آپ کس کا پڑوسی بننا چاہیں گے

88

محمد ناصر صدیقی
انسان کی زندگی کیا ہے، محض پانی کا بلبلہ ہے۔ اس دنیا کی حیثیت ایک مچھر کے برابر بھی نہیں ہے۔ یہ تو دنیا نے دیکھ ہی لیا ہے کہ حقیر سے جرثومے کورونا نے پوری دنیا کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے، اپنی ایجادات اور ترقی پر فخر کرنے والے ترقی یافتہ ممالک اس وبا کا سب سے زیادہ شکار ہوکر بے بس ہوگئے ہیں۔ زندگی کی اس حقیقت کے باوجود ہم اس زندگی کے لیے دن رات جائز و ناجائز طریقے سے دولت جمع کرتے ہیں، پھر ہم معاشرے میں اپنی اہمیت جتانا چاہتے ہیں۔ ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا گھر ملک کی امیر ترین سوسائٹی میں ہو، اور ہمارا پڑوسی ملک کی نامور شخصیات میں شمار ہوتا ہو۔ اور اگر خوش قسمتی سے کوئی عالم دین، سیاسی و مذہبی رہنما، یا صدر یا وزیراعظم ہمارا محلے دار یا ہمسایہ ہو تو ہم بڑے فخرسے لوگوں کو بتاتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم فلاں وزیر یا فلاں مذہبی رہنما، اعلیٰ سرکاری افسر، بڑی کاروباری شخصیت، یا سیاست دان کے پڑوس میں رہتے ہیں۔ یہ خواہش بہت سے لوگوں کے لیے صرف خواہش ہی رہتی ہے، جبکہ چند افراد زندگی بھر رات دن محنت کرکے یا کہیں سے مالِ حرام مل جانے پر اس خواہش کو پورا کر پاتے ہیں۔ جبکہ ابدی زندگی کا خیال شاید کبھی پل دو پل کے لیے آتا ہو۔ یہ وہ زندگی ہوگی جس میں خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی، یا بھڑکتی ہوئی آگ میں ہر لمحہ جلنے کے بعد بھی موت نصیب نہیں ہوگی۔
جنت میں ابدی راحت کے لیے بھی ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنانا ہوگا۔ دنیا میں تو ہم کسی بڑی شخصیت کو اپنا پڑوسی دیکھنا چاہتے ہیں، تصور کریں کہ آپ کے پڑوس میں نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ہو اور یہ ہمسائیگی جنت میں ہو تو آپ کو کیسا لگے گا؟ بلاشبہ بڑا ہی خوش نصیب ہے وہ شخص جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی نصیب ہوجائے۔ نبیِ مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ یتیموں کی اپنے بچوں کی طرح کفالت اور ان پر شفقت کی جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے (آپؐ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا)۔‘‘ اسلام یتیموں، مسکینوں، بے سہارا اور غریب طبقے کو سہارا دینے، کھانا کھلانے، وسائل فراہم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اللہ کی عطا کردہ دولت سے معاشرے کے محروم طبقے کو وسائل مہیا نہ کرنے والوں کے لیے سخت وعید ہے کہ دینِ اسلام کو جھٹلانے والے وہ لوگ ہیں جو یتیموں کو دھکے دیتے ہیں، ان کی کفالت نہیں کرتے، اور انہیں آسودگی دینے پر اپنا مال خرچ نہیں کرتے، وہ یتیموں کی ایسی کفالت نہیں کرتے جیسے اپنے بچوں کی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایسے افراد کی حقوق العباد سے منہ موڑنے پر پکڑ کرے گا۔
بچے کسی بھی معاشرے کا حُسن ہوتے ہیں، والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بہترین خوراک، تعلیم اور اچھا ماحول فراہم کریں، ان کے اچھے دوست ہوں۔ ان سب سہولیات اور خواہشات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کے لیے راحت کا باعث بنیں اور ملک وقوم کی ترقی میں اپنا کردار احسن طریقے سے انجام دے کر اپنا نام روشن کریں۔ لیکن اللہ کا اپنا ہی نظام ہے، یہ اس کی قدرت ہے کہ وہ کسی کو اولاد جیسی نعمت سے محروم رکھے، یا بچے عطا کرکے واپس لے لے، یا بچوں کے والدین کو اپنی بارگاہ میں طلب کرلے۔ اللہ نے موت، زندگی اور رزق سمیت ہر شے مہیا کرنے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو نعمتیں دے کر اور واپس لے کر آزماتا ہے۔ یہیں سے معاشرے کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بے کسوں، غریبوں اور یتیموں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔
