہوتا ہے۔ ہر مشن اور نصب العین کسی اعتقاد کی پیداوار ہوتا ہے اور ہر پختہ عقیدہ کسی نہ کسی نصب العین کو لازماً جنم دیتا ہے۔ اعتقاد System Beliefاور زندگی کے مشن Mission Lifeکے درمیان یہ گہرا تعلق آج علم انتظام، سماجی نفسیات، سماجیات وغیرہ علوم کا مسلمہ اصول ہے۔ ان سب علوم میں یہ بحثیں موجود ہیں کہ آدمی اپنے بارے میں اور دیگر انسانوں اور کائنات کے بارے میں جو نقطہ نظر رکھتا ہے System Beliefاور جن قدروں اور اصولو ں کو اپنے لیے اور دیگر انسانوں کے لیے درست اور صحیح سمجھتا ہے System Valueاسی سے اس کی زندگی کا مشن تشکیل پاتا ہے۔ کسی بھی میدان میں تبدیلی کی ضرورت پر پختہ یقین آدمی کو اس تبدیلی کی تحریک چلانے پر مجبور کرتا ہے۔ اس لیے، اقامت دین کا نصب العین اس عقیدہ کا لازمی نتیجہ ہے کہ اسلام اللہ کا دین ہے اور اسی میں انسانوں کی نجات ہے۔ عقلی اعتبار سے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آدمی کا عقیدہ تو اسلام میں ہو لیکن اسلام کا قیام اس کا نصب العین نہ بنے۔
اگر آج میں کینسر کی ایک نئی دوا ایجاد کرلو ں او ر میرے اندر یہ مستحکم یقین پیدا ہوجائے کہ اس دوا سے کینسر کا ہر مریض لازماً شفا پالے گا اور یہ کہ اس انمول دوا کی ترویج اس وقت عالم انسانیت کی ایک بڑی ضرورت ہے تو اس عقیدہ کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس دوا کی ترویج، اس کا قبول عام اور ملک کے نظام صحت میں اس کی قبولیت میرا نصب العین بن جائے گا۔ اگر اس دوا اور اس پر کامل یقین کے باوجود میں اسے لے کر گھر میں بیٹھا رہوں تو میری یہ خاموشی انسانیت کے خلاف ہوگی اور میرے ضمیر بلکہ میری انسانی فطرت کے خلاف ہوگی۔ کمیونزم اور فلاں فلاں ازم کے علم بردار اپنے اپنے نظریات کے قیام و نفاذ کے لیے اس بات کے محتاج نہیں ہیں کہ ان کی کتابوں کی عبارتوں کی لغات کے ذریعہ تشریح کرکے بتایا جائے کہ اس کا قیام و نفاذ تمہاری ذمہ داری ہے۔ ان اصولوں کی صحت پر یقین اور اْن کے انسانوں کے لیے مفید اور موزوں ہونے پر ایمان، یہ بذات خوداس بات کے لیے کافی ہے کہ وہ ان کے نفاذ کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دے دیں۔
یقیناً اسلام نے یہ اصول دیا ہے کہ نفاذکا یہ کام زور زبردستی کے ساتھ نہیں ہوگا۔ میں کینسر کی دوا بھی کسی مریض کو بندوق کی نوک پر نہیں پلائوں گا۔ ڈاکٹروں کو بھی اس کی اجازت نہیں ہوتی۔ میں دوسروں کا یہ حق بھی تسلیم کروں گا کہ اگر کوئی اس دوا کو موثر نہیں سمجھتا ہے یا نقصاندہ سمجھتا ہے تو وہ بھی اپنی بات لوگوں کے سامنے پیش کرے لیکن میں آخری کوشش اس مقصد کے لیے ضرور کروں گا کہ لوگ اس کی افادیت کے قائل ہوجائیں ، اس کے حق میں رائے عامہ بن جائے اور اس کی تنفیذ ممکن ہوجائے۔ یہی کام مجھے اسلام کے سلسلہ میں بھی کرنا ہے۔

تعارف کتاب: اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات

کئی برس قبل ایک ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی جس میں اسلامی نظام کے جملہ پہلوئوں پر مختصر مگر جامع طور پر روشنی ڈالی گئی ہو اور جو ایک عام آدمی کو ذہنی اور فکری طور پر اسلام پر مطمئن کردے ۔چناں چہ اسی مقصد کے پیش نظر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے مشورے سے یہ کتاب شائع کی گئی تھی،اور کئی برس گزرنے کے باوجود یہ کتاب آج بھی اتنی ہی مفید اور کارآمد ہے جتنی پہلے تھی۔ اس میں مولانا محترم کے ان تمام مضامین اور تقاریر کو یک جا کیا گیا ہے جو ــــــــــــــــــــــــــــــــ’’اسلامی نظام زندگی ‘‘کی فکری بنیادوں سے بحث کرتے ہیں۔ اس مجموعے میں آپ کو ہستی ٔ باری تعلی،توحید ،رسالت اور آخرت کے برحق ہونے پر ایسے دلائل ملیں گے جو جدید ذہن کو اپیل کریں اور دل میں اُتر جائیں۔ نہایت مضبوط عقلی دلائل اسلام کا ’’دین ِ حق ‘‘ہونا ثابت کیا گیا ہے ۔اس میں اسلام کا فلسفۂ اخلاق ،فلسفۂ تاریخ اور نظریۂ جہاد بڑے دل نشیں انداز میں پیش کردیا گیا ہے۔اس کے ساتھ اسلام کے نظامِ زندگی کا ایک جامع اور مختصر نقشہ بھی پیش کردیا ہے تاکہ ایک نظر میں اس نظام کا ایک جامع تصّور سامنے آجائے جو اسلام برپا کرنا چاہتا ہے ۔
امید ہے کہ اس مجموعے میں اسلامی نظام زندگی کو روشناس کرانے اور اس کی طرف مائل کرنے کے لیے ایک بڑا سرمایہ علم وعمل ملے گا ۔مْفّکِر اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒکا نام ہی اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ یہ کتاب مستند اور محقق ہے۔
٭…٭
www.syedmaududi.info

تعارف کتاب:تعلیمات

۱۹۳۵ء میں یہ سوال بڑے زور شور سے اٹھایا گیا کہ آخر مسلمانوں کی قومی درس گاہوں سے ملاحدہ اور الحاد ودہریت کے مبلغین کیوں اس کثرت سے پیدا ہو رہے ہیں۔ علی گڑھ یونی ورسٹی کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ شکایت تھی کہ اس سے فارغ اتحصیل ۹۰ فی صد طلبہ الحادود ہر یت میں مبتلا ہیں۔ جب یہ چرچا عام ہونے لگا اور ملک بھر میں اس کے خلاف مضامین لکھے جانے لگے تو علی گڑھ یونی ورسٹی کی طرف سے اس شکایت کا جائزہ لینے اور اصلاح حال کی تدبیر پرغوروخوض کرنے کی غرض سے ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے کافی بحث وتمحیص اور غور وخوض کے بعد یہ رائے قائم کی کہ اسی نصاب تعلیم میں دینیات کے عنصر کو پہلے کی نسبت کچھ زیادہ کر دینے سے طلبا کے اندر بڑھتے ہوئے الحادود ہریت کے سیلاب کے آگے بند باندھا جاسکتا ہے۔
مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ نے اگست ۱۹۳۹ء کے ترجمان القرآن میں اصلاح حال کی اس تدبیر کاتفصیلی جائزہ لے کر اس وقت کے مروجہ نظام تعلیم کے اصلی اور بنیادی نقص کی نشان دہی کی اور اس نقص کو دور کرنے کی طرف توجہ دلائی۔
آج برسہا برس گزرنے کے باوجود یہ سارے مسائل جوں کے توں ہمارے سامنے منھ پھاڑے کھڑے ہیں، یہ کتاب برسوں گزرنے کے بعد بھی آج کی تصنیف لگتی ہے۔ اس کتاب میں شامل تمام حقائق اور مسئلوں کے جو حل بتائے ہیں ، وہ آج بھی قابل عمل ہے۔
بس ایک فرق یہ ہے کہ اس وقت اس الحاد کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی بنی تھی لیکن آج مملکت خداداد پاکستان کے حکمرانوں کو الحاد کا نہ یہ طوفان نظر آتا ہے اور نہ وہ اسے حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، ہاں اگر آج بھی کوئی اس بند کو روکنا چاہتا ہے تو یہ کتاب یقینا اس کے لیے ایک اہم دستاویز ثابت ہوگی۔
٭…٭
www.syedmaududi.info

حصہ