دنیا بھر میں ناگہانی آفات، جنگوں، صحتِ عامہ کی سہولیات کی کمی، حادثات، دہشت گردی اور مسلمانوں کے قتل عام کے باعث جہاں لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، وہیں لاکھوں بچے بھی یتیم ہوگئے۔ یہ بچے تعلیم وتربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی اور سماجی محرومیوں اور بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن نے قرآن و حدیث کی روح کے مطابق معاشرے کے بے کس یتیموں کو سہارا دینے اور ان کی کفالت کا اہتمام کیا ہے۔ وہ ملک بھر میں 12,500 بچوں کی اُن کے گھروں پر کفالت کررہی ہے۔ بچوں کے سرپرستوں کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ماہانہ اور سہ ماہی بنیادوں پر بذریعہ بینک انہیں فی بچہ 4,000 روپے ارسال کرتی ہے تاکہ والدہ یا دیگر سرپرست بچوں کی خوراک اور دیگر ضروریات کا خیال رکھ سکیں۔ بچوں کو قریب ترین تعلیمی اداروں میں داخل کرایا جاتا ہے اور ان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ کسی اور علاقے میں 100بچوں پر ایک ایف ایس او (فیملی سپورٹ آرگنائزر) تعینات کیا جاتا ہے، جو بچوں کے اساتذہ اور سرپرستوں سے رابطے میں رہتا ہے، ایف ایس او بچوں کی تعلیمی کارکردگی کی رپورٹ مرتب کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے ہم نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کرتا ہے، انہیں تعلیم کے ساتھ کھیل کود میں بھی مصروف رکھتا ہے۔ بچوں میں مثبت سوچ، اچھی عادات، اخلاقی قدریں اجاگر کرنے کے لیے اچھا ماحول فراہم کیا جاتا ہے، بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ ایمان داری اور تعلیم سے ہی انسان کی عزت ہوتی ہے۔ گھر کے قریب ترین مطالعہ سینٹر میں بلایا جاتا ہے۔ تمام بچوں کا سال میں ایک مرتبہ مکمل طبی معائنہ کرکے ہیلتھ کارڈ بنایا جاتا ہے جس کے ذریعے معالج کو علاج کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ان یتیم بچوں کی مائیں اگر اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرنا چاہیں تو الخدمت کے ’’مواخات پروگرام‘‘ کے تحت انہیں ترجیحی بنیادوں پر بلاسودی قرضے بھی فراہم کیے جاتے ہیں، جو آسان اقساط میں قابلِ واپسی ہوتے ہیں۔ ان کاوشوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ یہ یتیم بچے معاشرے میں احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں، بلکہ آگے بڑھ کر معاشرے کے مفید شہری ثابت ہوں اور ڈاکٹر، انجینئر، عالم اور بیوروکریٹ بن کر ملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔
الخدمت کفالتِ یتامیٰ پروگرام میں جہاں یتیم بچوں کی کفالت ان کے گھروں پر کی جارہی ہے، وہیں یتیم بچوں کے لیے ’’آغوش الخدمت‘‘ کے نام سے اداروں کے قیام کے منصوبوں پر کام بھی جاری ہے۔ الخدمت آغوش سینٹرز کے قیام کا مقصد والدین سے محروم بچوں کی پرورش و تربیت، قیام و طعام، تعلیم و صحت اور ذہنی و جسمانی نشوونما کے  لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔اس وقت الخدمت آغوش سینٹر اٹک، راولپنڈی، راولا کوٹ، باغ، پشاور، مانسہرہ، اسلام آباد، شیخوپورہ، راولپنڈی اور مری میں تقریباً ایک ہزار بچے قیام پذیر ہیں۔ جبکہ کراچی، لوئر دیر، گوجرانوالہ اور اندرون سندھ کے ضلع مٹیاری میں آغوش کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ ہالا ضلع مٹیاری میں 2 ایکڑ رقبے پر زیر تعمیر الخدمت آغوش کا تعمیراتی کام 2021ء میں مکمل ہوجائے گا جہاں سندھ بھر سے مستحق اور تعلیمی معیار پر پورا اترنے والے 200 بچوں کے لیے رہائش، خوراک، تعلیم و دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ عمارات میں تعلیم یافتہ انتظامی عملہ موجود ہے جو بچوں کے لیے نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے صحت مند ماحول کا اہتمام کرتا ہے۔ آغوش کے قریب ہی بچوں کے لیے اسکول کی سہولت بھی موجود ہے۔ آغوش الخدمت میں کمپیوٹر لیب، لائبریری، اسپورٹس گراؤنڈ، اِن ڈور گیمز اور بچوں کی نفسیاتی نشوونما کے لیے مختلف لیکچرز اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن نے آغوش میں اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ بچوں کو یہ احساس نہ ہو کہ یتیم ہونا خدانخواستہ کوئی بری بات یا عیب ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یتیم تھے، اور یہی وجہ ہے کہ الخدمت کے زیرِ کفالت بچے احساسِ کمتری کے بجائے پُراعتماد رہتے ہیں۔
پاکستان سمیت مسلم دنیا میں یتیم بچوں کا عالمی دن 15رمضان المبارک کو منایا جاتا ہے۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم (OIC) نے دسمبر2013ء میں پہلی بار ترکی کی معروف سماجی مددگار تنظیم ’’آئی ایچ ایچ‘‘ کی تجویز پر تمام اسلامی ملکوں میں 15 رمضان کو یتیم بچوں کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا، جسے دنیا بھر میں یتیم بچوں کی کفالت اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے اداروں اور تنظیموں نے سراہا اور اس پر عمل کیا۔ اس ضمن میں سینیٹ آف پاکستان میں ایک قرارداد 264 پیش کی گئی۔ 20 مئی 2016ء کو اتفاقِ رائے سے یہ قرارداد منظور کرتے ہوئے اس کے ذریعے نظرانداز کردہ یتیم بچوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا اور پاکستان میں بھی 15 رمضان کو یتیم بچوں کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اِس آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان میں ’’پاکستان آرفن کیئر فورم‘‘ نے 15 رمضان کو یوم یتامیٰ منانے کا فیصلہ کیا۔ اس فورم میں قطر چیریٹی، صراط الجنۃ ٹرسٹ، خبیب فائونڈیشن، سویٹ ہومز، فائونڈیشن آف دی فیتھ فل، الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان، ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ، مسلم ایڈ، اسلامک ریلیف پاکستان، ہیومن اپیل، ریڈ فائونڈیشن، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ، تعمیر ملّت فائونڈیشن، ایدھی ہومز اور انجمن فیض الاسلام شامل ہیں۔
رمضان المبارک میں ہر عمل کا اجر بڑھ جاتا ہے، اہلِ خیر اس ماہ روزہ داروں کو افطار و سحری کرواتے ہیں، غریب گھرانوں میں راشن ڈلواتے ہیں، اس ماہِ مبارک میں یتامیٰ کی کفالت کا ذمہ اٹھانے کا اجر اور بھی بڑھ جاتاہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے کام کا شخص وہی ہے جو بھلائی کے کام کرتا ہے، یتیم، مسکین اور محکوم و مجبور لوگوں کے کام آتا ہے۔ اللہ نے اس دنیا کے لیے لافانی نظام بنادیا ہے، دولت والوں کو حکم دیا گیا کہ غریبوں سے شفقت و نرمی کا برتائو کریں، جبکہ غریبوں کو حکم دیا گیا کہ وہ احسان فراموش نہ بنیں۔ گویا پورا نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ جس میں جذبۂ خیر خواہی، باہمی محبت ، الفت و مودت، رواداری اور احسان مندی کو بنیادی اور لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حکم اور نبیِ مہربانؐ کی سیرت پر عمل کرنے والا بنادے۔

حصہ